محمد فیصل فانی ( دورہ حدیث جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی
زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں عبادات اور معاملات کے
اصول بیان کیے گئے ہیں، وہیں معاشرتی تعلقات، دوستی اور ہم نشینی کے آداب بھی واضح
کیے گیے ہیں۔ کیونکہ انسان فطری طور پر اجتماعی زندگی بسر کرتا ہے اور اس کا کردار
زیادہ تر اس کی صحبت و ہم نشینی سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے مصاحبت و ہم نشین کے حقوق کو نہایت اہمیت دی ہے۔
تقویٰ اور احترام کی بنیاد: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی
مقامات پر ہمیں دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا حکم دیا ہے:یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا
خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ
لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ
عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں
اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ
جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہےبےشک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔(پ26، الحجرات:13)
ہم نشین کے ساتھ حسن سلوک: اسی طرح رب تعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے کہ وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا
تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی
الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ
الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا
مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًاۙ
(۳۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ کی
بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤاور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ
داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے
ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے
والا بڑائی مارنے والا۔(پ5، النسآء:36)
یہاں پر محل استشہاد پاس اور
دور کے ہمسائے ہیں جن سے ہمیں اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
والدین سے اچھا سلوک کرنا: انسان کی زندگی کے سب سے پہلے
ہم نشین اس کے والدین ہوتے ہیں۔ اگر ان سے بھی اعتقادات کا اختلاف ہو تو ان سے
اچھا سلوک ہی کرنا چاہیے۔ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ
لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا
مَعْرُوْفًا٘-وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ-ثُمَّ اِلَیَّ
مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک
ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی
طرح ان کا ساتھ دے اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا پھر میری ہی طرف تمہیں
پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے ۔(پ21، لقمٰن: 15)
یہاں والدین کے بارے میں فرمایا گیا کہ اگر وہ
مشرک بھی ہوں تو بھی ان کے ساتھ دنیا میں معروف طریقے سے رہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے
کہ صحبت اور ہم نشینی میں معروف یعنی نیکی اور حسنِ سلوک کا رویہ ہمیشہ اختیار کیا
جانا چاہیے۔
Dawateislami