مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد
ارشد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
انسان کی فطری
خواہشات میں سےہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے اسکی بات کو توجہ سے سنا جائے بات
کرنے والےکو نظر انداز کرنا اخلاقی طور پر برا رویہ ہے یہ بات اسلامی تعلیمات کے
خلاف ہےہمیں اس طرح مخاطب کونظرانداز نہیں کرنا چاہیے نظر انداز کرنا صرف یہ ہی
نہیں کہ اس کی بات کو اہمیت نہ دینا بلکہ اس کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
کسی کی بات کو اچھی طرح نہ سننا، اچھےکام پر
حوصلہ افزائی کی بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرناہے، اگر وہ کسی بھی قسم کا مشورہ دے تو قبول نہ کرنا،
اسکی عزت نفس کاخیال نہ رکھنا
خودپسندی کی وجہ سے بات نہ سننا وغیرہ۔
کسی
کونظرانداز کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص خودپسندی کا شکار ہے لہذا
تکبر،انا،حسد،وغیرہ کی وجہ سے بھی دوسروں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
نظر
انداز کرنے کےبارے میں مذمت:
قران پاک میں
سورت لقمان میں ارشاد ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ
فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل،
بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
تفسیر صراط
الجنان میں ہے: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر) یہاں سے حضرت
لقمان کی وہ نصیحت ذکر کی گئی ہے کہ جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے
حوالےسے فرمائی چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے! جب آدمی بات کرے تو تکبر کرنے والوں
کی طرح انہیں حقیر جان کران کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا
بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنا اور زمین پر
اکڑتے ہوئے نہ چلنا بے شک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والاکوئی بھی شخص اللہ کو پسند
نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/ 471ملتقطا)
اکڑ
کی وجہ سے نظر انداز کرنے کی مذمت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے: جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اکڑ کر چلتا ہے وہ اللہ سے اس طرح
ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ (مسند امام احمد، 2/461، حدیث:6002)
اس سے معلوم
ہوا کہ کوئی شخص امیر ہویا غریب اسےحقیر نہیں جاننا چاہیے اور اچھے انداز میں اس
سے بات کرنی چاہیے کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا تکبر کی علامت ہے ان وجوہات کی
بنا پر اسے نظر انداز کرنا اخلاقی طور پر برا رویہ ہے۔
ذاتی
کمال پر فخر کرنے وعید: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہےجیسے حسن،خوش
آوازی،نسب اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیال ہے جیسےنوکر،مال وغیرہ۔
ان تمام چیزوں
کی وجہ سےکسی کم درجے والے کو نظرانداز کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ چیزیں رب کی عطا
کی ہوئی ہیں اور وہ جب چاہے لے لے، تاجدارِ رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے ان سے
نفرت نہ کرتے۔
خودپسندی کی
وجہ سے لوگوں کو نظرانداز کرنے کے بارے میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: فَلَا تُزَكُّوْۤا
اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) (پ 27، النجم:
32) ترجمہ: تو اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔
حدیث پاک میں
ہے: گناہوں پرنادم ہونےوالا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خودپسندی کرنے
والا اللہ کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے۔ (شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)
Dawateislami