فیصل مختار (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
نبی
اکرم ﷺ کا سوال و جواب کے ذریعے تعلیم و ترب یت کا انداز اس قدر جامع اور مؤثر تھا
کہ اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے نہ صرف پیچیدہ احکام
اور اخلاقی اصولوں کو عام فہم بنایا بلکہ لوگوں کو خود سوچنے اور حقائق کی گہرائی
تک پہنچنے کا درس بھی دیا۔ پہلی احادیث کے بعد یہاں پانچ مزید احادیث پیش کی جا رہی
ہیں جو اس خوبصورت تربیتی اسلوب کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔
(1)
مفلس کی حقیقت :حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون
ہے" صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے درمیان مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار
اور مال و اسباب نہ ہو۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت
کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو
گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور
کسی کو مارا ہو گا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں
ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا
جائے گا۔"صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:2581)
اس
حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایک عام فہم تصور "مفلس" کو ایک نیا معنی دیا۔
لوگ عام طور پر مفلس اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیا کا مال و دولت نہ ہو۔ آپ
ﷺ نے اسی تصور سے بات شروع کی تاکہ صحابہ کی توجہ حاصل کر سکیں۔ پھر آپ نے اس کی
حقیقی تعریف بیان فرمائی: اصل مفلس وہ نہیں جو دنیا میں خالی ہاتھ ہو، بلکہ وہ ہے
جو آخرت میں نیکیوں کا پہاڑ لے کر آئے لیکن اخلاقی گناہوں کی وجہ سے سب کچھ گنوا بیٹھے۔
یہ طریقہ ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ
اصلی نقصان مالی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔
(2)
حقیقی طاقتور کون ہے:حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے
نزدیک سب سے زیادہ طاقتور پہلوان کون ہے" لوگوں نے عرض کیا: "جو کسی کو
کشتی میں پچھاڑ دے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ نہیں، بلکہ طاقتور وہ ہے جو
غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔"(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث: 6114 اورصحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2609)
یہاں
آپ ﷺ نے جسمانی طاقت کے عام معیار کو چیلنج کیا۔ لوگوں کے ذہن میں پہلوان یا فاتح
طاقتور ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے اسی جواب کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ اصل طاقت جسمانی
نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی ہے۔ یہ طاقت ہے اپنے غصے اور جذبات پر قابو پانے کی۔
اس طرح آپ نے ایک عام سی بات (کون طاقتور ہے) کے ذریعے ایک انتہائی اہم اخلاقی سبق
سکھایا جو آج بھی معاشرے میں درگزر اور صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ
نبی اکرم ﷺ نے علم کو صرف منتقل نہیں کیا بلکہ اسے سوال کے ذریعے ذہن میں راسخ کر
کے عملی زندگی کا حصہ بنایا۔
Dawateislami