انسان کی فطرت ہے کہ وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اچھی صحبت اور نیک ہم نشینی انسان کے اخلاق، کردار اور ایمان پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جیسے خوشبو بیچنے والے کے پاس بیٹھنے سے بدن خوشبو دار ہو جاتا ہے، ایسے ہی نیک ساتھی کی صحبت سے دل و دماغ معطر ہو جاتے ہیں۔ اسلام نے مصاحبت و ہم نشینی کو محض میل جول نہیں بلکہ ایک بامقصد تعلق قرار دیا ہے، جس کے کچھ حقوق اور آداب ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ان ہی آداب و اصول کو واضح کرنے کے لیے آئیے ہم احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مصاحبت و ہم نشینی کے اہم حقوق کا جائزہ لیتے ہیں۔

حقوق نمبر1(اچھا گمان رکھنا) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَجَسَّسُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَحَسَّسُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَبَاغَضُوا، ‏‏‏‏‏‏وَكُونُوا إِخْوَانًا ترجمہ: ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیس بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو۔(صحیح بخاری ، حدیث نمبر : 5143)

وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ

ترجمہ حدیث: اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔(صحیح بخاری ، حدیث نمبر : 5144)

حقوق نمبر 2(سچائی اختیار کرنا)حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عنہ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا

ترجمہ حدیث: ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کرلیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔(صحیح بخاری حدیث نمبر:6094)

حقوق نمبر3(ضروت کے وقت مدد کرنا) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ترجمہ حدیث: ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔(صحیح بخاری حدیث نمبر: 2442)

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ ہمیشہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ اچھی ہم نشینی جنت کی راہ اور بری صحبت جہنم کا زینہ ہے۔


مصاحبت کا مطلب ہے کسی کے ساتھ وقت گزارنا، اس کے قریب رہنا، ساتھ اٹھنا بیٹھنا، جبکہ ہم نشینی سے مراد ہے کسی کے ساتھ مجلس، گُفت و شُنیْد ( بات چیت) یا میل جول رکھنا۔ اسلام میں یہ محض ایک سماجی عمل نہیں بلکہ اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، جس کے کچھ ادب و آداب اور حقوق ہیں۔جب انسان کسی کے ساتھ بیٹھتا ہے، سفر کرتا ہے، یا وقت گزارتا ہے تو درحقیقت وہ صرف ساتھ موجود نہیں ہوتا، بلکہ اس دوران دل و دماغ کا ایک اثر و تبادلہ خیال جاری ہوتا ہے۔ قرآن و سنت نے اچھے ساتھی، نیک صحبت، اور صالح ہم نشینی کی بہت تاکید کی ہے اور برے ہم نشین سے بچنے کی سخت تنبیہ بھی کی ہے۔

مصاحبت و ہم نشینی کے دوران کچھ اہم اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

(1) اخلاص و محبت: جب انسان کسی سے ملاقات کرتا ہے، تو محض ظاہری الفاظ یا رسمی مسکراہٹ کافی نہیں ہوتی، بلکہ دل میں اخلاص، سچائی اور محبت ہونا ضروری ہے۔ یعنی ملاقات محض ایک رسم یا دنیاوی مصلحت نہ ہو، بلکہ اس میں دل کی صفائی، خیر خواہی، اور نیک نیتی شامل ہو۔لہذا ایسی ملاقات ہو جس میں کوئی بناوٹی کام نہ ہو، نہ کوئی دُہرا پن، بلکہ سامنے والے کے لیے عزت، اپنائیت اور خیر کی نیت ہو۔اسلامی تعلیمات کے مطابق، مؤمن مؤمن سے ملے تو دل صاف رکھے، بغیر کسی دنیاوی غرض یا دکھاوے کے۔

(2) حسنِ سلوک: دوسروں کے ساتھ اچھے انداز، خوش اخلاقی، نرمی اور تہذیب سے پیش آنا۔ یہ صرف ظاہری رویہ نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی، خیر خواہی اور دوسروں کے حقوق کا اعتراف بھی اس میں شامل ہے۔ نرمی سے بولنا، بات سننا، کسی کی دل آزاری نہ کرنا، اور ہر ایک کو عزت دینا یہ سب حسنِ سلوک میں آتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہے۔( جامع ترمذی، الحدیث: 1975)

(3) راز داری: جب کسی مجلس میں یا کسی سے ملاقات کے وقت کوئی بات اعتماد سے کہی جائے، تو اسے دوسروں تک نہ پہنچایا جائے۔ اسی طرح اگر کسی کی کوئی کمزوری یا عیب آپ کے علم میں آ جائے، تو اس کو چھپانا اور نہ اچھالنا آپ کی اسلامی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔کیونکہ مجالس میں کی جانے والی باتیں امانت ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ جب کوئی شخص تم سے کوئی بات کرے اور اِدھر اُدھر دیکھے ( یعنی بات کو چھپانے کا انداز اختیار کرے)، تو وہ بات تمہارے لیے ایک امانت ہے ( یعنی اُسے راز رکھنا تم پر لازم ہے۔ )( سنن ابو داود، الحدیث: 4868)

فی زمانہ لوگوں کو مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق کا شعور دینا نہایت اہم ہو چکا ہے۔

(4) سماجی ہم آہنگی: آج کے جدید دور میں انسان ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود دِلوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ روایتی انداز میں مل بیٹھ کر بات کرنے، خیر خبر لینے، یا ہم نشینی کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔ اب تعلقات زیادہ تر موبائل فونز، سوشل میڈیا، میسیجز اور کالز کے ذریعے قائم ہیں۔ یہ سہولتیں فائدہ مند ضرور ہیں، لیکن ان سے رشتوں میں گہرائی، احساس اور خلوص کی وہ کیفیت کم ہو گئی ہے جو سینہ بہ سینہ ملاقات میں ہوتی تھی۔ ایسے حالات میں اسلامی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ چاہے تعلق روایتی ہو یا جدید، اخلاقی اصول ہمیشہ ضروری ہیں۔ جیسے: خلوص ۔ عزت ۔ حسن سلوک ۔ رازداری ۔ خیر خواہی، وغیرہ

اسلامی آداب ہمیں سکھاتے ہیں کہ انسان ایک سماجی شخصیت ہے، لہذا اس کے تعلقات کو محض رسمی یا ظاہری نہیں، بلکہ محبت، سچائی، اور تعاون سے مزین ہونا چاہیے۔

(5) اخلاقی اقدار کا فروغ :اسلام اور تمام مہذب معاشرے اخلاقی اصولوں کو انسانیت کی بنیاد مانتے ہیں۔ ان اصولوں کا مطلب ہے: سچ بولنا، نرم لہجے میں بات کرنا، دوسروں کی عزت کرنا، اور دل دکھانے سے گریز کرنا وغیرہ۔

بدکلامی: انسان کے دل کو سب سے زیادہ جو چیز متاثر کرتی ہے، وہ الفاظ ہوتے ہیں۔ اگر الفاظ میں نرمی ہو، تو وہ محبت، سکون اور اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اگر الفاظ سخت، تلخ یا گالی پر مبنی ہوں، تو وہ دل کو زخمی کر دیتے ہیں۔ یہ زخم بظاہر نظر نہیں آتے، لیکن دل میں ایسی تکلیف اور رنج چھوڑ جاتے ہیں جو دیر تک یاد رہتے ہیں۔ یہی الفاظ کبھی رشتے توڑ دیتے ہیں، کبھی دوستی ختم کر دیتے ہیں اور کبھی خاندانوں میں دوریاں پیدا کر دیتے ہیں۔

تنقید برائے تنقید: جب کوئی شخص بغیر کسی مثبت مقصد کے صرف دوسروں کی تنقید، تحقیر یا تذلیل کرتا ہے یعنی کسی کی غلطی کی اصلاح کرنا مقصد نہ ہو، بلکہ صرف اپنی برتری جتانا، حسد نکالنا، یا دوسروں کو شرمندہ کرنا مقصد ہو تو یہ رویہ نہ صرف لوگوں کے دلوں کو توڑتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں نفرت، بدگمانی اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

حسد: دوسرے کے پاس نعمت، کامیابی، عزت یا مقام دیکھ کر دل میں جلنا، اور یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے، چاہے خود ہمیں نہ ملے۔ حسد ایک باطنی بیماری ہے جو انسان کو اندر ہی اندر جلاتی ہے۔ حسد کرنے والا ہر وقت بے چینی، غم اور منفی سوچ میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے کے بجائے کڑھتا ہے، جس سے اس کا اپنا سکون اور قلبی اطمینان ختم ہو جاتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ

حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔( سنن ابو داود، الحدیث: 4903)

لہٰذا، مثبت گفتگو کو فروغ دینا چاہیے۔ جیسے دوسروں کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کے کلمات کہنا، خیر خواہی اور نرمی سے مشورہ دینا، اور مسکراہٹ، دعا و دل جوئی کے ذریعے تعلقات کو مضبوط بنانا۔ جب انسان ان اخلاقی آداب کو اپناتا ہے، تو وہ نہ صرف دوسروں کے لیے ایک بہتر انسان بنتا ہے، بلکہ اس کے اپنے اندر بھی سکون، نرمی اور وقار پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ رویے ہیں جو انسان کو کردار کی بلندی عطا کرتے ہیں اور اُسے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بناتے ہیں۔

(6) ڈیجیٹل دور میں گفتگو کے آداب: آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہم واٹس ایپ، زوم، ای میل یا کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہیں، تو ہمیں بات کرنے کا سلیقہ، ادب اور احترام برقرار رکھنا چاہیے۔ مثلاً: گفتگوا کی ابتدا سلام سے کرنا چاہیے۔

سخت یا تلخ جملوں سے گریز کرنا چاہیے۔

دوسروں کی بات کو توجہ سے سننا اور بیچ میں نہیں کاٹنا چاہیے۔

اختلاف رائے بھی نرمی اور دلیل کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔

یعنی، آن لائن ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ گفتگو کے آداب بھلا دیئے جائیں بلکہ ادب، نرمی اور احترام ہر جگہ یکساں، و ضروری ہونے چاہیے۔

(7) وقت کی قدر: جب آپ کے پاس کسی سے ملنے کا موقع کم وقت کے لیے ہو،( چاہے وہ چند منٹ ہوں یا چند لمحے ) تو اس وقت کو غیر ضروری باتوں، گپ شپ یا فضول مشغلوں میں برباد نہ کریں۔ بلکہ کوشش کریں کہ آپ کی بات چیت ایسی ہو جو دینی فائدہ دے: مثلاً نیکی کی نصیحت، دعا کی ترغیب، یا کوئی شرعی علم کا اضافہ کرے۔ یا دنیاوی فائدہ دے: جیسے کسی اہم کام کی طرف رہنمائی، فائدہ مند مشورہ یا عملی معلومات کا تبادلہ۔ یوں مختصر ملاقات بھی قیمتی اور بابرکت بن جاتی ہے اور وقت کی بربادی کے بجائے فائدہ کا ذریعہ بنتی ہے۔

مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق،ہمیں باہمی حسنِ سلوک، ایثار اور محبت کا درس دیتے ہیں۔ یہ آداب نہ صرف ہمارے تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں، بلکہ معاشرے میں امن، خیر اور اُخُوَّت ( بھائی چارہ ) کو فروغ دیتے ہیں۔ آج کے دور میں، جب معاشرتی روابط کمزور پڑتے جا رہے ہیں، اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان آداب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک سماجی مخلوق ہے، جو زندگی کے مختلف مراحل میں دوسروں کے ساتھ میل جول، ملاقات اور ہم نشینی کا محتاج رہتا ہے۔ اسلام چونکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس نے صرف عبادات اور معاملات ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی نشست و برخاست اور مختصر ملاقاتوں کے بھی آداب و حقوق بیان کیے ہیں ،قرآن و سنت کی روشنی میں مجلس میں کشادگی، خوش اخلاقی، نرم گفتگو اور عزت نفس کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ ملاقات کے یہ لمحات محبت، اتحاد اور خیر کا ذریعہ بن سکیں۔تاکہ ہر تعلق خیر، سکون اور باہمی عزت و احترام کا ذریعہ بنے۔ ذیل میں مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق پیش کیے جارہے ہیں پڑھیے اور عمل کیجئے:

(1) نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرنا: مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے مدد کریں جبکہ گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کریں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- ترجمہ کنزالعرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پ6، المآئدۃ: 2)

یہ انتہائی جامع آیتِ مبارکہ ہے، نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام اَنواع واَقسام داخل ہیں اور اِثْم اور عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔

(2) مجالس میں کشادگی اور عزتِ نفس کا خیال : مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق میں سے ایک حق مجلس میں آنے والے کیلئے جگہ کشادہ کرنا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو ، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا ۔(پ28، المجادلۃ: 11)

یاد رہے کہ مجلس کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایاں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔ یہ بھی خیال رہے کہ فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پرنہ بیٹھیں کیونکہ احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے۔

جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ )دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ج 04 صفحہ نمبر 179، الحدیث: 6270)

(3)عیب پوشی اور نصیحت کرنا : امام محمد بن محمد غزالی طوسی شافعی رحمۃ الله علیہ احیاء العلوم میں مصاحبت و ہم نشینی کے آداب نقل کرتے ہیں کہ وَمِنۡ آدَابِ الأُخُوَّةِ أَنۡ لَا يَذْكُرَ عَيْبَ أَخِيهِ فِي غَيْبَتِهِ وَلَا فِي حَضْرَتِهِ، بَلْ يَتَغَافَلَ عَنْهُ وَيَلْتَمِسَ لَهُ العُذْرَ، فَإِنۡ نَصَحَهُ نَصَحَهُ سِرًّا لَا جَهْرًا بھائی چارے کے آداب میں سے یہ ہے کہ اپنے بھائی کا عیب نہ اس کی غیر موجودگی میں بیان کرے اور نہ اس کی موجودگی میں، بلکہ چشم پوشی کرے اور اس کے لیے عذر تلاش کرے۔ اگر نصیحت کرے تو خفیہ طور پر کرے، علانیہ نہیں۔(امام ابو حامد الغزالی، احیاء علوم الدین، کتاب آداب الألفۃ والأخوّة والصحبۃ، ج 2، ص 186، دار المعرفۃ، بیروت)


اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں عبادات اور معاملات کے اصول بیان کیے گئے ہیں، وہیں معاشرتی تعلقات، دوستی اور ہم نشینی کے آداب بھی واضح کیے گیے ہیں۔ کیونکہ انسان فطری طور پر اجتماعی زندگی بسر کرتا ہے اور اس کا کردار زیادہ تر اس کی صحبت و ہم نشینی سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے مصاحبت  و ہم نشین کے حقوق کو نہایت اہمیت دی ہے۔

تقویٰ اور احترام کی بنیاد: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر ہمیں دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا حکم دیا ہے:یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہےبےشک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔(پ26، الحجرات:13)

ہم نشین کے ساتھ حسن سلوک: اسی طرح رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًاۙ (۳۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤاور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا۔(پ5، النسآء:36)

یہاں پر محل استشہاد پاس اور دور کے ہمسائے ہیں جن سے ہمیں اچھا سلوک کرنا چاہیے۔

والدین سے اچھا سلوک کرنا: انسان کی زندگی کے سب سے پہلے ہم نشین اس کے والدین ہوتے ہیں۔ اگر ان سے بھی اعتقادات کا اختلاف ہو تو ان سے اچھا سلوک ہی کرنا چاہیے۔ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے ۔(پ21، لقمٰن: 15)

یہاں والدین کے بارے میں فرمایا گیا کہ اگر وہ مشرک بھی ہوں تو بھی ان کے ساتھ دنیا میں معروف طریقے سے رہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحبت اور ہم نشینی میں معروف یعنی نیکی اور حسنِ سلوک کا رویہ ہمیشہ اختیار کیا جانا چاہیے۔


انسانی حیات میں رفاقت و دوستی ایک نہایت لطیف اور اثر انگیز تعلق ہے، جو روحانی طمانیت، قلبی سکون اور معاشرتی ہم آہنگی کا باعث بنتا ہے۔ اسی نکتۂ نظر سے دینِ اسلام نے بھی اس رشتۂ خلوص کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور اس کے انتخاب، حدود اور حقوق کے متعلق نہایت حکیمانہ رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ انسان اس رفاقت کے ثمرات سے فیض یاب ہو سکے اور اس کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔کیونکہ دوستی درحقیقت ایک دو دھاری تلوار ہے، اگر اس میں بصیرت، احتیاط اور حسنِ انتخاب نہ ہو تو یہ خیر کے بجائے شر کا باعث بن سکتی ہے۔ چنانچہ اسلام نے اس عظیم نعمت کے استعمال میں فہم و فراست اور شعور کی تلقین فرمائی ہے اور اس ضمن میں جامع، بسیط اور روشن تعلیمات پیش کی ہیں جو ہر مخلص انسان کو ایک مثالی رفیق کے انتخاب اور معیار کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ آئیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دوستی وہم نشینی کے چند حقوق کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)حسن اخلاق سے پیش آنا: حضور ﷺ نے فرمایا: تم میں سے میرے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں، جن کے پہلو دوسروں کے لیے نرم ہیں جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور اس سے محبت کی جاتی ہے۔(المكارم الاخلاق للطبرانی ملحق مكارم الاخلاق لابن ابی الدنيا ، باب ما جاء فى حسن الخلق، الحدیث: 6، ص 314دارالکتب علمیہ)

(2)وقتافوقتا ملاقات کے لیے جانا: مروی ہے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کا شوق رکھتے ہوئے اس کی زیارت کو جاتا ہے تو فرشتہ پیچھے سے اسے ندا دیتا ہے کہ تو نے اچھا کیا اور تیرے لیے پاکیزہ جنت ہے ۔ ( سنن الترمذی، كتاب البر الصلۃ، باب ماجاء فى زيارة الاخوان، 406/3، الحدیث: 2015)

(3)دعا کرنا: آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔(صحيح مسلم ، کتاب الذكر و الدعاء۔۔ الخ، باب فضل الدعاء للمسلمين... الخ، الحديث: 2733 ،2732، ص1462)

(4)خرچ کرنا: یقینا ً جس سے بھائی چارہ قائم کیا جائے اس پر خرچ کرنا فقراپر صدقہ کرنے سے افضل ہے۔ خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنے بھائی کو 2 در ہم دینا مجھے مساکین پر 100 درہم صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (احیاء العلوم،باب ایثار روبھائی چارہ...الخ،ج 2، ص 632مترجم مکتبہ المدینہ)

(5)حاجت پوری کرنا: حضرت سیدنا ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: جب تم اپنے بھائی سے حاجت بیان کرو اور وہ اسے پوراکرنے میں کوشش نہ کرے تو نماز کا سا وضو کرو اور فور اً اس پر چار تکبیرات پڑھو اور اسے مردہ شمار کرو ۔ (احیاء العلوم،باب ایثار روبھائی چارہ...الخ،ج 2ص 635مترجم مکتبۃ المدینہ)

(6)نیک کاموں میں مدد: مروی ہے الله عَزَّ وَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے نیک دوست عطا فرماتا ہے کہ اگر یہ بھولے تو وہ اسے یاد دلائے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرے۔ ( سنن النسائى، كتاب البيعۃ ، بأب وزير الامام الحديث: 4210 ، 685 ، بتغير قليل)

(7)مختلف حقوق : حضور علیہ السلام نے فرمایا: تم ایک دوسرے سے نہ پیٹھ پھیرو، نہ بغض رکھو، نہ حسد کرو ، نہ قطع تعلقی کرو اوراللہ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے محروم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے، بندے کے برا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیرجانے۔ (صحيح مسلم، كتاب البر والصلۃ، باب تحريم ظلم المسلم ... الخ، الحديث:2563 ،2564، ص1386 ، ملتقطاً)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں دوستوں ہم نشینوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


دین اسلام ایک سچا اور اچھا دین ہے، جب بندہ کسی سے مصاحبت و ہم نشینی کو اختیار کرتا ہے  دین اسلام اس بارے میں بھی تعلیم فراہم کرتا ہے ۔ اب آئیے سب سے پہلے ہم مصاحبت و ہم نشینی کے معنی و مفہوم کو ذہن نشین کریں تاکہ اس کے حقوق کو سمجھنے اور ان پر عمل پیراں ہونے میں دشواری سے بچے رہیں۔ ہم نشینی و مصاحبت یہ دونوں مترادف المعنی ہیں یعنی دونوں کا مفہوم ایک سا ہے ۔مصاحبت و ہم نشینی کے متعلق دین اسلام ہمیں جو تعلیم فراہم کرتا ہے ان میں سے چند حقوق ملاحظہ فرمائیں ۔

(1) جب بھی ہم اپنے ہم نشین، دوست ، ہم جلیس سے ملتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسے سلام کریں۔

(2) دوسرا حق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اس سے خندہ پیشانی سے ملیں تا کہ اگر ہمارا ہم نشین کسی بھی پریشانی میں ہو تو اسے راحت ملے۔

(3) تیسرا حق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں اپنے ہم نشین کی مدد و نصرت کے لیے ہمہ وقت تیار و چاک و چوبند رہنا چاہیے۔

(4) ایک حق یہ بھی ہے جو بڑا اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر بھی بہت تدبر و گہری نظری کرنی چاہئے کہ ہماری مصاحبت و ہم نشینی ہماری ملاقات ہماری بیٹھک جس سے بھی ہے آیا ہمیں اس سے کوئی اُخروی نقصان تو نہیں پہنچ رہا ؟ اس کے سبب ہمارے عقائد و نظریات میں کوئی بگاڑ تو پیدا نہیں ہورہا ؟ اگر تو ایسا ہے ! کہ ہمیں کوئی ایسا نقصان نہیں جس سے ہمارے عقائد و نظریات و معاشرتی سرگرمیوں میں بگاڑ پیدا ہو تو فبھا ۔ یہ بڑی ہی اچھی بات ہے ورنہ ہمیں فوراً ایسی صحبت و ہم نشینی کو منقطع کر دینا چاہئے تاکہ ہمارا ایمان تو سلامت رہے۔

مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب“ میں ایک فارسی شعر لکھا ہوا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ بری صحبت سانپ کے ڈسنے سے زیادہ خطرناک ہے اس طرح کہ جب سانپ ڈس لے تو بندہ جان سے جا سکتا ہے اور جبکہ بری صحبت سے بعض اوقات بندہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔

اسی طرح دین اسلام کئی طرح کے حقوق بیان فرماتا ہے اور ایک بندے کو عملی میدان اور معاشرتی سرگرمیوں میں مہذب و با اخلاق کردار کا مالک بنادیتا ہے ۔

نتیجہ یہی نکلتا ہے جو شخص اسلامی تعلیمات و احکامت کی پیروی کرتا ہے اور ان تمام احکامات کی بجا آوری کیلئے سرِخم تسلیم کرتا ہے تو اس کی شخصیت ہر طرح سے نکھرتی ہوئی ظاہر ہوتی ہے اور وہ رہتی دنیا تک ایک چمکتے ستارے کی مانند ہوجاتا ہے پھر چاہے وہ مصاحبت و ہم نشینی کی صورت میں ہو یا ایک اچھے معاشرتی فرد کی صورت میں ہو یا پھر ایک لیڈر کی صورت میں ہو۔ بہر صورت ہی دین اسلام کی پاسداری اس کی شخصیت کو ایسا منور کرتی ہے کہ زمانہ اس سے فیض پاتا ہے۔


انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، بلکہ اس کے لیے معاشرہ، تعلقات اور باہم مصاحبت ضروری ہے ۔ یہی مصاحبت بعض اوقات جنت کا راستہ بھی بن جاتی ہے، اور بعض اوقات جہنم کا سبب بھی۔ اس لیے اچھے دوست، نیک صحبت اور صالح ہم نشینی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

ہم نشینی کے حقوق: جب ہم کسی کی صحبت اختیار کریں، یا کوئی ہماری صحبت میں آئے، تو چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے:

(1) عزت اور ادب سے پیش آنا: دوستوں یا ہم نشینوں سے نرمی سے بات کرنا، ان کی بات کو توجہ سے سننا اور ان کے جذبات کی قدر کرنا۔

(2) عیب چھپانا، نہ کہ عیب تلاش کرنا: صحبت میں راز داری اور خیر خواہی کا پہلو نمایاں ہونا چاہیے، نہ کہ مذاق اُڑانا یا کمزوریاں بیان کرنا۔

(3) نصیحت خیر خواہی کے ساتھ: اگر کسی ہمنشین سے غلطی ہو جائے تو اس کی اصلاح نرم لہجے میں تنہائی میں کی جائے۔

(4) سلام کو عام کرنا، چہرے پر مسکراہٹ: حدیث پاک میں آیا ہے: مُسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔ (مسند احمد) چہرے کی بشاشت، دوستوں کے لیے باعثِ راحت ہے۔

(5) دعاوں میں یاد رکھنا: دل سے نکلنے والی دعائیں تعلقات میں برکت لاتی ہیں، اور آخرت کا بھی ذریعہ بن سکتی ہیں۔

(6) صالحین کی صحبت: اولیاءِ کرام، نیک لوگوں اور علمائے دین کی صحبت دل کو سکون، علم کو بلندی اور روح کو تازگی بخشتی ہے۔

(7) کامیاب صحبت کی پہچان: ایک بزرگ سے پوچھا گیا: اچھی صحبت کی پہچان کیا ہے؟ فرمایا: جس کی صحبت میں اللہ یاد آئے، گناہ سے نفرت ہو اور نیکی کا شوق بڑھے۔

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ اپنے دوستوں کو صرف دنیاوی مزاج سے نہ دیکھیں، بلکہ ان کے دینی اثرات کو بھی پرکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقتی ہنسی مذاق، دائمی ندامت کا سبب بن جائے۔ اللہ پاک ہمیں نیک صحبت، صالح دوست، اور ہم نشینی کے حقوق ادا کرنے والا بنائے۔ آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ

انسان فطرتاً اجتماعی مخلوق ہے۔ وہ تنہائی کا نہیں بلکہ میل جول، صحبت اور ہم نشینی کا خوگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے نہ صرف انفرادی زندگی کے اصول وضع کیے ہیں بلکہ معاشرتی تعلقات کے بھی حسین آداب سکھائے ہیں۔ محض ملاقات یا مختصر سی مجلس کے بھی کچھ حقوق اور ذمہ داریاں ہیں تاکہ یہ وقت خیر و برکت، محبت اور خیر خواہی کا ذریعہ بن سکے۔

(1) مجلس میں کشادگی پیدا کرنا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(پ28، المجادلۃ: 11)

یہ آیت بتاتی ہے کہ مجلس میں آنے والے کو جگہ دینا اور دوسروں کو تنگی میں مبتلا نہ کرنا اہم ترین حق ہے۔

(2) خوش اخلاقی اور اچھے کلمات سے پیش آنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: كَلِمَةُ الطَّيِّبَةِ صَدَقَةٌ یعنی اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الزكاة، حدیث: 1009) ہم نشینی میں خوش اخلاقی، نرمی اور اچھے الفاظ سے بات کرنا لازمی حق ہے تاکہ دل آزاری نہ ہو بلکہ محبت بڑھے۔

(3) سلام اور دعاؤں کا تبادلہ: ارشادِ نبوی ﷺ: أفشوا السلام بينكم ترجمہ: آپس میں سلام کو عام کرو۔(صحیح مسلم، كتاب الايمان، حدیث: 54)ہم نشینی کی ابتدا اور انتہا دونوں سلام سے ہونی چاہیے۔ یہ دلوں کو قریب کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔

(4) بلا ضرورت مجلس کو لمبا نہ کرنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ یعنی آدمی کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ فضول اور غیر ضروری باتوں کو چھوڑ دے۔(سنن الترمذي، كتاب الزهد، حدیث: 2317، حسن) مجلس میں وقت ضائع کرنے اور بلاوجہ لمبی گفتگو سے اجتناب بھی ایک اہم حق ہے۔

ہم نشینی میں دوسروں کی سہولت، سکون اور عزتِ نفس کا خیال رکھنا لازمی حق ہے۔

(5) عیب جوئی اور مذاق سے پرہیز: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں۔ (پ26،الحجرات: 11)

یعنی کسی قوم کو دوسری قوم کا مذاق نہ اڑانا چاہیے۔ہم نشینی میں ایک دوسرے کا احترام اور عزت لازم ہے، ورنہ دل آزاری کی صورت میں یہ گناہ کا سبب بنے گا۔

(6) مجلس کی امانت داری: ارشاد نبوی ﷺ المجالس بالأمانة یعنی مجلسیں امانت ہیں ۔(سنن ابی داود، كتاب الادب، حدیث: 4869)

ہم نشینی میں جو پرسنل باتیں کیں جائیں، اسے باہر فاش کرنا خیانت ہے۔

اسلام نے محض بڑی عبادات ہی نہیں بلکہ چھوٹی سے چھوٹی ملاقات اور مجلس تک کے آداب و حقوق بیان فرمائے ہیں تاکہ معاشرہ امن، محبت اور احترام کا گہوارہ بن سکے۔ اگر مسلمان ان تعلیمات کو اختیار کرلیں تو ان کی چھوٹی سے چھوٹی ہم نشینی بھی جنت کی فضا کا نمونہ بن سکتی ہیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


ہمنشینی ایک انسان کی زندگی میں بہت ضروری ہے کیونکہ اکیلاپن انسان کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ بعض افراد اکیلے رہنے کی وجہ سے نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں، اس لیے ہمارے لیے صحبت بہت ضروری ہے۔ انسان پر صحبت بہت اثرانداز ہوتی ہے، اس لیے ہمیں اچھی صحبت اختیار کرنی چاہیے اور بری صحبت سے بچنا چاہیے۔ نیز ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آیا جس شخص کے ساتھ ہماری صحبت ہے، ہم اس کے حقوق ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔ جس طرح دینِ اسلام نے والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں وغیرہ کے حقوق بیان فرمائے ہیں، اسی طرح ہمنشین کے حقوق بھی بیان فرمائے ہیں۔ چند حقوق ملاحظہ فرمائیں:

(1) تکلیف نہ دینا: جب ہم کسی کے ساتھ ہوں تو ہم پر اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے ہماری طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچے، جیسا کہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ، ص 23 ، حدیث : 10 ، دار الفکر)

لہٰذا ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جو ہمارے ساتھ ہے اسے ہماری جانب سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

(2) حسد نہ کرنا: جب کسی کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے تو عموماً اس کی خوبیاں، اچھائیاں اور مال و دولت وغیرہ ہمیں معلوم ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے بعض اوقات ہمارے دل میں اس کے لیے حسد پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں سے حسد نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں ہمارا ہی نقصان ہے۔

(3) حسنِ سلوک کرنا:جس شخص کے ساتھ ہماری صحبت ہو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہم پر لازم ہے۔ اگر اسے کسی کام میں ہماری مدد درکار ہو تو اس کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔ نیز ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ ہمارے اردگرد کے لوگوں میں سے کسی کو ہماری جانی یا مالی مدد درکار ہے تو ہم اس کی مدد کریں۔

(4)عیب چھپانا:عموماً جب کسی شخص کے ساتھ ہمارا رہنا ہوتا ہے تو اس کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کے عیوب بھی ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کے عیوب چھپائیں، کیونکہ کسی کے عیب ظاہر کرنا انتہائی قابلِ مذمت فعل ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہمنشین کے عیوب ظاہر نہ کریں۔

(5) حسنِ اخلاق سے پیش آنا:انسان کی گفتگو سے اس کی تربیت اور کردار جھلکتا ہے۔ لہٰذا حسنِ اخلاق سے پیش آنا اور اچھے انداز میں گفتگو کرنا لازم ہے، کیونکہ گفتگو سن کر ہی سامنے والے شخص کو اس کی تربیت و کردار کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمنشین کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا بھی ہم پر لازم ہے۔

معلوم ہوا کہ ایک ہمنشین کے دوسرے پر کئی حقوق ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان کا لحاظ رکھیں تو ہمیں دنیا و آخرت میں بے شمار فوائد حاصل ہوں گے، ہمارا تعلق بھی دیرپا رہے گا اور محبت و اخلاص برقرار رہیں گے۔ ہم کسی سے جو بھی تعلق رکھیں، اس میں بنیادی نیت اللہ پاک کی رضا ہونی چاہیے تاکہ ہمیں اس پر ثواب بھی حاصل ہو۔ اللہ پاک ہم سب کو مصاحبت کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


انسان کی فطرت تنہائی کے بجائے اجتماعیت اور تعلقات پر مائل رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں انفرادی تزکیہ کے ساتھ ساتھ معاشرتی تعلقات اور باہمی حقوق کی ادائیگی کو بھی نہایت اہمیت دی گئی ہے۔ مصاحبت اور ہم نشینی دراصل انسانی کردار کی تعمیر اور اس کے اخلاقی و فکری ارتقا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

مصاحبت کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت: مصاحبت لغوی اعتبار سے ساتھ رہنے، میل جول رکھنے اور رفاقت اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ شریعت کی رو سے یہ ایک ذمہ داری ہے، کیونکہ صحبت کا اثر ایک دوسرے پر لازماً مرتب ہوتا ہے۔

مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق: اسلامی تعلیمات میں صحبت اور ہم نشینی کو محض سماجی تعلق نہیں بلکہ حقوق و ذمہ داریوں کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں چند اہم درج ذیل ہیں:

(1) احترام و تکریم: مجالس میں ساتھی کی عزت قائم رکھنا اور اس کی اہانت سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ قرآن نے مومنین کو ایک دوسرے کو القابِ بد سے پکارنے اور تحقیر سے منع کیا ہے۔

(2) عیب پوشی اور پردہ داری: صحبت کا تقاضا ہے کہ ساتھی کے عیوب کو چھپایا جائے، نہ کہ ان کی تشہیر کی جائے۔

(3) صدق و صفا اور خیرخواہی: دوستی کا رشتہ سچائی اور خیر خواہی پر مبنی ہونا چاہیے، دھوکا دہی اور فریب صحبت کے حق کے منافی ہیں۔

(4) مشکل گھڑی میں معاونت: حقیقی صحبت کی پہچان یہی ہے کہ خوشی و غمی، تنگی و فراخی ہر حال میں ساتھی کے شانہ بشانہ کھڑا ہو۔ یہی قرآنی حکم ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- ترجمہ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (پ6، المآئدۃ: 2)

(5) امر بالمعروف و نہی عن المنکر: رفاقت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک دوسرے کو خیر کی تلقین اور برائی سے باز رکھنے میں کوتاہی نہ کی جائے۔ یہی اصل خیرخواہی ہے۔

(6) ایثار و قربانی: صحبت کی روح ایثار ہے، جیسا کہ انصار کے بارے میں قرآن نے فرمایا: وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ ترجمہ کنزالایمان: اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اُنہیں شدید محتاجی ہو۔(پ28، الحشر: 9)

(7) عصر حاضر میں تقاضے: موجودہ دور میں جہاں انسان ورچوئل تعلقات اور سوشل میڈیا کی دنیا میں الجھا ہوا ہے، وہاں مصاحبت کے انتخاب کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ اگر نوجوان نسل اپنی ہم نشینی اہلِ علم، اہلِ خیر اور صالحین کے ساتھ رکھے تو ان کا کردار سنور سکتا ہے، ورنہ منفی صحبت انہیں دین و اخلاق سے دور کر کے گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

مصاحبت اور ہم نشینی دراصل ایک دینی امانت ہے، جو حقوق و آداب کا تقاضا کرتی ہے۔ صالح صحبت ایمان کی افزائش اور اخلاق کی تعمیر کا ذریعہ ہے، جبکہ بری صحبت دین و دنیا کی تباہی کا سبب۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے دوستوں اور ہم نشینوں کا انتخاب نہایت بصیرت کے ساتھ کرے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔ یہی اسلامی معاشرت کی اصل روح اور کامیاب زندگی کا راز ہے۔


مصاحبت و ہمنشینی کے بنیادی حقوق: بنیادی طور پر مصاحبت اور ہمنشینی کے فرد پر دو طرح کے حقوق لازم ہیں۔ اولاً صحبت کے حقوق اور ثانیا ًصاحب یا شرکائے مجلس کے حقوق۔

شرکائے مجلس کے حقوق میں سب سے اہم اور بنیادی حق یہ ہے کہ مجلس کے اداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ جس کی تلقین احادیث مبارکہ میں بارہا آئی ہے اس ضمن میں حضور ﷺ کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیں:

حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی نشست سے نہ اٹھائے تاکہ وه خود وہاں بیٹھے بلکہ کشادگی پیدا کرو اور جگہ دو۔ (بخاری 6270)

حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص دو افراد کے درمیان انکی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔(ترمذی2705)

قال رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم :مجلس کی بات امانت ہے۔(ابوداؤد 4868)

معلوم ہوا کہ مجلس کی روح آداب ہیں۔یعنی اگر مجلس اجتماعی اعتبار سے آداب سے خالی ہو تو ایسی مجلس کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں اور اگر کوئی فرد مجلس کے آداب کو ملحوظ نہ رکھے تو وه شخص اس مجلس سے کوئی نفع نہ اٹھا سکے گا۔

اگرایک زاویہ سے دیکھا جائے تو گویا دنیا میں ہمارا امتحان حقوق کی ادائیگی ہی ہے(حقوق اﷲ ہوں یا حقوق العباد)اگر کوئی شخص اپنے حقوق پہچان لےاور پھر ان حقوق کی کما حقہ ادائیگی کرے تو وہی شخص دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہے۔ اﷲ عزوجل ہمیں امانت دار بنائے اور ظلم سے بچھائے۔(امین)