7 مارچ 2026ء بمطابق 18 رمضانُ المبارک 1447ھ کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شہروں سے آئے ہوئے معتکفین سمیت دیگر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح ہوا جس میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی گئی اور نعت شریف پڑھی گئی جبکہ وقتِ مناسب پر شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی آمد بھی ہوئی۔

امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مدنی مذاکرے میں شریک تمام لوگوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرتے ہوئے انہیں مختلف مدنی پھولوں سے نوازا اور اُن کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:” ہمارے معاشرے میں صلح کی بیٹھک کا مقصد کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر مجبور یا راضی کرنا ہوتا ہے“، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:یہ صلح نہیں ہے ،یہ تو ظلم ہے ،صلح کروانے کی قرآنِ پاک میں پذیرائی ہے ،اس کو خیرکہاگیا ہے ۔صلح کروانا سُنّتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی ہے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل عمل نہ بتاؤں؟ صحابہ ٔکرام علیہم الرضوان نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ضرور بتایئے۔ ارشاد فرمایا: وہ عمل آپس میں رُوٹھنے والوں میں صلح کرادینا ہے کیونکہ رُوٹھنے والوں میں ہونے والا فساد بھلائی کو ختم کردیتا ہے۔ (سنن ابو داؤد، 4 / 365،حدیث: 4919) فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:سب سے افضل صدقہ رُوٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرادینا ہے۔(الترغیب و الترہیب، 3/321) صلح کروانے کی بہت اہمیت ہے ،صلح کروانے کےہرجملے پر ایک غلام آزادکرنے کا ثواب اورمغفرت کی خوشخبری ہے۔جوصلح کرواسکتاہو تو اُسے ضرور صلح کروانی چاہیئے ۔

سوال:صلح کروانے والا کیسا ہونا چاہیئے؟

جواب:صلح کروانے والے کو صلح کروانا آنا چاہیئے،خود ہی غصہ میں آجاتا ہو تو صلح کیسے کروائے گا؟ کسی کی رُو رَعایت نہ کرے ،کسی جانب جھکاؤ نہ ہو۔ہمیشہ حق کی حمایت کرے ۔

سوال:باون(52) کا عدد کس کی یاددلاتاہے ؟

جواب: امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاددلاتاہے ۔بوقت ِشہادت آپ کی عمرمبارک 52سال تھی ۔

سوال: ادب کی کیااہمیت ہے؟

جواب: ادب کابول بالاہے، بے ادبی کا منہ کالاہے ۔قول ہے: وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا أَدَبَ لَهُ یعنی جو باادب نہیں اس کا کوئی دِین نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، 28/ 158)ہم ادب کرنے والوں (اولیائے کرام وعلمائے کرام) کے پیچھے پیچھے ہیں اوریہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے پیچھے ہیں،اسی طرح جنت میں داخل ہوں گے۔ان شآء اللہ الکریم

سوال : کون سے نبی علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں 40 دن رہے؟

جواب: حضرت یونس علیہ السلام ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ سکون بخش آیتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یاربّ کریم! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ سکون بخش آیتیںپڑھ یا سُن لے اُس کی زندگی سکون اور خوشیوں سے بھر دے اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم