انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، بلکہ اس کے لیے معاشرہ، تعلقات اور باہم مصاحبت ضروری ہے ۔ یہی مصاحبت بعض اوقات جنت کا راستہ بھی بن جاتی ہے، اور بعض اوقات جہنم کا سبب بھی۔ اس لیے اچھے دوست، نیک صحبت اور صالح ہم نشینی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

ہم نشینی کے حقوق: جب ہم کسی کی صحبت اختیار کریں، یا کوئی ہماری صحبت میں آئے، تو چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے:

(1) عزت اور ادب سے پیش آنا: دوستوں یا ہم نشینوں سے نرمی سے بات کرنا، ان کی بات کو توجہ سے سننا اور ان کے جذبات کی قدر کرنا۔

(2) عیب چھپانا، نہ کہ عیب تلاش کرنا: صحبت میں راز داری اور خیر خواہی کا پہلو نمایاں ہونا چاہیے، نہ کہ مذاق اُڑانا یا کمزوریاں بیان کرنا۔

(3) نصیحت خیر خواہی کے ساتھ: اگر کسی ہمنشین سے غلطی ہو جائے تو اس کی اصلاح نرم لہجے میں تنہائی میں کی جائے۔

(4) سلام کو عام کرنا، چہرے پر مسکراہٹ: حدیث پاک میں آیا ہے: مُسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔ (مسند احمد) چہرے کی بشاشت، دوستوں کے لیے باعثِ راحت ہے۔

(5) دعاوں میں یاد رکھنا: دل سے نکلنے والی دعائیں تعلقات میں برکت لاتی ہیں، اور آخرت کا بھی ذریعہ بن سکتی ہیں۔

(6) صالحین کی صحبت: اولیاءِ کرام، نیک لوگوں اور علمائے دین کی صحبت دل کو سکون، علم کو بلندی اور روح کو تازگی بخشتی ہے۔

(7) کامیاب صحبت کی پہچان: ایک بزرگ سے پوچھا گیا: اچھی صحبت کی پہچان کیا ہے؟ فرمایا: جس کی صحبت میں اللہ یاد آئے، گناہ سے نفرت ہو اور نیکی کا شوق بڑھے۔

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ اپنے دوستوں کو صرف دنیاوی مزاج سے نہ دیکھیں، بلکہ ان کے دینی اثرات کو بھی پرکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقتی ہنسی مذاق، دائمی ندامت کا سبب بن جائے۔ اللہ پاک ہمیں نیک صحبت، صالح دوست، اور ہم نشینی کے حقوق ادا کرنے والا بنائے۔ آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ