انسان ایک سماجی مخلوق ہے، جسے دوسروں کے ساتھ تعلقات میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں باہمی ربط و ضبط، حسن سلوک، گفتگو کا سلیقہ، اور مخاطب کا احترام وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک خوشحال اور مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔

لیکن افسوس کہ موجودہ دور میں ہم ایک ایسی روش کو اختیار کر چکے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے سراسر متصادم ہے۔ ہم نہ صرف دوسروں کو سننے سے کتراتے ہیں بلکہ بعض اوقات ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جو سامنے والے کے وجود کو ہی نظر انداز کر دیتا ہے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے۔ یہ محض ایک سماجی آداب کی بات نہیں، بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانیت پر مبنی اصول ہے۔

قرآن مجید کی روشنی میں:

1۔ حسن گفتار اور دوسروں کو اہمیت دینا: وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ- (پ 5، النساء:86) ترجمہ کنز الایمان: اور جب تمہیں کوئی کسی طرح سلام کرے تو تم اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو یا وہی لوٹا دو۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ نہ صرف سلام کا جواب دینا لازم ہے، بلکہ بہتر طریقے سے دینا بہتر ہے۔ اگر سلام کا جواب نہ دیا جائے، یا مخاطب کو نظر انداز کر دیا جائے، تو یہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔

2۔ ملنے والے کی طرف چہرہ رکھئے: پارہ 21سورۃ لقمٰن آیت18میں ارشاد الٰہی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔حضرت علامہ سیدنعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا، جیسا متکبرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے، اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر(یعنی امیر وغریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی سے) پیش آنا۔ (خزائن العرفان، ص 761)

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام اورملاقا ت کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائیے، متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراو مساکین کو غصے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

شربت نہ دیں نہ دیں وہ کریں بات لطف سے یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے

مخاطب کو نظر انداز کرنا بعض اوقات غرور اور تکبر کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں، جو کہ اسلامی اخلاقیات کے سراسر خلاف ہے۔

معاشرتی پہلو:

1۔ تعلقات میں دراڑ: جب ہم کسی کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس شخص کی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ باہمی تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ خاندان، دوست، ہمسائے، یا دفتری ساتھی سب ہماری توجہ اور احترام کے مستحق ہیں۔

2۔ ذہنی صحت پر اثرات: کسی کو مسلسل نظر انداز کرنا اس کی ذہنی صحت پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسے لوگ خود کو غیر اہم، ناپسندیدہ اور تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں، جو کہ ڈپریشن اور اضطراب کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

3۔ نفرت اور بدگمانی: نظر انداز کیا جانا اکثر نفرت اور بدگمانی کو جنم دیتا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات یا رویہ بڑے فتنے کا سبب بن سکتا ہے، جسے قرآن نے بارہا منع کیا ہے۔

انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ اسے سنا جائے اور اہمیت دی جائے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق کسی کو سننا محبت کی ایک قسم ہے۔ جب ہم کسی کو سننے سے انکار کرتے ہیں یا مسلسل اسے نظر انداز کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اس کی شخصیت کو مجروح کر رہے ہوتے ہیں۔

مخاطب کو اہمیت دینے کے عملی طریقے: جب کوئی بات کر رہا ہو تو اس کی طرف متوجہ ہو کر دیکھنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ اس کی بات سن رہے ہیں۔ بات کاٹنے سے گریز کریں، مخاطب کی بات مکمل ہونے دیں، چاہے آپ کو اس سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جواب ضرور دیں، کسی کی بات کا جواب نہ دینا، یا صرف خاموش رہنا اس کی توہین کے مترادف ہے۔ کم از کم سر ہلا کر یا مختصر لفظوں میں جواب دینا ضروری ہے۔ موبائل یا دیگر مشغلے چھوڑ دیں، جب کوئی بات کر رہا ہو، تو موبائل یا دیگر کاموں میں مشغول رہنا نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک تم میں سے مجھے سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے نزدیک تر وہ لوگ ہو ں گے جو تم میں سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں۔ اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو برے اخلاق والے ہیں، جو زیادہ باتیں کرنے والے منہ پھٹ، باچھیں کھول کر اور منہ بھر کر باتیں کرنے والے ہیں۔ (شعب الایمان، 6/234، حدیث: 7989)

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو عزت، احترام اور حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ مخاطب کو نظر انداز کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ غیر اسلامی بھی ہے۔ ہمیں اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم چاہے جتنے بھی مصروف ہوں، جتنے بھی تھکے ہوں، کسی کو نظر انداز کرنا ایک منفی عمل ہے، جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے، دوسروں کو اہمیت دینے، اور حسن سلوک اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین