مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی  سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد (Basic Purpose) یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں خَتْم ہوجائیں، قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔

آئیے اب ہم مقروض پر نرمی سے متعلق احادیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1563))

(2) عرش کا سایہ :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(3) اللہ تعالیٰ کا رحم کرنا :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث: 2076 )

(4) درگزر کرنا : حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9 / 97، الحدیث: 23413، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص843، الحدیث: 29(1560))

(5) مہلت دینا :صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560))

قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘اے اللہ! مجھے حلال (رزق عطا فرما کر) کفایت کر دے، حرام (رزق) سے بچا اور اپنے فضل سے مجھے اپنے علاوہ سے بے نیاز کر دے (یعنی کسی دوسرے کا محتاج نہ کر) ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، 5 / 329، الحدیث: (3574)

قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے ہمارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دیں اور ہمارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا ہمارا لیے سب سے بہتر اور اس سے آخرت میں عظیم ثواب ملے گا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔