مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد شفیق،
جامعۃ المدینہ کوٹ لکھپت لاہور
انسان ایک
سماجی مخلوق ہے جو اکیلے نہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ رہ کر زندگی گزارتا ہے اس کے
وجود کا حسن اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ دوسروں سے بات چیت کرے ان کے جذبات کو
سمجھے اور ان کے احساسات کا خیال رکھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے
دور جدید میں انسانوں کے درمیان قربت کم اور فاصلے زیادہ ہو گئے ہیں ہم میں سے
اکثر لوگ دوسروں کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں چاہے وہ گھر کے افراد ہوں دوست ہوں یا
معاشرتی تعلقات یہی رویہ بد اعتمادی تنہائی اور دلوں کی دوری کا باعث بنتا ہے۔
کسی کو نظر
انداز کرنا صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک پیغام ہے اور وہ پیغام یہ ہوتا ہے کہ تم اہم
نہیں ہو یہ جو جملہ بظاہر زبان سے ادا نہیں کیا جاتا مگر ہمارا رویہ ہماری خاموشی
ہماری بےتوجہی اسے صاف ظاہر کر دیتی ہے کسی کو بات کرتے وقت نظر انداز کر دینا اس
کی رائے کو اہمیت نہ دینا اس کے احساسات کو نظر انداز کرنا در اصل اس کے دل کو
زخمی کرنے کے مترادف ہے اخلاقی اعتبار سے بھی یہ رویہ درست نہیں ہمارے تہذیب بھی
اور مذہب بھی دونوں ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ دوسروں کو عزت دی جائے ان کی بات
سنی جائے اور انہیں اہمیت دی جائے۔
اسلام نے ہمیں
حسن اخلاق کی تلقین کی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا
اخلاق سب سے اچھا ہے ایک اور حدیث میں فرمایا گیا: مسکرا کر اپنے بھائی سے ملنا
بھی صدقہ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرف توجہ دینا ان کی بات سننا اور ان
کے جذبات کو سمجھنا عبادت کے درجے تک پہنچا سکتا ہے جب ہم کسی کی بات پوری توجہ سے
سنتے ہیں تو ہم صرف اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے احساسات بھی سمجھنے لگتے ہیں اس
عمل سے نہ صرف ہمارا تعلق مضبوط ہوتا ہے بلکہ دوسرا شخص بھی اپنے آپ کو قابل
احترام محسوس کرتا ہے۔
ایک لمحے کی
توجہ کسی کے دن کو روشن کر سکتی ہے بلکہ ایک لمحے کے لے تو جی کسی کے دل کو توڑ
سکتی ہے معاشرتی سطح پر بھی یہ بات بہت اہم ہے چاہے ہم دفتر میں کام کر رہے ہوں یا
کسی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں اگر ہم ساتھیوں یا شاگردوں کو اہمیت نہیں
دیتے تو ماحول میں سرد مہری پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک ایسا
معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو نظر انداز کریں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا ترقی
ہمیشہ باہمی احترام سمجھ بوجھ اور توجہ سے جنم لیتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم
دوسروں کے جذبات کی قدر کریں اور اگر کوئی بات کر رہا ہو تو اسے مکمل توجہ سے سنیں
اور اس کی رائے کا احترام کریں اور کبھی بھی کسی کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ اس کی
کوئی اہمیت نہیں یاد رکھیں آپ کا ایک چھوٹا سا جملہ ایک مسکراہٹ یا ایک لمحے کی
توجہ کسی کے لیے زندگی کا سہارا بن سکتی ہے آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ مخاطب کو
نظر انداز مت کیجیے کیونکہ ہر انسان عزت محبت اور توجہ کا حق رکھتا ہے آپ کی توجہ
کسی کے دل کا مرہم بن سکتی ہے اور یہی انسانیت کی اصل روح ہے۔
Dawateislami