دین اسلام ایک سچا اور اچھا دین ہے، جب بندہ کسی سے مصاحبت و ہم نشینی کو اختیار کرتا ہے  دین اسلام اس بارے میں بھی تعلیم فراہم کرتا ہے ۔ اب آئیے سب سے پہلے ہم مصاحبت و ہم نشینی کے معنی و مفہوم کو ذہن نشین کریں تاکہ اس کے حقوق کو سمجھنے اور ان پر عمل پیراں ہونے میں دشواری سے بچے رہیں۔ ہم نشینی و مصاحبت یہ دونوں مترادف المعنی ہیں یعنی دونوں کا مفہوم ایک سا ہے ۔مصاحبت و ہم نشینی کے متعلق دین اسلام ہمیں جو تعلیم فراہم کرتا ہے ان میں سے چند حقوق ملاحظہ فرمائیں ۔

(1) جب بھی ہم اپنے ہم نشین، دوست ، ہم جلیس سے ملتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسے سلام کریں۔

(2) دوسرا حق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اس سے خندہ پیشانی سے ملیں تا کہ اگر ہمارا ہم نشین کسی بھی پریشانی میں ہو تو اسے راحت ملے۔

(3) تیسرا حق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں اپنے ہم نشین کی مدد و نصرت کے لیے ہمہ وقت تیار و چاک و چوبند رہنا چاہیے۔

(4) ایک حق یہ بھی ہے جو بڑا اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر بھی بہت تدبر و گہری نظری کرنی چاہئے کہ ہماری مصاحبت و ہم نشینی ہماری ملاقات ہماری بیٹھک جس سے بھی ہے آیا ہمیں اس سے کوئی اُخروی نقصان تو نہیں پہنچ رہا ؟ اس کے سبب ہمارے عقائد و نظریات میں کوئی بگاڑ تو پیدا نہیں ہورہا ؟ اگر تو ایسا ہے ! کہ ہمیں کوئی ایسا نقصان نہیں جس سے ہمارے عقائد و نظریات و معاشرتی سرگرمیوں میں بگاڑ پیدا ہو تو فبھا ۔ یہ بڑی ہی اچھی بات ہے ورنہ ہمیں فوراً ایسی صحبت و ہم نشینی کو منقطع کر دینا چاہئے تاکہ ہمارا ایمان تو سلامت رہے۔

مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب“ میں ایک فارسی شعر لکھا ہوا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ بری صحبت سانپ کے ڈسنے سے زیادہ خطرناک ہے اس طرح کہ جب سانپ ڈس لے تو بندہ جان سے جا سکتا ہے اور جبکہ بری صحبت سے بعض اوقات بندہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔

اسی طرح دین اسلام کئی طرح کے حقوق بیان فرماتا ہے اور ایک بندے کو عملی میدان اور معاشرتی سرگرمیوں میں مہذب و با اخلاق کردار کا مالک بنادیتا ہے ۔

نتیجہ یہی نکلتا ہے جو شخص اسلامی تعلیمات و احکامت کی پیروی کرتا ہے اور ان تمام احکامات کی بجا آوری کیلئے سرِخم تسلیم کرتا ہے تو اس کی شخصیت ہر طرح سے نکھرتی ہوئی ظاہر ہوتی ہے اور وہ رہتی دنیا تک ایک چمکتے ستارے کی مانند ہوجاتا ہے پھر چاہے وہ مصاحبت و ہم نشینی کی صورت میں ہو یا ایک اچھے معاشرتی فرد کی صورت میں ہو یا پھر ایک لیڈر کی صورت میں ہو۔ بہر صورت ہی دین اسلام کی پاسداری اس کی شخصیت کو ایسا منور کرتی ہے کہ زمانہ اس سے فیض پاتا ہے۔