محمد حسنین رضا مدنی ( مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
مصاحبت کا مطلب ہے کسی کے ساتھ
وقت گزارنا، اس کے قریب رہنا، ساتھ اٹھنا بیٹھنا، جبکہ ہم نشینی سے مراد ہے کسی کے
ساتھ مجلس، گُفت و شُنیْد ( بات چیت) یا میل جول رکھنا۔ اسلام میں یہ محض ایک سماجی
عمل نہیں بلکہ اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، جس کے کچھ ادب و آداب اور حقوق ہیں۔جب
انسان کسی کے ساتھ بیٹھتا ہے، سفر کرتا ہے، یا وقت گزارتا ہے تو درحقیقت وہ صرف
ساتھ موجود نہیں ہوتا، بلکہ اس دوران دل و دماغ کا ایک اثر و تبادلہ خیال جاری
ہوتا ہے۔ قرآن و سنت نے اچھے ساتھی، نیک صحبت، اور صالح ہم نشینی کی بہت تاکید کی
ہے اور برے ہم نشین سے بچنے کی سخت تنبیہ بھی کی ہے۔
مصاحبت و ہم نشینی کے دوران کچھ
اہم اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
(1) اخلاص و محبت: جب انسان کسی سے ملاقات کرتا
ہے، تو محض ظاہری الفاظ یا رسمی مسکراہٹ کافی نہیں ہوتی، بلکہ دل میں اخلاص، سچائی
اور محبت ہونا ضروری ہے۔ یعنی ملاقات محض ایک رسم یا دنیاوی مصلحت نہ ہو، بلکہ اس
میں دل کی صفائی، خیر خواہی، اور نیک نیتی شامل ہو۔لہذا ایسی ملاقات ہو جس میں کوئی
بناوٹی کام نہ ہو، نہ کوئی دُہرا پن، بلکہ سامنے والے کے لیے عزت، اپنائیت اور خیر
کی نیت ہو۔اسلامی تعلیمات کے مطابق، مؤمن مؤمن سے ملے تو دل صاف رکھے، بغیر کسی دنیاوی
غرض یا دکھاوے کے۔
(2) حسنِ سلوک: دوسروں کے ساتھ اچھے انداز، خوش
اخلاقی، نرمی اور تہذیب سے پیش آنا۔ یہ صرف ظاہری رویہ نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی،
خیر خواہی اور دوسروں کے حقوق کا اعتراف بھی اس میں شامل ہے۔ نرمی سے بولنا، بات
سننا، کسی کی دل آزاری نہ کرنا، اور ہر ایک کو عزت دینا یہ سب حسنِ سلوک میں آتا
ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ: خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا
اخلاق سب سے بہتر ہے۔( جامع ترمذی، الحدیث: 1975)
(3) راز داری: جب کسی مجلس میں یا کسی سے
ملاقات کے وقت کوئی بات اعتماد سے کہی جائے، تو اسے دوسروں تک نہ پہنچایا جائے۔ اسی
طرح اگر کسی کی کوئی کمزوری یا عیب آپ کے علم میں آ جائے، تو اس کو چھپانا اور نہ
اچھالنا آپ کی اسلامی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔کیونکہ مجالس میں کی جانے والی باتیں
امانت ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِذَا
حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ جب کوئی شخص تم سے کوئی بات کرے
اور اِدھر اُدھر دیکھے ( یعنی بات کو چھپانے کا انداز اختیار کرے)، تو وہ بات
تمہارے لیے ایک امانت ہے ( یعنی اُسے راز رکھنا تم پر لازم ہے۔ )( سنن ابو داود،
الحدیث: 4868)
فی زمانہ لوگوں کو مصاحبت اور
ہم نشینی کے حقوق کا شعور دینا نہایت اہم ہو چکا ہے۔
(4) سماجی ہم آہنگی: آج کے جدید دور میں انسان ایک
دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود دِلوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ روایتی انداز میں مل بیٹھ
کر بات کرنے، خیر خبر لینے، یا ہم نشینی کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔ اب تعلقات زیادہ
تر موبائل فونز، سوشل میڈیا، میسیجز اور کالز کے ذریعے قائم ہیں۔ یہ سہولتیں فائدہ
مند ضرور ہیں، لیکن ان سے رشتوں میں گہرائی، احساس اور خلوص کی وہ کیفیت کم ہو گئی
ہے جو سینہ بہ سینہ ملاقات میں ہوتی تھی۔ ایسے حالات میں اسلامی تعلیمات ہمیں یاد
دلاتی ہیں کہ چاہے تعلق روایتی ہو یا جدید، اخلاقی اصول ہمیشہ ضروری ہیں۔ جیسے:
خلوص ۔ عزت ۔ حسن سلوک ۔ رازداری ۔ خیر خواہی، وغیرہ
اسلامی آداب ہمیں سکھاتے ہیں کہ
انسان ایک سماجی شخصیت ہے، لہذا اس کے تعلقات کو محض رسمی یا ظاہری نہیں، بلکہ
محبت، سچائی، اور تعاون سے مزین ہونا چاہیے۔
(5) اخلاقی اقدار کا فروغ :اسلام اور تمام مہذب معاشرے
اخلاقی اصولوں کو انسانیت کی بنیاد مانتے ہیں۔ ان اصولوں کا مطلب ہے: سچ بولنا،
نرم لہجے میں بات کرنا، دوسروں کی عزت کرنا، اور دل دکھانے سے گریز کرنا وغیرہ۔
بدکلامی: انسان کے دل کو سب سے زیادہ جو
چیز متاثر کرتی ہے، وہ الفاظ ہوتے ہیں۔ اگر الفاظ میں نرمی ہو، تو وہ محبت، سکون
اور اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اگر الفاظ سخت، تلخ یا گالی پر مبنی ہوں، تو وہ دل
کو زخمی کر دیتے ہیں۔ یہ زخم بظاہر نظر نہیں آتے، لیکن دل میں ایسی تکلیف اور رنج
چھوڑ جاتے ہیں جو دیر تک یاد رہتے ہیں۔ یہی الفاظ کبھی رشتے توڑ دیتے ہیں، کبھی
دوستی ختم کر دیتے ہیں اور کبھی خاندانوں میں دوریاں پیدا کر دیتے ہیں۔
تنقید برائے تنقید: جب کوئی شخص بغیر کسی مثبت مقصد کے صرف دوسروں کی تنقید،
تحقیر یا تذلیل کرتا ہے یعنی کسی کی غلطی کی اصلاح کرنا مقصد نہ ہو، بلکہ صرف اپنی
برتری جتانا، حسد نکالنا، یا دوسروں کو شرمندہ کرنا مقصد ہو تو یہ رویہ نہ صرف
لوگوں کے دلوں کو توڑتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں نفرت، بدگمانی اور بداعتمادی کو
جنم دیتا ہے۔
حسد: دوسرے کے پاس نعمت، کامیابی، عزت یا مقام دیکھ کر دل میں جلنا، اور یہ
تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے، چاہے خود ہمیں نہ ملے۔ حسد ایک باطنی بیماری
ہے جو انسان کو اندر ہی اندر جلاتی ہے۔ حسد کرنے والا ہر وقت بے چینی، غم اور منفی
سوچ میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے کے بجائے کڑھتا ہے، جس سے
اس کا اپنا سکون اور قلبی اطمینان ختم ہو جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ
كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ
حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں
کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔( سنن ابو داود، الحدیث: 4903)
لہٰذا، مثبت گفتگو کو فروغ دینا
چاہیے۔ جیسے دوسروں کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کے کلمات کہنا، خیر خواہی اور نرمی
سے مشورہ دینا، اور مسکراہٹ، دعا و دل جوئی کے ذریعے تعلقات کو مضبوط بنانا۔ جب
انسان ان اخلاقی آداب کو اپناتا ہے، تو وہ نہ صرف دوسروں کے لیے ایک بہتر انسان
بنتا ہے، بلکہ اس کے اپنے اندر بھی سکون، نرمی اور وقار پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ رویے
ہیں جو انسان کو کردار کی بلندی عطا کرتے ہیں اور اُسے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا
ذریعہ بناتے ہیں۔
(6) ڈیجیٹل دور میں گفتگو کے
آداب: آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہم
واٹس ایپ، زوم، ای میل یا کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہیں، تو ہمیں
بات کرنے کا سلیقہ، ادب اور احترام برقرار رکھنا چاہیے۔ مثلاً: گفتگوا کی ابتدا سلام سے کرنا چاہیے۔
سخت یا تلخ جملوں سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسروں کی بات کو توجہ سے سننا اور بیچ میں نہیں
کاٹنا چاہیے۔
اختلاف رائے بھی نرمی اور دلیل کے ساتھ پیش کرنا
چاہیے۔
یعنی، آن لائن ہونے کا مطلب یہ
نہیں کہ گفتگو کے آداب بھلا دیئے جائیں بلکہ ادب، نرمی اور احترام ہر جگہ یکساں، و
ضروری ہونے چاہیے۔
(7) وقت کی قدر: جب آپ کے پاس کسی سے ملنے کا
موقع کم وقت کے لیے ہو،( چاہے وہ چند منٹ ہوں یا چند لمحے ) تو اس وقت کو غیر ضروری
باتوں، گپ شپ یا فضول مشغلوں میں برباد نہ کریں۔ بلکہ کوشش کریں کہ آپ کی بات چیت
ایسی ہو جو دینی فائدہ دے: مثلاً نیکی کی نصیحت، دعا کی ترغیب، یا کوئی شرعی علم
کا اضافہ کرے۔ یا دنیاوی فائدہ دے: جیسے کسی اہم کام کی طرف رہنمائی، فائدہ مند
مشورہ یا عملی معلومات کا تبادلہ۔ یوں مختصر ملاقات بھی قیمتی اور بابرکت بن جاتی
ہے اور وقت کی بربادی کے بجائے فائدہ کا ذریعہ بنتی ہے۔
مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق،ہمیں
باہمی حسنِ سلوک، ایثار اور محبت کا درس دیتے ہیں۔ یہ آداب نہ صرف ہمارے تعلقات کو
مضبوط کرتے ہیں، بلکہ معاشرے میں امن، خیر اور اُخُوَّت ( بھائی چارہ ) کو فروغ دیتے
ہیں۔ آج کے دور میں، جب معاشرتی روابط کمزور پڑتے جا رہے ہیں، اسلامی اصولوں پر
عمل پیرا ہو کر ہم اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان آداب پر عمل پیرا ہونے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami