کسی بھی چیز کے قیام میں اس کے وسطی نقطے( Central Point) کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اگر ہم دنیوی مثال لے تو جسمِ انسانی میں ریڑھ کی ہڈی، عمارت کے اندر وسطی ستون( Central Piller)، کمپیوٹر کے اندر ہارڈ ڈسک وغیرہ ،اسی طرح دین کے معاملے میں ہے شریعت محمدیہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جو فضیلت حاصل ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دین افراط و تفریط سے پاک ہے۔ گویا کہ یہ شریعت، شریعت ِ متوسطہ ہے۔ اسی طرح دین اسلام کی تمام عبادات میں سے نماز کی بہت اہمیت ہے حتیٰ کہ حدیث مبارکہ کا خلاصہ ہے کہ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا اس کا دین میں کوئی حصہ نہیں اور نمازوں کے اندر بھی خاص طور پر نمازِ عصر خاص اہمیت کی حامل کہ رب کریم نے قرآن پاک میں حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-نمازِ عصر کا الگ سے ذکر فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا۔ امام اعظم اور جمہور کے نزدیک "الصلوٰۃ الوسطیٰ" سے مراد نمازِ عصر ہے۔

نمازِ عصر فرض ہونے کی وجہ :حضرت عزیر علیہ السلام سو برس کے بعد زندہ فرمائے گئے۔ اس کے بعد آپ نے چار رکعتیں ادا کیں تو یہ عصر ہو گئی۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب کی اس ادا کو امت مسلمہ پر فرض کر دیا۔(فیضانِ نماز،ص 30)

نمازِ عصر کے فضائل :آئیے اب ہم نماز عصر کے چند فضائل سنتے ہیں:

(1)امام فقیہ ابواللَّیث سمر قندی رحمۃُ اللہِ علیہ نے (تابعی بزرگ) حضرت کعبُ الاحبار رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ اُنہوں نے فرمایا: میں نے ’’تورَیت‘‘ کے کسی مقام میں پڑھا (اللہ اک فرماتا ہے): اے موسیٰ! عصرکی چار رَکعتیں احمد اور ان کی اُمّت اداکرے گی تو ہفت (یعنی ساتوں ) آسمان و زمین میں کوئی فرشتہ باقی نہ بچے گا ،سب ہی ان کی مغفرت چاہیں گے۔(فیضانِ نماز،ص 86)

(2) حضور اکرم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

(3) حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

ایک اور جگہ ارشاد نبوی صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

اللہ پاک سے ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمیں نماز عصر کے ساتھ ساتھ تمام نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ صفِ اول میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


(1) حضرت سیِّدُناجابر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔(ابن ماجہ، 4/503،حدیث:4272)حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ حدیثِ پاک کے اِس حصے (سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے) کے تحت فرماتے ہیں : یہ احساس ’’مُنکَرنَکِیْر‘‘ کے جگانے پر ہوتا ہے، خواہ دَفن کسی وَقت ہو۔ چونکہ نمازِ عصر کی زیادہ تاکید ہے اور آفتاب(یعنی سورج) کا ڈوبنا اِس کا وَقت جاتے رہنے کی دلیل ہے، اس لیے یہ وَقت دکھایا جاتا ہے۔حدیث کے اِس حصے ( مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ) کے تحت لکھتے ہیں :یعنی ’’اے فرشتو! سُوالات بعد میں کرنا عصر کا وَقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔‘‘ یہ وُہی کہے گا جو دنیا میں نمازِعصر کا پابند تھا، اللہ نصیب کرے۔ خیال رہے کہ مومن کو اُس وَقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سو کر اُٹھا ہوں ، نزع وغیرہ سب بھول جائے گا۔ ممکن ہے کہ اس عرض (مجھے چھوڑ دو!میں نماز پڑھ لوں ) پر سُوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سُوالوں کا جواب ہوچکی ۔ (مراٰۃالمناجیح ،1/142)

’’سنت‘‘کے تین حُروف کی نسبت سے سُنّتِ عَصْر کے مُتعلِّق 3فرامینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2) اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۔ (ابو داوٗد ،ج2/35،حدیث :1271)

(3) جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرمادے گا۔ (معجم کبیر، 23/281،حدیث :611)

(4) جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اُسے آگ نہ چھوئے گی۔(معجم اوسط ،2/77،حدیث:2580) (بہارِشریعت ،1/661)

(5) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔ (مراٰۃالمناجیح ،2/166)

٭پہلا اَجر پچھلی اُمتوں کے لوگوں کی مخالفت کرتے ہوئے عصر کی نماز پر پابندی کی وجہ سے ملے گا اور دوسراا جر عصر کی نماز پڑھنے پر ملے گا جس طرح دیگر نمازوں کا ملتا ہے ٭پہلا اَجر عبادت پر پابندی کی وجہ سے ملے گا اور دوسرا اَجر قناعت کرتے ہوئے خرید و فروخت چھوڑنے پر ملے گا، کیونکہ عصر کے وقت لوگ بازاروں میں کام کاج میں مصروف ہوتے ہیں ٭پہلا اجر عصر کی فضیلت کی وجہ سے ملے گا کیونکہ یہ صَلاۃِ وُسْطٰی(یعنی درمیانی نماز) ہے اور دوسرا اَجر اس کی پابندی کے سبب ملے گا۔ (شرح الطیبی، 3/19، مرقاۃ المفاتیح، 3/139)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب نمازِ عصر سمیت پانچوں نمازیں وقت پر پڑھنے والے بن جائے اور باجماعت نمازیں پڑھنے کی سعادت نصیب ہو جائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے تحت پچھلے دنوں شعبہ خدام المساجد والمدارس کے ذمہ داراسلامی بھائیوں نے خیبرپختونخواہ کے صوبائی ذمہ دار شبیر احمد قادری کے ہمراہ مردان کے سٹی میئر حمایت خان معیاراور یونین کونسل گلی باغ کے چیئرمین یوسف خان سے ان کے آفس میں ملاقات کی۔

اس دوران ذمہ داران نے انہیں مختلف شعبہ جات سمیت شعبہ خدام المساجد و المدارس کا تعارف کروایا جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی دینی و فلاحی کاوشوں بالخصوص شعبہ ایف جی آر ایف اور شعبہ فیضان ری ہیبلیٹیشن سینٹر کو سراہتے ہوئے مردان میں بھی اس کی برانچ کھلوانے کی نیت کی تاکہ اسپیشل پرسنز کے درمیان کام کیا جا سکے۔

بعدازاں سٹی میئر حمایت خان معیار نے اس مقصد کے لئے پندرہ کنال زمین دعوت اسلامی کو دینے کی نیت کی اور ہاتھوں ہاتھ اس کا وزٹ بھی کروایا ۔

اس موقع پر مردان ڈویژن کے نگران محمد عارف عطاری اور شعبہ خدام المساجد والمدارس کے مولانا محمد جمیل سبحان عطاری موجود تھے۔(رپورٹ:شعبہ خدام المساجد والمدارس، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اللہ پاک نے ہم سب پر پانچ نمازیں فرض فرمائیں اور ان کو ادا کرنے کا حکم قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا اور رب کریم نے بطور خاص نمازِ عصر کی حفاظت کا حکم فرمایا: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ- ترجَمۂ کنزُالایمان:نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی ۔(پ2،بقرہ:238 )

آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرامین نمازِ عصر کے بارے مندرجہ ذیل ہیں:

فرشتوں کی تبدیلیوں کے اوقات: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری ،1/203،حدیث:555)

جہنم میں داخل نہ ہوگا: حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

نمازِ عصر کا ڈبل اجر: حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

عمل ضبط ہو گیا!: تابعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو الْمَلِیْح رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک ایسے روز کہ بادَل چھا ئے ہو ئے تھے، ہم صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے، آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیو نکہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

اَہْل وعِیال اور مال برباد ہو گئے: صحابی ابنِ صحابی حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

افسوس کہ ہمارے معاشرے میں لاپرواہی کے ساتھ نمازیں ترک کی جاتی ہیں اور عذاب الٰہی کو دعوت دی جاتی ہے اور بعض لوگوں کو تو نماز پڑھنی بھی نہیں آتی علمائے کرام سے دوری کی وجہ سے گناہوں بھری زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی نماز درست کرنے اور مسجد میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ صفِ اوّل میں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ- ترجَمۂ كنز العرفان : تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصاً درمیانی نماز کی۔(پ2،بقرہ:238 ) اس سے مراد تمام نمازوں کی خصوصاً عصر کی بہت حفاظت کرو۔ اللہ پاک کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی نمازِ عصر کے بارے میں تاکید فرمائی ہے۔

(1) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

(2) تابعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو الْمَلِیْح رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک ایسے روز کہ بادَل چھا ئے ہو ئے تھے، ہم صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے، آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیو نکہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

(3) صحابی ابنِ صحابی حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

(4) حضرت سیِّدُناجابر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔(ابن ماجہ، 4/503،حدیث:4272)حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ حدیثِ پاک کے اِس حصے (سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے) کے تحت فرماتے ہیں : یہ احساس ’’مُنکَرنَکِیْر‘‘ کے جگانے پر ہوتا ہے، خواہ دَفن کسی وَقت ہو۔ چونکہ نمازِ عصر کی زیادہ تاکید ہے اور آفتاب(یعنی سورج) کا ڈوبنا اِس کا وَقت جاتے رہنے کی دلیل ہے، اس لیے یہ وَقت دکھایا جاتا ہے۔حدیث کے اِس حصے ( مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ) کے تحت لکھتے ہیں :یعنی ’’اے فرشتو! سُوالات بعد میں کرنا عصر کا وَقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔‘‘ یہ وُہی کہے گا جو دنیا میں نمازِعصر کا پابند تھا، اللہ نصیب کرے۔

(5)حضرت ابن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:کہ جس کی نمازِ عصر جاتی رہی گویا کہ اس کا گھر بار اور مال لُٹ گیا۔(مراٰۃ المناجیح ،1/359،حدیث:546)

میرے پیارے اسلامی بھائیو ! سنا آپ نے نمازِ عصر کے بارے میں فرامین مصطفیٰ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کہ کتنی تاکید آئی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو نمازِ عصر کے ساتھ ساتھ تمام نمازوں کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے تحت 10 اپریل 2022ء بروز اتور شعبہ اوقات الصلوٰۃ کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے عباس پور آزادکشمیرمیں جامع مسجد و دارالعلوم حنفیہ رضویہ کے مفتی محمد حسین چشتی دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی۔

دورانِ ملاقات نگرانِ شعبہ استاذالتوقیت مولانا وسیم احمد عطاری مدنی نے انہیں شعبہ اوقات الصلوٰۃ کی دینی خدمات کے حوالے سے بتاتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے دیگر شعبہ جات کا تعارف کروایا جس پر مفتی صاحب بہت خوش ہوئے اور دعوتِ اسلامی کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہا رکیا۔(رپورٹ:شعبہ اوقات الصلوٰۃ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اللہ پاک نے مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائیں اور ان کی محافظت پر بھی قرآن کریم میں کثیر آیتیں نازل فرمائیں اور نمازِ عصر کی محافظت پر بطور خاص قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ- ترجَمۂ كنز العرفان : تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصا درمیانی نماز کی۔(پ2،بقرہ:238 )

اور نمازِ عصر ادا کرنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار فرامین ملتے ہیں چنانچہ:

(1) وہ جنت میں داخل ہوگا: عن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ انّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ترجمہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھی وہ داخل جنت ہوگا۔(بخاری،2/474)

(2) اس کے لئے دو اجر ہیں: عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا، فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ترجمہ:حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

(3) ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا: عن ابی زھیرۃ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا

ترجمہ:حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

(4) اس کا عمل برباد ہو گیا:عن بریدۃ رضی اللہ عنہ قال:قال النبی:من ترک صلاۃ العصر فقد حبط عملہ ترجمہ: حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نے نمازِ عصر چھوڑی ، تو تحقیق اس کا عمل برباد ہو گیا۔(مسلم،2/442)

(5) اس کے اہل و عیال چھین لئے گئے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ العَصْرِ، كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،2 /440 ،حدیث: 552)

افسوس صد کروڑ افسوس! آج کل ہمارے معاشرے میں نمازوں کو بغیر کسی پرواہ کے قضا کیا جاتا ہے اور عذابِ الٰہی کو دعوت دی جاتی ہے۔ اور بعض مسلمانوں کے دینی علوم سے دوری کی وجہ سے نماز پڑھنی نہیں آتی اور بغیر کسی خوف کے نمازیں قضا کئے جاتے ہیں۔ اللہ پاک پناہ عطا فرمائے ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ نماز درست کر کے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

توفیق دے الٰہی مجھے تو نماز کی

صدقے میں مصطَفٰے کے بنے خو نماز کی


اللہ پاک نے ہم سب پر پانچ نمازیں فرض فرمائیں اور ان کو ادا کرنے کا حکم قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا اور بطور خاص نماز ِعصر کی حفاظت کا حکم فرمایا: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ- ترجَمۂ كنز العرفان : تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصا درمیانی نماز کی۔(پ2،بقرہ:238 )

حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بہت سے فرامین ہیں:

فِرشتوں کی تبدیلیوں کے اوقات: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری ،1/203،حدیث:555)

جہنَّم میں داخل نہ ہو گا: حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

نَمازِ عَصْر کا ڈبل اَجْر: حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

عمل ضبط ہو گیا!:تابعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو الْمَلِیْح رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک ایسے روز کہ بادَل چھا ئے ہو ئے تھے، ہم صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے، آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیو نکہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

اَہْل وعِیال اور مال برباد ہو گئے:صحابی ابنِ صحابی حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

افسوس کہ ہمارے معاشرے میں لاپرواہی کے ساتھ نمازیں ترک کی جاتی ہیں اور بعض لوگوں کو تو نماز پڑھنی بھی نہیں آتی علمائے کرام سے دوری کی وجہ سے گناہوں بھری زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی نماز درست کرنے اور مسجد میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ صفِ اوّل میں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


10 اپریل 2022ء بروز اتوار بعد نمازِ ظہر عباس پور آزادکشمیر میں واقع دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں شعبہ اوقات الصلوٰۃ کے تحت سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا گیا جس میں علمائے کرام، ٹیچرز اور عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس حلقے میں ا ستاذ التوقیت مولانا وسیم احمد عطاری مدنی نے وہاں موجود عاشقانِ رسول کواس شعبے کے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والےدینی کاموں کے حوالے سے بتایا جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔(رپورٹ:شعبہ اوقات الصلوٰۃ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


نماز دین کا اہم اور افضل رکن ہے۔ ہر مسلمان ،عاقل، بالغ پر دن میں پانچ نماز فرض ہیں اور ان پانچ نمازوں میں سب سے افضل نمازِ عصر ہے۔

(1)عَنْ جَابِرٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: "إِذَا دَخَلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتْ له الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَيَجْلِسُ يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي"ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔(ابن ماجہ، 4/503،حدیث:4272) یعنی ’’اے فرشتو! سُوالات بعد میں کرنا عصر کا وَقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔

(2) رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

(3) رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

(4) رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

(5)عن علی رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم قال یوم الخندق حبسونا عن صلاة الوسطى صلاة العصر، ملا الله بيوتهم وقبورهم نارا ترجمہ: روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا :انہوں نے ہمیں بیچ کی نماز یعنی نماز عصر سے روک دیا خدا ان کے گھر اور قبریں آگ سے بھردے ۔(مسلم،بخاری)

تو ہمیں معلوم ہوا کہ نماز عصر کے کتنے فضائل ہیں اور سب سے افضل ہے۔اللہ کریم ہمیں پانچوں وقت کی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک نے ہر عاقل بالغ مسلمان پر پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے۔ان نمازوں میں عصر کی نماز  اعلیٰ عبادت ہے جس کا تذکرہ قرآن و حدیث میں بہت تاکید کے ساتھ ہوا ہے۔نمازِ عصر پڑھنے پر بہت ثواب حاصل ہوتا ہے اور نہ پڑھنے پر بہت عذابات کا مستحق ہوتا ہے۔ اس حوالے سے پانچ احادیث ملاحظہ کیجیے:

(1) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری ،1/203،حدیث:555)

(2) حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں :ایک یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہ جائے گا، اگر گیا تو عارِضی (یعنی وقتی )طور پر۔ دوسرے یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والوں کو اِنْ شَآءَاللہ باقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی اور سارے گناہوں سے بچنے کی بھی، کیونکہ یہی نمازیں (نفس پر) زیادہ بھاری ہیں ۔ جب ان پر پابندی کرلی تو اِنْ شَآءَاللہ بقیہ نمازوں پر بھی پابندی کرے گا۔(مراٰۃ المناجیح ،1/394)

(3) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔ (مراٰۃالمناجیح ،2/166)

(4) غَزْوَہِ خیبر سے واپسی میں صہبا کے مقام پر نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نما زِ عصر پڑھی، اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ الکریم کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ الکریم نے (کسی وجہ سے ابھی تک) نماز ِعصر نہ پڑھی تھی ،یہ اپنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے، مگر اس خیال سے کہ زانو سَرکا تا ہوں تو کہیں حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک نیند میں خَلل نہ آجائے ، زانو نہ ہٹایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، جب نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی چشم ِمبارک کھلی تو حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی نماز کا حال عرض کیا۔ حضورِ انور صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا فرمائی توسورج پلٹ آیا، حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ الکریم نے نمازِ عصر ادا کی، پھر سورج ڈوب گیا۔(صراط الجنان،9/352)

مَولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خَطر کی ہے

(5) حضرت سیِّدُناجابر بن عبدُاللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔(ابن ماجہ، 4/503،حدیث:4272)حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمۃُ اللہِ علیہ حدیثِ پاک کے اِس حصے (سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے) کے تحت فرماتے ہیں : یہ احساس ’’مُنکَرنَکِیْر‘‘ کے جگانے پر ہوتا ہے، خواہ دَفن کسی وَقت ہو۔ چونکہ نمازِ عصر کی زیادہ تاکید ہے اور آفتاب(یعنی سورج) کا ڈوبنا اِس کا وَقت جاتے رہنے کی دلیل ہے، اس لیے یہ وَقت دکھایا جاتا ہے۔حدیث کے اِس حصے ( مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ) کے تحت لکھتے ہیں :یعنی ’’اے فرشتو! سُوالات بعد میں کرنا عصر کا وَقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔‘‘ یہ وُہی کہے گا جو دنیا میں نمازِعصر کا پابند تھا، اللہ نصیب کرے۔ اسی لیے ربّ فرماتا ہے:حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ ترجمۂ کنزالایمان: نگہبانی (یعنی حفاظت) کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی) ۔(پ2،بقرہ:238 )

یعنی ’’تمام نمازوں کی خصوصاً عصر کی بہت نگہبانی (یعنی حفاظت )کرو۔‘‘ صوفیا فرماتے ہیں :’’جیسے جیو گے ویسے ہی مرو گے اور جیسے مرو گے ویسے ہی اُٹھو گے۔‘‘ خیال رہے کہ مومن کو اُس وَقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سو کر اُٹھا ہوں ، نزع وغیرہ سب بھول جائے گا۔ ممکن ہے کہ اس عرض (مجھے چھوڑ دو!میں نماز پڑھ لوں ) پر سُوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سُوالوں کا جواب ہوچکی ۔ (مراٰۃالمناجیح، 1/142)

کیا پوچھتے ہو مجھ سے، نکیرین! لحد میں

لو دیکھ لو! دل چیر کے، اَرمانِ محمد(صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)

ہم بھی اللہ پاک سے دعا کرے کے تمام نمازوں بالخصوص عصر کی نماز کا پابند بنائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ کے فیروز آباد ٹاؤن میں واقع پیرزادہ لاء ایسوسی ایٹس میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے وکلاء کے تحت 11 اپریل 2022ء بروز پیر افطار اجتماع ہوا جس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور سٹی کورٹ کے وکلا نے شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں نگران فیروز آباد ٹاؤن حاجی ساجد علی عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے شرکائے اجتماع کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی اور دعا کروائی۔

بعدازاں ذمہ داران اور وکلا کی باہمی مشاورت سے طے ہوا کہ 18 اپریل 2022ء کو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے آفس میں سیکھنے سکھانے کا حلقہ منعقد کیا جائے گا۔اس کے علاوہ بعدنمازِ مغرب وکلا نے مدنی چینل کو تاثرات دیتے ہوئے مدنی چینل کی 14 ویں سالگرہ پرعاشقانِ رسول کو مبارک باد پیش کی۔(رپورٹ:ابو مصعب محمد صہیب عطاری مجلسِ وکلاء کراچی ساؤتھ سنٹرل زون، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)