زین
احمد عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عطار ڈیفنس لاہور ،پاکستان)
نبی کریم ﷺ بہترین
معلم اور مربی تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی تعلیمات
کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف اسالیب اپنائے، جن میں ایک مؤثر طریقہ تشبیہات کے ذریعے
سمجھانا تھا۔ آپ ﷺ نے روزمرہ کی چیزوں کی مثال دے کر بڑی گہری باتوں کو آسان بنایا،
تاکہ ہر فرد بخوبی سمجھ سکے اور عمل کر سکے۔
(1) حضورﷺ کا مومن کو نرم ونازک
کھیتی کے ساتھ تشبیہ دینا: حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: "مومن کی مثال نرم ونازک کھیتی کی مانندہے
جسے ہوا ادھر اُدھر جھکاتی اور کبھی اسے سیدھا
کرتی رہتی ہے اور منافق کی مثال مضبوط تنے والے صنوبر کی مانند ہے جو ایک ہی دفعہ
جھک کرگرپڑتا ہے"۔ (صحیح بخاری کتاب المرضی:حدیث نمبر:5644)
اس حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ نے
مومن کے جسمانی طور پر ابتلاء وآزمائش میں مبتلا ہونے کو نرم ونازک کھیتی سے تشبیہ
دی ہے جسے ہوا کبھی دائیں اور کبھی بائیں جھکاتی رہتی ہے،اور آپ ﷺ نے
منافق کو سخت اور مضبوط تنے و الے درخت سے تشبیہ دی ہے جسے معمولی ہوا ہلا جلا نہیں
سکتی البتہ جب ہوا تندوتیز ہو تو اسے یکبارگی اکھاڑ پھینکتی ہے۔
(2)"نبی کریم ﷺ کا دین اور
رسالت کو تشبیہ کے انداز میں سمجھانا" حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ
عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میری مثال اور میرے دین
کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی
قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے
دیکھا ہے (یعنی دشمن کی فوج کو) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں، پس جلدی بھاگو۔
اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام
سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی
لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا۔ پس یہی اس شخص کی
مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس
نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا۔“ (صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث:
61)
(3)"ذکر کرنے والے گھر اور
نہ کرنے والے کی مثال" عَنْ
أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا
يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان
کیا کہ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا : اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور
اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب
الدعوات، حدیث: 6407)
پیارے اسلامی بھائیوں آئیے ! ہم بھی اپنی زندگی کو ان مبارک تشبیہات
کا آئینہ بنائیں، مصیبت میں صبر، دین کی دعوت میں سنجیدگی، اور ذکر میں ہمیشگی اختیار
کریں۔ شاید یہی طرزِ عمل ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا وارث بنا دے۔
Dawateislami