زین احمد عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
عطار ڈیفنس لاہور، پاکستان)
انسان کی فطرت ہے کہ وہ اکیلا
زندگی نہیں گزار سکتا۔ اچھی صحبت اور نیک ہم نشینی انسان کے اخلاق، کردار اور ایمان
پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جیسے خوشبو بیچنے والے کے پاس بیٹھنے سے بدن خوشبو دار ہو
جاتا ہے، ایسے ہی نیک ساتھی کی صحبت سے دل و دماغ معطر ہو جاتے ہیں۔ اسلام نے
مصاحبت و ہم نشینی کو محض میل جول نہیں بلکہ ایک بامقصد تعلق قرار دیا ہے، جس کے
کچھ حقوق اور آداب ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ان ہی آداب و اصول کو واضح کرنے
کے لیے آئیے ہم احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مصاحبت و ہم نشینی کے اہم حقوق کا
جائزہ لیتے ہیں۔
حقوق نمبر1(اچھا گمان رکھنا) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا
اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ،
قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ،
فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا،
وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا ترجمہ: ہم سے یحییٰ بن بکیر نے
بیان کیا، کہا ہم سے لیس بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ، ان سے اعرج نے
بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت
کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی
بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی
گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر
رہو۔(صحیح بخاری ، حدیث نمبر : 5143)
وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى
يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ
ترجمہ حدیث: اور کوئی شخص اپنے
بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔(صحیح بخاری ،
حدیث نمبر : 5144)
حقوق نمبر 2(سچائی اختیار کرنا)حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ،
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عنہ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى
الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ
لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى
الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ
لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا
ترجمہ حدیث: ہم سے عثمان بن ابی
شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا،
ان سے ابو وائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی
طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ
حاصل کرلیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف
اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا
جاتا ہے۔(صحیح بخاری حدیث نمبر:6094)
حقوق نمبر3(ضروت کے وقت مدد کرنا)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا
اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ
سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا
يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ،
وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً
مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ
يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ حدیث: ہم سے یحییٰ بن بکیر
نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے،
انہیں سالم نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور
نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت
پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت
کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب
کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔(صحیح بخاری حدیث نمبر: 2442)
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی
چاہیے کہ ہمیشہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ اچھی ہم نشینی جنت کی راہ
اور بری صحبت جہنم کا زینہ ہے۔
Dawateislami