ابو ثوبان
عبدالرحمن عطّاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور،
پاکستان)
قراٰنِ کریم اللہ پاک کا بے مثل اور عظیم
کلام ہے اور مسلمانوں کے لئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے جس میں ہر چیز کا واضح اور
روشن بیان ہے، قراٰنِ کریم میں جس طرح اللہ پاک نے مسلمانوں کے لئے احکامات اور
پچھلی امتوں کے احوال کو ذکر فرمایا اسی طرح انبیائے کرام علیہم السّلام کی صفات و
کمالات و دعاؤں کو بھی بیان فرمایا۔ سابقہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2024 میں
حضرت ادریس علیہ السلام کی صفات کے متعلق مضمون شائع ہوا اور اس ماہ مارچ2024 میں
حضرت اسحاق علیہ السّلام کا تذکرہ قراٰن پاک کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے۔ آپ
بھی پڑھئے اور علم میں اضافہ کیجئے؛
حضرت اسحاق علیہ السلام کو پیدائش کے ساتھ
ہی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بشارت مل گئی جیسا کہ قرآن کریم
میں ارشاد ہوتا ہے:وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ
نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنزالعرفان: ہم نے اسے اسحاق کی
خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔(الصافات:112)
آپ علیہ السلام پر اللہ پاک نے اپنی خصوصی
برکتیں نازل فرمائیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم نے اس پر اور
اسحاق پربرکت اتاری۔
آپ علیہ السلام قوت والے، سمجھدار، آخرت
کی فکر کرنے والے اور اللہ پاک کے بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں، ارشاد باری
تعالیٰ ہے:وَ
اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ
الْاَبْصَارِ(45)اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ(46)وَ
اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ(47)ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کویاد کرو جو قوت والے
اور سمجھ رکھنے والے تھے۔ بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس(آخرت
کے) گھر کی یاد ہے۔ اور بیشک وہ ہمارے نزدیک بہترین چُنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔(سورہ
ص:45 تا 47)
اللہ پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام پر
وحی کے ذریعے بعض احکام نازل فرمائے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِنَّاۤ
اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ
اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ
وَالْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ
سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا(163) ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے
بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور
ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی
اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(النساء: 163)
آپ علیہ السلام کو ہدایت، صلاح اور آپ کے
زمانے میں تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی، نیک لوگوں میں شمار کیا، بطورِ خاص نبوت
کے لیے منتخب اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ
وَیَعْقُوْبَؕ-كُلًّا هَدَیْنَاۚ-وَنُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ
ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰى
وَهٰرُوْنَؕ-وَكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(84)وَزَكَرِیَّا وَیَحْیٰى
وَعِیْسٰى وَاِلْیَاسَؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(85) ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے۔ ان سب کو ہم نے ہدایت دی
اور ان سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب
اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو(ہدایت عطا فرمائی) اور ایسا ہی ہم نیک لوگوں کو
بدلہ دیتے ہیں۔ اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو (ہدایت یافتہ بنایا)
یہ سب ہمارے خاص بندوں میں سے ہیں۔(الانعام:84، 85)
اللہ پاک کی
بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت پڑھنے اور اس پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
وسیم اکرم عطّاری (درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان غوث
اعظم ساندہ لاہور، پاکستان)
الله پاک نے انسانوں اور جنوں کو اپنی
عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور انس و جن کی ہدایت و رہنمائی کیلئے کم و بیش ایک
لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسول بھیجے اور ان پر کتابیں اور صحیفے نازل فرما کر ان
کے ذریعے لوگوں کو حرام و حلال کی تمیز سکھائی۔ مرتبۂ نبوت اور رسالت کے لئے اللہ
پاک نے جن انبیا اور رسل کا انتخاب فرمایا انہیں ہر عیب اور ہر برائی سے بھی پاک
فرمایا اور انہیں اپنا قربِ خاص عطا فرمایا۔ اُن انبیا میں سے ایک حضرت سیدنا
اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔ آپ علیہ السلام کا اجمالی طور پر ذکر قرآن کریم کی
مختلف سورتوں میں آیا جبکہ تفصیلی ذکر درج ذیل 6سورتوں میں آیا ہے:
(1)سورہ انعام، آیت:84 (2)سورہ ہود،
آیت: 69تا73 (3)سورہ مریم، آیت: 50:49 (4)سورة الصّٰٓفّٰت، آیت:112، 113
(5)سوره ص، آیت:45تا47(6)سورۃ الانبیاء، آیت:72، 73۔
آپ علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
چھوٹے فرزند اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کے دنیا میں
تشریف لانے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی ولادت و نبوت اور صالحین
میں سے ہونے کی بشارت دیدی تھی۔ بنی اسرائیل میں آنے والے تمام انبیاء علیہم
السلام آپ ہی کی نسل پاک سے ہوئے۔ (سیرت الانبیاء، ص365)
(1)ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ
بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے اسے
خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں
سے۔ (پارہ23الصافات 112)
(2)حضرت اسحاق علیہ الصلوٰۃ والسلام پر وحی کے
ذریعے احکام نازل ہوئے جیسے کہ قرآن پاک میں آپ علیہ السلام پر وحی نازل ہونے کا
ذکر یوں ملتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ
اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ وَ
اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ
الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ
اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا(163) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی
جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور
اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور
سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6 سورۃ النساء آیت
163)
(3)اور ایک مقام پر یوں ارشاد باری تعالیٰ ہے: قُوْلُوْۤا
اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى
اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ ترجمۂ کنزالایمان: یوں
کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا
ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے۔(پارہ1
سورۃ البقرۃ آیت 136)
الله پاک نے حضرت اسحاق علیہ السّلام
کو بہت مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے صدقے ہماری بے حساب بخشش و
مغفرت فرمائے۔آمین یا رب العالمین
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
بیوی کے پانچ حقوق از بنت محمد یاسین، جامعۃ
المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
1۔ مردوں کو چاہیے کے اپنی عورتوں سے حسن
سلوک کے ساتھ پیش آئے۔ آپﷺ نے اہل خانہ کے ساتھ ہمیشہ بہت عمدہ سلوک کیا۔ بلکہ آپﷺ
کا حسن خلق تو بے مثال ہے۔ بیوی کی صلاحیت کسی نہ کسی اعتبار سے مرد سے کمزور ہوتی
ہے اسی لیے بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا۔ اللہ نے اپنے کلام پاک
میں عورتوں کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا: وَّ
اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا(۲۱) (پ 4، النساء:
21) ترجمہ: اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے
ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مومنوں میں کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اخلاق میں
ان میں سے اچھا ہو اور تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا
برتاؤ کرتے ہیں۔ (ترمذی، 2/387، حدیث: 1165)
2۔ آپ ﷺ اپنی زوجہ محترم ام المومنین حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا کے ساتھ بڑی بے تکلف زندگی گزارتے تھے اور ان کے مزاج کا لحاظ رکھتے
ہوئے دنیوی معاملات کو بخوبی سر انجام دیتے تھے۔ آپﷺ ام المومنین حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا کی خوشی کو جس طرح پہچانتے تھے اس کے بارے میں حدیث پاک یہ ہے: حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں خوب
جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو؟ میں نے عرض
کیا آپ ﷺ کیسے پہچانتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو
محمد ﷺ کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو ابراہیم علیہ
السلام کے رب کی قسم ! میں نے عرض کیا اللہ کی قسم ! یا رسول اللہﷺ ! میں صرف آپﷺ
کا اسم ترک کرتی ہوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اگر بیوی کبھی ناراض ہو جائے تو
بڑی خوش اسلوبی سے اسے راضی کر لینا چاہیے مقصد یہ ہے کہ بیوی پر ہر وقت رعب نہ
ڈالا جائے بلکہ نرمی بھی اختیار کی جائے۔ (شوہر اور بیوی کے حقوق، ص 170)
3۔ بیوی کے حقوق میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ جائز
باتوں پر اپنی بیوی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس کی عادات اور شوق کا خیال رکھا
جائے بالخصوص جب عورت کی عمر ذرا کم ہو اور اس کی عادتوں میں بچپن دکھائی دے تو ان
سے درگزر کر دینا چاہیے۔ چنانچہ اس کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
فرماتی ہیں؛ میں آپﷺ کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری کچھ سہیلیاں تھیں جو
میرے ساتھ کھیلتی تھی۔ جب رسول اللہﷺ تشریف لاتے تو وہ چلی جاتی تھیں اور رسول
اللہﷺ انہیں میرے پاس بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلنے لگ جاتی تھیں۔
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بیوی کے جذبات اور
خیالات کی دلداری کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ اس کا ایسا شوق جو خلاف شریعت نہ ہو اسے
برداشت کرنا چاہیے۔ (شوہر اور بیوی کے حقوق، ص 173)
4۔ عورت کا اس کے شوہر پر ایک حق یہ بھی ہے کہ شوہر
عورت کے بستر کی راز والی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کرے بلکہ اس کو راز
بنا کو اپنے دل ہی میں رکھے۔ کسی کے پوشیدہ عیب کو چھپانے میں بہت درجہ ہے۔ اس کے
متعلق آپﷺ کا فرمان یہ ہے: جو کسی کے پوشیدہ عیب دیکھ کر اسے چھپائے گا گویا اس نے
زندہ درگور لڑکی کو پھر زندہ کیا۔ (شوہر اور بیوی کے حقوق، ص 178)
5۔ مہر اس معاوضے کو کہا جاتا ہے جو نکاح کے موقع
پر خاوند کی جانب سے عورت کے لیے حقوق زوجیت کی بناء پر مقرر کیا جاتا ہے مہر نکاح
کی ضروری شرائط میں سے ہے یعنی اگر کوئی شخص نکاح کے وقت یہ نیت کرے کہ مہر نہیں
دیا جائے گا تو اس کا نکاح صحیح نہ ہو گا۔ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ
مُسٰفِحِیْنَؕ-فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ
فَرِیْضَةًؕ- (پ
4، النساء: 24) ترجمہ کنز الایمان: اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے نہ پانی
گراتے تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو تو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو۔
اشتیاق احمد
عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید میں بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے، ان میں سے حضرت
اسحاق علیہ السلام بھی ہیں آئیے آپ علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)
حضرت اسحاق علیہ السلام قوت اور سمجھ رکھنے والے تھےاللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے:وَ
اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ
الْاَبْصَارِ(45)
ترجمہ کنزالایمان: اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کویاد کرو جو قوت
والے اور سمجھ رکھنے والے تھے۔(سورۃ ص آیت نمبر 45)
(2)
حضرت اسحاق علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ
نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ
غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے
قربِ خاص کے سزاواروں میں۔(سورۃ الصافات آیت نمبر 112)
(3)
حضرت اسحاق علیہ السلام کو خاص قرب والا بنایا وَ
وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا
صٰلِحِیْنَ(72)
ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب (پوتا)
اور ہم نے ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔( سورۃ الانبیاء آیت نمبر 72)
(4)
اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ہدایت عطا فرمائی وَ
وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-كُلًّا هَدَیْنَاۚ- ترجمہ
کنزالایمان :اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے۔ ان سب کو ہم نے ہدایت دی ۔(
سورۃ الانعام آیت نمبر 84)
(5)
حضرت اسحاق علیہ السلام آخرت میں قرب اور لائق بندوں میں سے ہوں گے وَ
وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ
النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی
الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے اسے
اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور
کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایااور بیشک وہ آخرت میں
(بھی) ہمارے خاص قرب کے لائق بندوں میں ہوگا۔ (سورۃ العنکبوت آیت نمبر 27)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں انبیاء
کرام علیہم السلام کی صفات پڑھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ
النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
بیوی کے پانچ حقوق از بنت میاں محمد یوسف قمر،
جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اسلام دین فطرت ہے جو ہر طبقے کے حقوق وفرائض کے
متعلق رہنمائی فرماتا ہے۔ ان حقوق کی ادائیگی سے ہی معاشرے کا حسن برقرار رہتا
ہے۔انہی میں سے بیوی کے حقوق بھی ہیں۔ آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:
1) ادائیگی مہر: مہر
بیوی کا حق ہے اور شوہر پر ادا کرنا واجب ہے۔ حق مہر کے متعلق اللہ تبارک و تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةًؕ- (پ4،نساء:4) ترجمہ کنز الایمان: اور
عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو۔
2) نان و نفقہ: بیوی
کے نان و نفقہ(کھانے، پینے) اور دیگر ضروریات زندگی کا اہتمام کرنا بھی شوہر پر
واجب ہے۔ حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہ رسالت میں
عرض کی: یا رسول اللہ! بیوی کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم
کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ، پہنو تو انہیں بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، اسے برا نہ
کہو اور اسے گھر سے باہر مت چھوڑو۔ (ابو داود، 2/356،حدیث: 2142)
3) رہائش: بیوی کا ایک
حق رہائش بھی ہے لہذا شوہر پر واجب ہے کہ بیوی کیلئے مناسب رہائش کا انتظام کرے۔ اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: اَسْكِنُوْهُنَّ
مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا
عَلَیْهِنَّؕ- (پ
28،الطلاق:6) ترجمہ کنز الایمان: عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت
بھر اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو۔
4) حسن سلوک: بیوی سے اچھا
سلوک کرنا بھی اس کا حق ہے اور محبت میں اضافے کا بھی سبب ہے۔ ارشاد رب الانعام
ہے: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ- (پ 4، النساء:19)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان سے اچھا برتاؤ کرو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمنوں سے کامل تر مؤمن اچھے اخلاق والا ہے
اور تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں سے بہترین ہو۔ (ترمذی، 2/ 386،حدیث: 1165)
5) امر بالمعروف و نہی عن المنکر: شوہر
پر بیوی کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وقتاً فوقتاً اسے نیکی کی تلقین کرتا رہے اور
برائی سے منع کرے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (پ28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
امان اللہ عطاری (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے بہت سے انبیاء کرام کو بندوں کی راہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا اور ان میں سے
بعض کا ذکر قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا۔ آج ہم حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی
تذکرہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
آپ کا نام
اسحاق اور والد کا نام ابراہیم علیہما السلام ہے۔ جب حضرت ابراھیم کی عمر 100 سال اور
حضرت سارہ کی عمر نوے سال ہوئی تو اللہ نے انہیں بیٹے کی خوشخبری دی۔ اللہ تعالیٰ
قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَامْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ
فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(71) ترجمہ
کنز العرفان:اور ان کی بیوی کھڑی تھی تو وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور
اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی۔ (پارہ 12، سورۃ ھود، آیت،71)
وَوَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ وَیَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ- ترجمہ کنز العرفان: اور ہم نے
اسے اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا۔(پارہ 17،سورۃ الانبیاء، آیت 72)
وَهَبْنَا
لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)ترجمہ
کنز العرفان: تو ہم نے اسے اسحاق اور (اس کے بعد) یعقوب عطا کئے اور ان سب کو ہم
نے نبی بنایا۔(پارہ 16، سورۃ مریم، آیت 49)
وَ
بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنز
العرفان: اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں
سے ایک نبی ہے۔(پارہ 23، سورۃ الصافات، آیت 112)
وَ
بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ-ترجمہ کنز العرفان، اور ہم نے
اس پر اور اسحاق پر برکت اتاری۔(پاره 23، سورۃ الصافات، آیت 113)
اللہ عزوجل حضرت
اسحاق علیہ السلام کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت و بخشش فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم
النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
مدثر علی غلام عباس (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
الله عز وجل
نے انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنی وحدانیت ، لوگوں کی ھدایت اور رہنمائی کیلئے
بھیجا جن میں سے کچھ کی صفات و واقعات اور ان کا تذکرہ قرآن پاک میں ذکر فرمایا ہے،
انہیں نبیوں میں سے حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ہے الله عزوجل نے آپ علیہ السلام
کے تذکرے کو بھی قرآن پاک میں ذکر فرمایا ہے۔حصول علم اور برکت کیلئے آپ علیہ
السلام کا قرآنی تذکرہ ملاحظہ کرتے ہیں :
(1)الله
عز وجل کی وحی کا انعام پانے والے جس طرح دیگر انبیاء کرام علیہم السلام
کو وحی بھیجی گئی اسی طرح حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی وحی بھیجی گئی اِرشاد
باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز العرفان:بیشک اے حبیب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے
ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمعیل اور
اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان
کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6سورة النساء آيت
نمبر 163)
(2)
الله عز وجل کی ھدایت پانے والے ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز
العرفان:اور ہم نے اسحاق اور یعقوب عطا کیے ان سب کو ہم نے ہدایت دی اور ان سے
پہلے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف
اور موسی اور ہادون کو ہدایت عطا فرمائی اور ایسا ہی ہم نیک لوگوں کو بدلہ دیتے
ہیں۔ (پاره 7سورة الانعام آیت نمبر 84)
(3)قرب
الہی پانے والے:ترجمہ
کنز العرفان:اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں
میں سے ایک نبی ہیں۔( پاره 23 سورة الصّٰٓفّٰت آیت نمبر 112)
(4)قوت
اور سمجھ بوجھ رکھنے والے:ترجمہ کنز العرفان:اور ہمارے بندوں
ابراھیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور سمجھ رکھنے والے تھے۔(پارہ23
سورة الصّٰٓفّٰت، آیت 45)
(5)اللہ
تعالیٰ کی برکت حاصل کرنے والے:ترجمہ کنز العرفان:اور ہم نے اس پر اور
اسحاق پر برکت اتاری اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا ہے اور کوئی
اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔ (پارہ23سورة الصّٰٓفّٰت آیت نمبر 112 )
اللہ پاک ہمیں
انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
النبی الامین!
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد ولید ثناءاللہ عطّاری (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
کنزالایمان مزنگ لاہور، پاکستان)
الله تبارک
وتعالی نے قرآن پاک جہاں دیگر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا وہیں حضرت
اسحاق علیہ السلام کا ذکر بھی فرمایا
حضرت اسحاق (علیہ اسلام) کی بشارت:حضرت ابراہیم
علیہ السلام ملک شام میں اپنی اہلیہ حضرت سارہ کے ساتھ موجود تھے۔ اس وقت اللہ
تعالیٰ نے فرشتوں کو قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا۔ اسی وقت یہ فرشتے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر تشریف لے گئے۔ اور انہیں حضرت اسحاق علیہ
السلام کی جوشخبری دی جس کا ذکر قرآن پاک کی سورہ ہود کی آیت نمبر 69 تا 70 میں ہے۔
اس بات پر حضرت سارہ بہت حیران ہوئیں جس کا ذکر قرآن پاک میں کچھ اس طرح ہے:قَالَتْ
یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًاؕ-اِنَّ هٰذَا
لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ(72)ترجمہ کنزالایمان: بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ
ہوگا اور میں بوڑھی ہوں اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے بیشک یہ تو اچنبھے کی بات ہے۔
حضرت
اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش:حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے
14 سال بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اور سعادت مند فرزند
حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فرمائے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ
تعالیٰ کا شکر ادا کیا جیسے کہ قرآن پاک میں ہے: اَلْحَمْدُ
لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ
رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(39)ترجمہ کنزالایمان: سب خوبیاں اللہ کو
جس نے مجھے بوڑھاپے میں اسماعیل و اسحٰق دئیے بےشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔ (ابراہیم:
39)
حضرت
اسحاق (علیہ السلام) کی نبوت:حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح
اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو بھی نبوت کے منصب پر فائز کیا یہ بھی
یاد رہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) رسول ہیں اور اسحاق علیہ السلام نبی ہیں۔
نوٹ: رسول وہ ہے جو نئی شریعت لے کر آئے اور نبی
وہ جو پہلے والے رسول کی ہی شریعت کی پیروی اور تبلیغ کرے۔
اور حضرت
اسحاق علیہ السلام کی نبوت کی گواہی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دی ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ
بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں
میں سے ایک نبی ہے۔
آپ
(علیہ السلام) کی اولاد:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی اولاد میں نبوت
رکھی اور بنی اسرائیل کے بعد تمام نبی آپ ہی کی اولاد میں سے ہوئے جیسے کہ ارشاد
باری تعالیٰ ہے:وَ
وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ
النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی
الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27)ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے اسے اسحاق
(بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی
اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایااور بیشک وہ آخرت میں (بھی) ہمارے
خاص قرب کے لائق بندوں میں ہوگا۔(العنكبوت: 27)
اللہ تعالی
ہمیں ان مبارک ہستیوں کا تذکرہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح مردوں کے کچھ حقوق عورتوں پر
بھی لازم فرماۓاسی طرح عورتوں کے بھی کچھ حقوق مردوں پر لازم ٹھہرا دیئے ہیں جن
کاادا کرنا مردوں پر فرض ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪- (پ 2، البقرۃ:228) ترجمہ: اور عورتوں
کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔اسی طرح رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں۔
(مشکوٰۃ المصابیح،2/240، حدیث: 3264)
1۔ ہر شوہر کے اوپر اس کی بیوی کا یہ حق ہے کہ وہ
اپنی بیوی کے کھانے پہننے اور رہنے اور دوسری ضروریات زندگی کا اپنی حیثیت کے
مطابق اور اپنی طاقت بھرا نتظام کرے اور ہر وقت اس کا خیال رکھے کہ یہ اللہ کی
بندی میرے نکاح کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے اور یہ اپنے ماں باپ بھائی بہن اور
تمام عزیز واقارب سے جدا ہوکر صرف میری ہوکر رہ گئی ہے اور میری زندگی کے دکھ سکھ
میں برابر کی شریک بن گئی ہے اس لیے اس کی زندگی کی تمام ضروریات کا انتظام کرنا
میرا فرض ہے۔
یاد رکھو! جو مرد اپنی لاپروائی سے اپنی بیویوں کے
نان ونفقہ اور اخراجات زندگی کا انتظام نہیں کرتے وہ بہت بڑے گنہگار حقوق العباد
میں گرفتار اور قہر قہارو عذاب نار کے سزاوار ہیں۔
2۔ شوہر کو چاہیے کہ عورت کے اخراجات کے بارے میں
بہت زیادہ بخیلی اور کنجوسی نہ کرے نہ حد سے زیادہ فضول خرچی کرے۔ اپنی آمدنی کو
دیکھ کر بیوی کے اخراجات مقرر کرے۔ نہ اپنی طاقت سے بہت کم نہ اپنی طاقت سے بہت
زیادہ۔
3۔ شوہر کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو گھر کی چار
دیواری کے اندر قید کرکے نہ رکھے بلکہ کبھی کبھی والدین اور رشتہ داروں کے یہاں
آنے جانے کی اجازت دیتا رہے اور اس کی سہیلیوں اور رشتہ داری والی عورتوں اور
پڑوسنوں سے بھی ملنے جلنے پر پابندی نہ لگائے۔ بشرطیکہ ان عورتوں کے میل جول سے کسی
فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو اور اگر ان عورتوں کے میل ملاپ سے بیوی کے بدچلن یا بد
اخلاق ہوجانے کا خطرہ ہو تو ان عورتوں سے میل جول پر پابندی لگادینا ضروری ہے اور
یہ شوہر کا حق ہے۔
4۔ اگر کسی کے پاس دو بیویاں یا اس سے زیادہ ہوں تو
اس پر فرض ہے کہ تمام بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا سلوک اور برتاؤ کرے
کھانے، پینے، مکان، سامان، روشنی، بناؤ سنگھار کی چیزوں غرض تمام معاملات میں
برابری برتے۔ اسی طرح ہر بیوی کے پاس رات گزارنے کی باری مقرر کرنے میں برابری کا
خیال ملحوظ رکھے۔ یاد رکھو !کہ اگر کسی نے اپنی تمام بیویوں کے ساتھ یکساں اور
برابر سلوک نہیں کیا تو وہ حق العباد میں گرفتار اور عذاب جہنم کا حق دار ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کے پاس دو بیویاں ہوں
اور اس نے ان کے درمیان عدل اور برابری کا برتاؤ نہیں کیا تو وہ قیامت کے دن میدان
محشر میں اس حالت میں اٹھا یا جاۓ گا کہ اس کا آدھا بدن مفلوج (فالج لگا ہوا)
ہوگا۔ (ترمذی، 2/375، حدیث: 1144)
سیدبلال حسن (درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان میلاد کامرہ
اٹک، پاکستان)
حضرت اسحاق
علیہ اسلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔بنی
اسرائیل میں آنے والے تمام انبیاء آپ ہی کی نسل پاک سے ہیں۔(سیرت الانبیاء:ص 365) آپ
کی ولادت سے پہلے ہی اللہ پاک نے آپ کی ولادت، نبوت اور صالحین میں سے ہونے کی
بشارت دی جس کا قرآن کریم میں اللہ پاک نے یوں ذکر فرمایا ہے:
وَ
بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)ترجمہ
کنزالعرفان:اور ہم نے اسے (حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو)اسحاق کی خوشخبری دی جو
اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ (پ:23، سورۃالصافات،ایت: 112)
آپ علیہ السلام
لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے اور کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے تھے اور دنیا کی محبت نے
ان کے دل میں ذرہ بھر بھی جگہ نہیں پائی۔اللہ پاک نے اس کا ذکر سورہ ص میں یوں فرمایا
ہے:
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46)ترجمہ کنز العرفان:
بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس(آخرت کے)گھر کی یاد ہے۔(پ:23،ص،46)
اللہ پاک نے آپ
علیہ السلام پر خصوصی برکت نازل فرمائی،جس کا ذکر یوں فرمایا:وَ
بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ -ترجمہ کنز العرفان: اور ہم نے
اس (حضرت ابراہیم علیہ السلام) پر اور اسحاق پر برکت اتاری۔ (پ:23، صافات، 113)
آپ علیہ السلام
کے لیے اللہ پاک کی رحمت اور شہرت کا تذکرہ قرآن پاک میں یوں فرمایا: وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ
رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠(50)ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند شہرت رکھی۔ (پ:
16،سورہ مریم،50)
ان کی سچی
بلند شہرت کے متعلق تفسیر صراط الجنان میں ہے: ان کیلیے سچی بلند شہرت سے مراد یہ
ہے کہ ہر دین والے چاہے وہ مسلمان ہوں چاہے وہ یہودی ہوں یا عیسائی سب ان کی ثناء
کرتے ہیں اور مسلمانوں میں ان پر ان کی آل پر درود پڑھا جاتا ہے۔ (صراط الجنان،جلد
6،صفحہ 117)
آپ علیہ السلام
کی عملی و علمی قوتوں کا تذکرہ اللہ پاک قرآن کریم میں کچھ یوں بیان فرماتا ہے:ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے
اور سمجھ رکھنے والے تھے۔
آپ علیہ
السلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے سیرت الانبیاء صفحہ 365 تا 372 کا
مطالعہ فرمائیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک حضرت اسحاق علیہ السلام کے صدقے
ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
ذوالفقار یوسف (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے اپنے بندوں کی اصلاح کے لیے دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے۔
ان میں کچھ نبیوں کا ذکر قرآن پاک میں فرمایا جن میں حضرت اسحق علیہ السلام بھی
ہیں۔ ان کا تذکرہ قرآن پاک میں سنتے ہیں۔
اللہ تعالٰی
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ
یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)ترجمہ کنز
العرفان: اور ہم نے اسے اسحق اور اس کے بعد یعقوب عطا کئے۔ اور ان سب کو ہم نے نبی
بنایا۔
تفسیر : حضرت
اسماعیل علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام سے بڑے ہیں۔ لیکن چونکہ حضرت اسحاق
علیہ السلام بہت سے انبیاء علیہم السلام کے والد ہیں۔ اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان کا
ذکر فرمایا گیا۔(سورۃ مریم آیت نمبر 49 صراط الجنان جلد 6)
(2)
خاص قرب عطا فرمایا: اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:وَ
وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا
صٰلِحِیْنَ(72)ترجمہ
کنز العرفان: اور ہم نے اسے ابراھیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب اور ہم نے
ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔
تفسیر: حضرت ابراہیم
علیہ السلام پر کی گئی مزید نعمتوں کا بیان فرمایا گیا۔ ہم نے انہیں حضرت اسحاق
علیہ السلام بیٹا اور حضرت یعقوب علیہ السلام پوتا عطا فرمائے۔ حضرت ابراہیم علیہ
السلام نے اللہ عزوجل سے بیٹے کے لیے دعا کی تھی۔ مگر اللہ عزوجل نے انہیں بیٹے کے
ساتھ ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی۔(سورۃ مریم آیت نمبر 72 صراط الجنان جلد 6)
(3)ہم
نے ہدایت دی:اللہ
پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ
وَ یَعْقُوْبَؕ-كُلًّا هَدَیْنَاۚ-ترجمہ کنز العرفان:اور ہم نے انہیں
اسحاق اور یعقوب عطا کیے۔ ان سب کو ہم نے ھدایت دی۔ (سورہ انعام آیت نمبر 84 صراط
الجنان جلد 3)
(4)ایک
معبود کی عبادت کرنا: الله پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: قَالُوْا
نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ
اِلٰهًا وَّاحِدًا
ترجمہ کنز العرفان: انہوں نے کہا: ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم
اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے ۔ (سورۂ بقرہ
آیت نمبر 133 صراط الجنان جِلد 1)
(5)قُربِ
خاص کا ملنا: وَ
وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ
النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی
الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اُسے اسحٰق
اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوّت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا
میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا اور بےشک آخرت میں وہ ہمارے قرب ِخاص کے سزاواروں میں
ہے۔ (سورۃ العنکبوت آیت 27 )
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ- (پ 4، النساء:19)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان سے اچھا برتاؤ کرو۔
اللہ نے بیویوں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کے ساتھ
زندگی گزارنے کا حکم فرمایا لہذا شوہر پر لازم ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ
کرے، شوہر پر بحیثیت شوہر اپنی بیوی اور بچوں کے کھانے، کپڑے اور رہائش کی ذمہ
داری ہے۔
ایذا پر صبر کا ثواب: رسول
مقبول ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی کی بد خصلتی پر صبر کرے اس کو اتنا ہی ثواب
ملے گا جتنا حضرت ایوب علیہ السلام کو ان کی مصیبت پر ملا۔ (کیمیائے
سعادت، ص 262)
عورتوں پر مردوں کے حقوق: اے
اسلام کی مقدس شہزادیو! اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو بیویوں پر حاکم بنایا ہے اور بہت
بڑی بزرگی دی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (پ 4، النساء:34) ترجمہ: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔
نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:انہیں وہ کھلاؤ جو تم
کھاتے ہو اور انہیں وہ پہناؤ جو تم پہنتے ہو نہ انہیں مارو اور نہ انہیں برا بھلا
کہو۔(ابو داود، 2/356،حدیث: 2142)
بیوی کے پانچ حقوق درج ذیل ہیں:
مہر کی ادائیگی: مہر
کی ادائیگی ہر مرد پر لازم ہے بیوی کی جانب سے مقرر کردہ حق مہر ادا کرے کوئی بھی
مرد بلا اجازت بیوی کی حق مہر کی رقم نہیں استعمال کر سکتا اس پر صرف اور صرف بیوی
کا حق ہے وہ اس کو جدھر چاہے جیسے چاہے استعمال کرے۔
حسن معاشرت: یعنی اچھا
رہن سہن، حسن سلوک، نیک باتوں کی تعلیم دینا اسے پردے کا حکم دینا اس کے ساتھ پیار
محبت سے پیش آئے
جو اپنے لئے پسند کرے وہی اس کے لئے بھی پسند کرے اس کے نان و نفقہ کا خیال رکھے
اس کے رہائش کا انتظام کرے اس کا ہر طرح سے خیال رکھے۔
بیوی سے بغض نہ رکھنا: بیوی کے ساتھ
بغض نہ رکھے اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئے کہ حدیث
مبارکہ میں ہے: مسلمان مرد (اپنی) عورت مومنہ کو مبغوض نہ رکھے (یعنی اس سے نفرت و
بغض نہ رکھے) اگر اس کی ایک عادت بری معلوم ہوتی ہے،دوسری پسند ہوگی۔ (مسلم، ص
595، حدیث: 1469)
حیا و حجاب کی تعلیم و تاکید: شوہر
اپنی بیوی کو حیا و حجاب کی تاکید کرے اسے پیار و محبت سے نرمی کے ساتھ سمجھائے
کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ تیرے لئے کبھی سیدھی
نہیں ہو سکتی اگر تو اسے برتنا چاہے تو اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا
چاہے گا تو توڑدے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔ (مسلم، ص 595،
حدیث: 1468)
گھر امن کا گہوارہ: میاں
بیوی کو چاہئے کہ آپس میں رواداری و محبت سے رہیں دونوں ایک دوسرے کے حقوق پر نظر
رکھیں جیسے حدیث مبارکہ میں ہے کہ تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح
پیش آئیں۔ (ابن ماجہ، 2/278، حدیث: 1978)
میاں بیوی کا رشتہ اتنا کمزور نہیں ہونا چاہئے کہ
اس رشتے کو لوگ اپنی مرضی سے چلائیں، یہ رشتہ میاں بیوی ہی کی رضامندی سے چلنا
چاہیے۔
Dawateislami