گفتگومیں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) (پ 4، آل عمران: 104) ترجمہ کنز الایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچّھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اوریہی لوگ مراد کو پہنچے۔

سارے مسلمان مبلغ ہیں، سب پر ہی فرض ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دیں اور بری باتوں سے روکیں۔ (تفسیر نعیمی، 4/72)

حضرت قبلہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر نعیمی میں بخاری شریف کی یہ حدیث پاک نقل کی ہے کہ محسن انسانیّت ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری طرف سے پہنچا دو اگر چہ ایک ہی آیت ہو۔ (بخاری، 2/462، حدیث: 3461)

مفسّر شہیر حکیم الامّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مزید فرماتے ہیں: اسلام میں تبلیغ بڑی ا ہم عبادت ہے کہ تمام عبادتوں کا فائدہ خود اپنے کو(یعنی اپنی ذات کو) ہوتا ہے مگر تبلیغ کا فائدہ دوسروں کو بھی۔ لازم (یعنی صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے والے عمل)سے متعدی(ایسا عمل جو دوسروں کو بھی فائدہ دے وہ) افضل ہے۔

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ جو اچّھی باتوں کا حکم دے،برائیوں سے روکے وہ اللہ تعالی کا بھی خلیفہ ہے، اس کے رسول کا بھی اوراس کی کتاب (یعنی قرآن کریم)کا بھی۔

امیرالمومنین حضرت مولائے کائنات علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تبلیغ بہترین جہاد ہے۔ (تفسیر کبیر، 3/316) جیسے تبلیغ کرنا بہترین عباد ت ہے ایسے ہی تبلیغ چھوڑ دینا بدترین جرم اور چھوڑنے والا ذلیل وخوار۔ (تفسیر نعیمی، 4/72)

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً)

کسی شخص کو حقیر نہیں جاننا چاہئے کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات ہیں،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے۔حدیث پاک میں بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)