مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت ظہیر احمد
قاضی، جامعۃ المدینہ گوجر خان
مخاطب وہ شخص
ہے جس سے بات کی جاتی ہے۔ مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے! یہ ایک سماجی اور اخلاقی
اصول ہے جس کی پاسداری بہتر انسانی تعلقات کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔اور مخاطب کی
اہمیت کو نظر انداز کرنا تعلقات میں سردمہری، غلط فہمیوں اور دوریوں کا سبب بن
سکتا ہے۔ کسی بھی گفتگو،بحث یا تعلق میں مخاطب کو مناسب توجہ اور احترام دینا نہ صرف
اخلاقی فریضہ ہے بلکہ مؤثر ابلاغ کی کنجی ہے۔
مخاطب کو نظر
انداز کرنے کے کئی نقصانات سامنے آئے ہیں چند یہ ہیں:
نفسیاتی
اثرات: نظر
انداز ہونا ایک تکلیف دہ احساس ہے،بعض اوقات یہ نفرت کی ایک بدترین قسم بن جاتا
ہے۔ یہ احساس تنہائی، اضطراب (anxiety) اور افسردگی (depression)
کا سبب بن سکتا ہے اور تحقیق میں یہ بات آئی ہے ایسے لوگوں کاشمار جرائم میں زیادہ
ہوتا ہے۔
احساس
کمتری اور بے عزتی: یہ عمل مخاطب میں احساس کمتری اور بےعزتی کا احساس
پیدا کرتا ہے اور اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی رائے، جذبات یا موجودگی کی کوئی
قدر و قیمت نہیں ہے۔
تعلقات
میں سردمہری: یہ
عمل قریبی تعلقات،چاہے وہ خاندانی ہوں،دوستانہ ہوں یا پیشہ ورانہ اس میں دراڑ ڈال
سکتا ہے۔اعتماد اور احترام کی کمی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
غلط
فہمیاں:توجہ
نہ دینے کی وجہ سے اکثر بات کا غلط مفہوم سمجھ آتا ہے،جس کے نتیجے میں غلط فہمیاں
اور تنازعات جنم لیتے ہیں۔
اسلامی
تعلیمات اور قرآن وسنت کی روشنی میں بھی ایک دوسرے کا احترام ضروری ہے۔ پارہ 21سورۃ
لقمٰن آیت18 میں ارشاد الٰہی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔ حضرت علامہ سیدنعیم الدین
مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں
تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا،
جیسا متکبرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے، اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر(یعنی امیر
وغریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی سے) پیش آنا۔ (خزائن العرفان، ص 761)
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام
اورملاقا ت کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے
سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائیے، متکبرین کی عادت
ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراو مساکین کو
غصے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں
برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
مخاطب
کو اہمیت دینے کے طریقے: پوری بات توجہ سے سنیں، جب کوئی بات کر
رہا ہو تو اپنی پوری توجہ اسی پر مرکوز رکھیں۔ آنکھوں سے رابطہ برقرار رکھیں تاکہ
مخاطب کو احساس ہو کہ آپ اس کی بات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ سر ہلانا یا ہوں ہاں
کرنا بھی توجہ ظاہر کرتا ہے۔ اپنے جسم کا رخ مخاطب کی طرف رکھیں، اس سے دوری یا
اکتاہٹ ظاہر نہ ہونے دیں۔ موبائل فون یا دیگر چیزوں میں مصروف نہ ہوں۔ یہ رویہ
بدترین نظر اندازی سمجھا جاتا ہے۔
باہمی احترام
اور توجہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔ کسی کو نظر انداز کرنا نہ صرف اس شخص
کی دل آزاری ہے بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں اپنی گفتگو
اور رویوں میں شائستگی اور توجہ کو فروغ دینا چاہیے تاکہ بہتر انسانی تعلقات قائم
ہو سکیں۔
دعا ہے کہ
یارب! ہمیں بھی اپنے رویے میں شائستگی لانے اور مخاطب کو توجہ دینے والا بنا اور
ہم مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے والیاں بن جائیں۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami