قرآن و اسلام پر عمل درآمد کا حکم قیامت تک کے لیے ہے اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ قرآن و اسلام کی تفصیلات کا علم اور اُن پر عمل درآمد بغیر اطاعت رسول کے ممکن نہیں ہے تو اس ضمن میں ایک دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ لغت و عرف اور شریعت و عقل کی رو سے اطاعت ہمیشہ احکام کی کی جاتی ہے۔ پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ آج رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وہ احکام کہاں ہیں جن کی اطاعت کا قرآن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کیونکہ احکام کے بغیر اطاعت کا مطالبہ سراسر عقل و شریعت کے خلاف ہے۔ پس جب آج بھی قرآن ہم سے اطاعت رسول کا طالب ہے تو لازماً آج ہمارے سامنے احکام رسول کا ہونا بھی ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکام سے وہ احکام ہر گز نہیں مراد لیے جاسکتے جو خدا کی طرف سے قرآن میں وارد ہوتے ہیں۔ کیونکہ احکام خداوندی ہونے کی حیثیت سے ان کا واجب الاطاعت ہونا ہمارے لیے بہت کافی ہے اس لیے لا محالہ ماننا پڑے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن احکام کی اطاعت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ قرآن مجید میں وارد شدہ احکام خداوندی کے علاوہ ہیں۔ آیئے مطالعہ حدیث کے متعلق کچھ احادیث ملاحظہ کرتے ہیں۔

(1) قرآن کی سمجھ کےلیے حدیث کی ضرورت :اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید ایسی جامع کتاب ہے جس میں عقائد و اعمال ، عبادات و اخلاق ، حلت و حرمت کے احکام اور بنی نوع انسان کی تمام جسمانی اور روحانی ضرورتوں کے پورا ہونے اور دونوں جہان کی فوز و فلاح حاصل کرنے کے اصول موجود ہیں لیکن یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ ان اصولوں کی ایسی تشریحات جو پیش آنے والی ضروریات کے تمام جزئیات پر منطبق ہو جا ئیں قرآن مجید میں مذکور نہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب تک وہ تشریحات سامنے نہ آئیں اس وقت تک اصول قرآنیہ کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتا۔معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کو بحیثیت مسلمان ہونے کےلیے حدیث کی اشد ضرورت ہے۔(مقالات کاظمی ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 240 ، مکتبہ کاظمی پبلی کیشنز )

(2) حدیث پاک کو لکھ کر محفوظ کر لینا : حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں کوئی مجھ سے زیادہ حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا مگر عبداللہ بن عمر و کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔( تاریخ حدیث و تفسیر ، صفحہ نمبر : 21 ، مکتبتہ المدینہ )

(3) احادیث مبارکہ یاد کرنا : فرمان آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم : میری امت کے لیے جس نے 40 حدیثیں یاد کیں جن کے ذریعے اللہ پاک انہیں نفع عطا فرمائے گا : جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ ۔(اَلْعِلَلُ الْمُتَناھِیَة لِاِبْنِ جَوْزِی ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 119 ، حدیث نمبر : 162 )

(4) حدیث پاک کے ذریعے کسی چیز کی تفصیل حاصل کرنا : سعید بن منصور نے عمران بن حصین سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ حدیث کا مذاکرہ کر رہے تھے،ایک شخص نے کہا ہمیں اس سب سے معاف رکھئے، اور ہمارے سامنے کتاب اللہ پیش کیجئے ۔ عمران نے فرمایا : تم احمق ہو ،کیا تمہیں کتاب اللہ میں نماز کی تفصیلات ملتی ہیں؟کیا تمہیں کتاب اللہ میں تفصیلی احکام ملتے ہیں ؟ قرآن نے ان چیزوں کو محکم طریقہ سے بیان کیا ہے،اور سنت کی تشریح کرتی ہے ۔(حجیت سنت ، صفحہ نمبر : 503 - 504 ، مطبوعہ ادارہ تحقیقات اسلامی)

اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے رہیں ۔جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہے گا ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ کو احادیث مبارکہ پڑھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم