مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت صغیر احمد بھلی،فیضان
ام عطار گلبہار سیالکوٹ
انسان کی سب
سے حساس جگہ دل ہے اور دل کو زخمی کرنے کے ہزار طریقوں میں سے
سب سے خاموش
مگر سب سے تیز وار کسی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اکثر اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے
کوئی برا لفظ نہیں کہا کوئی سخت جملہ نہیں بولا لہٰذا ہم نے کسی کا دل نہیں توڑا۔ لیکن
حقیقت یہ ہے کہ کئی بار لفظوں سے زیادہ خاموشی نقصان کرتی ہے۔ کسی کو مفہوم دے
دینا کہ وہ اہم نہیں اس کی بات کی قدر نہیں اس کی موجودگی معنی نہیں رکھتی یہ بھی
دل آزاری کی شدید شکلوں میں سے ایک ہے۔ اسی لئے دین اسلام میں انسان کے احترام، اس
کی عزت، اس کے احساسات اور اس کی توجہ کی قیمت مقرر ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی
تعلیمات میں مسلمان کے ساتھ حسن سلوک، نرم روی اور عزت دینے پر بار بار تاکید ملتی
ہے۔
اسی بنیاد پر مخاطب
کو نظر انداز کرنا صرف اخلاقی غلطی نہیں بلکہ ایک ایمان related
چیز ہے۔ اور اسی حقیقت کو مضبوط کرنے کیلئے ہمارے سامنے ایک حدیث مبارکہ پیش کی
جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان
محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 10)
کسی کو نظر
انداز کرنا لفظوں کی چوٹ سے بھی زیادہ تکلیف دیتا ہے، کسی کی کسی کی گفتگو، درد،
پیغام، احساس یا موجودگی کو ignore کرنا اسے یہ feel
کروانا ہوتا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان
دوسرے مسلمان کے ساتھ عزت احساس اور توجہ کے ساتھ پیش آئے۔ لہذا مخاطب کو اگنور
کرنا بھی اس کے دل کی تکلیف میں شامل ہے اور یہ بھی ایذا کی ایک شکل ہے اس لیے جب
کوئی آپ سے بات کرے تو present رہیں، توجہ دیں، آگے سے جواب
دیں اور اسے یہ احساس ضرور دیں کہ وہ اہم ہے، کیونکہ کبھی کسی کا صرف سنجیدہ جواب اس
کے اندر ٹوٹنے کو روک دیتا ہے۔
Dawateislami