سید زوار حسین شاہ( مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ
مدینہ کراچی ،پاکستان)
انسان فطرتاً اجتماعی مخلوق ہے۔
وہ تنہائی کا نہیں بلکہ میل جول، صحبت اور ہم نشینی کا خوگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ
اسلامیہ نے نہ صرف انفرادی زندگی کے اصول وضع کیے ہیں بلکہ معاشرتی تعلقات کے بھی
حسین آداب سکھائے ہیں۔ محض ملاقات یا مختصر سی مجلس کے بھی کچھ حقوق اور ذمہ داریاں
ہیں تاکہ یہ وقت خیر و برکت، محبت اور خیر خواہی کا ذریعہ بن سکے۔
(1) مجلس میں کشادگی پیدا کرنا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان
والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(پ28، المجادلۃ:
11)
یہ آیت بتاتی ہے کہ مجلس میں
آنے والے کو جگہ دینا اور دوسروں کو تنگی میں مبتلا نہ کرنا اہم ترین حق ہے۔
(2) خوش اخلاقی اور اچھے کلمات
سے پیش آنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: كَلِمَةُ الطَّيِّبَةِ صَدَقَةٌ یعنی اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے۔(صحیح مسلم، کتاب
الزكاة، حدیث: 1009) ہم نشینی میں خوش اخلاقی، نرمی اور اچھے الفاظ سے بات کرنا
لازمی حق ہے تاکہ دل آزاری نہ ہو بلکہ محبت بڑھے۔
(3) سلام اور دعاؤں کا تبادلہ: ارشادِ نبوی ﷺ: أفشوا السلام بينكم ترجمہ: آپس میں سلام کو عام کرو۔(صحیح مسلم، كتاب الايمان،
حدیث: 54)ہم نشینی کی ابتدا اور انتہا دونوں سلام سے ہونی چاہیے۔ یہ دلوں کو قریب
کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔
(4) بلا ضرورت مجلس کو لمبا نہ
کرنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا
يَعْنِيهِ یعنی آدمی کے اسلام کی خوبصورتی
یہ ہے کہ وہ فضول اور غیر ضروری باتوں کو چھوڑ دے۔(سنن الترمذي، كتاب الزهد، حدیث:
2317، حسن) مجلس میں وقت ضائع کرنے اور بلاوجہ لمبی گفتگو سے اجتناب بھی ایک اہم
حق ہے۔
ہم نشینی میں دوسروں کی سہولت،
سکون اور عزتِ نفس کا خیال رکھنا لازمی حق ہے۔
(5) عیب جوئی اور مذاق سے پرہیز:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان
والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں۔ (پ26،الحجرات: 11)
یعنی
کسی قوم کو دوسری قوم کا مذاق نہ اڑانا چاہیے۔ہم نشینی میں ایک دوسرے کا احترام
اور عزت لازم ہے، ورنہ دل آزاری کی صورت میں یہ گناہ کا سبب بنے گا۔
(6) مجلس کی امانت داری: ارشاد نبوی ﷺ المجالس بالأمانة یعنی مجلسیں امانت ہیں ۔(سنن ابی داود، كتاب الادب، حدیث:
4869)
ہم نشینی میں جو پرسنل باتیں کیں
جائیں، اسے باہر فاش کرنا خیانت ہے۔
اسلام نے محض بڑی عبادات ہی نہیں
بلکہ چھوٹی سے چھوٹی ملاقات اور مجلس تک کے آداب و حقوق بیان فرمائے ہیں تاکہ
معاشرہ امن، محبت اور احترام کا گہوارہ بن سکے۔ اگر
مسلمان ان تعلیمات کو اختیار کرلیں تو ان کی چھوٹی سے چھوٹی ہم نشینی بھی جنت کی
فضا کا نمونہ بن سکتی ہیں۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
Dawateislami