اسلام میں حدیث کی ضرورت اور اہمیت بے شمار ہے، یہ قرآن
کے بعد دین کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے جو مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں مکمل
رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ حدیث کے بغیر قرآن پر عمل کرنا ، عبادت کی تفصیلات جاننا
اور اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرزِ عمل کو سمجھنا نا ممکن ہے
، یہ دین اسلام کی روح ، حکمت اور عملی نمونہ ہے جو ہمیں گمراہی سے بچاتی ہے اور
اطاعت رسول کرنے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا راستہ ملتا ہے بغیر رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے اللہ تعالیٰ عمل قبول نہیں کرتا جبکہ
اطاعت رسول کرنے والے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور اس کے اعمال قبول کرتا ہے ۔
جس طرح قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی حجت ہے۔قرآن کریم کی رو سے
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت بے کچھ آیت
سے جائزہ لیتے ہیں :
(1) قرآن کریم کے شارح اور مفسر:قرآن
مجید میں جہاں اجمال ہے حدیث اس اجمال کا بیان ہے جیسے عبادت کا طریقہ اور دیگر
احکامات کی تشریح : قرآن میں جگہ جگہ اَقِیْمُوا الصَّلٰوة کا اجمالی بیان ہے جس کی تشریح
حدیث رسول نے فرمائی ۔ارشاد نبوی ہے: کہ اس طرح نماز پڑھوں جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے
ہو ۔ (صحیح البخاری حدیث 259)
(2) اسوۃ حسنہ : نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وآلہ وسلم کی زندگی تمام امت کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ
ہے کہ:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ
رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں
رسول اللہ کی
پیروی بہتر ہے۔(الاحزاب:21)
معلوم ہوا کہ حقیقی طور پر کامیاب زندگی وہی ہے جو
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نقش ِقدم پر
ہو، اگر ہمارا جینا مرنا، سونا جاگنا حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نقش ِقدم پر ہو جائے تو ہمارے سب کام عبادت بن جائیں گے۔
(3) اتباع رسول:اتباع رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایمان کی نشانی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن
پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کا حکم
دیا ہے یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی
اتباع سے ہوتی ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ:
فَاٰمِنُوْا
بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ
كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸)
ترجمہ کنزالایمان : تو ایمان
لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اُس کی باتوں پر ایمان
لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ ۔(الاعراف:158)
(4) رسول اللہ کی نافرمانی:اللہ
تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرنے کو اپنے حکم
کی خلاف ورزی قرار دیا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا
نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ
الْعِقَابِۘ(۷) ترجمہ
کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز
رہو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے ۔(الحشر:7)
ایک معنی یہ ہے
کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہیں جو حکم دیں
اس کی اِتّباع کرو کیونکہ ہر حکم میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت واجب ہے اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔ مزید
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ کی مخالفت نہ کرواور ان کے حکم کی تعمیل میں سستی نہ کرو، بیشک اللہ
تعالیٰ اسے سخت عذاب دینے والاہے جو رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرے۔
(5) اطاعت رسول فرض ہے: اللہ
تعالیٰ نے اہل ایمان سے مخاطب ہوکر جہاں اپنی اطاعت کو لازم قرار دیا وہیں اپنے پیارے
رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت بھی لازم قرار دی ۔اس لئے اگر کوئی
قرآن پر ایمان رکھے مگر حدیث کا انکار کر دے تو یہ حکم الہٰی سے روگردانی ہے ۔ جیساکہ
ارشاد باری تعالیٰ:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا ۔(النساء:59)
یہاں آیت میں رسول ص ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ
رسول ص ﷺ کی اطاعت اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی اطاعت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نورص ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی
اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی۔ (صحیح بخاری،حدیث،2957)
حضور سیدُ المرسلین ص ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے،
قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں آپ ص ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا بلکہ رب تعالیٰ نے
آپ ص ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اورا س پر ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا اور
تاجدارِ رسالت ص ﷺ کی نافرمانی پرعذاب جہنم کا مژدہ سنایا ،لہٰذا جس کام کا آپ ص
ﷺ نے حکم فرمایا اسے کرنا اور جس سے منع فرمایا اس سے رک جانا ضروری ہے۔ان تمام آیات
و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا دارومدار رسول اکرم صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے میں ہے اور قرآن کے معنی
و مفہوم کو سمجھنا احادیث سے ممکن ہے لیکن جو احادیث قرآن کے متضاد ہو۔ ان میں تطبیق
دی جائے گی ۔تمام اہل ایمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وآلہ وسلم کے بتائے گئے طریقے کے مطابق گزاریں بلکہ اہل ایمان پر فرض ہے۔ حضور صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری نہ کرنا بعض جگہ منافقین کا
فعل قرار دیا ہے ۔ جب تک اہل ایمان احادیث کو مظبوطی سے پکڑے رہیں گے گمراہیت ان
کو کچھ ضرر نہیں پہنچائے گی۔
جیسے ہی احادیث سے دوری ہوگی گمراہیت حد کفر تک لے جائے
گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو احادیث سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی
سعادت نصیب فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین
Dawateislami