عورت خدا کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہےدنیا کی آبادکاری اور دینداری میں مردوں کے ساتھ تقریباً برابر شریک ہےمرد کے دل کا سکون،روح کی راحت،بدن کا چین ہےعورت کا وجود انسانی تمدن کے لئیے بے حد ضروری ہے اگر عورت نہ ہوتی تو مردوں کی زندگی جنگلی جانوروں سے بدتر ہوتی، عورت کی زندگی کے راستہ میں یوں تو بہت موڑ آتے ہیں مگر اس کی زندگی کے چار دور خاص طور پر قابل ذکر ہیں: 1) عورت کا بچپن۔  2) عورت بالغ ہونے کے بعد۔ 3) عورت بیوی بن جانے کے بعد۔ 4) عورت ماں بن کے بعد۔

تیسرے دور کہ جب عورت بیوی بن جائے تو جس طرح بیوی پر شوہر کے حقوق اس پر لازم ہو جاتے ہیں اسی طرح شوہر پر بیوی کے حقوق لازم ہوتے ہیں جن کا ادا کرنا مرد پر فرض ہے۔ الله کریم ارشاد فرماتا ہے: وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪- (پ 2، البقرۃ:228) ترجمہ: اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔

اسی طرح حدیث پاک میں رسول الله ﷺ نے فرمایا: تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں، اب بیوی کے حقوق میں سے چند بیان کیے جاتے ہیں:

1۔ اگر کسی کے پاس دو بیویاں یا اس سے زائد ہوں تو اس پر فرض ہے کہ تمام بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا سلوک کرےکھانے،پینے بناؤ سنگھار غرض تمام معاملات میں برابر برتےاسی طرح رات گزارنے کے بارے میں بیویوں میں باری مقرر کرنے میں بھی برابری کا لحاظ رکھے یاد رکھئے !اگر کسی نے تمام بیویوں کے درمیان یکساں و برابر سلوک نہ کیا تو وہ حق العبد میں گرفتار اور عذاب نار کا حقدار ہوگا۔

2۔ اسی طرح بیوی کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شوہر بیوی کے اخراجات کے بارے میں بہت زیادہ بخیلی اور کنجوسی نہ کرے اپنی آمدنی کو دیکھ کر بیوی کے اخراجات مقرر کرے۔

3۔ عورت کا اس کے شوہر پر یہ بھی حق ہے کہ شوہر عورت کی نفاست اور بناؤ سنگھار کا سامان یعنی صابن،تیل،کنگھی،مہندی،خوشبو وغیرہ فراہم کرتا رہے تاکہ عورت اپنے آپ کو صاف ستھری رکھے اور بناؤ سنگھار کے ساتھ رہے۔

4۔ اگر میاں بیوی کے درمیان کوئی اختلاف یا کشیدگی پیدا ہو جائے تو شوہر پر لازم ہے کہ طلاق دینے میں ہرگز ہرگز جلدی نہ کرے بلکہ اپنے غصہ کو ضبط کرے اور غصہ اتر جانے کے بعد خوب غور و فکر کرے اور طلاق میں جلدی نہ کرے کہ طلاق اچھی چیز نہیں ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: حلال چیزوں میں سب سے زیادہ خدا کے نزدیک ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔

5۔ عورت کا اس کے شوہر پر ایک حق یہ بھی ہے کہ شوہر عورت کے بستر کی راز والی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کرے بلکہ اس کو راز بنا کر اپنے دل ہی میں رکھے کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: خدا کے نزدیک بدترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے پاس جائے پھر اس کے پردہ کی باتوں کو لوگوں پر ظاہر کرے اور اپنی بیوی کو دوسروں کی نگاہ میں رسوا کرے۔

الله کریم کی بارگاہ میں دعا ہے ہم پر جن جن کے حقوق لازم ہیں ان کو احسن انداز سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ نے معاشرتی زندگی گزارنے کے اصول وضوابط دیئے ہیں اور معاشرے کی بنیاد اور اکائی میاں بیوی ہیں اگر ان میں تعلقات استوار ہیں اور دونوں نے نبی اکرم ﷺ کی مبارک سنتوں کے مطابق اجتماعی زندگی گزارنے کا اہتمام کیا تو ایک نیک صالح کنبہ وجود میں آئے گا، چنانچہ اللہ پاک کا ارشاد ہے:اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تا کہ تمہیں سکون حاصل ہو۔

اور سکون تب ہوگا جب نبی اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے آداب زندگی کو اپنایا جائے لہذا مرد کیلئے لازم ہے کہ بیوی کے ان حقوق کی پابندی کرے جو شریعت نے بحیثیت شوہر ہونے کے اس پر عائد کئے ہیں:

1۔ مہر کی ادائیگی: مہر عورت کا حق ہے اس سے عورت کی شرافت اور عزت بڑھ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نکاح کے دوران اس کا تذکرہ کیا جائے یا نہ کیا جائے، بہر صورت شوہر پر واجب ہو جاتا ہے، معاف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب عورت اپنی خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے معاف کر دے، اگر نہیں ادا کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص شادی کرے اور تھوڑا مہر متعین کرے یا بہت زیادہ اور اسکو ادا نہ کرے تو اس نے بیوی کے ساتھ دھوکہ کیا اور اگر ادا کیے بغیر موت آگئی تو زنا کے جرم میں گرفتار کر کے لایا جائے گا۔

2۔ بیوی کے ساتھ حسن سلوک: بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا یہ بھی بیوی کا حق ہے۔ اچھے اخلاق سے پیش آیا جائے اسے بچوں کے سامنے ذلیل نہ کیا جائے گھر کی دیگر خواتین کے سامنے اس کی عزت بڑھائی جائے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: تم میں سے مکمل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے ہیں۔ (ترمذی، 2/ 386،حدیث: 1165)اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے اچھے اخلاق کو کمال ایمان کی علامت قرار دیا ہے اور بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کو سب سے بہتر ہونے کی علامت بتایا ہے۔

3۔ بیوی کے عیب تلاش نہ کریں: اگر کوئی عیب نظر آئے تو اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے، اس دنیا میں ہر انسان میں بے شمار خوبیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی ہیں آدمی کو ہمیشہ سامنے والے کی خوبیوں پر نگاہ رکھنی چاہیے کسی کی برائیاں تلاش کر کے اس کو ذلیل نہ کیا جائے، اسی طرح بیوی میں بے شمار خوبیاں ہیں انہی کو بنیاد بنا کر زندگی گزاری جائے اگر کوئی معمولی برائی ہے تو نظر انداز کر دی جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر اس میں ایک برائی ہے تو دوسری اچھائی بھی تو ہے اسے دیکھ لیا کرو۔ (مسلم، ص 595، حدیث: 1469)

کیا یہ خوبی کوئی کم ہے کہ وہ شوہر کے ایمان کی حفاظت میں بہترین مددگار ہے ورنہ شوہر کسی گناہ میں مبتلا ہو کر ایمان کا نقصان کر دے تو آخرت برباد ہو جائے گی۔ یہ خوبی کم ہے کہ آدمی کی معاشرے میں عزت بڑھتی ہے، کیا یہ خوبی کم ہے کہ شوہر کے بچوں کی نگہداشت کر رہی ہے۔

4۔ نان و نفقہ اور معاشی حقوق: مردوں کے ذمے اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورتوں کی کفالت کو رکھا اور عورت کے نان نفقے اور اس کی جملہ ضروریات کو پورا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نساء کی آیت نمبر 34 میں ارشاد فرماتے ہیں: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (پ 4، النساء:34) ترجمہ: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔

5۔ وراثت میں حصہ: اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں پر مردوں کے لیے وراثت کے حقوق کو مقرر کیا ہے وہیں پر عورتوں کے لیے بھی حق وراثت کو مقرر کیا گیا ہے چنانچہ بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت سے اس کی وراثت میں اس حق کا تفصیلی طور پر سورہ نساءمیں ذکر کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کئی مرتبہ عورت کے اس حق کو غصب کر لیاجاتا ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش اور اجازت موجود نہیں ہے۔

جس طرح شوہر کے بیوی پر حقوق ہیں، اسی طرح بیوی کے بھی شوہر پر حقوق ہیں ان میں کچھ مالی حقوق ہیں اور کچھ

غیر مالی ہیں۔

1۔ مہر: یہ خاص بیوی کا حق ہے، اس کی قلت اور کثرت کی کوئی حد نہیں ہے لیکن مہر میں مبالغہ کرنا نا پسندیدہ فعل ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بابرکت نکاح وہ ہوتا ہے جو مشقت کے اعتبار سے سب سے آسان ہو۔

نفقہ: اس کا مطلب خاوند پر بیوی کا واجب الاداء خرچ جیسے کھانا، کپڑا اور ہائش اور دواو غیر ہ اگر چہ بیوی مالدار ہو۔

حسن سلوک: خاوند پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اس کی عزت کرے اور ایسا کام کرے جو دلوں میں محبت پیدا کرے۔ مسلم شخص کے کمال اخلاق کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ مہربان ہو۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین اخلاق والا سب سے کامل مومن ہے اور تم میں بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہوں۔ (ترمذی، 2/387، حدیث: 1165) عورت کی عزت میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اس سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو برداشت کیا جائے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو اس لئے کہ وہ پسلی سے بنی ہے اور پسلی میں نچلی پسلی سب سے ٹیڑھی ہے تو اگر اسے سیدھا کرے گا تو توڑ دے گا اور اگر یونہی چھوڑ دیا تو ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی، عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ (بخاری، 3 /457، حدیث: 5185)اور حسن سلوک میں یہ بھی ہے کہ خاوند بیوی کے اندر محبت و سرور پیدا کرے کیونکہ اس سے خاندان میں مودت اور رحمت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

رسول الله ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جنسی مذاق کرتے تھے اور دوڑ میں مقابلہ کرتے تھے۔

4۔ بیوی کی ہر اس چیز سے حفاظت کرنا جو اس کی عزت کو ٹھیس پہنچائے: مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے تئیں غیرت کے معاملہ میں میانہ رو ہو تا کہ ازدواجی زندگی میں فساد بر پانہ ہو جائے اور زندگی جہنم نہ بن جائے۔ ان کے درمیان اعتبار ختم ہو جائے اور زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔

دینی تعلیم دینا اور گناہ سے بچانا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (پ28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔

عورت کا راز فاش نہ کرے: رسول الله ﷺ نے فرمايا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ برا شخص قیامت کے دن وہ ہے جو اپنی عورت کے پاس جائے اور عورت اس کے پاس جائے (یعنی صحبت کرے) پھر اس کا بھید

ظاہر کر دے۔

8۔ جب خاوند زیادہ عرصہ گھر سے دور رہے تو رات میں اچانک گھر میں نہ آئے جیسے کہ وہ سفر پر ہو۔ اگر وہ پہلے سے باخبر کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ زوجین کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے یہ اسلامی آداب میں سے ایک اعلی اصول ہے، اس میں بیوٹی کے جذبات کا احترام ہے، آپکا اعتماد باقی رہتا ہے اور محبت پائیدار ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کو گھر چھوڑے ایک مدت گزرگئی ہو تو اچانک رات میں نہ آیا کرو۔

بیویوں کے درمیان انصاف کرنا: اگر آدمی کے پاس ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے درمیان انصاف کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرمایا: جب کسی کے نکاح میں دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں انصاف نہ کرے تو روز قیامت وہ مفلوج پہلو کے ساتھ آئے گا۔ (ترمذی،2/375، حدیث:1144)

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: اور ان (عورتوں) سے اچھا برتاؤ کرو۔

بیوی کے حقوق: بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس کے ساتھ محبت سے پیش آؤ اور اپنی بیوی سے اچھا برتاؤ کرو۔

1۔ اے لوگوں عورتوں کے بارے میں نیکی اور بھلائی کرنے کی وصیت فرماتا ہوں تو میری نصیحت کو قبول کرو بے شک عورتوں کا تمہارے اوپر حق ہے تم ان کو پہنانے اور کھلانے میں نیکی اختیار کرو۔ (سنی بہشتی زیور، ص 232)

2۔ تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں ان کی ہر ضرورت پوری کریں ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔(ترمذی، 2/387، حدیث: 1165)

3۔ مرد اور عورت دونوں کو حکم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص اور وفادار ہیں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔

4۔ مسلمان مرد اپنی بیوی سے بغض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت بری ہے تو دوسری پسند ہوگی۔(مسلم، ص 595، حدیث: 1469)

5۔ عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو کہ ان کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے ہوئی ہے وہ تیرے لیے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تو اسے برتنا چاہے اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔ (مسلم، ص 595، حدیث: 1468)

اللہ تعالیٰ نے زمین میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے انبیاء کرام بھیجے جو لوگوں تک اللہ پاک کا پیغام پہنچاتے اور انہیں ہدایت کی راہ پر چلنے کی تلقین کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار اوصاف سے نوازا۔ انہیں انبیاء کرام میں سے آج ہم حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں پڑھیں گے۔

تعارف:

آپ علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اللہ پاک نے آپ کی ولادت اور نبوت کی بشارت دیدی تھی۔بنی اسرائیل میں سے آنے والے تمام انبیاء علیہم السلام آپ ہی کی نسل پاک سے ہوئے۔آپ علیہ السلام کا کچھ تفصیلی تذکرہ قرآن مجید میں چھ مقامات پر آیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَامْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَمِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ (71) ترجمۂ کنز الایمان: اور اس کی بی بی کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی۔(ھود:71)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دی اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بھی خوشخبری دی۔(صاوی، ہود، تحت الآیۃ: 71، 3/923، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: 71، ص505، خازن، ہود، تحت الآیۃ: 71، 2/362، ملتقطاً)

وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَؕ-وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اسے اسحق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا۔ (مریم:49)

یادرہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام سے بڑے ہیں، لیکن چونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام بہت سے انبیاء علیہم السلام کے والد ہیں، اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا گیا۔(خازن، مریم، تحت الآیۃ: 49، 3/237، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: 49، ص676، ملتقطاً)

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں۔ اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحق پر۔ (سورة الصّٰٓفّٰت، 112، 113)

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام پر دینی اور دُنْیَوی ہر طرح کی برکت اتاری اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں کثرت کی اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے انبیاء ِکرام علیہم السلام مبعوث کئے۔(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: 113، ص1008)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(39) ترجمۂ کنز الایمان:سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل و اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔ (ابراہیم:39)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تو آپ علیہ السلام نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود حضرت اسمٰعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام دئیے۔ بیشک میرا رب عَزَّوَجَلَّ میری دعا قبول فرمانے والا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر99 برس ہو چکی تھی اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر مبارک 112 برس ہو چکی تھی۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: 39، 3/89، جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: 39، ص209، ملتقطاً)

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُۙ-اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْؕ-قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًاۖ-ۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(133) ترجمۂ کنز الایمان:بلکہ تم میں کے خود موجود تھے جب یعقوب کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے والدوں ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں۔(البقرۃ: 133)

اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے جواب میں یہ آیت نازل کی تھی جس میں یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے دین پر رہنے کی نصیحت کی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 133، 1/93)

حضرت اسحاق علیہ السلام کی شان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کے صدقے ہماری بے حساب بخشش فرمائے۔ آمین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


انبیاء کرام علیہم السلام کا ئنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیرے موتیوں کی طرح جگمگاتی شخصیات ہیں جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی، حکمتوں کے سرچشمے ان کے دلوں میں جاری فرمائے اور سیرت وکردار کی بلندیاں عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام کو بہت سے اوصاف سے نوازا ہے آج ہم جس نبی علیہ السلام کے اوصاف بیان کریں گے وہ اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔

آپ علیہ السلام کا تعارف:

آپ علیہ السَّلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کی ولادت و نبوت اور صالحین میں سے ہونے کی بشارت دیدی تھی۔ بنی اسرائیل میں آنے والے تمام انبیاء کرام علیہم السلام آپ ہی کی نسل پاک سے ہوئے۔(سیرت الانبیاء،ص365)

نام مبارک:

آپ علیہ السلام کا نام مبارک اسحاق ہے، یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا عربی میں معنی ہے ضحاک یعنی ہنسنے والا، شاداں، خوش و خرم۔آپ علیہ السلام کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ ولادت کی بشارت کے وقت آپ کا مبارک نام بھی اللہ تعالی نے بیان فرمادیا تھا۔ (سیرت الانبیاء ص365)

نمبر 1 : حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ آپ علیہ السلام کی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بشارت بھی دی گئی، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (112)ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحٰق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا۔ (پ 23 سورت الصافات آیت: 112)

نمبر 2 :اللہ پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام پر وحی کے ذریعے بعض احکام نازل فرمائے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-ترجمہ کنز الایمان: بے شک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی۔(پ6، النسآء:163)

نمبر 3: وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49) ترجمۂ کنز العرفان: ہم نے اسے اسحاق اور اس کے بعد یعقوب عطا کئے اور ان سب کو ہم نے نبی بنایا۔ (پ 16، سورۂ مریم آیت49)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کی ولادت و نبوت اور صالحین میں سے ہونے کی بشارت دیدی تھی۔ بنی اسرائیل میں آنے والے تمام انبیاءکرام علیہم السّلام آپ ہی کی نسل پاک سے ہوئے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں جہاں دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا وہی حضرت اسحاق علیہ السلام کا ذکر خیر بھی کیا ہےآیئے قرآن پاک سے آپ کا کچھ تذکرہ پڑھتے ہیں۔

نمبر 1: اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کے بارے میں خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ امْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(71)ترجمہ کنزالایمان:اور اس کی بی بی کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی۔(پارہ 12 سورہ ھود آیت نمبر 71)

نمبر 2:حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کا شکر ادا کرتے ہوئے آپ کے والد محترم اللہ کے نبی حضرت ابرہیم علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں یوں دعا کی:اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(39) ترجمۂ کنز الایمان:سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل و اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔(پارہ 13، ابرہیم، آیت نمبر 39)

نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا نعمت عطا فرمانا: وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے۔(سورہ انعام،پارہ7،آیت نمبر 84)

نمبر 4:اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے حضرت اسحاق علیہ السلام کی طرف وحی کا تذکرہ ان الفاظ کے ساتھ فرمایا : اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّالنَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا(163) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔

آپ علیہ السلام کا وصف: حضرت اسحاق علیہ السلام لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے اور کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے تھے اور دنیا کی محبت نے ان کے دلوں میں ذرہ بھر بھی جگہ نہیں پائی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46)ترجمہ کنزالایمان: بے شک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نیک بندوں سے محبت کرنے اور ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اللہ ربُّ العزت نے اپنے نیک بندوں میں سے جنہیں اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے منتخب فرمایا اُنہیں شریعت کی اِصطلاح میں اَنبیاءاور رُسول کہا جاتا ہے۔ آج ہم اللہ تعالیٰ کے جس نبی کا ذکر کریں گے وہ حضرت اسحاق علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کثیر اوصاف سے نوازا ہے، آیئے آپ علیہ السلام کا مختصر تعارف اور قرآنی تذکرہ پڑھتے ہیں۔

تعارف! آپ علیہ السلام کا نام مبارک اسحاق ہے،آپ علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کی ولادت و نبوت اور صالحین میں سے ہونے کی بشارت دیدی تھی۔ بنی اسرائیل میں آنے والے تمام انبیاءکرام علیہم السلام آپ ہی کی نسل پاک سے ہوئے۔آیئے! آپ علیہ السلام کے چند اوصاف ملاحظہ فرماتے ہیں!

(1)آپ کے والد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی دعا فرمائی جو اللہ پاک نے قبول فرما لی اور آپ کی ولادت کی بشارت دی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَیَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(72) ترجمہ کنزُالعِرفان: اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب (پوتا) اور ہم نے ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔ (پارہ نمبر17 سورۃ الانبیاء،آیت نمبر 72)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بیٹے کے لیے دعا کی تھی مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں بیٹے کے ساتھ ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جوکہ بغیر سوال کے عطا کیا گیا اور ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص قرب والا بنایا۔(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: 72، ص721، 722)

(2)حضرت اسحاق علیہ السلام بڑے برگزیدہ اور عبادت گزار تھے۔ آپ علیہ السلام کی ولادت سے قبل ہی اللہ ربُّ العزَّت نے حضرت ابراہیم علیہم السلام کو آپ علیہ السلام کے نیک اور نبی ہونے کی خوشخبری سنا دی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالی قران مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112)وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمہ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری۔ (پارہ نمبر 23، سورة الصّٰٓفّٰت آیت نمبر 112، 113)

(3) اللہ کے بہترین بندےجیسے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا!

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47) ترجمہ کنزالایمان: اور بےشک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں ۔ (پ23،سورۃ صٓ47)

اس آیت میں فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم، اسحق اور یعقوب علیہم السلام بہترین چنے ہوئے ہیں اور یہاں بہترین سے مراد یہ ہے کہ ان میں کوئی خاص بات ہے اور وہ بات یہ ہے کہ اُن میں آخرت کے گھر کی یاد ہے اور وہ لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے، کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے اور دنیا کی محبت نے اُن کے دلوں میں جگہ نہیں پائی اور بیشک وہ ہمارے نزدیک بہترین چُنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔(روح البیان، ص، تحت الآیۃ: 45-46، 8/46، مدارک، ص، تحت الآیۃ: 45-47، ص1024، خازن، ص، تحت الآیۃ: 45-47، 4/43-44، ملتقطاً)

اور آپ کے اوصاف احادیث میں بھی بیان کیے گئے ہیں جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بیشک کریم، کریم کے بیٹے، کریم کے فرزند اور کریم کے صاحبزادے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ (ترمذی، کتاب التفسير، باب و من سورة يوسف، 81/5، حدیث: 3127)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔آمین ثم آمین

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


کائنات کی سب سے افضل ترین اور بزرگ ہستیاں انبیاء کرام علیہم السلام ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا اور لوگوں کی ہدایت وراہنمائی کے لیے انہیں مختلف قوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔ قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے جابجا بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا انہیں انبیاء کرام علیہم السلام میں سے حضرت اسحاق علیہ السلام کا تذکرہ بھی قرآن پاک میں متعدد جگہ پر فرمایا۔ قرآن پاک کی روشنی میں آپ علیہ السلام کا ذکر خیر پڑھیے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے۔

1)نبوت سے فیض یاب: حضرت اسحاق علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے اعلیٰ منصب سے فیض یاب فرمایا:ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں۔ (سورة الصّٰٓفّٰت آیت نمبر 112)

ایک اور مقام پر فرمایا: وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا۔ (سورہ مریم آیت 49)

2)قدرت اور علم والے: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو علمی اور عملی قوتیں عطا فرمائیں جن کی بنا پر انہیں اللہ کی معرفت اور عبادات پر قوت حاصل ہوئی۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ(45) ترجمہ کنزالایمان: اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو قدرت اور علم والوں کو۔ (سورۃ ص آیت 45)

3)دنیا میں ثواب اور آخرت میں قرب الٰہی کےحقدار: مخلوق میں تمام ملت اور دین والے ان سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی طرف نسبت کو فخر جانتے ہیں اور دنیا کے اختتام تک ان کے لیے درود پڑھا جانا مقرر کر دیا یہ تو وہ جو دنیا میں اللہ نے آپ علیہ السلام کو عطاء فرمایا اور اللہ تعالیٰ آخرت میں انہیں اپنا قرب عطاء فرمائے گا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے اُسے اسحٰق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوّت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا اور بےشک آخرت میں وہ ہمارے قرب ِخاص کے سزاواروں میں ہے۔ (سورہ عنکبوت آیت27)

4)اللہ تعالیٰ کی آپ علیہ السلام پر برکت: اللہ نے آپ علیہ السلام پر دینی و دنیوی برکتیں نازل فرمائی،ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَبٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلٰۤى اِسْحٰقَؕ-ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر۔ (سورة الصّٰٓفّٰت آیت 113)

تفسیر صراط الجنان:حضرت اسحاق پر اللہ تعالیٰ کی ظاہری برکت یہ تھی کہ آپ علیہ السلام کی نسل سے حضرت یعقوب علیہ اسلام سےلے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے ۔

(5) اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ چنے ہوئے بندے: آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اور چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46) وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47) ترجمہ کنزالایمان: بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔اور بے شک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں۔ (سورۃ ص آیت 46، 47)

امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ سےعلماء نے انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت (یعنی گناہ سے پاک ہونے) پر استدلال کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہیں کسی قید کے بغیر اَخْیَار فرمایا اور یہ بہتری ان کے تمام افعال اور صفات کو عام ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی الله عنہا کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا نام اسحاق ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے ضحاك (یعنی ہنس مکھ، شاداں، خوش خرم)۔ اسحاق علیہ السلام حسین و جمیل اور سیرت و صورت میں ابراھیم علیہ السلام سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کو الله پاک نے کئی اوصاف سے نوازا تھا، آپ علیہ السلام کا تذکرہ قرآن پاک کی متعدد آیات میں موجود ہے۔

آئیے حضرت اسحاق علیہ السلام کے ذکرخیر سے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے قرآن پاک سے آپ علیہ السلام کا تذکرہ سنتے ھیں۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کی شان کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ھیں کہ الله پاک نے قرآن پاک میں جہاں آپ علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ کیا اس کے ساتھ ہی نبوت اور قرب خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کا تذکرہ بھی فرمایا:

ترجمہ کنز العرفان :اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو الله کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ (پارہ 23، سورۃ الصافات، آیت 112)

اسی طرح ایک اور مقام پر الله پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو اپنا قرب والا بندہ بنانے کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب (پوتا) اور ہم نے ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔ (پارہ 17 ، سورۃ الانبیاء، 72)

ان دونوں آیات سے ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام الله پاک کے ان بندوں میں سے تھے جن کو الله پاک کا قرب خاص میسر تھا۔

ایک اور مقام پر الله پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس (آخرت کے) گھر کی یاد ھے۔ (پارہ 23، سورۃ صٓ، آیت 46)

بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا اور وہ بات آخرت کے گھر کی یاد ہے کہ وہ لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے، کثرت کے ساتھ ذکر آخرت کرتے اور دنیا کی محبت نے ان کے دلوں میں جگہ نہیں پائی اور بیشک وہ ہمارے بہترین چنے ہوئےبندوں میں سے ہیں۔(صراط الجنان، سورۃ ص، آیت 45 تا 47 ملخصا)

الله پاک نے حضرت اسحاق علیہ السلام پر نعمت مکمل فرمائی، تو اس بارے میں ارشاد فرمایا: ترجمہ کنزالعرفان: اور تجھ پر اور یعقوب کے گھر والوں پر اپنا احسان مکمل فرمائےگا، جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراھیم اور اسحق پر نعمت مکمل فرمائی۔

صراط الجنان میں ہے : یہاں تکمیل نعمت سے مراد نبوت ہے۔

اسی طرح الله پاک نے آپ پر اپنی خصوصی برکتیں نازل فرمائیں، تو اس بارے میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت اتاری۔ (پارہ 23، سورۃ الصافات، 113)

یعنی ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام پر دینی اور دنیوی ہر طرح کے برکت اتاری، اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں کثرت کی اور اسحاق علیہ السلام کی نسل سے حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک بہت انبیاء علیہم السلام مبعوث کئے۔(مدارك، سورۃ الصافات، تحت الآیۃ 113، ص 1008)

الله پاک ہمیں حضرت اسحاق کی سیرت پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے،آمین۔

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


اللہ پاک نے انبیاء کرام علیہم السلام کو اس دنیا میں اپنی وحدانیت بیان کرنے اور لوگوں کی ہدایت کیلئے بھیجا اور ان میں سے بعض کا ذکر قرآن پاک میں بھی فرمایا ہے ان میں سے حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ پڑھتے ہیں۔

نمبر 1۔ ہم نے نبی بنایا۔وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49) ترجمۂ کنز العرفان: ہم نے اسے اسحاق اور (اس کے بعد) یعقوب عطا کئے اور ان سب کو ہم نے نبی بنایا۔سورۃ مریم آیت نمبر 49۔

نمبر 2۔ ان سب اپنے قرب خاص والے بنائے۔وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ (72) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب (پوتا) اور ہم نے ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔ سورة الانبیاء آیت نمبر 72۔

نمبر 3۔ نبوت اور کتاب رکھی۔ ووَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(27) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے اسے اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایااور بیشک وہ آخرت میں (بھی) ہمارے خاص قرب کے لائق بندوں میں ہوگا۔ سورۃ العنکبوت آیت نمبر 27

نمبر 4۔ اسحاق پر برکت اتاری ۔ وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(112) وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَؕ- ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پربرکت اتاری ۔ سورۃ الصفت آیت نمبر 112، 113

نمبر 5۔ بہترین چنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ(45) اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ(46) وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ(47)ترجمۂ کنز العرفان:اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کویاد کرو جو قوت والے اور سمجھ رکھنے والے تھے۔ بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس(آخرت کے) گھر کی یاد ہے۔ اور بیشک وہ ہمارے نزدیک بہترین چُنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔ سورۃ ص آیت نمبر 45تا47

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے انبیا ئےکرام علیہم السلام کا ذکر خیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔


انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ عز و جل نے بہت سی شان و کمالات سے نوازا ہے اللہ عزوجل نے اپنے حبیب لبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر فرمانے کا حکم دیا تاکہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت ہو جائے اور یہ ذکر سن کر لوگ ان نفوس قدسیہ کی پاک خصلتوں سے نیکیوں کا ذوق و شوق حاصل کریں۔ اور انبیاء کرام میں سے حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی اللہ عزو جل نے بہت شان وکمالات سے نوازا ہے اور ان کا ذکر قرآن پاک میں بھی فرمایا ہے۔ آیئے آپ علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ پڑھئے اور اپنے علم و عمل میں اضافہ کیجیے:

(1) اسحاق علیہ السلام کی بشارت:فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(71) ترجمہ کنز الایمان: تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اس کےپیچھے یعقوب کی۔(پارہ 12 ، ھود آیت 71)

حضرت سارہ کو بشارت دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی مردوں سے زیادہ عورتوں کو ہوتی ہے اور ایک وجہ یہ تھی کہ ان کی اولاد نہ تھی۔ اس لیے زیادہ خوشی ہوئی۔(تذکرۃ الانبیاء)

(2) حضرت اسحاق علیہ السلام نبی ہوئے: الله عز و جل نے فرمایا:وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا(49)ترجمہ کنز الایمان: ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا۔ (پارہ 16، مریم آیت 49)

(3) دعا کی قبولیت: الله عزوجل نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(39) ترجمۂ کنز الایمان:سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیلو اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔(پارہ 13، ابراھیم آیت 39)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑھا پے میں دعا کی تھی اللہ عزوجل نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انہوں نے شکر ادا کیا اور انہیں فرزند عطا فرمایا۔(تفسیر خزائن العرفان ابراھیم تحت الآیۃ 39)

(4) خاص نعمت عطا کرنا : اللہ عزوجل نے فرمایا:وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَؕ-اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(6) ترجمۂ کنز الایمان:اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر پوری کی بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے۔(پارہ 12یوسف آیت 6 تفسیر خزائن العرفان)

حضرت اسحاق علیہ السلام کو اللہ عزوجل نے یعقوب اور اسباط عطا فرما کر نعمت پوری کی۔(پارہ 12سورت یوسف آیت 6 تفسیر خزائن العرفان)

(5) اسحاق علیہ السلام کی طرف وحی:الله عز و جل نے جس طرح تمام انبیاء کرام کی طرف وحی فرمائی اسی طرح حضرت اسحاق علیہ السلام کی طرف بھی وحی فرمائی جیسا کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِترجمۂ کنز الایمان:ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں کو وحی کی۔(پارہ 6سورت النساء آیت 163)

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔