انسان کی فطرت تنہائی کے بجائے
اجتماعیت اور تعلقات پر مائل رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں انفرادی تزکیہ
کے ساتھ ساتھ معاشرتی تعلقات اور باہمی حقوق کی ادائیگی کو بھی نہایت اہمیت دی گئی
ہے۔ مصاحبت اور ہم نشینی دراصل انسانی کردار کی تعمیر اور اس کے اخلاقی و فکری
ارتقا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
مصاحبت کی حقیقت اور اس کی شرعی
حیثیت: مصاحبت لغوی اعتبار سے ساتھ
رہنے، میل جول رکھنے اور رفاقت اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ شریعت کی رو سے یہ ایک
ذمہ داری ہے، کیونکہ صحبت کا اثر ایک دوسرے پر لازماً مرتب ہوتا ہے۔
مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق: اسلامی تعلیمات میں صحبت اور ہم
نشینی کو محض سماجی تعلق نہیں بلکہ حقوق و ذمہ داریوں کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔
ان میں چند اہم درج ذیل ہیں:
(1) احترام و تکریم: مجالس میں ساتھی کی عزت قائم
رکھنا اور اس کی اہانت سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ قرآن نے مومنین کو ایک دوسرے کو
القابِ بد سے پکارنے اور تحقیر سے منع کیا ہے۔
(2) عیب پوشی اور پردہ داری: صحبت کا تقاضا ہے کہ ساتھی کے عیوب
کو چھپایا جائے، نہ کہ ان کی تشہیر کی جائے۔
(3) صدق و صفا اور خیرخواہی: دوستی کا رشتہ سچائی اور خیر
خواہی پر مبنی ہونا چاہیے، دھوکا دہی اور فریب صحبت کے حق کے منافی ہیں۔
(4) مشکل گھڑی میں معاونت: حقیقی صحبت کی پہچان یہی ہے کہ
خوشی و غمی، تنگی و فراخی ہر حال میں ساتھی کے شانہ بشانہ کھڑا ہو۔ یہی قرآنی حکم
ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى
الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- ترجمہ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (پ6،
المآئدۃ: 2)
(5) امر بالمعروف و نہی عن
المنکر: رفاقت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ
ایک دوسرے کو خیر کی تلقین اور برائی سے باز رکھنے میں کوتاہی نہ کی جائے۔ یہی اصل
خیرخواہی ہے۔
(6) ایثار و قربانی: صحبت کی روح ایثار ہے، جیسا کہ
انصار کے بارے میں قرآن نے فرمایا: وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ
بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ ترجمہ کنزالایمان: اور اپنی
جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اُنہیں شدید محتاجی ہو۔(پ28، الحشر: 9)
(7) عصر حاضر میں تقاضے: موجودہ دور میں جہاں انسان
ورچوئل تعلقات اور سوشل میڈیا کی دنیا میں الجھا ہوا ہے، وہاں مصاحبت کے انتخاب کی
اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ اگر نوجوان نسل اپنی ہم نشینی اہلِ علم، اہلِ خیر اور
صالحین کے ساتھ رکھے تو ان کا کردار سنور سکتا ہے، ورنہ منفی صحبت انہیں دین و
اخلاق سے دور کر کے گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
مصاحبت اور ہم نشینی دراصل ایک
دینی امانت ہے، جو حقوق و آداب کا تقاضا کرتی ہے۔ صالح صحبت ایمان کی افزائش اور
اخلاق کی تعمیر کا ذریعہ ہے، جبکہ بری صحبت دین و دنیا کی تباہی کا سبب۔ لہٰذا ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے دوستوں اور ہم نشینوں کا انتخاب نہایت بصیرت کے ساتھ
کرے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔ یہی اسلامی معاشرت کی اصل روح
اور کامیاب زندگی کا راز ہے۔
Dawateislami