(1) كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ترجَمۂ کنز العرفان:اسی طرح ہم نے تمہیں اس امت میں بھیجا جس سے پہلے کئی امتیں گزر گئیں تاکہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے ۔(پ 13،رعد:30)

(2)كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً- فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ۪-وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِؕ ترجَمۂ کنز العرفان: تمام لوگ ایک دین پر تھے تو اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے ہوئے اور ڈر سناتے ہوئے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلافات میں فیصلہ کردے ۔(پ 2،بقرہ:213)

(3) : وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۱۸)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اللہ تمہارے لیے آیتیں صاف بیان فرماتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔(پ 18،نور:18)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے کہ :جسے اللہ پاک نے اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا اور اسے ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ حق کی طرف ان کی رہنمائی کریں اور انہیں (گناہ کی آلود گی سے) خوب پاکیزہ فرمادیں اور انہیں پاک کرکے خوب صاف ستھرا کردیں ۔

(4):وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۶)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور بےشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بےشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے ۔(پ 25،زخرف:46)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے کہ: اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السّلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تاکہ آپ انہیں اللہ پاک کی وحدانیّت کا اقرار کرنے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دیں ۔

(5):اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا۔(پ 26،فتح :8)اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے کہ: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، بیشک ہم نے آپ کو اپنی امت کے اَعمال اور اَحوال کا مشاہدہ فرمانے والا بنا کر بھیجا تاکہ آپ قیامت کے دن ان کی گواہی دیں اور دنیا میں ایمان والوں اور اطاعت گزاروں کو جنت کی خوشخبری دینے والااور کافروں ، نافرمانوں کو جہنم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بنا کربھیجا ہے۔

(6)هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ(۲۸)ترجمۂ کنزالعرفان: وہی (اللہ ) ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے اور اللہ کافی گواہ ہے۔( پ 26، فتح: 28)اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے کہ : وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کردے خواہ وہ مشرکین کے دین ہوں یا اہل ِکتاب کے۔

(7)اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۴۳)فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۴۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔(پ 19،شعراء:144،143)اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے کہ:حضرت صالح علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے قومِ ثمود سے فرمایا: مجھے اللہ پاک نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کے عذاب سے ڈراؤں اور جس رسالت کے ساتھ اس نے مجھے تمہاری طرف بھیجا میں اس پر امین ہوں۔

(10،9،8) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو ۔(پ 26،فتح:9،8)اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے کہ: اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو شاہد،مُبَشِّر اور نذیر بنا کر بھیجنے کے گویا یہ مَقاصِد بیان فرمائے ہیں :

(8): لوگ اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لائیں ۔

(9): لوگ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم اور توقیر کریں ۔ اس کے بارے میں بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں آیت میں تعظیم و توقیر کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اللہ پاک کے لئے ہے یعنی تم اللہ پاک کی تعظیم اور توقیر کرو، البتہ اس سے مراد اللہ پاک کے دین اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم اور توقیر کرنا ہے۔

(10): لوگ صبح و شام اللہ پاک کی پاکی بیان کریں ۔اس مقصد کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں کہ صبح و شام اللہ پاک کی پاکی بیان کرنے سے مراد اِن اوقات میں ہر نقص و عیب سے اس کی پاکی بیان کرنا ہے، یا صبح کی تسبیح سے مراد نمازِ فجر اور شام کی تسبیح سے باقی چاروں نمازیں مراد ہیں ۔


حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے انبیا آئے ان سب کےکوئی نہ کوئی مقاصد تھے، لوگوں کو اللہ پاک کی توحید کی دعوت دینا، لوگوں کو اللہ کےقریب کرناوغیرہ۔

انبیاء کی بعثت کے چند مقاصد قرآن مجید کی روشنی میں:

(1)اللہ پاک کی عبادت کی طرف دعوت:اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۵۱)ترجَمۂ کنزالعرفان: بیشک اللہ میرااور تمہارا سب کا رب ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔(پ 3،آل عمران:51) تفسیر:حضرت عیسیٰ علیہ والصلوۃ والسلام کایہ فرمانا اپنا بندہ ہونے کا اقرار اور رب ہونے کا انکار ہے اور لوگوں کو اللہ پاک کی عبادت کرنے کافرمایا۔

(2) خوشخبری دینا اورڈرسنانا:وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ ترجمۂ کنزالعرفان :اور ہم رسولوں کوخوشخبری دینے والے اور ڈر کی خبریں سنانے والے بنا کر ہی بھیجتے ہیں ۔(پ 15،کہف:56)تفسیر صراطِ الجنان میں ارشاد فرمایا کہ ہم رسولوں کو ان کی امتوں کی طرف بھیجتے ہیں تاکہ وہ ایمان والوں اور اطاعت گزاروں کو ثواب اور جنت کے دَرجات کی خوشخبری دیں جبکہ کافروں اور گناہگاروں کو عذاب اور جہنم کےدرکات سے ڈرانےوالی خبریں سنائی۔

(3) لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا تاکہ لوگوں پر ظلم نہ ہو:وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌۚ-فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۴۷)ترجمہ کنزالعرفان: اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہوا ہے توجب ان کا رسول ان کے پاس تشریف لاتا تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتاہے۔(پ 11،یونس:47) تفسیر صراطِ الجنان: ان کے درمیان انصاف کےساتھ فیصلہ کرنا اس میں دو قول ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس میں دنیا کا بیان ہے اور معنی یہ ہے کہ ہر اُمت کے لئے دنیا میں ایک رسول ہوا ہے جو انہیں دینِ حق کی دعوت دیتا اور طاعت و ایمان کا حکم کرتا، جب ان کا رسول ان کے پاس تشریف لاتا اور احکامِ الٰہی کی تبلیغ کرتا تو کچھ لوگ ایمان لاتے اور کچھ تکذیب کرتے اور مُنکر ہو جاتے ، تب ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا کہ رسول کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دی جاتی اور تکذیب کرنے والوں کو عذاب سے ہلاک کر دیا جاتا۔

(4)کتاب و حکمت کا علم سکھانا:رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۱۲۹) ترجمۂ کنز العرفان : اے ہمارے رب! اور ان کے درمیان انہیں میں سے ایک رسول بھیج جواِن پر تیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرمادے۔ بیشک تو ہی غالب حکمت والاہے۔(پ 1،بقرہ:129) تفسیر صراطِ الجنان: حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی یہ دُعا سیدِ انبیاء صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم َکے لئے تھی۔کتاب و حکمت سے مراد قرآن پاک اور اس کے احکام سکھانا ہے۔

(6،5) خوشخبری دینا:اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًاۙ- ترجمۂ کنز العرفان :اےحبیب!بےشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈر کی خبریں دینے والابناکرربھیجا۔(پ 1،بقرہ:119) اس آیت میں ایک مقصد خوشخبری دینااوردوسراڈر کی خبریں دینا بیان کیاگیاہے۔

(7)لوگ انبیا کی اطاعت کرے:وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ ﴾ ترجمۂ کنزالعرفان :اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔(پ 5،نساء:64)تفسیر صراطِ الجنان: یہاں رسولوں کی تشریف آوری کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ اللہ پاک رسولوں کو بھیجتا ہی اس لئے ہے کہ اللہ پاک کے حکم سے ان کی اطاعت کی جائے۔ اسی لئے اللہ پاک اَنبیاء و رُسُل علیہم الصلوٰۃ والسلام کو معصوم بناتا ہے کیونکہ اگر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام خود گناہوں کے مُرتَکِب ہوں گے تو دوسرے ان کی اطاعت و اِتّباع کیا کریں گے۔ رسول کی اطاعت اس لئے ضروری ہے کہ اللہ پاک کی اطاعت کا طریقہ ہی رسول کی اطاعت کرنا ہے۔ اس سے ہٹ کر اطاعت ِ الہٰی کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں لہٰذا جو رسول کی اطاعت کا انکار کرے گا وہ کافر ہوگا اگرچہ ساری زندگی سر پر قرآن اٹھا کر پھرتا رہے۔

(8)قوم کواندھیروں سے اجالے کی طرف لانا:وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِ جْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے میں لاؤ ۔(پ 13،ابراہیم:5)تفسیرصراط الجنان:اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ایک ہی ہے کہ وہ اللہ پاک کی مخلوق کو کفر کے اندھیروں سے ہدایت اور ایمان کی روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں ۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: 5، 7 / 64)

(9) لوگوں کو اللہ پاک کے ایام یاد کروانا:وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِؕ ترجمہ کنزالعرفان۔:اور انہیں اللہ کے دن یا د دلاؤ۔ (پ 13،ابراھیم:5) اس میں نعمتوں کو یاد دلانے کا مقصدبیان ہے۔تفسیرصراط الجنان: قاموس میں ہے کہ اللہ پاک کے دنوں سے اللہ پاک کی نعمتیں مراد ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت اُبی بن کعب ،امام مجاہد اور حضرت قتادہ رضی اللہُ عنہم نے بھی اَیَّامُ اللّٰہ کی تفسیر ’’اللہ کی نعمتیں ‘‘ فرمائی ہے۔

(10)قوم کو آنے والے عذاب سے ڈرانا تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہے:اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱)ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اس وقت سے پہلے اپنی قوم کو ڈرا کہ ان پر دردناک عذاب آئے۔(پ 29،نوح:1)

تفسیرصراط الجنان:حضرت نوح علیہ الصلوٰۃُ والسلام کی قوم بتوں کی پُجاری تھی ، اللہ پاک نے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃُ والسلام کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجااور انہیں یہ حکم دیاکہ وہ اپنی قوم کو پہلے سے ہی ڈرا دیں کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان پر دنیا و اخرت کا دردناک عذاب آئے گا تاکہ ان کے لئے اصلاً کوئی عذر باقی نہ رہے۔ یاد رہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوٰۃُ والسلام وہ سب سے پہلے رسول ہیں جنہوں نے کفار کو تبلیغ کی اور سب سے پہلے آپ علیہ الصلوٰۃُ والسلام کی قوم پر ہی دُنْیَوی عذاب آیا۔( سمرقندی، نوح، تحت الآیۃ: 1، 3 / 406، جلالین، نوح، تحت الآیۃ: 1، ص473، روح البیان، نوح، تحت الآیۃ: 1، 10 / 171، ملتقطاً)


(1) توحید کی دعوت:وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُؕ-یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ(۱۳۲)ترجمۂ کنزالایمان:اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان۔(پ 1،بقرہ:132)

نوٹ: اس سے معلوم ہوا کہ والدین کو صرف مال کے متعلق ہی وصیت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اولاد کو عقائد ِ صحیحہ، دین پر استقامت، نیکیوں پر مداومت اور گناہوں سے دور رہنے کی وصیت بھی کرنی چاہیے۔ اولاد کو دین سکھانا اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہنا والدین کی ذمہ داری ہے۔(تفسیر صراط الجنان ، 1 / 215)

(2) غلبہ دین کے لئے:هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ(۲۸)ترجَمۂ کنزُالایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ ۔( پ 26، فتح: 28) اللہ پاک نے اپنے رسولوں کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کردے خواہ وہ مشرکین کے دین ہو یا اہلِ کتاب کے۔(تفسیر صراط الجنان ،9 / 383)

(3) ڈر سنانے کے لیے:اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًاۙ-وَّ لَا تُسْــٴَـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ(۱۱۹)ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا۔(پ 1،بقرہ:119) تفسیر : آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تبلیغ کے باوجود اگر کوئی جہنم کی راہ جاتا ہے تو اس کے متعلق آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سوال نہ ہوگا کہ وہ کیوں ایمان نہ لایا ، اس لیے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا فرضِ تبلیغ پورے طور پر ادا فرمادیا۔( تفسیر صراۃ الجنان ،1 /203)

(4) خوشخبری سنانے کے لیے:وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ-قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُۙ-وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌۗۙ-وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۵) ترجمۂ کنزالایمان: اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا صورت دیکھ کر کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا اور وہ صورت میں ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لیے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔(پ 1،بقرہ:25)

(5)فیصلہ کرنے کے لیے:﴿ كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً- فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ۪-وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِؕ ﴾ترجَمۂ کنزُالایمان: لوگ ایک دین پر تھے پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے۔(پ 2،بقرہ:213)تفسیر: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس صدیاں تھیں سب کے سب سچے دین پر تھے ۔ پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا تو اللہ نے دوسرے نبیوں کو بھیجا تاکہ ان میں فیصلہ کریں۔(تفسیر در منثور ،جلد 1)

(6)اللہ کا پیغام پہچانے کے لئے :اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۲)ترجَمۂ کنزُالایمان: تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔(پ 8،اعراف:62)

(7) عبادت کی دعوت کے لیے:اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (۵۱)ترجَمۂ کنزالعرفان: بیشک اللہ میرااور تمہارا سب کا رب ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔(پ 3،آل عمران:51) تفسیر :گویا حضرت ِ عیسی ٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اتنی قدرتوں اور علم کے باوجودبھی خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیا و اولیا کے معجزات یا کرامات ماننا شرک نہیں اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم نے انہیں رب مان لیا۔ اس سے مسلمانوں کو مشرک کہنے والوں کو عبرت پکڑنی چاہیے۔( تفسیر صراط الجنان ، 1/ 482)

(8)اللہ کی مغفرت اور رحمت کے اظہار کے لئے:نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ(۴۹) وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ(۵۰)ترجمۂ کنزالایمان: خبردو میرے بندوں کو کہ بیشک میں ہی ہوں بخشنے والا مہربان۔اور میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔(پ 14،حجر:50،49) ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : تفسیر:اے حبیب! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، آپ میرے بندوں کو بتا دیں کہ جب وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں تو میں ہی ان کے گناہوں پر پردہ ڈال کر ان گناہوں کے سبب ہونے والی رسوائی اور عذاب سے انہیں بچاتا ہوں۔ (تفسیر طبری، الحجر، آیت 49،50 ،7 /521)

(9) اللہ پاک کے احکامات کے بیان کے لئے:سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۱)ترجمۂ کنزالایمان: یہ ایک سورت ہے کہ ہم نے اتاری اور ہم نے اُس کے احکام فرض کیے اور ہم نے اس میں روشن آیتیں نازل فرمائیں کہ تم دھیان کرو۔(پ 18،نور:1)

(10) خیر خواہی کے لئے:فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْۚ-فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠(۹۳)ترجَمۂ کنزُالایمان: تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۷۴) اور کہا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچاچکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیوں کر غم کروں کافروں کا۔(پ 9،اعراف:93)تفسیر: مردے سنتے ہیں :جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تو آپ نے ان سے منہ پھیر لیا اور قوم کی ہلاکت کے بعد جب آپ ان کی بے جان نعشوں پر گزرے تو ان سے فرمایا ۔اس سے معلوم ہوا مر دے بھی سنتے ہیں۔

مُردوں کے سننے کی قوت سے متعلق بخاری شریف میں ہے:جب ابوجہل وغیرہ کفار کو بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا تو اس وقت رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سے خطاب فرمایا "فَہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَد َرَبَّکُم ْحَقَّا"توکیا تم نے اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ا ٓپ ایسے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں کہ جن کے اندر روحیں نہیں۔ ارشاد فرمایا :اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جان ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ (بخاری شریف ،حدیث:3979)


انبیائے کرام اللہ پاک کے بعد افضل ہیں۔ تمام انبیا پر ایمان لانا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ انبیائے کرام کی دنیا میں آمد کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السّلام سے شروع ہوا اور ہمارے پیارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ختم ہوا۔ اللہ پاک نے کسی چیز کو بیکار پیدا نہیں فرمایا بلکہ زمین، آسمان، سورج، چاند، انسان، چرند، پرند اور حیوان سب کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت پیدا فرمایا جیسا کہ قراٰنِ پاک میں ہے:وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًاؕ-ترجَمۂ کنزُالایمان:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے۔ (پ 23،صٓ:27) انبیائے کرام علیہمُ السّلام کو بھی کئی مقاصد کے لئے اللہ پاک نے اپنے بندوں کے پاس بھیجا جن کا اللہ پاک نے اپنے پیارے کلام پاک میں کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ اِنْ شآءَ اللہ میں انہی مقاصد میں سے کچھ مقاصد بیان کرنے کی کوشش کروں گا:

(1)اللہ کی عبادت کی دعوت کیلئے: وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ-ترجَمۂ کنزُ الایمان: اور بےشک ہر اُمّت میں سے ہم نے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو۔ (پ 14،نحل:36)

(3،2)خوشخبری دینے اور ڈر سنانے کے لئے: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ- ترجمۂ کنزالعرفان: اور ہم رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈر کی خبریں سنانے والے بنا کر ہی بھیجتے ہیں۔ (پ 15،کہف:56)

(4)لوگوں پر حجت قائم کرنے کیلئے: لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۱۶۵)ترجمۂ کنزالعرفان:تاکہ رسولوں (کو بھیجنے) کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کے لئےکوئی عذر (باقی) نہ رہے۔(پ6،نساء:165)

(6،5)لوگوں کو زندگی کے بنیادی اختلاف سے نکالنے اور رضائے الہٰی کے مطابق زندگی گزارنے کی راہنمائی کے لئے: وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِۙ-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۶۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ہم نے تم پر یہ کتاب نہ اتاری مگر اس لئے کہ تم لوگوں پر روشن کردو جس بات میں اختلاف کریں اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لئے۔(پ 14،نحل:64)

(7)دین کو قائم کرنے کے لئے: شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِؕ-ترجمۂ کنزالعرفان: اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ مقرر فرمایا ہے جس کی اس نے نوح کو تاکید فرمائی اور جس کی ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی اور جس کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو تاکید فرمائی کہ دین کو قائم رکھواور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔(پ25،شوریٰ :13)

(8)انبیا کی سیرت کو نمونۂ عمل سمجھنے کے لئے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌترجمۂ کنزالعرفان: بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔(پ21،احزاب :21)

(10،9)لوگوں کو تعلیم دینے اور پاک کرنے کیلئے:لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہےاور انھیں پاک کرتااور انھیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ (پ 4،آل عمران:164)


گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی کے ڈائریکٹر محمد سجاد احمد صدیقی اور پی ٹی وی کنٹرولر اسلام آباد محمد عمران صدیقی کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس پر ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی نے ان سے تعزیت کی۔

اس دوران ڈسٹرکٹ قصور ذمہ دار شعبہ کفن دفن محمد دانش تفسیر عطاری نے اہلِ خانہ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لئے مدرسۃ المدینہ بنانے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:شعبہ کفن دفن، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 


نام: ”عبدالحق“کنیت ”ابو المجد“اور لقب ”محدث دہلوی “ہے۔آپ کی پیدائش ہند کے مشہور شہر دہلی میں بروز جمعہ 1محرم الحرام 958ھ مطابق 9جنوری 1551ء کو ہوئی۔(شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ، ص91،محدثین عظام حیات وخدمات، ص621)

والدِ ماجد:آپ کے والد شیخ سیف الدین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ خوش طبع صوفی بزرگ اور بلند پایہ شاعر تھے۔ 500 اشعار پر مشتمل مثنوی”سلسلۃ الوصال“ایک دن میں تحریر کی۔ (اخبار الاخیار،ص614،اللہ کے خاص بندے، ص679)

تعلیم اور شوق علم:آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی ۔انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔تھوڑی مدت میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔اپنے والد سے ابتدائی تعلیم پانے کے بعد گھر سے 2میل کے فاصلے پر مدرسہ دہلی میں داخلہ لیا۔سخت سردی اور گرمی کے موسم میں بھی روزانہ دو مرتبہ مدرسہ جاتے۔آپ کو حصول علم کا ایسا شوق تھا کہ خود فرماتے ہیں:”علم نحو میں کافیہ،لب الالباب اور ارشاد وغیرہ کے بعض اوقات ایک ہی مجلس میں سولہ(16)سولہ(16)صفحات پڑھ جاتا اور شوق کا یہ حال تھا کہ حاشیہ والی جب کوئی کتاب میسر آجاتی تو وہ کتاب میں کسی استاد سے پڑھنے کے بجائے اکثر اپنے آپ ہی پڑھ لیا کرتا تھا اور سمجھ بھی لیتا تھا۔علم حاصل کرنے کی شوق کی وجہ سے کبھی وقت پر کھانا کھایا نہ سویا۔“آپ نے17یا 18سال کی عمر میں علوم ظاہری سے فراغت حاصل ۔پھر ماواء النہر چلے گئے اور وہاں کے بڑے بڑے علما سے فیض حاصل کیا۔اس کے بعد درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں مشغول ہوگئے۔(اخبار الاولیاءص623، اللہ کے خاص بندے،ص680، شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ، ص92)

بیعت:بچپن میں اپنے والد شیخ سیف الدین سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔اس کے علاوہ شیخ موسٰی پاک شہید اور شیخ عبد الوہاب متقی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمَا سے بھی اکتساب فیض کیا۔شیخ خواجہ باقی بِاللّٰہ سے سلسلہ نقشبندیہ میں خلافت حاصل کی۔آپ کو سلسلہ قادریہ کے بانی حضور غوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے بے پناہ عقیدت اور خصوصی تعلق تھا۔خود فرماتے ہیں:”مجھے حضور غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے خواب میں حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اشارے پر بیعت کیا۔“ایک جگہ لکھتے ہیں :”میرا مرکز اعتماد ان پر ہے جن کا قدم اولیاء کی گردنوں پر ہے۔“(اللہ کے خاص بندے،ص680، شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ، ص98،تذکرہ مشائخ قادریہ،ص155،اخبار الاخیار،ص628)

دینی خدمات: آپ کے دور میں اکبر بادشاہ کے گمراہ کن نظریات دین الٰہی کے نام سے پھیل چکے تھے اور بہت سے لوگ اس فریب میں آکر حق کی راہ سے ہٹ گئے تھے۔آپ نے خاموشی سے دہلی میں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی اور درس وتدریس کے ساتھ وعظ کا سلسلہ شروع کردیا ۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ عام لوگوں کے دلوں سے گمراہی والے نظریات دور ہونے لگے اور یوں آپ نے دین الٰہی کا فتنہ ختم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔آپ نے 30سے زیادہ علوم پر 134سے زائد کتابیں لکھیں۔اس کے علاوہ 150 سے زائد نصیحت بھرے وہ خطوط بھی ہیں جو آپ نے اپنے دوستوں،حکمرانوں،علما،صوفیا اور شاگردوں کو لکھے۔اکبر کے مرنے کے بعد جہانگیر نے تخت پر بیٹھتے ہی ایک قاصد آپ کی خدمت میں بھیجا کہ دین سے متعلق کچھ معلومات فراہم کریں ۔آپ نے” نوریہ سلطانیہ“ کتاب لکھ کر بادشاہ کی تربیت فرمائی۔آپ نے چار طریقوں سے تبلیغ اسلام کا مشن جاری رکھا:(1)اپنی اولاد کو ایسی تربیت دی کہ وہ آپ کےمشن کو جاری رکھ سکے۔(2)شاگردوں کو ہندوستان اور بیرون ملک اشاعت اسلام کے لئے روانہ کیا۔ (3) اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے قدیم وجدید موضوع پر کتابیں لکھیں۔(4)علماء و مشائخ،حکمرانوں اور بادشاہوں سے خط وکتابت کرکے رابطہ رکھا۔(اللہ کے خاص بندے،ص682، شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ، ص239،240)

وصال:آپ کا انتقال بروزجمعہ 22ربیع الاول1052ھ مطابق 20جون 1642ء کو ہوا۔مزار مبارک دہلی میں واقع ہے۔(شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ،ص97،440،تذکرہ مشائخ قادریہ،ص161)

از:محمد گل فراز عطاری مدنی(اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی)


دعوتِ اسلامی کے تحت 7اپریل 2022  ءبروز جمعرات اسلام آباد سٹی میں ماہانہ مدنی مشورہ ہوا جس میں اسلام آباد سٹی نگران ، زونز نگران ، سٹی سطح کی شعبہ ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

نگران پاکستان مشاورت اسلامی بہن نے ڈونیشن اور دینی کاموں کے حوالےسے مدنی پھول دیتے ہوئے ذمہ داراسلامی بہنوں کی تربیت کی جس میں انہیں سالانہ ڈونیشن ہدف کو پورا کرنے کی ترغیب دلائی اور ماہانہ آٹھ دینی کام کارکردگی کا تقابل کیا۔ اس کے علاوہ تمام سافٹ ویئر انٹری رپورٹ کا جائزہ لیا نیز اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی بھی کی ۔ 


دعوتِ  اسلامی کے تحت 6اپریل 2022ء بروز بدھ راولپنڈی شہر میں صوبہ سندھ کی نوابشاہ سرکاری ڈویژن کے ساتھ بذریعہ انٹرنیٹ مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں صوبہ سندھ نگران ، نوابشاہ سرکاری ڈویژن ذمہ دار ، ڈسٹرکٹ و کابینہ نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

نگران پاکستان مشاورت ذمہ دار اسلامی بہن نے ڈونیشن اور دینی کاموں کے حوالےسے مدنی پھول دیئے نیز سالانہ ڈونیشن ہدف کو پورا کرنے کے حوالے سے ترغیب دلائی ۔

٭اسی طرح دعوت اسلامی کے تحت 6اپریل2022 ءبروز بدھ راولپنڈی شہر میں نگران پاکستان مجلس مشاورت اسلامی بہن نے صوبہ سندھ کی میر پور خاص سرکاری ڈویژن کا بذریعہ انٹرنیٹ مدنی مشورہ لیا جس میں صوبہ سندھ نگران، میر پور خاص سرکاری ڈویژن، ڈسٹرکٹ و کابینہ نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔


8 اپریل2022ء کو  دعوت اسلامی کے زیر اہتمام نگران عالمی مجلس مشاورت ذمہ دار اسلامی بہن نے بذریعہ انٹر نیٹ مدنی مشورہ لیا جس میں ریجن نگران، پاکستان نگران ، حج و عمرہ اور تقسیم رسائل ذمہ داراسلامی بہنوں کی شرکت ہوئی۔

مدنی مشورے میں حج اجتماعا ت جو شوال میں منعقد ہوگیں اس کے مقامات کے حوالے سے مشاورت ہوئی نیز زیادہ سے زیادہ حج اجتماعات کروانے اور اس کے شیڈول سے متعلق مدنی پھول طے کئے گئے ۔


پچھلے دنوں شعبہ کفن دفن دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام شیخم کلاں تحصیل پتوکی ضلع قصور میں نمازِ جنازہ کورس ہوا جس میں مقامی عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

دورانِ کورس ڈسٹرکٹ قصور ذمہ دار شعبہ کفن دفن محمد دانش تفسیر عطاری نے نمازِ جنازہ کے مسائل حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرکا کو اس کے چند ضروری مسائل بھی سکھائے۔

اس کے علاوہ ذمہ دار نے وہاں موجود کسانوں کو اپنی فصل کا عشر دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات کے لئے دینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:شعبہ کفن دفن، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے تحت 07اپریل  2022ء کو اوورسیز ریجن نگران اسلامی بہنوں کا بذریعہ انٹرنیٹ مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں نگران عالمی مجلس مشاورت ذمہ دار اسلامی بہن نے آفس کا معیار مضبوط کرنے اور ریکارڈ سسٹم میں بہتری لانے سے متعلق مدنی پھول پیش دیئے ۔


پچھلے دنوں شعبہ کفن دفن دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام کچا پکا چک نمبر 43 تحصیل پتوکی ضلع قصور میں نمازِ جنازہ کورس ہوا جس میں علاقے کے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس کورس میں شعبہ کفن دفن ڈسٹرکٹ قصور ذمہ دارمحمد دانش تفسیر عطاری نے نمازِ جنازہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرکا کواس کے چند ضروری مسائل سکھائے اور وہاں موجود کسانوں کو اپنی فصل کا عشر دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات کے لئے دینے کا ذہن دیاجس پر ایک کسان محمد حنیف قادری ذمہ داران کو لوکاٹ کے باغ میں لے کر گئےاور خیر و برکت کی دعا کروائی۔بعدازاں اسلامی بھائی نے اپنی فصل کا پورا عشر دعوتِ اسلامی کو دینے کی نیت کی۔(رپورٹ:شعبہ کفن دفن، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)