مصاحبت و ہمنشینی کے بنیادی حقوق: بنیادی طور پر مصاحبت اور ہمنشینی کے فرد پر دو طرح کے حقوق لازم ہیں۔ اولاً صحبت کے حقوق اور ثانیا ًصاحب یا شرکائے مجلس کے حقوق۔

شرکائے مجلس کے حقوق میں سب سے اہم اور بنیادی حق یہ ہے کہ مجلس کے اداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ جس کی تلقین احادیث مبارکہ میں بارہا آئی ہے اس ضمن میں حضور ﷺ کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیں:

حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی نشست سے نہ اٹھائے تاکہ وه خود وہاں بیٹھے بلکہ کشادگی پیدا کرو اور جگہ دو۔ (بخاری 6270)

حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص دو افراد کے درمیان انکی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔(ترمذی2705)

قال رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم :مجلس کی بات امانت ہے۔(ابوداؤد 4868)

معلوم ہوا کہ مجلس کی روح آداب ہیں۔یعنی اگر مجلس اجتماعی اعتبار سے آداب سے خالی ہو تو ایسی مجلس کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں اور اگر کوئی فرد مجلس کے آداب کو ملحوظ نہ رکھے تو وه شخص اس مجلس سے کوئی نفع نہ اٹھا سکے گا۔

اگرایک زاویہ سے دیکھا جائے تو گویا دنیا میں ہمارا امتحان حقوق کی ادائیگی ہی ہے(حقوق اﷲ ہوں یا حقوق العباد)اگر کوئی شخص اپنے حقوق پہچان لےاور پھر ان حقوق کی کما حقہ ادائیگی کرے تو وہی شخص دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہے۔ اﷲ عزوجل ہمیں امانت دار بنائے اور ظلم سے بچھائے۔(امین)