اصحابِ بدر رسول اکرم ﷺ کے وہ جلیل القدر صحابہ کرام ہیں جنہوں نے 2 ہجری، 17 رمضان المبارک، جمعہ کے بابرکت دن میں آپ ﷺ کی قیادت میں جنگ بدر میں شرکت فرمائی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 313 تھی، جنہوں نے قریش مکہ کے ایک بڑے قافلے کا مقابلہ کیا۔

یہ اسلام کی پہلی جنگ تھی جس میں مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں کم تھی، لیکن ان کا ایمان، یقین اور استقامت بے مثال تھی۔ اللہ پاک نے اس جنگ میں فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔

اس جنگ میں مسلمانوں نے 70 کفار کو واصل جہنم کیا اور اتنی ہی تعداد میں کفار گرفتار ہوئے، جبکہ چودہ مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ (عمدۃ القاری، 10/122)

حضور ﷺ کی اصحابِ بدر سے محبت: نبی کریم ﷺ کی اصحابِ بدر سے محبت کا اندازہ درج ذیل احادیث سے لگایا جا سکتا ہے:

1۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھے، ان میں سے کوئی بھی ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ (ابن ماجہ، 4/508، حدیث: 4281)

2۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ کریم اہل بدر سے واقف ہے اور تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔ (بخاری، 3/12، حدیث:3983)

3۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا غلام حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور ان کی شکایت کی، حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ جنگ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے کی وجہ سے دوزخ میں نہیں جائے گا۔ (مسلم،ص 1041، حدیث:6403)

4۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید کی شکایت پر حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو، تو بھی اہل بدر کے ایک عمل کے اجر کے برابر نہیں ہو سکتا۔

ان احادیث سے صحابہ کرام کی شان اور مقام بخوبی واضح ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ جنتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں مغفرت اور عظیم اجر کی بشارت عطا فرمائی۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں تمام صحابہ کرام کی محبت پر موت نصیب فرمائے۔ آمین