اللہ پاک نے نمازِ عصر کی فضیلت کو اپنی لاریب کتاب قرآن مقدس میں یوں ارشاد فرمایا:حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ(۲۳۸)ترجَمۂ کنزُالایمان:نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے ۔(پ2،بقرہ:238 )تو یہاں پر درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ نمازِ وسطیٰ سے مراد نمازِ عصر ہے۔(بخاری،حدیث:6396) اور اسی طرح مسند احمد میں ہے کہ صلوۃ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔ حضرت سمُرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلوۃ وسطی سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :نمازِ عصر۔

اور اسی طرح نمازِ عصر کی فضیلت کو حضور علیہ السّلام نے واضح فرمایا ہے کہ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں (فجر اور عصر) وقت پر ادا کیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔(صحیح بخاری ،حدیث :574)

حضرت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ آدمی ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی( یعنی فجر اور عصر کی نماز)۔(صحیح مسلم،حدیث:1436)

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چاند کی طرف نظر اٹھائی، جو چودھویں رات کا تھا۔ پھر فرمایا :کہ تم لوگ بے ٹوک (بغیر کسی آڑ کے)اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے،جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہوگا۔ اس لئے اگر تم سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے (فجر اور عصر) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے،تو اس کو ضرور پڑھو۔کیونکہ ان ہی کے طفیل دیدارِ الٰہی نصیب ہوگا۔(صحیح بخاری،حدیث:573)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِ عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا۔( صحیح بخاری حدیث: 552)

مولیٰ علی نے واری تری نیند پر نماز

اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے


پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام شاد باغ لاہور میں مختلف مقامات پر سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا گیا جس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری سمیت دیگر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس موقع پر رکنِ شوریٰ نے اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کی دینی و فلاحی خدمات کے بارے میں بتایا اور انہیں دینی ماحول سے ہر دم وابستہ رہنے کا ذہن دیا نیز رمضانُ المبارک کے آخری عشرے میں ہونے والے اعتکاف میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جس پر وہاں موجود اسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:غلام یاسین عطاری دفتر ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


(1) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا ۔(فیضانِ نماز،ص 104) حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔ (فیضانِ نماز،ص 104)

(2) سرکار مدینہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت عثمان بن مَظعُون (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: جس نے عصرکی نماز با جماعت پڑھی اس کے لئے اَولادِ اِسماعیل میں سے ایسے آٹھ غلام آزاد کرنے کا ثواب ہوگا جو بَیْتُ اللہ کی دیکھ بھال کرنے والے ہوں۔ (فیضانِ نماز،ص 149)

(3) صحابی ابنِ صحابی حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

(4) حضرت سیِّدُناجابر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔(ابن ماجہ، 4/503،حدیث:4272)

(5) روایت ہے حضرت عمارہ ابن روبیہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص آگ میں ہرگز داخل نہ ہوگا جو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں پڑھتا رہے یعنی فجراورعصر (مراٰۃ المناجیح،1/393،حدیث:586)

اللہ پاک ہم سب کو عصر کی نماز کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


10رمضانُ المبارک 1443ھ بمطابق 11 اپریل بروز پیر ڈیفنس لاہور میں مختلف مقامات پر سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا گیا جس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے عاشقانِ رسول کی تربیت و رہنمائی کی۔

دورانِ حلقہ رکنِ شوریٰ نے اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کی دینی و فلاحی خدمات کے بارے میں بتاتے ہوئے انہیں دینی ماحول سے ہر دم وابستہ رہنے کا ذہن دیا نیز رمضانُ المبارک کے آخری عشرے میں ہونے والے اعتکاف میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جس پر وہاں موجود اسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:غلام یاسین عطاری دفتر ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


نماز کی اہمیت: باقی تمام فرائض زمین پر فرض ہوئے نماز عرش پر بلا کر فرض کی گئی ۔جس سے معلوم ہوا کہ نماز تمام عبادتوں سے افضل ہے۔اگر اُمّتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نماز سے افضل کوئی تحفہ ہوتا تو اللہ پاک وہی دیتا۔ باقی تمام احکام حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطے فرض ہوئے، لیکن نماز معراج کی رات بلاواسطہ عطا ہوئی اور پھر باقی ارکان ایسے ہیں جو اُمرا پر فرض ہیں غرباء پر فرض نہیں۔ جیسے زکوۃ، حج اور روزہ، مسافر اور بیمار پر فرض نہیں۔ لیکن نماز ہر ایک پر ہر حال میں فرض ہے۔ چاہے آدمی غریب ہو یا امیر، مسافر ہو یا مقیم ،بیمار ہو یا تندرست، نماز کسی حالت میں معاف نہیں۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز

بندہ وصاحب ومحتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

روزے سال میں ایک مرتبہ، زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ، حج زندگی میں ایک مرتبہ، لیکن نماز، روزہ اور وہ بھی پانچ مرتبہ معلوم ہوا کہ نماز اللہ پاک کو بہت پیاری ہے۔

پھر ہر نماز کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی آیت ہے: اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔(پ 5،نساء:103)

وقتِ عصر : بعد ختم ہونے وقت ظہر کے یعنی سوا سایہ اصلی کے دو مثل سایہ ہونے سے، آفتاب ڈوبنے تک ہے۔

قرآن پاک میں نماز عصر کا حکم: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ- ترجَمۂ كنز العرفان : تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصا درمیانی نماز کی۔(پ2،بقرہ:238 )

نماز فجر اور عصر کی فضیلت: حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی فجر و عصر) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔

دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر باقاعدگی سے) ادا کرتا رہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

سنت عصر کی فضیلت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں (سنتیں) پڑھیں ۔ (سنن ابی داوٗد، 2/35،حدیث :1271)

حضرت امّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جو عصر سے پہلے چار رکعتیں(سنتیں) پڑھے، اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرمادے گا۔ (معجم کبیر ،23/281،حدیث :611)

نماز عصر کا دوگنا ثواب: حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا ثواب ملے گا ۔

نمازِ عصر چھوڑنے پر وعید: حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر رہ گئی (یعنی جو جان بوجھ کر چھوڑے )گویا اُس کے اَہل وعیال و مال سب کچھ ہلاک ہوگا ۔(مسلم،حدیث:1317)


اللہ پاک نے قرآن میں ارشاد فرمایا : وَ عَشِیًّا ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور اس وقت جب دن کا کچھ حصہ باقی ہو۔(پ 21،الروم:18)

عصر کا معنی: ”دن کا آخری حصہ“ چونکہ یہ نماز اسی وقت میں ادا کی جاتی ہے اس لئے اس نماز کو عصر کی نماز کہا جاتا ہے۔ (شرح مشکل الآثار للطحاوی،3/31 ملخصاً)

نیز اللہ پاک نے قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ- ترجَمۂ کنزُالایمان:نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی ۔(پ2،بقرہ:238 ) یعنی تمام نمازوں کی خصوصاً عصر کی بہت نگہبانی (یعنی حفاظت) کرو۔

صوفیا فرماتے ہیں :’’جیسے جیو گے ویسے ہی مرو گے اور جیسے مرو گے ویسے ہی اُٹھو گے۔‘‘ خیال رہے کہ مومن کو اُس وَقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سو کر اُٹھا ہوں ، نزع وغیرہ سب بھول جائے گا۔ ممکن ہے کہ اس عرض (مجھے چھوڑ دو!میں نماز پڑھ لوں ) پر سُوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سُوالوں کا جواب ہوچکی ۔

کیا پوچھتے ہو مجھ سے، نکیرین! لحد میں

لو دیکھ لو! دل چیر کے، اَرمانِ محمد(صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)

”العصر“ کی پانچ حروف کی نسبت سے نمازِ عصر کی پانچ فضائل:

(1) جنت میں داخل ہو گیا: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جو دو ٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے جنت میں جائے گا ۔(اتحاف المسلم،ص 52)

(2) حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا : لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا یعنی جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔(اتحاف المسلم،ص 52)

(3) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

(4) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری ،1/203،حدیث:555)

(5) حضرت سیِّدُناجابر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔

یا اللہ پاک ہمیں پانچوں نمازوں کا پابند بنا دے اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہماری مغفرت فرما۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

تو پانچوں نمازوں کا پابند کر دے

پئے مصطَفٰے ہم کو جنت میں گھر دے


اسلام کے ارکان میں ایک اہم ترین رکن نماز ہے۔جس کی تاکید قرآن پاک میں سات سو زائد مرتبہ آئی ہےاور ان نمازوں میں نمازِ عصر کو آیت قرآنی کی روشنی میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے:حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ(۲۳۸)ترجَمۂ کنزُالایمان: نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے ۔(پ2،بقرہ:238 )یعنی تمام نمازوں کی اور خصوصاً عصر کی بہت نگہبانی (حفاظت) کرو۔حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ

(1)حضرت سیِّدُناجابر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے:مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔(ابن ماجہ، 4/503،حدیث:4272)

صوفیاء فرماتے ہیں جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے۔ خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سوکر اٹھا ہوں نزع وغیرہ سب بھول جائے گا ممکن ہے کہ اس عرض پر سوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکی۔(مرآۃ المناجیح۔1/142)

کیا پوچھتے ہو مجھ سے، نکیرین! لحد میں

لو دیکھ لو! دل چیر کے، اَرمانِ محمد(صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)

(2) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔ (مراٰۃالمناجیح ،2/166)

(3) حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

وَتر کا مطلب : حضرت علامہ ابو سلیمان خطابی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :وَتر کا معنی ہے: ’’نقصان ہونا یا چھن جانا،‘‘ پس جس کے بال بچے اور مال چِھن گئے یا اس کا کوئی نقصان ہو گیا گویا وہ اکیلا رہ گیا ۔ لہٰذا نماز کے فوت ہونے سے انسان کو اس طرح ڈرنا چاہیے جس طرح وہ اپنے گھر کے افراد اور مال و دولت کے جانے ( یعنی بربادہونے )سے ڈرتا ہے ۔(اکمال المعلم بفوائد المسلم ،2/590)

(4) حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

(5) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دو ٹنڈی نمازیں (فجر و عصر) پڑھتا رہا وہ جنّت میں داخل ہوگا۔(مسلم،حدیث:635)

اللہ پاک ہم سب کو پانچوں نمازوں کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


(1) نمازِ عصر کا ڈبل اجر: حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

(2)عمل ضبط ہو گیا: تابعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو الْمَلِیْح رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک ایسے روز کہ بادَل چھا ئے ہو ئے تھے، ہم صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے، آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیو نکہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

(3)اہل و عیال اور مال برباد ہو گئے: صحابی ابنِ صحابی حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

(4) فجر و عصر پڑھنے والا جہنم میں نہیں جائے گا: حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

(5) فرشتوں کی تبدیلیوں کے اوقات: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری ،1/203،حدیث:555)


عبادت کی تعریف:عبادت اُس انتہائی تعظیم کا نام ہے جو بندہ اپنی عبدیت یعنی بندہ ہونے اور معبودکی اُلوہیت یعنی معبود ہونے کے اعتقاد اور اعتراف کے ساتھ بجالائے۔یہاں عبادت توحید اور اس کے علاوہ اپنی تمام قسموں کو شامل ہے۔کافروں کو عبادت کا حکم اس معنیٰ میں ہے کہ وہ سب سے بنیادی عبادت یعنی ایمان لائیں اور اس کے بعد دیگر اعمال بجالائیں۔

لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ: تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ملتا ہے جبکہ اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو عبادت یا اور کسی چیز سے نفع حاصل ہو ۔(صراط الجنان،1/85)

(1)فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:حق اور باطل کے درمیان نماز کا فرق ہے۔

(2) قیامت کا سب سے پہلا سُوال: سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیضِ گنجینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اِرشادِ حقیقت بنیاد ہے: قِیامت کے دن بندے کے اَعمال میں سب سے پہلے نماز کا سُوال ہو گا۔ اگر وہ دُرُست ہوئی تو اس نے کامیابی پائی اور اگر اس میں کمی ہوئی تو وہ رُسوا ہوا اور اس نے نقصان اُٹھایا۔(نماز کے احکام،ص 174)

(3) اوقات نمازِ عصر:حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نمازِ عصر قائم کی حالانکہ آفتاب بلند سفید اور صاف تھا۔(مسلم،حدیث:613)

رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نماز عصر پڑھتے تھےاور آفتاب بلند (زردی کے بغیر روشن) ہوتا تھا۔اگر کوئی شخص نمازِ عصر کے بعد مدینہ منورہ شہر سے "عوالی" (مدینہ کی نواحی بستیاں) جاتا تو جب ان کے پاس پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا۔یہ بھی فرمایا کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے حتّٰی کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے بیچ آجائے(یعنی غروب ہونے کے قریب ہوجائے تو کھڑا ہو کر چار چونچیں مارے کہ ان میں اللہ کا تھوڑا ہی ذکر کرے۔(مسلم،حدیث:622)

(4) نمازِ عصر کے فوت ہونے کا گناہ: حضرتِ سیِّدُنا اَبُو الْمَلِیْح رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک ایسے روز کہ بادَل چھا ئے ہو ئے تھے، ہم صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے، آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیو نکہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔

(5)نماز عصر کی فضیلت کے بیان میں: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری ،1/203،حدیث:555)


(1) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھی ، وہ جنت میں داخل ہوگا۔(بخاری،2/474)

(2) حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔(مسلم،4/238)

(3) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا۔( مسلم، ص322،حدیث:1927)

(4) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری ،2/445،حدیث:555)

(5) حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،2/442،حدیث: 553)


(1) حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (فیضانِ نماز،ص99)

(2) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا۔ (فیضانِ نماز،ص 100)

(3) آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۔ (فیضانِ نماز،ص 109)

(4) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اُسے آگ نہ چھوئے گی۔ (فیضانِ نماز،ص 109)

(5) حضرت سیِّدُناجریر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ہم حضورِ پاک صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضِر تھے، آپ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چو دھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: عنقریب (یعنی قیامت کے دن) تم اپنے ربّ کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تو اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نمازِ فجر و عصر کبھی نہ چھوڑو۔ پھر حضرتِ سیِّدُناجریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیتِ مبارَکہ پڑھی: وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ ترجمہ کنزالایمان: اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(پ 16، طٰہٰ: 130)( فیضانِ نماز،ص100)


محمد اریب (درجہ ثالثہ،جامعۃ المدینہ فیضان کنز الایمان کراچی،پاکستان)

Tue, 12 Apr , 2022
3 years ago

نماز دین کے پانچ ستونوں میں سے دوسرا ستون ہے۔ مسلمان عاقل، بالغ، مرد و عورت پر دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔نماز کے متعلق حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ارشادات اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔جیسا کہ احادیث مبارکہ کے مفہوم ہیں:نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔اور ایک جگہ فرمایا: جس نے نماز کو قائم کیا ،اس نے دین کو قائم اور جس نے اسے ڈھا دیا ،اس نے دین کو ڈھا دیا۔

ان پانچ نمازوں میں سے ایک نماز، نمازِ عصر ہے،جو کہ اہمیت کی حامل ہے،اس کی فضیلت احادیث مبارکہ سے واضح ہیں:

(1) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (فیضانِ نماز،ص98)

(2) حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (فیضانِ نماز،ص99)

(3) حضرت سیِّدُناجریر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ہم حضورِ پاک صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضِر تھے، آپ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چو دھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: عنقریب (یعنی قیامت کے دن) تم اپنے ربّ کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تو اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نمازِ فجر و عصر کبھی نہ چھوڑو۔( فیضانِ نماز،ص100)

(4) تابعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو الْمَلِیْح رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک ایسے روز کہ بادَل چھا ئے ہو ئے تھے، ہم صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے، آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیو نکہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔( فیضانِ نماز،ص104)

(5) حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(فیضانِ نماز،ص 106)

محترم قارئین ! حدیث 3،2،1 سے نماز عصر پڑھنے کے اجر و ثواب کا پتہ چلتا ہے کہ نماز عصر پڑھنا کتنے اجر اور فضیلت کا سبب ہے، جہنم سے حفاظت، اللہ کا دیدار اور ثواب کو دگنا کرنے کا ذریعہ نماز عصر کی ادائیگی ہے۔ جبکہ نہ پڑھنے کی تباہ کاریاں کم نہیں۔ حدیث 5،4 کے مطابق اہل و عِیال و مال کے چھن جانے اور عمل کے ضبط ہونے کی عید ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج لوگوں کے گھر والوں اور مال میں برکت نہ رہی جس کو دیکھے واہ بے بسی، بے سکونی اور بے برکتی کا رونا رو رہا ہے۔ کہیں اس کی وجہ ترکِ نمازِ عصر تو نہیں ، کیونکہ اس کا وقت بھی کم ہوتا ہے اور بندہ مصروف بھی ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عصر کی نماز کی حفاظت کریں اور اہتمام کے ساتھ قائم کرے۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم