کلیم اللہ چشتی عطاری (دورہ حدیث مرکزی جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
انسانی حیات میں رفاقت و دوستی
ایک نہایت لطیف اور اثر انگیز تعلق ہے، جو روحانی طمانیت، قلبی سکون اور معاشرتی
ہم آہنگی کا باعث بنتا ہے۔ اسی نکتۂ نظر سے دینِ اسلام نے بھی اس رشتۂ خلوص کو غیر
معمولی اہمیت دی ہے اور اس کے انتخاب، حدود اور حقوق کے متعلق نہایت حکیمانہ
رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ انسان اس رفاقت کے ثمرات سے فیض یاب ہو سکے اور اس کے
ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔کیونکہ دوستی درحقیقت ایک دو دھاری تلوار ہے،
اگر اس میں بصیرت، احتیاط اور حسنِ انتخاب نہ ہو تو یہ خیر کے بجائے شر کا باعث بن
سکتی ہے۔ چنانچہ اسلام نے اس عظیم نعمت کے استعمال میں فہم و فراست اور شعور کی
تلقین فرمائی ہے اور اس ضمن میں جامع، بسیط اور روشن تعلیمات پیش کی ہیں جو ہر
مخلص انسان کو ایک مثالی رفیق کے انتخاب اور معیار کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
آئیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دوستی وہم نشینی کے چند حقوق کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)حسن اخلاق سے پیش آنا: حضور ﷺ نے فرمایا: تم میں سے میرے
زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں، جن کے پہلو دوسروں کے لیے
نرم ہیں جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور اس سے محبت کی جاتی ہے۔(المكارم الاخلاق للطبرانی
ملحق مكارم الاخلاق لابن ابی الدنيا ، باب ما جاء فى حسن الخلق، الحدیث: 6، ص
314دارالکتب علمیہ)
(2)وقتافوقتا ملاقات کے لیے جانا:
مروی ہے جو شخص اپنے مسلمان
بھائی کی ملاقات کا شوق رکھتے ہوئے اس کی زیارت کو جاتا ہے تو فرشتہ پیچھے سے اسے
ندا دیتا ہے کہ تو نے اچھا کیا اور تیرے لیے پاکیزہ جنت ہے ۔ ( سنن الترمذی، كتاب
البر الصلۃ، باب ماجاء فى زيارة الاخوان، 406/3، الحدیث: 2015)
(3)دعا کرنا: آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی اپنے
بھائی کے حق میں اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔(صحيح مسلم ، کتاب
الذكر و الدعاء۔۔ الخ، باب فضل الدعاء للمسلمين... الخ، الحديث: 2733 ،2732، ص1462)
(4)خرچ کرنا: یقینا ً جس سے بھائی چارہ قائم
کیا جائے اس پر خرچ کرنا فقراپر صدقہ کرنے سے افضل ہے۔ خلیفہ چہارم امیر المومنین
حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنے بھائی کو 2 در ہم دینا مجھے
مساکین پر 100 درہم صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (احیاء العلوم،باب ایثار روبھائی
چارہ...الخ،ج 2، ص 632مترجم مکتبہ المدینہ)
(5)حاجت پوری کرنا: حضرت سیدنا ابو عبداللہ رحمۃ اللہ
تعالی علیہ فرماتے ہیں: جب تم اپنے بھائی سے حاجت بیان کرو اور وہ اسے پوراکرنے میں
کوشش نہ کرے تو نماز کا سا وضو کرو اور فور اً اس پر چار تکبیرات پڑھو اور اسے
مردہ شمار کرو ۔ (احیاء العلوم،باب ایثار روبھائی چارہ...الخ،ج 2ص 635مترجم مکتبۃ
المدینہ)
(6)نیک کاموں میں مدد: مروی ہے الله عَزَّ وَجَلَّ جس
کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے نیک دوست عطا فرماتا ہے کہ اگر یہ بھولے تو
وہ اسے یاد دلائے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرے۔ ( سنن النسائى، كتاب
البيعۃ ، بأب وزير الامام الحديث: 4210 ، 685 ، بتغير قليل)
(7)مختلف حقوق : حضور علیہ السلام نے فرمایا: تم
ایک دوسرے سے نہ پیٹھ پھیرو، نہ بغض رکھو، نہ حسد کرو ، نہ قطع تعلقی کرو اوراللہ
کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ
اسے محروم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے، بندے کے برا ہونے کے لئے اتنا کافی
ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیرجانے۔ (صحيح مسلم، كتاب البر والصلۃ، باب تحريم
ظلم المسلم ... الخ، الحديث:2563 ،2564، ص1386 ، ملتقطاً)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں
اپنے مسلمان بھائیوں دوستوں ہم نشینوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami