انسانی دل
کانچ کی طرح نازک ہوتا ہے۔ ایک نگاہ التفات، ایک توجہ بھرا جملہ، ایک مسکراہٹ کسی
کی ٹوٹتی امید کو سہارا دے سکتی ہے، اور یہی اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ اسلام
ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی عزت، اس کا دل اور اس کا احساس سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ 83) ترجمہ: اور لوگوں سے
اچھی بات کہو۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی
ہے کہ ہر انسان، خواہ وہ کسی بھی حیثیت کا ہو، توجہ اور عزت کا مستحق ہے۔ کسی کو
نظر انداز کرنا، بات کرتے وقت بے توجہی برتنا، یا اس کے احساسات کو اہمیت نہ دینا،
دراصل اس کی توہین کے مترادف ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ: نبی کریم ﷺ کا طرز گفتگو اور رویہ مثالی تھا۔ جب
کوئی آپ سے بات کرتا، تو آپ مکمل توجہ سے سنتے، پورا چہرہ اس کی طرف کرتے، اور جب
تک مخاطب خود بات ختم نہ کرتا، آپ ﷺ کبھی بیچ میں نہ بولتے۔
نبی کریم ﷺ جب
سلام کرتے یا کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ دیتے۔(ابن ماجہ،4/210، حديث:
3716)
نظر
انداز کرنا دل شکنی ہے: کسی کو نظر انداز کرنا صرف بد اخلاقی نہیں بلکہ دل
شکنی کا باعث بھی بنتا ہے، اور نبی ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کو حقیر جاننا ہی برائی
کیلیے کافی ہے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)
توجہ
دینا صدقہ ہے: آپ
ﷺ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کے لیے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ (ترمذی، 3/384، حدیث:
1963) تو اگر مسکراہٹ صدقہ ہے، تو توجہ دینا، بات سننا اور احساس دینا کتنا بڑا
اجر ہوگا؟
ہم روزمرہ کی
زندگی میں مختلف لوگوں سے بات کرتے ہیں، کبھی توجہ سے سنتے ہیں، کبھی نظر انداز کر
دیتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی کو نظر انداز کرنا صرف ایک عمل
نہیں، بلکہ ایک دل توڑنے والا رویہ بھی ہو سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔
یہ آیت ہمیں
سکھاتی ہے کہ تکبر، غرور یا لاپروائی سے کسی کو نظر انداز کرنا اسلامی اخلاق کے
خلاف ہے۔ حدیث پاک میں بھی ہے: رسول اللہ ﷺ جب کسی سے سلام کرتے یا بات کرتے تو
مکمل توجہ دیتے۔(ابن ماجہ،4/210، حديث: 3716)
کسی
کو نظر انداز کرنا کیسا اثر چھوڑتا ہے؟
1۔
دل شکنی: مخاطب
کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔
2۔
احساس کمتری:
انسان خود کو غیر اہم محسوس کرتا ہے۔
3۔
رشتوں کی کمزوری:
روابط میں دراڑ آتی ہے۔
4۔
نفرت پیدا ہوتی ہے: بار بار نظر انداز کیا جانا دلوں میں دوریاں پیدا
کرتا ہے۔
موجودہ
دور کی بے حسی: والدین
بچوں کی بات کو ٹالتے ہیں کہ بعد میں سنوں گا! بچے بڑوں کی بات کاٹتے یا سنتے ہی
نہیں۔ دوست دوست کو اگنور کرتے ہیں seen کے بعد جواب نہیں۔ اساتذہ یا بزرگوں کی بات
درمیان میں چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ سب رویے دل توڑنے والے اور اسلامی اخلاق کے خلاف ہیں۔
کسی کو نظر
انداز کرنا ایک چھوٹا سا عمل لگتا ہے، مگر یہ دوسروں کے دل پر گہرا اثر ڈال سکتا
ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی عزت کی جائے، اس کے احساسات کو اہمیت دی
جائے، اور کسی کو بھی بے وجہ نظر انداز نہ کیا جائے۔
Dawateislami