مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت عارف،
جامعۃ المدینہ گلشن اقبال کراچی
مکالمہ اور
گفتگو انسانی زندگی کا اہم جزو ہیں۔ مخاطب وہ شخص ہوتا ہے جو ہماری بات کا مرکز
ہوتا ہے۔ اس کی توجہ عزت اور فہم سے ہمیں باہمی تعلق مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جب ہم مخاطب کو نظر انداز کرتے ہیں تو نہ صرف اس کی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ بات چیت
کا مقصد بھی متاثر ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان
اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 10)
مخاطب کو نظر
انداز کرنا دراصل اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے جب کوئی اپنی بات کہہ
رہا ہو اور اسے توجہ نہ دی جائے تو اس کے دل میں محرومی، حقارت اور دکھ پیدا ہوتا
ہے، سب سے پہلے ہمیں اس بات پر غور ضروری ہے کہ نظر انداز کیوں غلط ہے اور اس کے
متبادل رویے کون سے ہیں:
سب سے پہلے،
نظر اندازی تعلقات کو کمزور بناتی ہے۔ اگر کسی دوست، استاد یا خاندان کے فرد کی
بات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو وہ غیر مقتدر محسوس کرتا ہے اور اس سے دیر پا اختلافات
پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی یا پیشہ ورانہ ماحول میں مخاطب کی رائے کو
نظر انداز کرنا کام کی بات میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
دوسرا نظر
اندازی اخلاقی نقطہ نظر سے بھی غلط ہے۔ انسان کا وقار اور احترام ضروری ہے۔ کسی کی
جانب توجہ نہ دینا اس کے احساسات کی توہین کرنا ہے۔
تیسرا
نظراندازی کے نفسیاتی اثرات ہوتے ہیں مسلسل نظر انداز ہونا کسی فرد کی خود اعتمادی
گھٹا دیتا ہے اور وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتا ہے اور خصوصاً یہ عمل بچوں اور
نوجوانوں میں زیادہ ہے اور یہ نقصان دہ ہے کیونکہ ان کی ترقی اور شخصیت سازی میں
دوسروں کی توجہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔
امیر اہلسنت
اپنے مدنی مذاکرہ میں فرماتے ہیں: جو کسی کی بات کو اہمیت نہیں دیتا وہ دل شکنی کا
مرتکب بنتا ہے اور دل شکنی گناہوں کا سبب بن سکتی ہے۔
اب
اس کا حل کیا ہے؟ اس
کا حل یہ ہے کہ پہلے تو سننے کی عادت اپنائیں۔ فعال سماعت (dive
listening) کریں۔ مناسب وقت دیں اور جواب میں ہمدری
اپنائیے اور اگر مصروف ہیں تو مودبانہ انداز میں بتا دیں کہ بعد میں مکمل توجہ دیں
گے۔ سوالات کریں تاکہ مخاطب محسوس کرے کہ آپ کی دلچسپی حقیقی ہے۔ آخر میں معذرت
کرنا سیکھیں اگر کسی کو غیر ارادی طور پر نظر انداز کر بیٹھیں تو فوراً اظہار
ندامت کریں۔
نفسیاتی
اعتبار سے بھی مخاطب کی اہمیت مسلم ہے۔ بچوں، طلبہ، دوستوں اور اہل خانہ کی گفتگو
کو توجہ سے سنا ان کی شخصیت سازی اعتماد اور مثبت سوچ کی نشوو نما کا ذریعہ بنتا
ہے نفیسات دان کہتے ہیں۔ سب سے بڑا تحفہ جو آپ کسی کو دے سکتے ہیں وہ آپ کی مکمل
توجہ ہے۔ توجہ دینے سے انسان کو احساس اہمیت ملتا ہے۔ جبکہ نظر اندازی سے احساس
کمتری اور ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔
الغرض مخاطب
کو نظر انداز کرنا بد تمیزی نہیں بلکہ شخصی اور معاشرتی نقصان کا سبب بھی ہے۔ محبت
اخلاق اور احترام کے ساتھ گفتگو کرنا وہ عمل ہے جو دل جیتّا ہے اور رشتوں میں
مضبوطی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ معاشرتی ہم آہنگی تعلیمی ترقی اور ذاتی خوش حالی کے
لئے لازم ہے۔ گفتگوں میں ایک دوسرے کو وہ عزت دیں گے جو وہ رکھتے ہیں۔
آئیں ہم سب نیت
کریں کہ آئندہ کسی مسلمان کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ سنیں، سمجھیں اور باعزت جواب
دیں۔
Dawateislami