ہم ایک
معاشرتی مخلوق ہیں جسے بات جیت اور گفتگو کی ضرورت پڑتی ہے، معاشرتی تعلقات کی
مضبوطی اور فروغ کے لئے پہلے ہمیں دوسروں کی بات صحیح معنوں میں توجہ سے سننا،
سمجھنا ہو گی تاکہ بعد ازاں ہم انہیں اپنی بات کماحقہ سمجھا سکیں۔ جب تک ہم ایک
اچھے سامع (Listener)
نہیں بن جاتے تب تک ہم ایک اچھے مقرر (Speaker)
بھی نہیں بن سکتے۔
نظر انداز
کرنا شاید دشمنی سے بھی زیادہ پریشان کن عمل ہے۔کسی کو سب سے بڑی اذیت دینا مقصود
ہو تو اسے نظر انداز کر دیا جائے، بچہ ہو یا بڑا ہر ایک کی یہ چاہت ہوتی ہے کہ اس
کی بات کواہمیت دی جائے، اسے توجہ کہ ساتھ سنا جائے۔
مخاطب کو نظر
انداز کرنا اسلامی تہذیب اور اخلاقی و معاشرتی نظم و نسق کے اصولوں کے خلاف ہے
نیزحسن سماعت کے آداب کا تقاضا بھی یہ ہے کہ مخاطب کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو۔
ارشاد الٰہی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔حضرت علامہ سیدنعیم الدین
مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں
تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا،
جیسا متکبرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے، اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر(یعنی امیر
وغریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی سے) پیش آنا۔ (خزائن العرفان، ص 761)
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام
اورملاقا ت کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے
سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائیے، متکبرین کی عادت
ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراو مساکین کو غصے
سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں برابر
ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
حضور ﷺ کے
جہاں دیگر اوصاف بیان کیے گئے وہاں یہ بھی بیان کیا گیا کہ آپ ﷺ مخاطب کی طرف مکمل
طور پر توجہ فرماتے تھے۔ (ابن ماجہ،4/210، حديث: 3716) جب آقا علیہ السلام کسی کی
طرف متوجہ ہوتے توجسم مبارک کے تمام اعضا کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے۔
اس حوالے سے
اگر ہم اپنے آپ کو دیکھیں تو ہماری آنکھیں ایک طرف ہوتی ہیں تو چہرہ دوسری طرف
ہوتا ہے، ہاتھ ادھر ہوتا ہے اور چل ادھر رہے ہوتے ہیں۔ یہ طرز عمل اخلاق مصطفی ﷺ کے
منافی ہے۔
عدم توجہ کے
مختلف اسباب ہو سکتے ہیں، جیسے خود پسندی، تکبر، مخاطب کا غیر اہم و معمولی ہونا،
یا اس کلام میں دلچسپی کا نہ ہونا۔
حل:
ان
آیات و حدیث میں غور کریں جن میں تکبر و خود پسندی کی وعیدات و مذمت بیان کی گئی
ہیں تاکہ دوسروں پر بر تری کا احساس ختم ہو اور دیگر افراد کی بات توجہ سے سنی جائے۔
مخاطب کو توجہ
سے سننے کے دینی و دنیوی فوائد کو پیش نظر رکھے کہ مخاطب کہ دل میں محبت و الفت و
فروغ دیتا ہے، کبھی صرف توجہ سے سننا ہی لوگوں کے درد و غم کو کم کرتا ہے، باہمی
تعلقات میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے،جب توجہ سے بات سنی جاتی ہے تو وہ مخاطب کے اعتماد
میں اضافہ کرتا ہے، بہترین مشورہ ملنے میں معاون ہے نیر دوسرے کے کلام کو توجہ سے
سننے سے علم و تدبر میں اضافہ ہوتا اور انداز گفتگو میں نکھار آتا ہے۔
Dawateislami