خواتین معاشرے کا حصہ ہیں اور معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اسلام میں عورت کو عزت، وقار، تحفظ اور مقصد بھی دیا گیا ہے دین کی خدمت اور دین کا کام صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی اس میں اپنا حصہ اور اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خواتین علم، تربیت، دعوت،اور خدمت خلق کے ذریعے دین کے کام میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اس کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے: وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (پ 10، التوبۃ: 71) ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷) (پ 14، النحل: 97) ترجمہ: جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا نیگ دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو۔

خواتین اس عظیم اور نیک کام میں یہ بات بھی پیش نظر رکھیں صحابیات اور ازواج مطہرات نے دین کی دعوت دینے اور اس کی خدمت کے لئے بھر پور ساتھ دیا ہمیں بھی چاہیے کہ ان عظیم ہستیوں کے دین کی خدمت اور دعوت کے واقعات یاد رکھیں اور ان کے طریقے کو اپنائیں۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آغاز نبوت میں نبی کریم ﷺ کو حوصلہ دیا اور اپنا تمام مال دین کی رہ میں خرچ کر دیا۔

دین کی رہ میں مال خرچ کرنا بھی دینی خدمت ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہزاروں احادیث روایت کی خواتین کو خصو صی تعلیم دیتی تھیں۔

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھ سے کام کرتی اور کثرت سے صدقہ و خیرات کرتی تھی۔

صدقہ کرنا دین کی خدمت اور دعوت کا عملی نمونہ ہے۔

ایسے بہت سے انداز ہیں جن کے ذریعے خواتین کے کام اور خدمات کر سکتی ہیں۔

علم سیکھ کر آگے پہنچانا: خواتین درست تجوید و قوائد کے ساتھ قرآن کریم پرھنا سیکھئے حدیث اور بنیادی فقہی مسائل سیکھئے اور احسن انداز میں دوسری خواتین کو بھی سیکھا ئیں۔

گھر کو دینی درس گاہ بنائیں: گھر میں نماز قرآن کریم کی تلاوت، مسنون دعائیں سنتوں پر عمل اور گھر کے دوسرے افراد اور بچوں کو ترغیب دیں اچھے اخلاق اور نرمی سے پیش آئیں گھر میں مدنی چینل اور مدنی مذاکرہ دیکھنے کی ترغیب دیں۔

خواتین کے دینی اجتماعات میں شرکت: خواتین اپنے علاقوں میں دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار اجتماعات میں شرکت کر کے وہاں ذمہ دار کا ساتھ دے کر دوسری خواتین کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دے کر بھی دين کی خدمت کر سکتی ہیں۔

اچھے اخلاق سے دعوت: نرم لہجہ، صبر، معافی، درگزر، حسن سلوک، رشتے داروں اور پڑوسیوں سے اچھا برتاؤ، بیمار پرسی، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر کے بھی دین کی خدمت کی جاسکتی ہے۔

دینی باتوں کی تحریر و شیئرنگ: موبائل کے ذریعہ بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ مستند اقوال، آیات، احادیث لکھ کر یا کوئی اچھی پوسٹ جس میں اسلام اور نیکی کے متعلق مستند بات ہو شئیر بھی کی جاسکتی ہے۔

مال کے ذریعے: راہ خدا میں خرچ کر کے اپنے مال کے ذریعے ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کر کے یا کسی دینی ادرے جہاں دین اسلام کی تعلیمات دی جاتی ہو وہاں ماہانہ رقم دے کر یا کچھ خرچ اپنے ذمے لے کر بھی دین کا کام اور اسکی خدمات انجام دی جاسکتی ہیں۔

یہ سب دین کی بڑی خدمت اور موثر دعوت کے انداز ہیں۔