دین اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد دو اہم ماخذ پر قائم ہے، قرآن مجید اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ جس طرح قرآن پاک اسلامی تعلیمات کا پہلا اہم بنیادی مصدر ہے، اسی طرح احادیث رسول کو بھی اہمیت حاصل ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت قرآن پاک کی عملی تفسیر و تشریح کا درجہ رکھتی ہیں۔ دور حاضر میں جہاں بے شمار فتنے سر اٹھائے ہوئے ہیں، اور طرح طرح سے اسلام کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں مصروفِ عمل ہیں وہیں اسلام کے اس اہم ماخذ یعنی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بعض لوگ سرے سے ہی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہوئے اسے ناقابل حجت قرار دینے کی ناکام سعی کر رہے ہیں تو بعض تحکیم کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے صحیح یا حسن درجہ کی احادیث کو ضعیف کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتے اور ستم بلائے ستم تو یہ کہ ضعیف کو اصلا کسی شئے میں قابل حجت نہیں مانتے حتی کہ فضائلِ اعمال میں بھی ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔ نیز بعض وہ ہیں جو موضوع کو بے دھڑک بغیر بیانِ حکم وضع کے بیان کرکے عوام کی توجہ کا مرکز بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹ بھرے منکر شخص کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرما دیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگاہ ہو کہ مجھے قرآن بھی دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کا مثل بھی خبردار قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا اپنی مسہری پر کہے کہ صرف قرآن کو تھام لو اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو حالانکہ رسول اﷲ کا حرام فرمایا ہوا ویسا ہی حرام ہے جیساکہ اﷲ کا حرام فرمودہ۔ (مشکاۃ المصابیح جلد:1 باب حدیث: 163)

جس طرح ان احکام شرعیہ پر عمل ضروری ہے جو قرآن میں اللہ پاک نے بیان فرمائی اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکام شرعیہ پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ یاد رہے کہ احادیث شریفہ کا انکار قرآن کا انکار ہے کیونکہ احادیث قرآن کی تفسیر و توضیح کرتی ہیں جب اسی کو ناقابل حجت قرار دیا جائے گا تو کونسا ایسا ذریعہ ہے جس سے درست فھم قرآن ہوسکے، یقینا یہ انکار ہوائے نفس کی طرف لے جائے گا اور اپنی من مانی شریعت بیان کرنے کو دعوت دے گا جو کہ منکرین احادیث کو مقصود ہے۔

میرا کلام کلام اللہ کی تفسیر ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰہ ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو۔ (الحشر 59 آیت :7)

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴) ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔وہ تو نہیں مگر وحی جو اُنھیں کی جاتی ہے۔

مذکورہ آیات و احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے حجت ہونے پر شاہد ہیں اور حدیث کی اہمیت کو ہمارے سامنے واضح کرتی ہیں۔