فیضان مصطفی عطّاری (درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ
شیرانوالہ گیٹ لاہور، پاکستان)
حضرت
اسحاق علیہ السلام کی ولادت اور نبوت: حضرت اسحاق علیہ السلام اللہ
پاک کے برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اور اللہ پاک کے معزز نبی
تھے۔ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل ہی اللہ پاک نے آپ کی ولادت کی بشارت حضرت ابراہیم
علیہ السلام کو عطا فرما دی تھی۔ اس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جس
وقت فرشتے قومِ لوط کو ہلاک کرنے سے پہلے حاضر ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام
کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت پسِ پردہ (یعنی پردے کے
پیچھے)کھڑی تھیں، تو فرشتوں نے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قوم لوط کے ہلاک
ہونے کے بارے میں خبر دی اور اس کے بعد حضرت ابراھیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق
علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی خوشخبری سنائی۔اس پر آپ کی زوجہ محترمہ بشارت سن
کر ہنسنے لگیں۔
قرآن پا ک کے
پارہ 12 سورۂ ھود کی آیت 71 میں اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا:
وَ لَقَدْ
جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌ
فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ(69)فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا
تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًؕ-قَالُوْا لَا تَخَفْ
اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍ(70) وَامْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ
فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(71)ترجمہ
کنزالایمان:اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے بولے سلام کہا
سلام پھر کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بھنا لے آئے۔پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ
کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگا بولے
ڈرئیے نہیں ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔اور اس کی بی بی کھڑی تھی وہ ہنسنے
لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی۔
حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ان انبیاء کرام میں
سے ہیں کہ جن کی پیدائش سے پہلے ہی ان کی ولادت کی خوشخبری سنا دی گئی۔
اسی طرح حضرت
اسحاق علیہ السلام کے اللہ پاک کے قرب خاص یعنی نبوت دئیے جانے سے بھی مشرف ہوئے۔لہٰذا
آپ علیہ السلام کے نبی ہونے کے متعلق قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
وَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)ترجمہ
کنزالایمان: ہم نے اسے(یعنی حضرت ابراھیم کو) اسحق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک
کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا۔
قرآن
پاک میں آپ کا ذکرِ خیر:حضرت اسحاق علیہ السلام کا ذکر خیر پورے قرآن پاک
میں 14 مقامات پر آیا ہے۔
قرآن
پاک میں موجود آپ کے فضائل:1-قرآن پاک میں اللہ پاک نے حضرت اسحاق
علیہ السلام کے مقامِ عالی و رفعت شانی کو بیان کرتے ہوئے سورۂ انبیاء آیت نمبر
72 میں ارشاد فرمایا: وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ
نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72) ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اسے اسحق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا اور ہم نے ان سب کو اپنے
قرب خاص کا سزاوار(اہل) کیا ۔
2-ایک مقام پر
حضرت اسحاق اور آپ کی اولاد پر دنیا میں بھی اللہ پاک کے احسان اور آخرت میں بھی
قرب و شان کو بیان کیا گیا۔جیسا کہ سورۃ العنکبوت آیت نمبر 27میں ہے:
وَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ
الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ
لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27) ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُسے اسحق
اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے
دنیا میں اس کا ثواب اُسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قربِ خاص کے
حقداروں میں سے ہیں۔
3-ایک مقام پر
دیگر انبیاء کرام کے ساتھ حضرت اسحاق علیہ السلام کی قوت و طاقت اور شان علمی بیان
کرتے ہوئے سورۂ ص آیت نمبر45 میں فرمایا:وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ
اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ(45)
ترجمہ کنزالایمان:اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحق اور یعقوب قدرت اور
علم والوں کو۔
اللہ پاک ہمیں
حضرت اسحاق علیہ السلام کی برکات سے مستفید فرمائے۔ہمیں تمام ہی انبیاء کرام علیہم
السلام کا بادب بنائے اور آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
غلامی میں جینا مرنا مقدر فرمائے اور کل بروز قیامت، انبیاء و صالحین کی معیت نصیب
فرمائے۔آمین
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
عبدالحنان (درجۂ
خامسہ جامعہ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
الله پاک نے
تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو اس دنیا میں تمام مخلوق کی اصلاح و تربیت کے
لئے اور ان کو گناہوں سے پاک کرنے کے لیے اس دنیا میں مبعوث فرمایا کچھ انبیائے
کرام علیہم السلام کو کتاب و صحیفے دے کر کسی قوم کی طرف مخصوص زمانے کے لئے بھیجا
اور کچھ انبیاء کرام پر کتاب و صحیفے تو نازل نہیں ہوئے مگر وحی کے ذریعے ان پر
احکام نازل ہوتے رہے اُنہی میں سے حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔
حضرت اسحاق
علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں آپ
علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اللہ پاک نے آپ کی ولادت و نبوت
اور صالحین میں سے ہونے کی بشارت عطا فرما دی۔
حضرت اسحاق
علیہ السلام کا اجمالی تذکرہ قرآن کریم میں متعدد سورتوں میں ہوا اور کئی مقامات
پر تفصیلی تذکرہ ہوا۔
قارئین کرام
آئیے حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ ملاحظہ کرتے ہیں:
1)
آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی آپ کی آمد اور نبوت کے منصب پر
فائز ہونے کی بشارت:ارشادِ باری تعالیٰ: وَ
بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے
قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:112)
2)
اللہ پاک کے قرب و خاص بندے۔ارشادِ باری تعالیٰ:وَ
وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا
صٰلِحِیْنَ(72)ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے
اسحٰق عطا فرمایا(ف130)اور یعقوب
پوتااور ہم نے ان سب کو اپنے قرب خاص کا سزاوار(اہل) کیا۔(پ 17، الانبیآء:72)
3)
آپ علیہ السلام پر نعمت کا مکمل ہونا۔ ارشادِ باری تعالیٰ:وَ
یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى
اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَؕ ترجمہ کنزالایمان: اور تجھ پر اپنی
نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس
طرح تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق پر پوری کی ۔(پ 12، یوسف:6)
یہاں اتمام
نعمت سے مراد نبوت کے منصب اور فرزند حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرما کر اپنی
نعمت کو پورا کرنا ہے۔
4)
آپ علیہ السلام پر خصوصی برکتوں کا نزول: ارشادِ باری تعالیٰ:وَ
بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحٰق
پر۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:113) یعنی ہم نے حضرت
ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام پر دینی اور دُنْیَوی ہر طرح کی
برکت اتاری اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں کثرت
کی اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت
عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے انبیاء ِکرام علیہم الصلاۃ والسلام مبعوث کئے۔(تفسیر
النسفی، الصافات، تحت الآیۃ: 113، ص،996 مکتبہ نزار مصطفی الباز)
5)
آپ علیہ السلام کو علمی و عملی قوتوں کا ملنا۔ارشادِ باری
تعالیٰ:وَ
اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ
الْاَبْصَارِ(45) اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46)ترجمہ: اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور
اسحٰق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو بےشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز
بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے ۔(پ
17، صٓ:45/46)
یعنی اللہ پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو اور
آپ کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کو علمی وعملی قوتیں عطا فرمائی جن کی بنا پر انہیں
اللہ پاک کی معرفت اور عبادات پر قوت حاصل ہوئی اور انہیں یادِ آخرت کے لئے چن
لیا۔
اللہ پاک
انبیاء کرام علیہم السلام کے صدقے سے ہمیں نیک اور سنتوں کا پابند بنائے۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خلق خدا سے کیا
پوچھنا ؟ جب کہ خود خالق اخلاق نے یہ فرما دیا کہ وَ
اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ29، القلم: 4) ترجمہ: یعنی
اے حبیب ! بلاشبہ آپ اخلاق کے بڑے درجہ پر ہیں۔
آپ کے بڑے سے بڑے دشمن نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ
آپ بہت ہی بلند اخلاق، نرم خو اور رحیم و کریم ہیں۔ آپ کے اخلاق میں ایک آپ کی
عادت کریمہ یہ بھی تھی کہ آپ معاف کرنا اختیار فرماتے اس کے متعلق آپ کے فرمان بھی
سنتی ہیں کہ آپ کا اپنا عمل تو یہ تھا کہ آپ عفو و درگزر سے کام لیتے لیکن آپ نے
اپنی امت کو عفو و درگزر کے متعلق کیا ارشاد فرمایا۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سلطان
دو جہاںﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے (جنت میں) محل بنایا جائے اور اسکے درجات بلند کیے جائیں
اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا
کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔ (مستدرک للحاکم، 3/12، حدیث:3215)
آپ ﷺ کا فرمان رحمت نشان ہے: صدقہ دینے سے مال کم
نہیں ہوتا اور بندہ کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ اس (معاف کرنے والے) کی عزت ہی
بڑھائے گا اور جو اللہ کے لیے تواضع(عاجزی)
کرے اللہ اسے بلند فرمائے گا۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 2588)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم
نہیں کیا جاتا اور جو معاف نہیں کرتا اس کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ (مسند امام
احمد، 7/71،
حدیث:1926)
سرکار مدینہ منورہ، سردار مکہ مکرمہ ﷺ کا
فرمان عالیشان ہے: رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرو
اللہ تمہیں معاف فرما دے گا۔ (مسند امام
احمد، 2/682، حدیث: 7062)
ہم نے خطا میں نہ کی، تم نے عطا میں نہ
کی
کوئی کمی سرورا تم پہ کروڑوں درود
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا: جس کا اجر اللہ کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو
جائے۔ پوچھا جائے گا: کس کیلئے اجر ہے؟ وہ منادی (اعلان کرنے والا) کہے گا ان لوگوں کا جو معاف کرنے والے ہیں، تو
ہزاروں آدمی کھڑے ہونگے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542،
حدیث: 1998)
اللہ عزوجل کے
قربِ خاص انبیاء کرام علیہم السلام میں سے حضرت اسحاق بھی ہیں۔ آپ ابو الانبیاء
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کرام علیہم
السلام آپ ہی کی مبارک نسلِ پاک سے ہیں۔ آپ کا تذکرہ مبارک نامِ نامی اسمِ گرامی
اسحاق سے تقریباً قرآن مجید میں 14 مقامات پر آیا ہے جن میں آپ کے اوصاف، انعامات کا
بیان ہے۔آئیے! قرآن مجید فرقان حمید میں آپ کے مبارک تذکرہ پڑھتے ہیں:
(1)غیب
کی خبریں دینے والے اور قربِ خاص والے نبی:وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ
نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے
خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں۔
(پ23، الصّٰٓفّٰت:112)
(2)برکت
والے نبی:وَ
بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے
برکت اتاری اس پر اور اسحٰق پر۔ (پ23،
الصّٰٓفّٰت:113)
(3،
4)علمی اور عملی قوت والے نبی: وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ
وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ(45)ترجمہ
کنزالایمان: اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحق اور یعقوب قدرت اور علم
والوں کو۔ (پ 23، صٓ: 45)
(5)
کثرت سے آخرت کو یاد کرنے والے نبی:اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ
ذِكْرَى الدَّارِۚ(46) ترجمہ کنزالایمان:بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات
سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔ (پارہ 23، سورہ ص، آیت نمبر 46)
(6)بہترین
چنے ہوئے اللہ عزوجل کے پسندیدہ نبی:وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ
الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47)ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک وہ ہمارے
نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں۔ (پارہ 23، سورہ ص، آیت نمبر 47)
(7,8،9) نبوت،
رحمت اور سچی بلند شہرت والے نبی:وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ
یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49) ترجمہ کنزالایمان:
اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا۔ (پارہ 16، سورہ مریم، آیت نمبر: 49)
وَ
وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ
عَلِیًّا(50)ترجمۂ
کنز الایمان:اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری
رکھی۔ (پارہ 16، سورہ مریم، آیت نمبر: 50)
ان آیات سے
معلوم ہوا کہ آپ علم والے، عمل والے، قوت والے، غیب کی خبریں دینے والے، قرب الٰہی
والے، سچے نبی،چنے ہوئے نبی، آخرت کو یاد کرنے والے، شہرت والے اور برکت والے اللہ
عزوجل کے پسندیدہ نبی ہیں۔ یہ تمام تر صفات، خوبیاں، خصوصیات اللہ عزوجل کی طرف سے
عطا کردہ ہیں۔
دعا ہے کہ
اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ
النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد آفتاب
اعجاز (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
اللہ پاک نے انسانوں کی اصلاح کے لئے وقتاًفوقتا کئی انبیاء
کرام علیہم السلام کو بھیجا انہی میں سے ایک نبی حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔
آپ علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔
بنی اسرائیل میں آنے والے تمام انبیاء کرام علیہم السلام آپ ہی کی نسل پاک سے
ہوئے۔ آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اللہ پاک نے آپ کی ولادت
و نبوت اور صالحین میں سے ہونے کی بشارت دے دی تھی۔ قرآن پاک کی متعدد سورتوں میں
آپ علیہ السلام کا ذکر موجود ہے ان میں سے چند آیات پیش کرتا ہوں:
اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے:وَبَشَّرْنٰهُ
بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ (پ23،
الصّٰٓفّٰت:112)
اس آیت مبارکہ
سے معلوم ہوا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام اللہ پاک کے قرب خاص کے لائق بندوں میں سے
ہیں۔
وَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَؕ-وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)وَوَهَبْنَا لَهُمْ
مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا(50) ترجمہ
کنزالایمان: ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کئے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا
کیا۔ اور ہم نے انہیں
اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔(پ16، مریم:49،
50)
مذکورہ بالا
آیت سےمعلوم ہوا کہ اللہ پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو دنیا و آخرت کی عظیم
ترین نعمت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں وسیع رزق اور اولاد عطا کی اور ان کیلئے
سچی بلند شہرت رکھی۔
وَاذْكُرْ
عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ
وَالْاَبْصَارِ(45) اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ
ذِكْرَى الدَّارِۚ(46) ترجمہ کنزالایمان : اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم
اور اسحاق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو۔ بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز
بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔(پ23، صٓ:45، 46)
مذکورہ آیت
کریمہ میں اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مخاطب کر کے
فرمایا کہ اے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے عنایتوں والے خاص
بندوں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام اور ان کے
بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کو یاد کریں کہ انہیں اللہ پاک نے علمی اور عملی قوتیں
عطا فرمائی جن کی بنا پر انہیں اللہ پاک کی معرفت اور عبادات پر قوت حاصل ہوئی اور
ہم نے انہیں کھری بات سے چن لیا اور وہ بات آخرت کے گھر کی یاد ہے کہ وہ لوگوں کو
آخرت کی یاد دلاتے کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے اور دنیا کی محبت نے ان کے دلوں میں
جگہ نہیں پائی۔
پیارے اسلامی
بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم بھی انبیائے کرام علیہم السلام کی مبارک زندگیوں کےمبارک
پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی کوشش کریں، اللہ پاک ہمیں
انبیائے کرام علیہم السلام کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ
خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
عفو عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی معاف کرنا بخش
دینا اور بدلہ نہ لینا ہے۔ خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ
الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) (پ 9، الاعراف: 199) ترجمہ کنز
الایمان: اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ
پھیر لو۔
معزز کون؟ حضرت موسیٰ
کلیم اللہ نے عرض کی: اے رب! تیرے نزدیک کون سا بندہ عزت والا ہے؟ فرمایا: وہ جو
بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کرے۔ (شعب الایمان، 6/ 319، حدیث: 8327)
معاف کرو معافی پاؤ: سرکار مدینہ
منورہ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: رحم کرو تم
پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرو اللہ پاک تمہیں معاف فرما دے گا۔ (مسند
امام احمد، 2/682،حدیث: 7062)
مدنی آقا ﷺ عفو و درگزر: ہند بنت عتبہ
جو حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چباگئی تھیں فتح مکہ کے دن نقاب پوش ہو کر اسلام لائیں
تاکہ حضور ﷺ نہ پہچان سکیں بیعت کے موقع پر بھی گستاخی سے باز نہ رہیں ایمان لا کر
نقاب اٹھا دیا اور کہا میں ہند بنت عتبہ ہوں مگر حضور ﷺ نے کسی امر کا ذکر نہیں
کیا یہ دیکھ کر ہندہ نے کہا: یارسول اللہ روئے زمین پر کوئی اہل خیمہ میری نگاہ
میں آپکے اہل خیمہ سے مبغوض نہ تھے لیکن آج میری نگاہ میں روئے زمین پر کوئی اہل
خیمہ آپ کے اہل خیمہ سے محبوب نہیں رہے۔ (سیرت رسول عربی، ص 303)
ایک اور واقعہ ملاحظ فرمائیے، چنانچہ حضرت انس سے
روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے 80 مرد کوہ تنعیم ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ رسول اللہ
(ﷺ) اور آپ کے اصحاب کو غافل پائیں آپ نے
ان کو لڑائی کے بغیر پکڑ لیا اور زندہ رکھا ایک روایت میں ہے ان کو چھوڑ دیا پس
اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ: اور خدا وہ ہے جس نے مکہ کے نواح میں ان
کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے باز رکھا (سیرت رسول عربی، ص 301)
امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی
ہیں کہ میرے سرتاج صاحب معراج نہ تو عادتًا بری باتیں کرتے تھے اور نہ بے تکلفًا اور
نہ بازاروں میں شور کرنے والے تھے اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ
آپ معاف کرتے اور درگزر فرمایا کرتے تھے۔(ترمذی، 3/
409، حدیث: 2023)
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ سلطان دوجہان ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کے اس کے لیے
جنت میں محل بنایا جائے اور اسکے درجات بلند کیے جائیں اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم
کرے یہ اسے معاف اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔ (مستدرک، 3/12،
حدیث: 3215)
عکرمہ بن ابی جہل قریشی اپنے باپ کی طرح رسول اللہ ﷺ
کے سخت دشمن تھے فتح مکہ کے دن وہ بھاگ کر
یمن چلے گئے ان کی بیوی جو مسلمان ہو چکی تھی وہاں پہنچی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ سب سے بڑھ کر صلہ رحم اور احسان کرنے والے ہیں
غرض وہ عکرمہ کو بارگاہ رسالت میں لائی عکرمہ نے آپ کو سلام کیا رسول اللہ ﷺ ان کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور ایسی جلدی سے
ان کی طرف بڑھے کہ ان کی چادر مبارک گر پڑی اور فرمایا: ہجرت کرنے والے سوار کو
آنا مبارک ہو۔ (سیرت رسول عربی، ص 304)
گالیاں دیتا ہے کوئی تو دعا دیتے ہیں
دشمن آجائے تو چادر بھی بچھا دیتے ہیں
روزانہ
ستّر 70 بار معاف کرو: ایک
شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ﷺ ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں؟ آپ خاموش رہے اس
نے پھر وہ سوال دہرایا: پھر خاموش رہے جب تیسری بار سوال کیا تو ارشاد فرمایا: روزانہ
ستّر بار۔ (ترمذی، 3/ 381، حدیث: 1956)
حافظ محمد حماس (درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ گلزار حبیب
سبزه زار لاہور، پاکستان)
اللہ پاک نے
انسانی نفوس کی اصلاح کے لیے اپنے پیغمبروں کو انسانوں میں معبوث فرمایا۔اور ان
تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اللہ پاک کو ایک ماننے، شرک سے بچنے اور اللہ
پاک کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ ان انبیائے کرام میں سے اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت
اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔ آیئے! آپ کا قرآنی تذکرہ پڑھتے ہیں:
مختصر
تعارف:آپ
حضرت ابراہیم کے بیٹے ہیں، آپ کی والدہ کا نام حضرت سارہ ہے، بنی اسرائیل کی طرف
بھیجے گئے تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپ ہی کی نسل سے ہیں۔
اللہ پاک نے
آپ کی پیدائش کے وقت آپ کی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بشارت
عطا فرمائی، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ
نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَعَلٰۤى
اِسْحٰقَؕ-وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ(113) ترجمہ
کنزالعرفان:اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں
میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری اور ان کی اولاد میں
کوئی اچھا کام کرنے والاہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والاہے۔ (پ23،
الصّٰٓفّٰت:112، 113)
حضرت
اسحاق علیہ السلام کی بعثت
اللہ پاک نے آپ
پر وحی کے ذریعے احکامات نازل فرمائے تاکہ آپ اُن تمام نفوس کی اصلاح کر سکیں جن
کی طرف آپ کو معبوث فرمایا گیا تھا۔ارشاد باری تعالٰی ہے:اِنَّاۤ
اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ
بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ
یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ
سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا)163( ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اے
حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف
بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور
عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔(پ 6،النسآء:163)
اللہ پاک نے
آپ کو بلند سچی شہرت عطا فرمائی، چنانچہ قرآن پاک میں ہے: وَوَهَبْنَا
لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا(50) ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری
رکھی۔ (پ16، مریم: 50)
اللہ پاک تمام
انبیاء کرام علیہم السلام کے وسیلے سے ہمیں نیک و صالح بنائے۔ آمین
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
اللہ تعالیٰ
نے ہر زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء اور رسول بھیجے تا کہ وہ لوگوں کو
نیکی کےکام کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم دیں اور لوگوں کو صراط مستقیم کی راہ
بتائیں کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی عبادت کے لائق ہے اسی سوچ اور
نظریہ کو لے کر حضرت اسحاق علیہ السلام بھی اس دنیا میں تشریف لائے۔
(1)حضرت ابرا
ہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت باسعادت اورنبوت کی بشارت دی جیسا
کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا: وَبَشَّرْنٰهُ
بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والاہمارے
قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:112)
(2)حضرت اسحاق
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت تھے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَوَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَیَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72)ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے اسحٰق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا اور ہم نے ان سب کو
اپنے قربِ خاص کا سزاوار کیا۔ (پ17، الانبیآء: 72)
(3)حضرت اسحاق
علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا،جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَوَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ
وَالْكِتٰبَ وَاٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَاِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ
لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اُسے اسحق
اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے
دنیا میں اس کا ثواب اُسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قربِ خاص کے
سزاواروں میں ہے۔(پ 20، العنکبوت: 27)
(4)حضرت اسحاق
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں، چنانچہ ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَاِنَّهُمْ
عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47)ترجمہ
کنزالایمان: بے شک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں ۔(پ23، صٓ: 47)
(5)حضرت اسحاق
علیہ السلام آخرت کا ذکر کر کے لوگوں کو آخرت کی دیا دلا تے اور آپ کے دل میں ذرہ
برابر بھی دنیا کی محبت نہ تھی جیسے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ
اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46)ترجمہ
کنزالایمان: بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد
ہے۔(پ23، صٓ: 46)
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
عفو عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی معاف کرنا درگزر کرنا
بدلہ نہ لینا اور گناہ پر پردہ ڈالنے کے ہیں
اصطلاح شریعت میں عفو سے مراد کسی کی زیادتی و برائی پر انتقام کی قدرت وطاقت کے
باوجود انتقام نہ لینا اور معاف کر دینا۔
قرآن مجید کی روشنی میں عفو درگزر کے فضائل پڑھیے، ترجمہ
کنز العرفان: اور تم(کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی جیسی تمہیں پہنچائی گئی ہو اور
اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کےلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (صراط الجنان، 3/ 342)
آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی آل کے درگزر کے واقعات ملاحظہ فرمائیے۔
ایک سفر میں نبی معظم رسول محترم سراپا جودوکرم ﷺ آرام فرما رہے
تھےغورث بن حارث نے آپ ﷺ کو شہید کرنے کے ارادے سے آپ ﷺ کی تلوار نیام سے کھینچ لی
جب سرکار مدینہ ﷺ بیدار ہوئے تو غورث کہنے لگا: اے محمد ﷺ اب آپ کو مجھ سے کون
بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالی نبوت کی ہبیت سے تلوار اس کے ہاتھ
سے گر پڑی اور آپ ﷺ نے تلوار ہاتھ میں لیکر فرمایا: اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون
بچائے گا؟ غورث گڑ گڑا کر کہنے لگا: آپ ﷺ ہی میری جان بچائے گے رحمت عالم ﷺ نے
اسکو چھوڑ دیا اور معاف کردیاچنانچہ غورث اپنی قوم سے کہنے لگا اے لوگو! میں ایسے
شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا میں تمام انسانوں سے بہتر ہے۔ (سیرت مصطفیٰ، ص 604تا605)
آپ ﷺ کی آل کے درگزر کرنے کا واقع پڑھیے:
حضور اکرم ﷺ کی آل پاک امام حسین رضی اللہ عنہ کے
لخت جگر، نور نظر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ کو ایک باندی وضو
کروا رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے پانی کا برتن آپ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر گر
گیا جس سے چہرہ زخمی ہوگیا آپ رضی اللہ
عنہ نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس نے عرض کی: اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے کہ: اور غصے پینے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے غصے کو پی لیا اس نے پھر عرض کیا: اور لوگوں سے درگزر کرنے
والے۔ فرمایا: اللہ تجھے معاف کرے۔ پھر عرض کی: اور اللہ احسان والوں کو پسند
فرماتا ہے۔ ارشاد فرمایا: جا! تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ (تاریخ مدینہ دمشق،
41/ 387)
آپ ﷺ کا اپنے دشمنوں کو معاف کرنے کا
واقعہ:
ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے ہمارے نبی ﷺ کی چادر کو
زور سے کھینچا جس سے آپ ﷺ کی گردن پر چادر کی دھاریوں کے نشان پڑ گئے دیہاتی کہنے
لگا: آپ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے دیجئے آپ ﷺ نے دیہاتی کی طرف دیکھا
اور سختی نہ کی لگے اور اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے کچھ مال دے دو ہمارے نبی ﷺ نے اپنے عمل سے ہمیں سکھا دیا کہ
جب کوئی ہم پر ظلم وزیادتی کریں تو اس سے بدلہ نہ لے بلکہ اسے معاف فرمادیں یہ ایک
مرتبہ نہیں ہوا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنے دشمنوں کو معاف فرمادیا تھا جو ہمارے نبی کریم ﷺ پر پتھر برساتے جھوٹے
الزامات لگاتے تھے سالہا سال تکلیفیں دیتے رہے یہاں تک ہمارے نبی ﷺ کو قتل کرنے کی سازشیں بھی کرتے آپ ﷺ چاہتے تو بدلہ لے
سکتے تھے سخت سے سخت سزا بھی دے سکتے مگر انہوں نے ان مجرموں کو معاف فرمادیا اور
کسی سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ (تعلیمات قرآن، ص 86، حصہ: 2)
عفو درگزر کے فضائل احادیث کی روشنی میں پڑھیے اور
رضا الہیٰ کے لیے اس پر عمل کریں۔
1۔ سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا: بہادر وہ نہیں جو
پہلوان ہو اور دوسرے کو پچھاڑ دیں بلکہ بہادر وہ ہے جو غصے کے وقت خود جو قابو میں
رکھے (مطالعۃ العربیہ، ص75)
2۔ جو کوئی اپنے غصے کو روکے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اپنے عذاب کو
روک دے گا۔ (اے ایمان والو، ص 81)
3۔ ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے لیکن اس معاف کر دینا
بہتر اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔ (تعلیمات قرآن، ص 89، حصہ 2)
محمد اسد
عطاری (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
انبیاء علیہم
الصلوۃ والسلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیرے، موتیوں کی طرح جگمگاتی
شخصیات ہیں جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی، حکمتوں کے سرچشمے ان کے دلوں
میں جاری فرمائے اور اوصاف و کمالات سے ان کی زندگی کو بھر دیا۔ آئیے! ہم اللہ
تبارک و تعالیٰ کے نبی حضرت اسحاق علیہ السلام کے چند قرآنی اوصاف کا مطالعہ کرتے
ہیں:
(1)حضرت اسحاق
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہترین اور چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں، جیسا کہ ارشاد
باری تعالی ہے:وَ
اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47)ترجمہ
کنزالعرفان:اور بے شک وہ ہمارے نزدیک بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔ (پ23،صٓ:47)
(2)آپ علیہ
السلام لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے اور کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے تھے، چنانچہ اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى
الدَّارِۚ(46) ترجمہ
کنزالعرفان:بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس (آخرت کے)گھر کی یاد
کرتے ہے۔ (پ23، صٓ:46)
(3)اللہ تعالیٰ
نے آپ علیہ السلام کو اپنے خاص قرب والے بندوں میں شامل فرمایا، اللہ پاک ارشاد فرماتا
ہے: وَوَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَیَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72)ترجمہ
کنزالعرفان:اورہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب (پوتا) اور ہم نے
ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔(پ17، الانبیآء:72)
(4)رب کریم نے
اپنے پیارے نبی اسحاق علیہ السلام پر اپنی خصوصی برکتیں نازل فرمائیں، ارشاد باری
تعالی ہے:وَبٰرَكْنَا
عَلَیْهِ وَعَلٰۤى اِسْحٰقَؕ ترجمہ
کنزالعرفان:اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت اتاری۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:113)
(5)قرآن کریم
میں اللہ پاک نے آپ کا ایک یہ وصف بیان فرمایا ہے کہ آپ علیہ السلام پر اپنی نعمت
کو مکمل فرمایا: وَیُتِمُّ
نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَعَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى
اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰقَ ترجمہ
کنزالعرفان: اور تجھ پر اور یعقوب کے گھر والوں پر اپنا احسان مکمل فرمائے گا جس
طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی۔(پ12،
یوسف:6)
(6)آپ علیہ
السلام کی ولادت سے پہلے ہی آپ کی آمد، نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے
ہونے کی بشارت دی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ
نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے اسے اسحاق
کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔(پ23،
الصّٰٓفّٰت:112)
اللہ پاک ہمیں
اچھے اور پاکیزہ اوصاف اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ
النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
عفو و درگزر از بنت ارشد منیر احمد، فیضان خدیجۃ
الکبریٰ کنگ سہالی گجرات
عفو کے معروف معنی معاف کرنا، درگزر کرنا،نظر انداز
کرنااور انتقام نہ لینا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے۔ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ
الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ- وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ
4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب
ہیں۔
فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا
(پ 1، البقرۃ: 109) ترجمہ: پس تم معاف کردو اور درگزر سے کام لو۔
دشمنوں سے بھی عفودرگزر کا حکم: عفودرگزر
کا حکم صرف مسلمانوں اور اپنوں سے ہی نہیں بلکہ دشمنوں، کافروں اور مشرکوں کو بھی
معاف کر دینے کا حکم ہے۔ قُلْ لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ
قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴) (پ 25،
الجاثیۃ: 14) ترجمہ: (اے پیغمبرﷺ)جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان سے کہو کہ جو
لوگ اللہﷻ کے دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ اللہ لوگوں کو ان
کے کاموں کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔
نواسئہ رسول اور عفو: حضرت
حسین رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا۔ ایک دن وہ وضو کے لیے پانی لایا۔ جب آپ وضو کر
چکے اور غلام نے لوٹا اٹھایا تو اتفاق سے لوٹا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے منہ سے
جا ٹکرایا۔جس سے آپ کے ایک دانت کو تکلیف پہنچی۔ اپنے غلام کی طرف غصے سے دیکھا تو
غلام نے فوراً یہ آیت پڑھی:
غلام: اور غصہ پی جانے والے۔
حسین: میں نے اپنا غصہ پی لیا۔
غلام: لوگوں کو معاف کرنے والے۔
حسین: میں نے تجھے معاف کیا۔
غلام: اور اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
حسین: تم آزاد ہو، جاسکتے ہو۔
جنت کا محل: حضرت ابی بن
کعب رضی اللہ عنہ: سلطان دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے
لیے (جنت میں)محل بنایا جائے اور اسکے درجات بلند کیے جائیں، اسے چاہیے کہ جو اس
پر ظلم کرے یہ اسے معاف کر دے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔(مستدرک، 3/12، حدیث: 3215)
ظلم کرنے والے کے لیے دعاو ہدایت: غزوہ
احد میں جب مدینے کے سلطانﷺکے مبارک دندان شہید اور چہرہ
انور کو زخمی کر دیا گیا مگرآپﷺنے ان لوگوں کے لیے اس کے سوا
کچھ بھی نہ فرمایا کہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ لوگ مجھے جانتے نہیں۔
سویاکئے نابکار بندے
رویا کئے زار زار آقا
فتح مکہ کے موقع پر صحن کعبہ میں قریش مکہ کا
اجتماع تھا یہ وہ لوگ تھے جو آپ ﷺکے قتل کے منصوبے بنا رہے تھے۔ انہوں
نے کتنے ہی مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا اور آپﷺ
اور مسلمانوں کو اتنی اذیتیں پہنچائی تھیں کہ انھیں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت
کرنا پڑی۔ اب یہ لوگ خوف و دہشت کی تصویر بنے ہوئے تھے اور ڈر رہے تھے کہ نہ جانے
اب ان سے کتنا شدید انتقام لیا جائے گا۔
محمد سرور خان قادری (درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ
شیرانوالہ گیٹ لاہور، پاکستان)
تعارف:آپ علیہ
السلام کا نام مبارک اسحاق ہے،یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا عربی میں معنی ہے
ضحاک یعنی ہنس مکھ، شاداں، خوش و خرم۔ آپ علیہ السلام کو یہ بھی سعادت حاصل ہے کہ
ولادت کی بشارت کے وقت آپ کا مبارک نام بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا تھا۔
نبوت کی بشارت:حضرت اسحاق
علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ آپ علیہ السلام کی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں
میں سے ہونےکی بشارت بھی دی گئی جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَبَشَّرْنٰهُ
بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والاہمارے
قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:112)
نزول احکام:اللہ پاک نے حضرت
اسحاق علیہ السلام پر وحی کے ذریعہ احکام نازل فرمائے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ
ہے:
وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ
الْاَسْبَاطِ
ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں(کو
وحی کی) ۔(پ6، النسآء:163)
انعاماتِ الٰہی:اللہ تعالیٰ
نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جیسا کہ نبوت،رحمت اور سچی بلندی۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ
یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ
رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا(50) ترجمہ
کنزالایمان:ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے
والا کیا۔اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔
(پ16، مریم:49، 50)
برکت کا نزول:اللہ تعالیٰ
نے آپ علیہ السلام پر اپنی خصوصی برکتیں نازل فرمائیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد
باری تعالیٰ ہے:
وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے
برکت اتاری اس پر اور اسحٰق پر ۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت:113)
اپنی نعمت کو مکمل کرنا:اللہ تعالیٰ
نے آپ علیہ السلام پر اپنی نعمت کو مکمل فرمایا جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری
تعالیٰ ہے:
وَیُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَعَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى
اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ ترجمہ
کنزالایمان:اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح
تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق پر پوری کی۔(پ12، یوسف:6)
قوت اور سمجھ عطا کرنا:اللہ
تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اور آپ کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کو علمی و عملی
قوتیں عطا فرمائیں جن کی بنا پر انہیں اللہ کی معرفت اور عبادت پر قوت حاصل ہوئی
جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاذْكُرْ
عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ
وَالْاَبْصَارِ(45)ترجمہ کنزالایمان: اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم
اور اسحق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو۔ (پ23، صٓ:45)
یاد
آخرت کے منتخب کرنا :اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یاد آخرت کے لیے
بھی چن لیا تھا جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ
اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46)ترجمہ
کنزالایمان:بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔
(پ23، صٓ:46)
اللہ تعالیٰ
ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
Dawateislami