محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
،لاہور،پاکستان )
قرآن پاک کے بعد بلا شبہ حدیث کریمہ دین اسلام کے ماخذ
میں سے ہیں اور تمام ادوار میں آئمہ کرام قرآن و حدیث کی خدمت سرانجام دیتے آرہے
ہیں اور قران و حدیث انسان کی زندگی کا ضابطہ ہے اور انسان
کی زندگی کا کوئی بھی ایسا لمحہ نہیں جہاں حضور نبی رحمت
شفیع امت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رہنمائی نہ فرمائی ہو کسی جگہ نماز و روزہ کا
بیان ہے اور کسی جگہ حج و زکوۃ کا بیان ہے کسی جگہ تاجر کی خصوصیات کا تذکرہ ہے تو
کسی جگہ خرید و فروخت کے اصول کسی جگہ دنیا کی مذمت بیان کی کسی جگہ آخرت کو
سنوارنے کی ترغیب۔ المختصر قدم با قدم ہر موڑ پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ
وسلم کی پیاری باتیں ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں مگر انسان ابھی بھی خواب غفلت
کا شکار ہے انسان ابھی بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر
عمل کرنے سےقاصر ہے:
(1)رسول کا حکم مانو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ
وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْترجمۂ
کنز العرفان:اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال
باطل نہ کرو۔( پارہ 26، سورۃ محمد آیت نمبر 33)
تفسیر صراط الجنان:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ:
اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو۔ اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ کافروں نے
حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت کی اور اس
آیت میں ایمان والوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرتے رہیں ، چنانچہ اس
آیت میں پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اے ایمان والو!تم جواللہ تعالیٰ اور اس کے
رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ہو اور ان کی
اطاعت کرتے ہو اس ایمان اورا طاعت پر قائم رہو ،اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ریاکاری
یا منافقت کرکے اپنے اعمال باطل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا
ہے جو ریا کاری اور نفاق سے خالی ہو اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے
کیا گیا ہو۔
(2)رسول جو کچھ
تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ
عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰہ اِنَّ
اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷) ترجمہ کنز العرفان:
اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں ،تو تم
باز رہواور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والاہے۔(پارہ 28 ، سورۃ الحشر آیت
نمبر 7)
تفسیر صراط الجنان: اس کا ایک معنی یہ ہے کہ رسولِ کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غنیمت میں سے جو کچھ تمہیں عطا
فرمائیں وہ لے لو کیونکہ وہ تمہارے لئے حلال ہے اور جو چیز لینے سے منع کریں اس سے
باز رہو اور اس کا مطالبہ نہ کرو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہیں جو حکم دیں اس کی اِتّباع کرو کیونکہ ہر حکم میں
نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت واجب ہے اور
جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ،نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت نہ کرواور ان کے حکم
کی تعمیل میں سستی نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب دینے والاہے جو رسولِ
اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرے۔
(3) رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ پاک کی اطاعت ہیں:حضرت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملائکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی تحقیق اس
نے اللہ کی اطاعت کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی
نافرمانی کی ۔(صحیح بخاری ج9، ص93، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)
(4) میں جو حدیث
دوں اسے لے لو:حضرت موسی بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ سے کوئی بات (حدیث)
بیان کروں تو اسے لے لیا کرو میں خدائے عزوجل پر کوئی غلط بات نہیں کہتا ۔(صحیح
مسلم ج4، ص200، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت )
(5)میری اتباع
کرو:حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا تم میری اتباع کرو اللہ پاک کی قسم اگر تم نے ایسا نہ کیا تو
تم گمراہ ہو جاو گے ۔(مسند امام احمد بن حنبل ج33، ص203، موسسۃ الرسالۃ )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! میں نے آپ کو کچھ آیات کریمہ
اور احادیث مبارکہ پیش کی ہر آیت اور حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کی اطاعت ضروری ہے انہی آیات اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کتنا ضروری ہے اگر آپ دنیا میں اچھی زندگی بسر
کرنا چاہتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا مطالعہ کرو اور ان پر عمل
کرو کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک چیز کے بارے میں بتایا اللہ
پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھے اور آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے
کی توفیق عطا فرمائے اور مطالعہ حدیث و تفسیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
۔بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami