مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت علی
احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مخاطب سے
گفتگو کرنا ایک فن ہے جو کہ ہر کسی کو آتا نہیں ہے۔ اگر آپ مخاطب سے صحیح طریقے سے
گفتگو کریں گے تو آپ مخاطب کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں لیکن جب آپ مخاطب کو نظر
انداز کرتے ہیں تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ آپ اسے اہمیت نہیں دے رہے۔ قرآن شریف میں
رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ
فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل،
بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
یہاں سے حضرت
لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی
اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو
تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ
اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور
زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ
تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919-
خازن، 3/471 ملتقطاً)
مخاطب
کو نظر انداز کرنے کے نقصانات:
1۔
بےعزتی: جب
آپ مخاطب کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کی عزت کو نقصان پہنچتا ہے۔ مخاطب کو محسوس
ہوتا ہے کہ آپ اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔
2۔
تعلقات میں بگاڑ: مخاطب
کو نظر انداز کرنے سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ مخاطب آپ سے دور ہو جاتا ہے اور آپ کے
ساتھ بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔
3۔
حوصلہ شکنی: مخاطب
کو نظر انداز کرنے سے اس کی خود اعتمادی کم ہوتی ہے۔ مخاطب کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ
کسی قابل نہیں ہے۔
4۔
قلبی بیزاری: مخاطب
کو نظر انداز کرنے سے اس کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مخاطب آپ سے نفرت کرنے لگتا
ہے اور آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔
مخاطب
کو نظر انداز نہ کرنے کے طریقے: مخاطب کی بات کو سننے کی کوشش کریں
اور اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔مخاطب کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور اس کی
عزت کریں۔ مخاطب کی بات کو رد نہ کریں بلکہ اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور
اس پر اپنی رائے دیں۔ مخاطب کے ساتھ گفتگو میں صبر کریں اور اس کی بات کو سننے کی
کوشش کریں۔
Dawateislami