یہ جملہ تو آپ نے کافی بار سنا ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ۔   کیا کبھی اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ اسلام کس طرح مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس لئے کہ اسلام ان تمام چیزوں کا جامع ہے جو، ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے کافی ہیں ۔ ان روشن تعلیمات میں سے، حسن سلوک اور عفو درگزر بھی ہیں ۔

حسن سلوک: لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاق اور اچھے برتاؤ کا عملی مظاہرہ حسن سلوک کہلاتا ہے ۔

عفو و درگذر : خطا کو معاف کرنا اور جواب دینے کی قدرت کے باوجود چشم پوشی کرنا عفو و درگزر ہے ۔

مقروض کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی کے فضائل نبی کریم ﷺ کے اقوال میں موجود ۔ اس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ ہوں ۔ ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ ہماری دنیا و آخرت آسان ہو جائے ۔ لیکن یہ کس طرح ہوگا ۔ آئیے حدیث پاک میں دیکھتے ہیں ۔

حضور ﷺ کا فرمان رحمت ہے: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

قیامت کا دن بہت ہولناک ہوگا اس دن عرش کا سایہ نصیب ہو جائے تو اور کیا چاہیے لیکن اس کے لئے کچھ کرنا ہوگا ۔ آئیے حدیث سے پوچھتے ہیں ہمیں کیا کرنا ہوگا تاکہ عرش کا سایہ نصیب ہو جائے ۔

فرمان مبارک ہے :جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

قیامت کا دن تکلیفوں کا دن ہے ۔ خود آدمی کے اپنے اعضاء گواہی دے رہے ہوں گے ۔ سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا ۔ اس دن دیگر اعمال کے ساتھ ساتھ ایک ایسا عمل بھی ہے جو تکلیفوں سے نجات دے گا : چناچہ

حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

اللہ اس شخص پر رحم کرے گا :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

اے فرشتوں میرے اس بندے سے درگزر کرو: صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)

تجارت کرنے والے کو چاہیے کہ اگر کوئی تنگدست ہے تو اس پر تھوڑی نرمی کریں اگر ہوسکے تو اس کو معاف کر دیں ۔ اس کی بھی فضیلت ہے حکایت ملاحظہ ہو ۔

نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

ہم نے مقروض پر نرمی و حسن سلوک کے حوالے سے نبوی تعلیمات کے چند پھولوں کا جائزہ لیا ۔ ہمیں چاہیے کہ مقروض پر نرمی کریں ، اس کے ساتھ حسن سلوک کریں ، اگر کوئی تنگدست ہو تو ہوسکے تو اس کو قرضہ معاف کردیں ۔ ان شاءاللہ اس کی برکت سے ہماری دنیا و آخرت آسان ہوگی ۔