کلام کرنے والے کو مخاطب کہتے ہیں۔ مخاطب کی بات کو مکمل توجہ سے سننا، سمجھنا اور مثبت انداز میں جواب دینا اچھے اخلاق میں شامل ہے جبکہ مخاطب کو نظر انداز کر نا منہ موڑ لینا انسان کی عظمت کے خلاف اور مکروہ کام ہے شریعت میں بلاوجہ ایسا کرنے کو سخت ناپسندیدہ کیا گیا ہے قرآن واحادیث میں ایسا کرنے والے کی وعید بھی بیان کی گئی ہے چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔

اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے کہ کسی کو حقیر جان کر اس کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ احتیار نہ کرنا یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تکبر کو پسند نہیں فرماتا۔

نیز یہ کام سنت کے بھی خلاف ہے کہ کلام کرنے والے کو نظر انداز کیا جائے اس کی طرف سے رخ پھیر لیا جائے۔

صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پوری طرح متوجہ ہو کر بات سنتے تھے۔ (ابن ماجہ، 4/210، حدیث: 3716)

نیز صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سے مصافحہ یا گفتگو کرتے تو پورے جسم کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔

آج کل ہمارے معاشرے میں اس طریقے کو بہت فروغ دیا جا رہا ہے بعض اوقات محض انا تکبر کی وجہ سے لوگ ایسا کرتے ہیں جو کہ ناجائز ہے سنت پر عمل کرتے ہوئے معاشرے سے اس چیز کو ختم کیا جانا چاہیے یہ ایک انتہائی مذموم فعل ہے۔

اللہ کریم سے دعا ہے ہمیں بلاوجہ شریعت نظر انداز کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔