محمد عبد المبین عطّاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ
فيضان امام گلستان کالونی فیصل آباد ،پاکستان)
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک
سماجی مخلوق ہے، جو زندگی کے مختلف مراحل میں دوسروں کے ساتھ میل جول، ملاقات اور
ہم نشینی کا محتاج رہتا ہے۔ اسلام چونکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس نے صرف عبادات اور
معاملات ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی نشست و برخاست اور مختصر ملاقاتوں کے بھی آداب و
حقوق بیان کیے ہیں ،قرآن و سنت کی روشنی میں مجلس میں کشادگی، خوش اخلاقی، نرم
گفتگو اور عزت نفس کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ ملاقات کے یہ لمحات محبت، اتحاد
اور خیر کا ذریعہ بن سکیں۔تاکہ ہر تعلق خیر، سکون اور باہمی عزت و احترام کا ذریعہ
بنے۔ ذیل میں مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق پیش کیے جارہے ہیں پڑھیے اور عمل کیجئے:
(1) نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے
کی مدد کرنا: مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق میں
سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے مدد کریں جبکہ
گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کریں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى
الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- وَ لَا
تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- ترجمہ کنزالعرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو
اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پ6، المآئدۃ: 2)
یہ انتہائی جامع آیتِ مبارکہ
ہے، نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام اَنواع واَقسام داخل ہیں اور اِثْم اور
عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔
(2)
مجالس میں کشادگی اور عزتِ نفس کا خیال : مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق میں سے ایک حق مجلس میں آنے والے کیلئے
جگہ کشادہ کرنا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ
لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان
والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو ، اللہ
تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا ۔(پ28، المجادلۃ: 11)
یاد رہے کہ مجلس کے آداب میں یہ
بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے
سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایاں جگہ بنادی جائے جیسے دینی
و دُنْیَوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی
جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں
۔ یہ بھی خیال رہے کہ فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات خود کسی کو اٹھا کر اس کی
جگہ پرنہ بیٹھیں کیونکہ احادیث میں اس سے منع کیا گیا
ہے۔
جیسا
کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولِ کریم
ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ
جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ )دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری،
کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ج 04 صفحہ نمبر 179،
الحدیث: 6270)
(3)عیب پوشی اور نصیحت کرنا : امام محمد بن محمد غزالی طوسی
شافعی رحمۃ الله علیہ احیاء العلوم میں مصاحبت و ہم نشینی کے آداب نقل کرتے ہیں کہ
وَمِنۡ آدَابِ الأُخُوَّةِ أَنۡ لَا يَذْكُرَ عَيْبَ أَخِيهِ
فِي غَيْبَتِهِ وَلَا فِي حَضْرَتِهِ، بَلْ يَتَغَافَلَ عَنْهُ وَيَلْتَمِسَ لَهُ العُذْرَ،
فَإِنۡ نَصَحَهُ نَصَحَهُ سِرًّا لَا جَهْرًا بھائی چارے کے آداب میں سے یہ ہے کہ اپنے بھائی کا عیب
نہ اس کی غیر موجودگی میں بیان کرے اور نہ اس کی موجودگی میں، بلکہ چشم پوشی کرے
اور اس کے لیے عذر تلاش کرے۔ اگر نصیحت کرے تو خفیہ طور پر کرے، علانیہ نہیں۔(امام
ابو حامد الغزالی، احیاء علوم الدین، کتاب آداب الألفۃ والأخوّة والصحبۃ، ج 2، ص
186، دار المعرفۃ، بیروت)
Dawateislami