مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت نور حسین،
جامعۃ المدینہ والٹن لاہور
اسلام اپنے
ماننے والوں کو اعلی کلام نرم گفتاری اور لوگوں کا احترام سکھاتا ہے گفتگو کا ایک
اہم اصول یہ بھی ہے کہ جس سے بات کی جا رہی ہو اسے مکمل توجہ دی جائے اور کسی کو
نظر انداز نہ کیا جائے اور کسی کو نظر انداز کرنا غلط بات ہے اور یہ اسلامی ادب
بھی نہیں ہے۔
اللہ پاک نے
قرآن پاک میں بھی اس بارے میں حکم دیا ہے، ہمارا دین ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں
رہنمائی دیتا ہے اور اسی طرح گفتگو کے متعلق بھی کئی تعلیمات دی گئی ہیں قرآن مجید
میں اللہ پاک نے نے ارشاد فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔
یہاں حضرت
لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی
اعمال کے حوالے سے فرمائی چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے جب آدمی بات کرے تو تکبر
کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیار
نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آنا اور
زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا بے شک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص
اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے
یاد رہے کہ
اندرونی عظمت پر پکڑنا فخر ہے جیسے علم، حسن، خوش اوازی نسب وغیرہ پر اور بیرونی
عظمت پر اکڑنا اختیال ہے جیسے مال جائداد لشکر اور نوکر چاکر وغیرہ مراد یہ ہے کہ
نہ ذاتی کمال پر فخر کرو اور نہ بیرونی فضائل پر اتراؤ کیونکہ یہ چیزیں تمہاری
اپنی نہیں بلکہ رب کریم ہی عطا کی ہوئی ہیں اور جب وہ چاہے واپس لے لے۔ (صراط
الجنان، 7/497)
اس سے معلوم
ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہیے بلکہ جس سے بھی ملاقات
ہو تو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی
چاہیے غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا
انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے
دیکھنا سخت تکبر کی علامت ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے۔
حدیث پاک میں
بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو
ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور سب اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ! (بخاری، 4/117،
حديث: 6065)
حدیث پاک میں
ہے جب بھی آپ ﷺ کسی سے بات کرتے تو پورے جسم مبارک کو اس کی طرف متوجہ کر لیتے۔ (ابن
ماجہ،4/210، حديث: 3716)
آپ نے کبھی
کسی کو حقیر نہ جانا کبھی کسی کے ساتھ ایسی گفتگو نہ کی کہ اسے برا محسوس ہوتا سب
کے ساتھ نرم اور شفقت بھرے لہجے میں بات کرتے یہاں تک کہ آپ بچوں کو بھی سلام کرتے
تھے۔
حضرت علامہ
سید نعیم الدین مراد ابادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب آدمی بات کرے تو انہیں
حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا جیسے متکبرین کا طریقہ ہے اختیار نہ کرنا غنی
اور فقیر سب کے ساتھ تواضع یعنی عاجزی سے پیش آنا چاہیے۔ (خزائن العرفان، ص 761)
ان سب باتوں
سے ہمیں یہ سبق ملتا ہےسب کہ ہمیں کسی کو حقیر جانتے ہوئے نظر انداز نہیں کرنا
چاہیے، ہمیں تمام لوگوں کے ساتھ ایک جیسے انداز میں بات کرنی چاہیے اور ہمیں کسی
کو نظر انداز کر کے اس کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے۔
Dawateislami