اللہ پاک نے انسانی نفوس کی اصلاح کے لیے اپنے پیغمبروں کو انسانوں میں معبوث فرمایا۔اور ان تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اللہ پاک کو ایک ماننے، شرک سے بچنے اور اللہ پاک کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ ان انبیائے کرام میں سے اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔ آیئے! آپ کا قرآنی تذکرہ پڑھتے ہیں:

مختصر تعارف:آپ حضرت ابراہیم کے بیٹے ہیں، آپ کی والدہ کا نام حضرت سارہ ہے، بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپ ہی کی نسل سے ہیں۔

اللہ پاک نے آپ کی پیدائش کے وقت آپ کی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بشارت عطا فرمائی، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَعَلٰۤى اِسْحٰقَؕ-وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ(113) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والاہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:112، 113)

حضرت اسحاق علیہ السلام کی بعثت

اللہ پاک نے آپ پر وحی کے ذریعے احکامات نازل فرمائے تاکہ آپ اُن تمام نفوس کی اصلاح کر سکیں جن کی طرف آپ کو معبوث فرمایا گیا تھا۔ارشاد باری تعالٰی ہے:اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا)163( ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(پ 6،النسآء:163)

اللہ پاک نے آپ کو بلند سچی شہرت عطا فرمائی، چنانچہ قرآن پاک میں ہے: وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا(50) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔ (پ16، مریم: 50)

اللہ پاک تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے وسیلے سے ہمیں نیک و صالح بنائے۔ آمین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء اور رسول بھیجے تا کہ وہ لوگوں کو نیکی کےکام کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم دیں اور لوگوں کو صراط مستقیم کی راہ بتائیں کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی عبادت کے لائق ہے اسی سوچ اور نظریہ کو لے کر حضرت اسحاق علیہ السلام بھی اس دنیا میں تشریف لائے۔

(1)حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت باسعادت اورنبوت کی بشارت دی جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا: وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والاہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:112)

(2)حضرت اسحاق علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت تھے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَیَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے اسحٰق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا اور ہم نے ان سب کو اپنے قربِ خاص کا سزاوار کیا۔ (پ17، الانبیآء: 72)

(3)حضرت اسحاق علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا،جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَاِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اُسے اسحق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اُسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ہے۔(پ 20، العنکبوت: 27)

(4)حضرت اسحاق علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47)ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں ۔(پ23، صٓ: 47)

(5)حضرت اسحاق علیہ السلام آخرت کا ذکر کر کے لوگوں کو آخرت کی دیا دلا تے اور آپ کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیا کی محبت نہ تھی جیسے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46)ترجمہ کنزالایمان: بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔(پ23، صٓ: 46)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


عفو عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی معاف کرنا   درگزر کرنا بدلہ نہ لینا اور گناہ پر پردہ ڈالنے کے ہیں اصطلاح شریعت میں عفو سے مراد کسی کی زیادتی و برائی پر انتقام کی قدرت وطاقت کے باوجود انتقام نہ لینا اور معاف کر دینا۔

قرآن مجید کی روشنی میں عفو درگزر کے فضائل پڑھیے، ترجمہ کنز العرفان: اور تم(کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی جیسی تمہیں پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کےلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (صراط الجنان، 3/ 342) آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی آل کے درگزر کے واقعات ملاحظہ فرمائیے۔

ایک سفر میں نبی معظم رسول محترم سراپا جودوکرم ﷺ آرام فرما رہے تھےغورث بن حارث نے آپ ﷺ کو شہید کرنے کے ارادے سے آپ ﷺ کی تلوار نیام سے کھینچ لی جب سرکار مدینہ ﷺ بیدار ہوئے تو غورث کہنے لگا: اے محمد ﷺ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالی نبوت کی ہبیت سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی اور آپ ﷺ نے تلوار ہاتھ میں لیکر فرمایا: اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ غورث گڑ گڑا کر کہنے لگا: آپ ﷺ ہی میری جان بچائے گے رحمت عالم ﷺ نے اسکو چھوڑ دیا اور معاف کردیاچنانچہ غورث اپنی قوم سے کہنے لگا اے لوگو! میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا میں تمام انسانوں سے بہتر ہے۔ (سیرت مصطفیٰ، ص 604تا605)

آپ ﷺ کی آل کے درگزر کرنے کا واقع پڑھیے:

حضور اکرم ﷺ کی آل پاک امام حسین رضی اللہ عنہ کے لخت جگر، نور نظر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ کو ایک باندی وضو کروا رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے پانی کا برتن آپ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر گر گیا جس سے چہرہ زخمی ہوگیا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس نے عرض کی: اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ: اور غصے پینے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے غصے کو پی لیا اس نے پھر عرض کیا: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے۔ فرمایا: اللہ تجھے معاف کرے۔ پھر عرض کی: اور اللہ احسان والوں کو پسند فرماتا ہے۔ ارشاد فرمایا: جا! تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ (تاریخ مدینہ دمشق، 41/ 387)

آپ ﷺ کا اپنے دشمنوں کو معاف کرنے کا واقعہ:

ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے ہمارے نبی ﷺ کی چادر کو زور سے کھینچا جس سے آپ ﷺ کی گردن پر چادر کی دھاریوں کے نشان پڑ گئے دیہاتی کہنے لگا: آپ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے دیجئے آپ ﷺ نے دیہاتی کی طرف دیکھا اور سختی نہ کی لگے اور اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے کچھ مال دے دو ہمارے نبی ﷺ نے اپنے عمل سے ہمیں سکھا دیا کہ جب کوئی ہم پر ظلم وزیادتی کریں تو اس سے بدلہ نہ لے بلکہ اسے معاف فرمادیں یہ ایک مرتبہ نہیں ہوا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنے دشمنوں کو معاف فرمادیا تھا جو ہمارے نبی کریم ﷺ پر پتھر برساتے جھوٹے الزامات لگاتے تھے سالہا سال تکلیفیں دیتے رہے یہاں تک ہمارے نبی ﷺ کو قتل کرنے کی سازشیں بھی کرتے آپ ﷺ چاہتے تو بدلہ لے سکتے تھے سخت سے سخت سزا بھی دے سکتے مگر انہوں نے ان مجرموں کو معاف فرمادیا اور کسی سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ (تعلیمات قرآن، ص 86، حصہ: 2)

عفو درگزر کے فضائل احادیث کی روشنی میں پڑھیے اور رضا الہیٰ کے لیے اس پر عمل کریں۔

1۔ سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا: بہادر وہ نہیں جو پہلوان ہو اور دوسرے کو پچھاڑ دیں بلکہ بہادر وہ ہے جو غصے کے وقت خود جو قابو میں رکھے (مطالعۃ العربیہ، ص75)

2۔ جو کوئی اپنے غصے کو روکے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اپنے عذاب کو روک دے گا۔ (اے ایمان والو، ص 81)

3۔ ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے لیکن اس معاف کر دینا بہتر اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔ (تعلیمات قرآن، ص 89، حصہ 2)

4۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے رب تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ والا ہے؟ فرمایا: جو بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کردے۔ (شعب الایمان، 6/ 319، حدیث: 8327)

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیرے، موتیوں کی طرح جگمگاتی شخصیات ہیں جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی، حکمتوں کے سرچشمے ان کے دلوں میں جاری فرمائے اور اوصاف و کمالات سے ان کی زندگی کو بھر دیا۔ آئیے! ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کے نبی حضرت اسحاق علیہ السلام کے چند قرآنی اوصاف کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)حضرت اسحاق علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہترین اور چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47)ترجمہ کنزالعرفان:اور بے شک وہ ہمارے نزدیک بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔ (پ23،صٓ:47)

(2)آپ علیہ السلام لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے اور کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے تھے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46) ترجمہ کنزالعرفان:بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس (آخرت کے)گھر کی یاد کرتے ہے۔ (پ23، صٓ:46)

(3)اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنے خاص قرب والے بندوں میں شامل فرمایا، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَیَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72)ترجمہ کنزالعرفان:اورہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب (پوتا) اور ہم نے ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔(پ17، الانبیآء:72)

(4)رب کریم نے اپنے پیارے نبی اسحاق علیہ السلام پر اپنی خصوصی برکتیں نازل فرمائیں، ارشاد باری تعالی ہے:وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَعَلٰۤى اِسْحٰقَؕ ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت اتاری۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:113)

(5)قرآن کریم میں اللہ پاک نے آپ کا ایک یہ وصف بیان فرمایا ہے کہ آپ علیہ السلام پر اپنی نعمت کو مکمل فرمایا: وَیُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَعَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰقَ ترجمہ کنزالعرفان: اور تجھ پر اور یعقوب کے گھر والوں پر اپنا احسان مکمل فرمائے گا جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی۔(پ12، یوسف:6)

(6)آپ علیہ السلام کی ولادت سے پہلے ہی آپ کی آمد، نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بشارت دی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:112)

اللہ پاک ہمیں اچھے اور پاکیزہ اوصاف اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


عفو کے معروف معنی معاف کرنا، درگزر کرنا،نظر انداز کرنااور انتقام نہ لینا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے۔ وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ 4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔

فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا (پ 1، البقرۃ: 109) ترجمہ: پس تم معاف کردو اور درگزر سے کام لو۔

دشمنوں سے بھی عفودرگزر کا حکم: عفودرگزر کا حکم صرف مسلمانوں اور اپنوں سے ہی نہیں بلکہ دشمنوں، کافروں اور مشرکوں کو بھی معاف کر دینے کا حکم ہے۔ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴) (پ 25، الجاثیۃ: 14) ترجمہ: (اے پیغمبرﷺ)جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان سے کہو کہ جو لوگ اللہﷻ کے دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ اللہ لوگوں کو ان کے کاموں کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔

نواسئہ رسول اور عفو: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا۔ ایک دن وہ وضو کے لیے پانی لایا۔ جب آپ وضو کر چکے اور غلام نے لوٹا اٹھایا تو اتفاق سے لوٹا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے منہ سے جا ٹکرایا۔جس سے آپ کے ایک دانت کو تکلیف پہنچی۔ اپنے غلام کی طرف غصے سے دیکھا تو غلام نے فوراً یہ آیت پڑھی:

غلام: اور غصہ پی جانے والے۔

حسین: میں نے اپنا غصہ پی لیا۔

غلام: لوگوں کو معاف کرنے والے۔

حسین: میں نے تجھے معاف کیا۔

غلام: اور اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

حسین: تم آزاد ہو، جاسکتے ہو۔

جنت کا محل: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ: سلطان دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے (جنت میں)محل بنایا جائے اور اسکے درجات بلند کیے جائیں، اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کر دے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔(مستدرک، 3/12، حدیث: 3215)

ظلم کرنے والے کے لیے دعاو ہدایت: غزوہ احد میں جب مدینے کے سلطانﷺکے مبارک دندان شہید اور چہرہ انور کو زخمی کر دیا گیا مگرآپﷺنے ان لوگوں کے لیے اس کے سوا کچھ بھی نہ فرمایا کہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ لوگ مجھے جانتے نہیں۔

سویاکئے نابکار بندے

رویا کئے زار زار آقا

فتح مکہ کے موقع پر صحن کعبہ میں قریش مکہ کا اجتماع تھا یہ وہ لوگ تھے جو آپ ﷺکے قتل کے منصوبے بنا رہے تھے۔ انہوں نے کتنے ہی مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا اور آپﷺ اور مسلمانوں کو اتنی اذیتیں پہنچائی تھیں کہ انھیں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنا پڑی۔ اب یہ لوگ خوف و دہشت کی تصویر بنے ہوئے تھے اور ڈر رہے تھے کہ نہ جانے اب ان سے کتنا شدید انتقام لیا جائے گا۔

حضرت محمدﷺ نے ان کی طرف توجہ کی اور فرمایا: اے گروہ قریش!تم جانتے ہو میں تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کرنے والا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا آپ نیکی کا برتاؤ کریں گے۔کیونکہ آپ خود مہربان ہیں اور مہربان بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ ﷺنے قرآن مجیدکی یہ آیت پڑھی: قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۹۲) (پ 13، یوسف:92) ترجمہ: کچھ الزام نہیں تم پرآج بخشے اللہ تم کو اوروہ ہے سب مہربانوں کا مہربان۔

تعارف:آپ علیہ السلام کا نام مبارک اسحاق ہے،یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا عربی میں معنی ہے ضحاک یعنی ہنس مکھ، شاداں، خوش و خرم۔ آپ علیہ السلام کو یہ بھی سعادت حاصل ہے کہ ولادت کی بشارت کے وقت آپ کا مبارک نام بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا تھا۔

نبوت کی بشارت:حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ آپ علیہ السلام کی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونےکی بشارت بھی دی گئی جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والاہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:112)

نزول احکام:اللہ پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام پر وحی کے ذریعہ احکام نازل فرمائے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں(کو وحی کی) ۔(پ6، النسآء:163)

انعاماتِ الٰہی:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جیسا کہ نبوت،رحمت اور سچی بلندی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا(50) ترجمہ کنزالایمان:ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا۔اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔ (پ16، مریم:49، 50)

برکت کا نزول:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر اپنی خصوصی برکتیں نازل فرمائیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحٰق پر ۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:113)

اپنی نعمت کو مکمل کرنا:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر اپنی نعمت کو مکمل فرمایا جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَیُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَعَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ ترجمہ کنزالایمان:اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق پر پوری کی۔(پ12، یوسف:6)

قوت اور سمجھ عطا کرنا:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اور آپ کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کو علمی و عملی قوتیں عطا فرمائیں جن کی بنا پر انہیں اللہ کی معرفت اور عبادت پر قوت حاصل ہوئی جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ(45)ترجمہ کنزالایمان: اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو۔ (پ23، صٓ:45)

یاد آخرت کے منتخب کرنا :اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یاد آخرت کے لیے بھی چن لیا تھا جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46)ترجمہ کنزالایمان:بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔ (پ23، صٓ:46)

اللہ تعالیٰ ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


عفو عربی زبان کا لفظ ہے،جس کے معانی معاف کرنا، بخش دینا،درگزر کرنا،بدلہ نہ لینا اور گناہ پر پردہ ڈالنے کے ہیں۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18، النور: 22) ترجمہ کنز الایمان: اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو کسی مسلمان کی غلطی کو معاف کرے گا قیامت کے دن اللہ پاک اس کی غلطی کو معاف فرمائے گا۔ (ابن ماجہ، 3/36،حدیث:2199)

معاف کرنے سے عزت بڑھتی ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بندہ کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ پاک اس(معاف کرنے والے) کی عزت ہی بڑھائے گا۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 2588)

معاف کرنے والوں کی بے حساب مغفرت: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اعلان کیا جائے گا جس کا اجر اللہ پاک کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہوجائے،پوچھا جائے گا کس کے لیے اجر ہے؟منادی اعلان کرنے والا کہے گا ان لوگوں کے لیے جو معاف کرنے والے ہیں تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542 ، حدیث:1998)

جنت کا محل: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے جنت میں محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں،اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے،اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔ (مستدرک للحاکم، 3/12، حدیث:3215)

رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرو، اللہ پاک تمہیں معاف فرما دے گا۔ (مسند امام احمد، 2/682، حدیث: 7062)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے عفو و درگزر کا صدقہ ہمیں بھی معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں کل 26 انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک نبی حضرت اسحاق علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آپ کی والدہ کا نام حضرت سارہ ہے۔ آئیے! حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

(1)وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ ترجمہ کنز الایمان:اور ہم نے انہیں اسحق اور یعقوب عطا کیے۔(پ7، الانعام: 84)

(2)قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًاۖ-ۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(133) ترجمہ کنز الایمان:بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے والدوں ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں۔(پ1، البقرۃ:133)

(3)وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ ترجمہ کنز الایمان:اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحق پر۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:113)

(4)وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72)ترجمہ کنز الایمان:اور ہم نے اسے اسحق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا اور ہم نے ان سب کو اپنے قربِ خاص کا سزاوار کیا۔ (پ17، الانبیآء:72)

(5)قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَعِیْسٰى وَمَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(136) ترجمہ کنزالایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔(پ1، البقرۃ:136)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں حضرت اسحاق علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فیض سے مالامال فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کی ولادت، نبوت اور صالحین میں سے ہونے کی بشارت دے دی تھی۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَعَلٰۤى اِسْحٰقَؕ-وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ(113) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والاہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:112، 113)

نام مبارک:آپ علیہ السلام کا نام اسحاق ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا عربی میں معنی ہے ضحاک یعنی ہنس مکھ، شاداں، خوش وخرم۔ آپ علیہ السلام کو یہ سعادت بھی حاصل ہے ولادت کے وقت آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا تھا۔(روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: 39، 4/429)

بعثت:حضرت اسحاق علیہ السلام شام و فلسطین میں مقیم کنعانیوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ یہی وہ علاقہ تھا جس میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زندگی گزاری اور انہی لوگوں کے درمیان حضرت اسحاق علیہ السلام نے پرورش پائی۔

نزول احکام:حضرت اسحاق علیہ السلام پر وحی کے ذریعے بعض احکام نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:ترجمہ کنزالایمان: بے شک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی۔(پ6، النسآء:163)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


کسی کی خطا کو معاف کر دینا عفو اور اس پر کوئی مواخذہ نہ کرنا درگزر کہلاتا ہے۔ عفو و درگزر سے کام لینا یہ خوبی اخلاقی اوصاف میں سے ہے اچھے اخلاق کا تقاضا ہے کہ بندہ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرتے ہوئے درگزر سے کام لے۔ پیاری پیاری اسلامی بہنو! خواہ کوئی آپ کو کتنا ہی ستائے آپ کا دل دکھائے آپ عفو و درگزر ہی سے کام لیجیے اور ان کے ساتھ محبت بھرا سلوک فرمائیے۔

قرآن کریم میں عفو و درگزر اختیار کرنے کاحکم: اللہ پاک نے قرآن مجید میں عفو و درگزر کرنے والوں کو اپنی رضا کی جو خوشخبریاں سنائیں اس ضمن میں دو آیات پڑھیے:

وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ 4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ اس آیت مبارکہ میں پہلے تو متقین کے چار اوصاف بیان کے گئے: خوشحالی و تنگی دونوں میں راہ خدا میں مال خرچ کرنا، غصہ پی جانا، معاف کرنا اور درگزر کرنا۔ پھر اللہ پاک نے خود ہی فرما دیا کہ یہ اوصاف جس میں ہوں تو الله نیکوں سے محبت فرماتا ہے۔

اور (ثواب ان کے لیےبھی) جو بچتے رہتے ہیں بڑے بڑے گناہوں سے اور بے حیائی سے اور جب غضبناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں۔

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کچھ یوں ہے کہ کسی پر غصہ آجانے پرمعاف کردینے کی صورت میں بھی اجر و ثواب کی بشارت ہے۔ حضرت علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: آیت کا معنی ہے کہ جب غصہ آئے تو اس وقت درگزر کرنا اخلاقی اچھائیوں میں سے ہے مگر شرط یہ ہے کہ درگزر کرنے سے کسی واجب میں خلل نہ ہو اگر کسی فرض یا واجب میں خلل واقع ہو تو درگزر نہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

عفو و درگزر احادیث کی روشنی میں: اصلاح امت کی غرض سے نبی پاکﷺ نے معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بھی کئی مرتبہ تاکید فرمائی آپ بھی ان میں سے چند پڑھ کر عفو و درگزر کا ذہن بنائیے:

(1) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحیم و کریم آقاﷺ نے فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے (جنت میں) محل بنایا جائے اسکے درجات کو بلند کیا جائے تو اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کردے جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے جو اس سے قطع تعلقی کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔ (مستدرک، 3/12، حدیث: 3215)

(2)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت ﷺ نے فرمایا: جب لوگ حساب گے لیے ٹھہرے ہونگے تو اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا کہ جسکا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمّہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور داخل جنت ہو جائے جب دوسری بار بھی یہی اعلان کرے گا تو پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہے جسکا اجر اللہ پاک کے ذمّہ کرم پر ہے منادی کہےگا کہ انکا جو لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرنے والے ہیں پھر وہ اپنا اعلان تیسری بار دہرائے گا تو ہزاروں آدمی کھڑے ہونگے اور بلا حساب داخل جنت ہو جائیں گے۔(معجم الاوسط، 1/ 542، حدیث: 1998)

عفو و درگزر کے معاملے میں اصحاب مصطفیٰ ﷺ کا طرز عمل: عفو ودرگزر کے معاملے میں پیارے اصحاب ہمارے اسلاف اور اہل بیت اطہار کی بھی کئی روایات ہیں جن میں سے ایک آپ بھی پڑھیے اور جھوم جائیے چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہما کی لونڈی وضو کرواتے ہوئے آپ پر پانی ڈال رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھوں سے برتن گرا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک چہرے پر آگرا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ بھی زخمی ہو گیا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اسکی طرف دیکھا تو اسنے عرض کی اللہ فرماتا ہے: اور غصہ پینے والے آپ نے اس سے فرمایا میں نے اپنے غصہ کو پی لیا اس نے پھر عرض کی: اور لوگوں کو معاف کرنے والے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے معاف کرے اس نے دوبارہ عرض کی اس بار آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا جا ! تو الله کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ (تاریخ مدینہ دمشق، 41/387)

پیاری پیاری اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے چہرہ زخمی ہو جانے کے باوجود کس طرح اس لونڈی کو معاف بھی کیا اور درگزر سے کام لیا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی خدا اور خدا کے پیارے حبیب ﷺ کے حکم پر عمل کی نیت سے عفو و درگزر سے کام لیں غصہ آئے تو صبر صبر اور صرف صبر ہی سے کام لیجیے کہ بسا اوقات نہ بول کر غمزدہ ہونا بول کر پچھتانے سے بہتر ہوتا ہے۔ کسی کو جھڑک دینے یا بدلہ لینے سے محض نفرتیں پیدا ہونگی جبکہ عفو و درگزر کرنے سے آپس میں محبتیں بڑھیں گی۔

اللہ پاک نے انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے بہت سے انبیائے کرام اور رسولوں کو بھیجا اور ان میں سے کچھ انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کا تذکرہ اپنے پاک کلام قرآن پاک میں فرمایا۔ ان میں سے ایک نبی حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔ بنی اسرائیل کی طرف آنے والے تمام انبیائےکرام علیہم السلام آپ ہی کی نسل پاک سے ہیں۔

تعارف:آپ علیہ السلام کا نام مبارک اسحاق ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا عربی معنی ہے ضحاك یعنی ہنس مکھ، خوش و خرم آپ علیہ السلام کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ ولادت کی بشارت کے وقت آپ کا مبارک نام بھی اللہ پاک نے بیان فرما دیا تھا۔ (تذكرة الانبیاء، ص365)

سبحٰن اللہ! کیا شان ہے حضرت اسحاق علیہ السلام کی کہ آپ کا نام مبارک رب پاک نے عطا فرمایا جس سے آپ کی شان و رفعت واضح ہوتی ہے۔آیئے! قرآن پاک میں موجود آپ کا ذکر خیر پڑھتے ہیں:

نبوت کی بشارت:اللہ پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ آپ علیہ السلام کی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بشارت دی چنانچہ قرآن مجید میں ہے: وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قرب خاص کےسزاواروں میں۔(پ23، الصّٰٓفّٰت: 112)

آپ پر برکت نازل کی:حضرت اسحاق علیہ السلام پر اللہ پاک نے برکت اتاری اور اس کا تذکرہ قرآن پاک میں بھی فرمایا: وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ-ترجمہ کنز الایمان:اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحق۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:113)

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام پر دینی اور دنیوی ہر طرح کی برکت اتاری اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں کثرت کی اور احضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل پاک سے حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے انبیائے کرام علیہم الصلوةوالسلام مبعوث کیے۔(تفسیر مدارک)

علمی اور عملی قوتیں:اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو اور آپ کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کو علمی اور عملی قوتیں عطا فرمائیں جن کی وجہ سے انہیں اللہ پاک کی معرفت اور عبادات پر قوت حاصل ہوئی، اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَاذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ(45)ترجمہ کنز الایمان:اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو۔ (پ23، صٓ:45)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان نیک ہستیوں کے صدقے نیک بنا دے اور ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اے عاشقانِ رسول! آج ہم انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک ایسے عظیم نبی کا تذکرہ پڑھیں گے کہ جن کے والد کو خالقِ کائنات نے خلیلُ اللہ بنایا، ان کے بھائی کو ذَبیحُ اللہ بنایا، جن کی ولادت کی خوشی خود ربِّ کائنات نے جبرائیلِ امین کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا کی، وہ دلدار اور آنکھوں کا تارا کوئی اور نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند، حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بھائی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد ماجد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں، خدائے رحمٰن نے قرآنِ کریم کی متعدد سورتوں میں آپ کے فضائل و کمالات بیان کیے ہیں۔

(1)حضرت اسحاق علیہ السلام کو خاص قرب والے بندوں میں شامل کیا: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب (پوتا) اور ہم نے ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔(پ17، الانبیآء: 72)

(2) آپ علیہ السلام اللہ پاک کے بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں: ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47) ترجمہ کنز العرفان:اور بے شک وہ ہمارے نزدیک بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہے۔ (پ 23، صٓ:47)

(3)اللہ پاک نے آپ علیہ السلام پر اپنی نعمت کو مکمل کردیا: ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَؕ-اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠(6) ترجمہ کنزالعرفان:اور تجھ پر اور يعقوب کے گھر والوں پر اپنا احسان مکمل فرمائے گا جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی۔ (پ12، يوسف:6)

(4)آپ علیہ السلام کی ولادت سے پہلے ہی آپ کی آمد، نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بشارت دی گئی: ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم نے اسے اسحاق کی خوش خبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:112)

(5)آپ علیہ السلام لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے اور کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے تھے:ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46) ترجمہ کنز العرفان:بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس (آخرت کے) گھر کی یاد ہے۔(پ23، صٓ:46)

اللہ پاک ان مقدس ترین ہستیوں کے صدقے ہمیں بھی آخرت کی یاد کرنے والا، نیک لوگوں کا تذکرہ کرنے والا اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔