محمد تبسم ( درجہ اولی جامعۃ المدینہ فیضان ابو
عطار( نائٹ کلاسز )کراچی ،پاکستان)
ہمنشینی ایک انسان کی زندگی میں
بہت ضروری ہے کیونکہ اکیلاپن انسان کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ بعض افراد اکیلے
رہنے کی وجہ سے نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں، اس لیے ہمارے لیے صحبت بہت
ضروری ہے۔ انسان پر صحبت بہت اثرانداز ہوتی ہے، اس لیے ہمیں اچھی صحبت اختیار کرنی
چاہیے اور بری صحبت سے بچنا چاہیے۔ نیز ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آیا
جس شخص کے ساتھ ہماری صحبت ہے، ہم اس کے حقوق ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔ جس طرح دینِ
اسلام نے والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں وغیرہ کے حقوق بیان فرمائے ہیں، اسی طرح ہمنشین
کے حقوق بھی بیان فرمائے ہیں۔ چند حقوق ملاحظہ فرمائیں:
(1) تکلیف نہ دینا: جب ہم کسی کے ساتھ ہوں تو ہم
پر اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے ہماری طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچے، جیسا کہ اللہ
پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے
مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ
، ص 23 ، حدیث : 10 ، دار الفکر)
لہٰذا ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ
جو ہمارے ساتھ ہے اسے ہماری جانب سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
(2) حسد نہ کرنا: جب کسی کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھنا
ہوتا ہے تو عموماً اس کی خوبیاں، اچھائیاں اور مال و دولت وغیرہ ہمیں معلوم ہوتے ہیں،
جن کی وجہ سے بعض اوقات ہمارے دل میں اس کے لیے حسد پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں
اپنے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں سے حسد نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں ہمارا ہی
نقصان ہے۔
(3) حسنِ سلوک کرنا:جس شخص کے ساتھ ہماری صحبت ہو
اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہم پر لازم ہے۔ اگر اسے کسی کام میں ہماری مدد درکار ہو
تو اس کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔ نیز ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ ہمارے
اردگرد کے لوگوں میں سے کسی کو ہماری جانی یا مالی مدد درکار ہے تو ہم اس کی مدد
کریں۔
(4)عیب چھپانا:عموماً جب کسی شخص کے ساتھ
ہمارا رہنا ہوتا ہے تو اس کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کے عیوب بھی ہمارے سامنے آ
جاتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کے عیوب چھپائیں، کیونکہ کسی کے عیب
ظاہر کرنا انتہائی قابلِ مذمت فعل ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہمنشین کے عیوب
ظاہر نہ کریں۔
(5) حسنِ اخلاق سے پیش آنا:انسان کی گفتگو سے اس کی تربیت
اور کردار جھلکتا ہے۔ لہٰذا حسنِ اخلاق سے پیش آنا اور اچھے انداز میں گفتگو کرنا
لازم ہے، کیونکہ گفتگو سن کر ہی سامنے والے شخص کو اس کی تربیت و کردار کا اندازہ
ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمنشین کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا بھی ہم پر لازم ہے۔
معلوم ہوا کہ ایک ہمنشین کے
دوسرے پر کئی حقوق ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان کا لحاظ رکھیں تو ہمیں دنیا و آخرت میں بے
شمار فوائد حاصل ہوں گے، ہمارا تعلق بھی دیرپا رہے گا اور محبت و اخلاص برقرار رہیں
گے۔ ہم کسی سے جو بھی تعلق رکھیں، اس میں بنیادی نیت اللہ پاک کی رضا ہونی چاہیے
تاکہ ہمیں اس پر ثواب بھی حاصل ہو۔ اللہ پاک ہم سب کو مصاحبت کے حقوق ادا کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami