دنیا میں رابطے کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ بات کرنے والا اپنے مخاطب کو ہمیشہ مرکز توجہ رکھے۔ مؤثر گفتگو، تحریر، بیان یا پیغام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اسے سننے والے یا پڑھنے والے کی ضرورت، ذہنی سطح، دلچسپی اور احساسات کو مدنظر نہ رکھا جائے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ مخاطب کو نظر انداز کرنا، پیغام کو بے اثر کر دینے کے مترادف ہے۔

ہر قسم کی گفتگو کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے اور گفتگو ہمیشہ مخاطب کی ذہنی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے اور گفتگو کرنے کا اصول بھی یہی ہے کہ مخاطب کی ذہنی توجہات کے مطابق گفتگو کی جائے گفتگو سادہ اور آسان الفاظ میں کی جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا (پ 16، طٰہ: 44) ترجمہ: تم دونوں اس سے نرم بات کرنا۔

تکبر کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ کسی کو نظر انداز کیا جائے۔ نبی ﷺ فرمایا: تمہاری اپنے بھائی کے لیے مسکراہٹ بھی صدقہ ہے۔ (ترمذی، 3/384، حدیث: 1963)

مسکرا کر بات کرنا صدقہ ہے، تو کسی کو نظر انداز کرنا کیسا ہوگا؟

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں: علمائے دین کی نصیحتیں سننا اور عاجزی سے قبول کرنا ہی عقل کا نشان ہے۔

بعض لوگ مصروفیات اور لاپرواہی کی بناپر دوسروں کی بات کو توجہ نہیں دیتے اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں دوسروں کی بات اہم نہیں ہے یہ غیر اخلاقی رویہ ہے، نظر انداز کیا جانے والا شخص خود کو کمتر سمجھتا ہے اور اس میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

اگر اس رویے کو بار بار دہرایا جائے تو رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔

دوسروں کی بات کو غور سے سننے سے ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ بات سننے اور سمجھنے سے غلط فہمی دور ہوتی ہے اور مسائل آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔