اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان اور عقل جیسی عظیم نعمتیں عطا کیں تاکہ وہ بات چیت کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق قائم کر سکے۔ جب کوئی شخص ہم سے گفتگو کرتا ہے، تو وہ ہمارا مخاطب ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو توجہ سے سننا، جواب دینا، اور عزت دینا ہماری اخلاقی اور دینی ذمے داری ہے۔

آج کے دور میں ہم اکثر دوسروں کو نظر انداز کرتے ہیں، خاص طور پر کم عمر، کم حیثیت یا ناتجربہ کار لوگوں کو۔ ہم ان کی بات سننے کے بجائے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں، جس سے ان کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 10)

ایک اور حدیث ہے: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔ (بخاری، 4/240، حدیث: 6475)

نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے بات کرتا، آپ پوری توجہ سے سنتے، درمیان میں نہ بولتے، اور مخاطب کو اہمیت دیتے۔ ہمیں بھی یہی سیکھنا چاہیے۔