ىہ تو سب جانتے ہىں  کہ ىومىہ پانچ وقت کى نماز پڑھنا فرض ہے۔ لىکن پانچوىں نمازوں مىں نمازِ عصر کى بڑى اہمىت ،شدىد تاکىد اور بڑى فضىلت ہے،اسى لىے اللہ پاک نے نمازِ عصر کى خصوصى حفاظت کا مکلف بناىا ہے،جىسا کہ اللہ پاک نے قرآنِ مجىد مىں فرمایا:(البقرۃ ، 238)ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لىا اور اللہ کا رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے؟ اور ہم اس کى عبادت کرنے والے ہىں۔نمازِ عصر کے بہت سارے فضائل ہىں۔ان مىں سے چند کا مىں سرسرى طور پر تذکرہ احادىثِ مبارکہ کى روشنى مىں کررہى ہوں۔1:حضرت ابو بصرہ غفارى رَضِىَ اللہُ عنہ بىان کرتے ہىں: رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہم کو مخمص نامى جگہ پر نما ز عصر پڑھائى تو فرماىا:ىہ نماز آپ سے پہلے لوگوں پر پىش کى گئى ( ىعنى فرض کى گئى) انہوں نے اس کو ضائع کردىا، پس جس نے اس نماز کى حفاظت کى اس کودگنا ثواب ملے گا اور اس کے بعد شاہد( ستارہ)طلوع ہونے تک اور کوئى نماز نہىں۔( ابودى، ابوبصرة الغفارى ، المحدث، مسلم المصدر، مسلم ، الصفحۃ اوالرقم: 830۔ خلاصہ حکم المحدث،) 2: نبىِ کرىم،رسولِ نذىر،سراجِ منىر، آخرى نبى صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ دلپذىر ہے: جب مردہ قبر مىں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتاہے،وہ آنکھىں ملتا ہوا اٹھ بىٹھتا ہے اور کہتا ہے:ذرا ٹھہرو، مجھے نماز توپڑھنے دو۔(ابن ماجہ)تشرىح: ”ذرا ٹھہرو، مجھے نماز توپڑھنے دو“سے مراد اے فرشتو!سوالات بعد مىں کرنا،عصر کا وقت جارہا ہے ،مجھے نماز پڑھ لىنے دو،ىہ وہ کہے گا جو دنىا مىں نماز ِعصر کا پابند تھا۔3: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رواىت ہے،شفىع المذنبىن رحمۃ اللعلمىن،ہمارے آخرى نبى صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہىں:اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتىں (سنتِ غىر ِمؤکدہ )پڑھىں۔(ابوداؤد ترمذى)4:عصر اور فجر کى پابندى کرنا جہنم سے نجات کا سبب ہے۔ سرکارِ مدىنہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:وہ شخص ہر گز جہنم مىں نہىں جائے گا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نمازپڑھے ىعنى جو فجر اور عصر کى نماز ادا کرے۔( مسلم، 1468)نمازِ عصر اتنى اہم نماز ہے ، اس کا اندازہ ہم اس رواىت سے لگاسکتی ہىں۔پىارے نبى صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس کى نمازِ عصر چھوٹ گئى گوىا اس کا گھر اور مال سب لٹ گىا ىعنى عصر جىسى مبارک نماز کا فوت ہونا، بربادى ِاعمال مىں سے ہے۔( بخاری 552)5)نمازِ عصر کى حفاظت کرنا،دىدارِ الہٰى جىسى عظىم الشان نعمت پانے کا ذرىعہ ہے،جىسا کہ حضرت جرىر بن عبداللہ رَضِىَ اللہُ عنہ فرماتے ہىں:ہم لوگ نبىِ کرىم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کى خدمت مىں حاضر تھے،آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھوىں رات کے چاند کى طرف دىکھا،پھر فرماىا: تم لوگ اپنے رب کو اسى طرح دىکھو گے جىسے اس چاند کو دىکھ رہے ہو، اسے دىکھنے مىں تم کو کسى بھى قسم کى کچھ مشقت اور تکلىف نہىں ہوگى، لہٰذا اگر تم سے سورج کے طلوع سے پہلے اور غروب سے پہلے( عصر) کى نمازوں کے پڑھنے مىں کوتاہى نہ ہوسکے تو اىسا ضرور کروپھر آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس آىتِ مبارکہ کى تلاوت فرمائى: آىت مبارکہ تم سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے اللہ کى پاکىزگى بىان کرو۔ (بخاری 573)دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو نمازِ عصر کى اہمىت اور فضىلت سمجھنے کى توفىق عطا فرمائے اور پانچ وقت کی نمازوں کو وقت کى مکمل پابندى کے ساتھ ادا کرنے کى سعادت نصىب فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم

ہر نماز پر ہے اجر ہزار مگر عصر کى نماز ہے بے حد کمال

اس کو چھورنے پر ہے بے حد نقصان گوىا گھر بار خاندان سب برباد


مىرے آقا اعلىٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہىں:نمازِ پنج گانہ ىعنى پانچ وقت کى نماز اللہ پاک کى وہ نعمتِ عظمى ہے کہ ا س نے اپنے کرمِ عظىم سے خاص ہم کو عطا فرمائى ہم سے پہلے کسى اور اُمت کو نہ ملى۔( () فىضانِ نماز، صفحہ 8)کلمۂ اسلام کے بعد سب سے بڑا رکن نماز ہے ۔ہر مسلمان عاقل و بالغ مرد و عورت پر روزانہ پانچ وقت کى نماز فرض ہے۔اس کے فرض ہونے کا انکار کفر ہے۔ جو جان بوجھ کر اىک نماز ترک کردے وہ فاسق،سخت گناہ گار اور عذابِ نار کا حق دار ہے۔پیاری اسلامى بہنو!قرآن و حدىث مىں نماز پڑھنے کے بے شمار فضائل اور نہ پڑھنے کى سخت سزائىں وارد ہىں،چنانچہ پارہ 28 سورۃ المنافقون کى آىت نمبر9 مىں ارشادِ بارى ہے:یا یھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ ومن یفعل ذلک فالٓئک ھم الخسرون0 ترجمہ ٔکنزالاىمان:اے اىمان والو! تمہارے مال نہ تمہارى اولاد کوئى چىز تمہىں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو اىسا کرے وہى لوگ نقصان اٹھانے والوں مىں سے ہے۔حضرت امام محمد بن احمد ذہبى رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہىں:مفسرىنِ کرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں:اس آىتِ مبارکہ مىں اللہ پاک کے ذکر سے مراد پانچ نمازىں ہىں۔پس جو شخص اپنے مال ىعنى خرىد و فروخت ،معىشت وروزگار،سازو سامان ا ور اولاد مىں مصروف رہے اور وقت پر نماز نہ پڑھے وہ نقصان اٹھانے والوں مىں سے ہے۔(اسلامى بہنوں کى نماز،صفحہ نمبر 79)انہى پانچوىں نمازوں مىں سے اىک نمازِ عصر بھی ہے۔اس کى فضىلت کے کىا کہنے!اسى لىے تو ربِّ کریم فرماتا ہے:حفظو ا على الصلوات والصلوة الوسطى ترجمہ ٔکنزالاىمان، نگہبانى ( ىعنى حفاظت ) کروں سب نمازوں اور بىچ کى نماز کى۔(ىعنى تمام نمازوں کی خصوصاً نمازِ عصر کى نگہبانى و حفاظت کرو) صوفىا رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہىں:جىسے جىو گے وىسے ہى مروں گے اور جىسے مرو گے وىسے ہى اٹھو گے۔ خىال رہے !مومن کو اس وقت اىسا معلوم ہوگا جىسے مىں سو کر اٹھتا ہوں،نزع وغىرہ سب بھول جائے گا۔ممکن ہے کہ اس عرض سے(مجھے چھوڑ دو!مىں نماز پڑھ لوں)پر سوال جواب ہى نہ ہوں اور ہوں تو نہاىت آسان کىونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکى۔( فىضانِ نماز،صفحہ7 )صلوة ِوُسطى ىعنى نمازِ عصر کى قرآن شرىف اور احادىثِ مبارکہ مىں بہت تاکىد ہے،چنانچہ اس ضمن مىں پانچ فرامىنِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ملاحظہ ہوں:نمبر1:حضرت ابوموسى رضی اللہ عنہ سے رواىت ہے،فرماتے ہىں:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو دو ٹھنڈى نمازىں پڑھا کرے جنت مىں جائے گا۔ٹھنڈى نمازوں سے مراد فجر اور عشا ىا فجر اور عصر ہے۔( مراة المناجىح جلد اول ص نمبر381) نمبر2: فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:جو عصر سے پہلے چار رکعتىں پڑھے اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرمادے گا۔(فىضانِ نماز،ص نمبر 109) نمبر3:مسلم اور نسائى کى رواىت مىں ہے، فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:ىہ نمازِ عصر تم سے پہلے لوگوں پر پىش کى گئى لىکن انہوں نے اسے کھودىا پس تم مىں سے جو شخص اسے پابندى سے پڑھتا ہے اسے دوگناہ ثواب ملتا ہے اور اس نماز کے بعد ستارے نظر آنے تک کوئى نماز نہىں( مغرب کا جب وقت شروع ہوجاتا ہے تو بعض ستاروں کى تابندگى آجاتى ہے۔)(مکاشفہ القلوب،ص 360)نمبر4:فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:اللہ پاک اس بندے پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے رکعتىں پڑھىں۔(احىا ءالعلوم ،جلد نمبر1، ص نمبر598)نمبر5:حضرت عمارہ بن رویبہ رَضِىَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: مىں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع وغروب ہونے ىعنى نکلنے اورڈوبنے سے پہلے نماز ادا کى( ىعنى جس نے فجر و عصر کى نماز پڑھى) وہ ہر گز جہنم مىں داخل نہ ہوگا۔ حضرت مفتى احمد ىار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدىث کے تحت لکھتے ہىں:خلاصہ کچھ ىوں ہے:اس کے دو مطلب ہوسکتے ہىں:اىک ىہ ہے کہ فجر و عصر کى پابندى کرنے والا دوزخ مىں ہمىشہ رہنے کے لىے نہ جائے گا، اگر گىا تو عارضى(وقتى طور پر )دوسرا ىہ کہ فجر اور عصر کى پابندى کرنے والوں کو ان شاء اللہ باقى نمازوں کی بھى توفىق ملے گى، اور گناہوں سے بچنے کى ىعنى کىونکہ ىہى نمازىں نفس پر زىادہ بھارى ( ىعنى بھارى) ہىں کہ صبح سونے کا وقت ہے اور عصر کا روبار کے فروغ ىعنى ( زور شور) لہٰذا ان ( نمازوں ) کا درجہ زىادہ ہے۔( فىضانِ نماز، ص نمبر100)


علامہ عبدالرؤف مناوى   رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:پانچوں نمازوں مىں سب سے افضل نمازِ عصر ہے،پھر نمازِ فجر پھر نمازِ عشا ،پھر نمازِ مغرب،پھر نمازِ ظہر(فىض القدىر ج 2، ص 3)1:صحابى ابنِ صحابى حضرت عبداللہ بن عمر رَضِىَ اللہُ عنہما سے رواىت ہے، اللہ پاک کے پىارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کى نمازِ عصر نکل گئى (ىعنى جو جان بوجھ کر نماز چھوڑے) گوىا اس کے اہل و عىال مال وتر ہو(ىعنى چھىن لىے) گئے۔(بخارى ج 1، ص 202 حدىث 002)2:حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو عصر سے پہلے چار رکعتىں پڑھے،اسے آگ نہ چھوئے گى۔(بہار شرىعت ، ج1، ص 441)3: خادمِ نبى حضرت انس بن مالک رَضِىَ اللہُ عنہ بىان کرتے ہىں:مىں نے سرورِ کائنات صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:ىہ منافق کى نماز ہےکہ بىٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے حتى کہ جب سورج شىطان کے دو سىنگوں کے بىچ آجائے ( ىعنى غروب ہونے کے قرىب ہوجائے) تو کھڑا ہو کر چار چونچىں مارے کہ ان مىں اللہ پاک کا تھوڑا ہى ذکر کرے۔(مسلم، ص 234، حدىث: 1312)امام فقىہ ابواللىث سمر قندى رحمۃ اللہ علیہ نےتابعى بزرگ حضرت کعب بن الاحبار رَضِىَ اللہُ عنہ سے نقل کىا کہ انہوں نے فرمایا:مىں نے تورىت کے کسى مقام مىں پڑھا ( اللہ پاک فرماتا ہے:)اے موسى!عصر کى چار رکعتىں احمد اور ان کى امت ادا کرے گى تو ہفت (ىعنى ساتوں) آسمان و زمىن مىں کوئى فرشتہ باقى نہ بچے گا، سب ىہى ان کى مغفرت چاہىں گے اور ملائکہ جس کى مغفرت چاہىں مىں اسے ہر گز عذاب نہ دوں گا۔( حاشىہ فتاوىٰ رضوىہ مخرجہ ج 5، ص 52، تا 53) 4: حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے،جس نے عصر سے پہلے چار کعتىں پڑھىں۔(ابوداؤد، 2/ 3، حدىث: 1271)نمازِ عصر کى پہلى چار رکعتىں سنتِ غىر مؤکدہ ہىں۔دىکھا آپ نے! اس حدىثِ مبارکہ مىں نمازِ عصر کى چار سنتوں کى کتنى فضىلت بىان کى گئى! اس لىے ہمىں بھى چاہىے کہ اس کا اجرو ثواب حاصل کرىں اور نہ صرف اجرو ثواب کے لىے ہم ىہ چار رکعتىں ادا کرىں بلکہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کى رضا حاصل کرنے کے لىے ىہ کام کرىں، کىونکہ صرف فرض نمازىں پڑھنا ہى اسلام نہىں ہے، ىعنى اگر کوئى نمازىں،فرائض اور نوافل تو ادا کرتا ہو لىکن سنتوں کو چھوڑ دے اور خود کو ویسےوہ کہتا عاشق رسول ہو اور اس عشق میں جان بھی لٹانے کی بات کرے تو پھر کہاں گیا وہ عشقِ سول؟اس لىے ہمىں چاہىے کہ صرف لفظوں سے نہىں بلکہ عمل سے بھى ىہ ظاہر کرنا ہے کہ ہم عاشقِ رسول ہىں،لىکن ىہاں ىہ بات بھى ضرورىاد رکھنى چاہىے کہ صرف نماز پڑھنا ہى اسلام نہىں اگر دل مىں عشقِ مصطفٰے کى تڑپ نہ ہو ان کے لىے اپنا مال اپنى جان، اپنى اولاد قربان کرنے کى ہمت نہ ہو تو پھر ان نمازوں کا کىا فائدہ؟ کسی نے لکھا ہے:نماز اچھى، روزہ اچھا،زکوٰة اچھى،حج اچھا ،مگر باوجود مىں اس کے مسلمان ہو نہىں سکتا،نہ جب تک کٹ مروں خواجہ بطحا کى حرمت پر،خدا شاہد ہے کامل مىرا اىمان ہو نہىں سکتا۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمىں حقىقى معنوں مىں عاشقِ رسول بننے کى توفىق عطا فرمائے۔ امىن۔5: حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرماىا:جس کا مفہوم کچھ ىوں ہے: جس کى اىک نماز ِ عصر رہ گئى ىعنى جس نے اىک دن کى نمازِ عصر چھوڑ دى اس کى دنىا اور آخرت تباہ ہوگئى۔ اللہ اکبر! دىکھا آپ نے !نمازِ عصر کے بارے مىں کتنا سخت حکم ہے کہ جس کى اىک نمازِ عصر رہ گئى اس کى دنىا اور آخرت تباہ ہوگئى ۔آج کل اکثرىت اىسى ہے جو نمازِ عصر کو چھوڑ دىتى ہے، اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمىں حقىقى معنى مىں نماز پڑھنے کى توفىق عطا فرمائے اور ہمىں سچا عاشقِ رسول بنائے۔ امىن


الحمدللہ علی احسانہٖ! ہم کتنی خوش نصیب ہیں کہ ہمیں نماز جیسی عظیم نعمت عطا ہوئی لیکن افسوس! لوگ کتنے ناقدرے ہیں کہ نمازیں قضا کر رہے ہیں اور معاذ اللہ نمازیں قضا کرنے کو گویا عیب ہی نہیں سمجھتے۔اللہ پاک مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے۔ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں جن میں ایک نمازِ عصر بھی  ہے جس کی بہت فضیلت ہے لیکن افسوس!صد افسوس! لوگ نمازِ عصر میں کوتاہی کرتے ہیں اور دنیاوی مشاغل میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ انہیں نمازِ عصر کے قضا ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔نمازِ عصر دیگر نمازوں کے مقابلے میں اعظم یعنی زیادہ عظمت والی ہے کیونکہ یہ ایسے اوقات میں فرض ہے جو شرف یعنی عظمت و بزرگی والا ہے۔عصر دن کے آخری حصے میں ادا کرنی ہوتی ہے اور اس وقت میں اعمال اٹھائے جاتے ہیں ،لہٰذا انسان کو چاہیےکہ وہ اس وقت عبادت میں مشغول ہو تاکہ اس کے رزق اور عمل میں برکت دی جائے ۔اس نمازِ عصر کی تاکید اس لیے ہے کہ نمازِ عصر سیر و تفریح کی غفلت کا وقت ہے۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:حفظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی۔(1)حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دوگنا یعنی(double)اجر ملے گا۔(مسلم،ص322،حدیث:1927)(2)حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں:میں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے یعنی نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز ادا کی یعنی جس نے فجر اور عصر کی نماز پڑھی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم،ص250،حدیث:1436)(3)تابعی بزرگ حضرت ابو الملیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک ایسے روز کہ بادل چھائے ہوئے تھے ہم صحابی رسول حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے۔ آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیونکہ سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے نمازِ عصر چھوڑ دی اس کا عمل ضبط یعنی ضائع ہو گیا۔(بخاری،1/203،حدیث:553)(4)خادمِ نبی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے سرورِ کائنات صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے حتی کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے بیچ آ جائے( یعنی غروب ہونے کے قریب ہو جائے) تو کھڑا ہو کر چار چونچے مارے کہ ان میں اللہ پاک کا تھوڑا ہی ذکر کرے۔(مسلم،ص256،حدیث:1412)(5)حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے:مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں۔(ابن ماجہ،4/503،حدیث:4272)

رحمت کے شامیانوں میں خوشبو کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوا چلائے گی اے بھائیو!نماز

دور ہوں بیماریاں،بیکاریاں،ناکامیاں دل میں داخل ہو مسرت تم پڑھو دل سے نماز

پڑھتی رہو نماز تو چہرے پہ نور ہے پڑھتی نہیں نماز وہ جنت سے دور ہے۔


نمازِ عصر نمازوں کے اوقات میں تیسری مرتبے پر فائز ہے،لیکن افضلیت اور کمال میں اعلیٰ درجے کی نماز ہے کیونکہ اس نماز کو پڑھنے والے کے لیے اللہ پاک نے جہنم سے نجات وعدہ فرمایا ہے۔ یہ نماز دن کے آخری حصے یعنی غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے ادا کی جاتی ہے۔اس میں لوگ دنیاوی مشغلے یعنی کاروبار،رزق کمانے میں مشغول ہوتے ہیں۔نمازِ عصر کو سب سے افضل نماز اس وجہ سے کہا گیا ہے  کہ جب بندہ دنیاوی فکر سے آزاد ہو کر اس نماز کو ادا کرتا ہے تو جہنم سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔اس نماز کو صلاۃ الوسطی یعنی درمیانی نماز بھی کہا جاتا ہے چونکہ کام اور کاروبار ہونے کی وجہ سے اس نماز کو ادا کرنا نفس پر بھاری گزرتا ہے اس وجہ سے اس کا اجر و ثواب زیادہ ہے اورعصر کی فضیلت کے بارے میں حدیثِ مبارکہ بھی ہے،چنانچہ فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے،اللہ پاک اس شخص پر رحم پر فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۔(ابوداود،ص30،حدیث:1271)صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کی عصر کی نماز نکل گئی (یعنی جان بوجھ کر نماز چھوڑے) گویا اس کے اہل و عیال اور مال وتر یعنی چھین لیے گئے۔(بخاری،1/202،حدیث:552)مسلم شریف کی ایک روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ شخص جہنم میں ہرگز داخل نہیں ہوگا جو طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے(یعنی فجر اور عصر )کی نماز پڑھتا ہو۔(مسلم،ص25،حدیث:1439)(4)حضرت ابو بصرہ غفاری رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے،مدینے والے آقا،احمد مجتبیٰ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔(مسلم،ص322،حدیث:1927)(5)حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں،ہم حضور اقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے،حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:عنقریب (یعنی قیامت کے دن) تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو عصر کی نماز اور فجر کی نماز نہ چھوڑو۔پھر حضرت جریر رَضِیَ اللہُ عنہ نے یہ آیت پڑھی:وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا(پ16،طہ:31) ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب پاک کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(مسلم،ص239،حدیث:1434ملخصاً)پیارے مسلمانو!نمازِ عصر درمیانی درجے کی نماز ہے جس میں دن اور رات کے فرشتے اکھٹے ہوتے ہیں اور بندوں کے بارے میں لکھ رہے ہوتے ہیں اسی دوران ہمارے اعمال نامے بند کیے جاتے ہیں اور اللہ پاک کو پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم عصر کی نماز سچے دل سے ادا کریں تو اللہ پاک ہم سے زیادہ خوش ہو جائے گا اور جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے گا بلکہ صرف نمازِ عصر ہی نہیں باقی تمام نمازیں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں۔نماز کے وقت لوگ اپنے کاروبار میں مشغول ہوتے ہیں اورجب انہیں نماز کا خیال آتا ہے تو ان کا نفس ان کے اوپر حاوی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ جماعتِ عصر کو ترک کر دیتے ہیں۔رزق کا وعدہ اللہ پاک نےفرمایا ہے۔اگر ہم کام کاج چھوڑ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گی تو کیا ہمیں رزق عطا نہیں کرے گا؟ بلکہ وہ تو ہمارا رزق کشادہ کر دے گا۔


عصر کا معنی: دن کا آخری حصہ۔عربی میں زمانے کو عصر کہتے ہیں۔عصر اس وقت کو بھی کہتے ہیں جو سورج غروب سے پہلے ہوتا ہے ۔ماہنامہ خواتین کی قاریات!عین جس طرح تمام عبادتوں میں افضل عبادت نماز ہے،اسی طرح نمازوں میں افضل نمازِ عصر ہے۔ جیسا کہ علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:پانچوں نمازوں میں سب سے افضل نمازِ عصر ہے۔(فیض القدیر،2/253)قرآنِ کریم نے بھی عصر کی بہت تاکید فرمائی اور حدیث نے بھی۔عصر کے متعلق فرمانِ باری ہے:ترجمۂ کنز الایمان:نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی۔(پ2، البقرۃ:238)تفسیرصراط الجنان میں ہے:”تمام نمازوں کی پابندی اور نگہبانی کرو“اس نگہبانی میں ہمیشہ نماز پڑھنا، باجماعت پڑھنا،درست پڑھنا،صحیح وقت پر پڑھنا سب داخل ہیں۔درمیانی نماز کی خصوص تاکید کی گئی۔درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے:نمازِ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔(صراط الجنان،1/363ملخصاً)نمازِ عصر کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:(1)جنتی صحابی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے،مدینے کے تاجدار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں،پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اُوپر کی طرف چلے جاتے ہیں۔اللہ کریم باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے:تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟وہ عرض کرتے ہیں:ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔(بخاری،1/203،حدیث:555)(2)حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے یعنی نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز ادا کی یعنی جس نے فجر اور عصر کی نماز پڑھی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص250،حدیث:1436)(3)حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حضور اقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے،آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:عنقریب یعنی قیامت کے دن تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو،تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نمازِ فجر اور عصر کبھی نہ چھوڑو۔(مسلم،ص239،حدیث:1434ملخصاً)حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا، لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دوگنا یعنی double اجر ملے گا۔(مسلم،ص322،حدیث:1927)مفسر ِقرآن حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے تو تم ان سے عبرت پکڑنا۔(مراۃ المناجیح،2/166)(5)صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کی عصر کی نماز نکل گئی یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑ بیٹھے گویا اس کے اہل و عیال اور مال و تر ہو گئے یعنی چھین لیے گئے۔(بخاری،1/202،حدیث:552)حضرت علامہ ابو سلیمان خطابی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:وتر کا معنی نقصان ہونا یا چھن جانا،پس جس کے بال بچے اور مال چھن گئے یا اس کا نقص ہوگیا گویا وہ اکیلا رہ گیا، لہٰذا نماز کے فوت ہونے سے انسان کو اس طرح ڈرنا چاہیےجس طرح وہ اپنے گھر کے افراد اور مال و دولت کے جانے یعنی برباد ہونے سے ڈرتا ہے۔(اکمال المعلم بفوائد مسلم،2/590)اللہ کریم ہمیں تمام نمازوں کو پابندی کے ساتھ صحیح وقت پر درست طریقے سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اے عاشقانِ رسول ! نماز اللہ پاک کى طرف سے وقت باندھا ہوا فرض ہے جس کو ہر عاقل بالغ مسلمان پر ادا کرنا لازم قرار دىا گىا۔اس کى  فرضىت کے بارے مىں مسلمان کے بچے بچےکو علم ہے۔قرآنِ کرىم مىں اللہ پاک نے سىنکڑوں مقامات پر نماز کا تذکرہ فرماىا ۔مىرے آقا اعلىٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہىں: نماز پنجگانہ ( پانچ وقت کى نماز) اللہ پاک کى وہ نعمتِ عظمى ہے کہ اس نے اپنے کرمِ عظىم سے خاص ہم کو عطا فرمائى، ہم سے پہلے کسى امت کو نہ ملى۔( فتاوىٰ رضوىہ،ص43)اس کے فضائل قرآن و احادىثِ صحىحہ کے اندر کثرت سے وارد ہوئے ہىں ۔خاص کر نمازِ عصر ، نمازِ عصر مىں چونکہ لوگ اپنے کاروبار اور دىگر کاموں مىں مشغول ہوتے ہىں اس لىے اس کے فضائل دوسرى نمازوں کے مقابل کثرت سے وارد ہوئے ہىں جىسا کہ1: حضرت عمارہ بن روىبہ رَضِىَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: مىں نے مدنى آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے سے پہلے نماز ادا کى ( ىعنى فجر اور عصر پڑھى) وہ ہر گز جہنم مىں داخل نہ ہوگا۔(مسلم ص 250، حدىث 1936)مفتى احمد ىار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہىں: اس رواىت کے دو مطلب ہو سکتے ہىں: اىک ىہ کہ فجر و عصر کى پابندى کرنے والا دوزخ مىں ہمىشہ رہنے کے لىے نہ جائے گا، اگر گىا تو عارفى طور پر۔ دوسرے ىہ کہ فجر و عصر کى پابندى کرنے والے کو ان شا ءاللہ باقى نمازوں کى بھى توفىق ملے گى۔2: بخارى و مسلم کى رواىت مىں ہے:جس نے جان بوجھ کر عصر کى نماز چھوڑ دى اس کے سارے کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔3: حضرت ابوہرىرہ رَضِىَ اللہُ عنہ سے رواىت ہے،مدىنے کے تاجدار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم مىں رات اور دن کے فرشتے بارى بارى آتے ہىں اور فجر اور عصر کى نمازوں مىں جمع ہوتے ہىں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم مىں رات گزارى ہوتى ہے وہ اوپر کى طرف چلے جاتے ہىں،اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے: تم نے مىرے بندوں کو کس حال مىں چھوڑا؟وہ عرض کرتے ہىں :ہم نے انہىں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھى وہ نماز پڑھ رہے تھے۔4: حضرت عبداللہ بن عمر رَضِىَ اللہُ عنہما سے مروى ہے،مدىنے والے آقا علىہ الصلوة والسلام نے فرمایا: کہ اللہ پاک اس بندے پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعات پڑھىں۔( اس کو ابوداود اور دىگر محدثىن نے رواىت کىا۔ ترمذى نے اس کو حسن قرار دىا۔(شرح آثار السنن حدىث 681)5: حضرت ابوہرىرہ رَضِیَ اللہُ عنہ بىان کرتے ہىں،رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرماىا ،حتى کہ سورج غروب ہوجائے اور صبح کى نماز کے بعد حتى کہ سورج طلوع ہوجائے۔( اس کو شىخىن نے رواىت کىا) (702 حدىث)اس رواىت اور دىگر اس طرح کى رواىات سے معلوم ہوا!عصر کى نماز کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہے،نماز پڑھنے سے منع نماز نوافل ہیں۔اے عاشقانِ مصطفٰے! عبادتوں کا شوق پانے ،نمازوں کا ذوق بڑھانے اور اس کى اہمىت و افضلىت سىکھنے کے لىے دعوتِ اسلامى کے دىنى ماحول سے وابستہ رہىے، ذىلى حلقے کے آٹھ دینی کاموں مىں بڑھ چڑھ کر عملى طور پر شامل ہوجائىے۔اللہ کرىم ہمىں اپنى نمازوں کى حفاظت کرنے کى توفىق عطا فرمائے۔آمىن


قرآنِ کریم میں اللہ پاک کا نمازِ عصر کے بارے میں ارشاد ہے:فاصبر علی ما یقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل غروبھا ترجمہ: اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو اور نمازوں کے بعد۔اس آیتِ مبارکہ میں تسبیح سے مراد نماز ہے۔اس آیت میں نمازِ فجر و عصر کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے کیونکہ اس وقت رات اور دن کے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔(نور العرفان) جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث سے ظاہر ہے۔تم میں رات اور دن کے فرشتے بار ی باری آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، پھروہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں،اللہ پاک باخبر ہونے کے باوُجودان سے پوچھتا ہے:تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری ج۱ص۲۰۳ حدیث۵۵۵) پانچ نمازوں میں سے خاص نمازِ عصر کی نماز ہے اس کے بارے میں نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کسی کے اہل اور مال میں کمی کر دی جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کی نمازِ عصر فوت ہوجائے۔(مجمع الزوائد،2/50،حدیث:1715) (2)ایک اور حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:حضرت ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں پڑھیں فجر اور عصر تو وہ جنت میں جائے گا۔ مشہور مقولہ ہے:نماز اگر عادت بن جائے تو کامیابی مقدر بن جاتی ہے اور اس کا ثبوت اس حدیثِ مبارکہ سے ملتا ہے:ابنِ ماجہ کی حدیث میں ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اُسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: ’’مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۔‘‘(ابن ماجہ،4 /503،حدیث:4272) نمازِ عصر کی فضیلت اس حدیثِ مبارکہ سے روز روشن کی طرح واضح ہے۔رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ہر گز وہ آدمی جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا جو سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز اور سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز پڑھے۔ (مسلم،حدیث:1436)ان تمام آیاتِ مبارکہ اور حدیثِ مبارکہ کی روشنی سے معلوم ہوا !نماز وہ سمندر ہے جس میں غوطہ زن ہونے سے ان اسرارِ دلفگار کے موتیوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے جن سے معبود اور بندے کے درمیان مبارک اور مقدس رشتہ اور تعلق کی کیفیات قبل و روح پر منکشف ہوتی ہیں۔اللہ کریم ہمیں پنج وقتہ نمازوں کی پابندی نصیب فرمائے۔آمین

مولیٰ سے اپنے ملتا ہے بندہ نماز میں اُٹھ جاتا ہے جدائی کا پردہ نماز میں

تن کی صفائی حق کی رضا دل کی روشنی کیا کیا نہیں ہے خوبیاں اےبندے نماز میں

یہ قبر میں انیس یہ محشر میں شفیع عقبیٰ کا چین خلد کا وعدہ نماز میں


اللہ پاک کا فرمان ہے:حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۗ(پ2،البقرة:238)ترجمۂ کنز العرفان:تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصاً درمیانی نماز کی۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے:’’نمازِ وسطیٰ سے مرادعصر کی نمازہے۔(بخاری،کتاب الدعوات،باب الدعاء علی المشرکین،4 /216،حدیث:6396)جس طرح قرآنِ مجید میں نمازِ عصر کی اہمیت ذکر کی گئی ہے۔اسی طرح احادیثِ مبارکہ کا ذخیرہ بھی نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت کے ذکر سےمعمور ہے۔ان میں سے چند درج ذیل ہیں:رؤیتِ باری کی بشارت:جنتیوں کےلئےافضل ترین نعمتِ الٰہی اللہ پاک کادیدار ہے جس کے لیے تمام جنتی انتظارکریں گے۔ایک بار ہو گا تو پھر دوبارہ دیدار کاانتظارہوگا۔نمازِ عصر ادا کرنے والے کےلئے دیدارِ الہٰی کی بشارت بیان کی گئی ہے،چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ہم ایک رات نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا تو فرمایا: یقیناً تم اپنے رب کو دیکھوگے جس طرح تم اس چاندکودیکھ رہے ہو۔اسے دیکھنے میں تمہیں دھکم پیل نہیں کرنی پڑے گی،اس لیے اگرتمہارے لیےممکن ہو تو طلوعِ آفتاب اورغروبِ آفتاب سے پہلے نماز نہ چھوڑو۔ پھر آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ آیت پڑھی:ترجمہ:آفتاب نکلنے اورغروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہیں۔(بخاری،کتاب تفسیرالقران،حدیث:4851) جنت میں داخلے کی بشارت:ایک مسلمان کے لئے جنت ایک نعمتِ عظمیٰ ہے اور ہر مسلمان (نیک و بدسب) جنتِ خلد پانا اور جہنم سے رہائی چاہتاہے اس لئے ہمیں نماز ِعصر کی پابندی کرنی چاہیے۔کیونکہ نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جوشخص دو ٹھنڈی نمازیں(فجروعصر)پڑھتا رہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(شرح مسلم ،2/256،حدیث:1337) نارِ دوزخ سے رہائی کی بشارت:ارشادفرمایا:جس نے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور اس کے غروب ہونے سےقبل یعنی فجر اور عصر کی نماز ادا کی وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔(مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلٰوة، باب فضل صلاتی الصبح والعصر الخ ، 1 / 440، رقم : 634) عصر کا ترک اہل و مال کی تباہی کا سبب:جہاں نمازِ عصر کی ادائیگی خلد کی نعمتِ عظمیٰ کے حصول کا سبب ہے وہیں اس کا ترک سببِ بربادیِ اعمال و ہلاکتِ اہل و مال کا سبب ہے۔اس لئے کہ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس کی عصر کی نماز فوت ہوجائےگویا اس کا اہل و مال(سب کچھ)ہلاک ہوگئے۔(شرح مسلم ،2/247،حدیث:1317) عصر کا ترک اعمال کے باطل ہونے کا سبب ہے،چنانچہ فرمایا:جس نے نمازِ عصر چھوڑی اس کا عمل باطل ہو گیا۔(بخاری، کتاب مواقيت الصلٰوة، باب اثم من ترک العصر، 1/203، رقم : 528)۔ چنانچہ تفسیر صراط الجنان میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 238 کی تفسیر میں ہے:نمازِ عصر کی تاکید کی ظاہری وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ ایک تو اس وقت دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں اوردوسرا یہ کہ اس وقت کاروبار کی مصروفیت کا وقت ہوتا ہے تو اس غفلت کے وقت میں نماز کی پابندی کرنا زیادہ اہم ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اللہ پاک نے دنیا میں ہر چیز کسی مقصد کے تحت تخلیق فرمائی ہے اور زندگی گزارنے کے لیے مختلف اصولوں کو ترتیب دیا ہے تاکہ تمام کائنات کا نظام اپنے طرز پر چلتا رہے خواہ وہ دنیا کے معاملات ہوں یا دینی معاملات ہوں اسی طرح ہم بھی اپنی زندگی کو ان اصولوں کے تحت گزاریں تو ہمیں مختلف مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جیسا کہ دن کے وقت دن کے معاملات اور رات کے وقت کی الگ طرزِ زندگی ہوتی ہے۔عبادات میں بھی اللہ پاک نے بنیادی اصولوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے احکامِ شریعت نافذ فرمائے ہیں اور یہ سب اللہ کریم نے اپنی آخری کتاب قرآنِ پاک جو کہ اپنے محبوب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل فرمائی اس میں ہر ہر بات کو خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ۔ظاہر ہے کہ کلامِ الہٰی ہے خوبصورت تو ہوگا ہی اور جو اس پر عمل کرے اس کی زندگی اور آخرت دونوں ہی سنور جاتی ہیں۔ ہمارے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قرآنِ پاک کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے احسن انداز میں اسے ہم تک پہنچایا اور تمام عبادات کی اہمیت اور فضیلت کا علم ہم تک پہنچایا جیسا کہ عبادتوں میں سب سے زیادہ اہمیت نماز کو حاصل ہے کسی اور عبادات کو نہیں کیونکہ قرآنِ پاک میں نماز کے بارے اللہ پاک نے سب سے زیادہ احکام نازل فرمائے ہیں۔قرآنِ پاک کی روشنی میں:ترجمۂ کنز الایمان:اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔(پ16،طہ:14)ایک آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:ترجمۂ کنز الایمان: بے شک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے۔(پ21،العنکبوت:45)نماز اللہ پاک کو یاد کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔نماز ہمیں برائیوں سے روکتی اور بے حیائی کے کاموں سے بھی باز رکھتی ہے۔نماز انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔(سنن کبری للنسائی،5/280،حدیث:8888)نماز سے ہمیں روحانی اور جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔نماز میرے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔(تنبیہ الغافلین،ص150)نماز حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں:حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے کوئی ایسی چیز فرض نہ کی جو توحید اور نماز سے بہتر ہو،اگر اس سے بہتر کوئی چیز ہوتی تو وہ ضرور فرشتوں پر فرض کرتا،ان( یعنی فرشتوں)میں کوئی رکوع میں ہے،کوئی سجدے میں۔(مسندالفردوس،1/65،حدیث: 610) نماز ایسی پیاری عبادت ہے کہ جیسے نمازی نماز شروع کرتا ہے نماز کے فیوض و برکات حاصل ہونا شروع ہو جاتے ہیں جیسا کہ اس حدیثِ مبارکہ میں ہم سے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ معظم ہے:بندہ جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس کے لئے جنتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کے اور پروردگار کے درمیان حجابات یعنی پردے ہٹا دئیے جاتے ہیں اورحورِ عین(یعنی بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں)اس کا استقبال کرتی ہیں،جب تک ناک سنکے نہ کھنکارے۔(معجم کبیر،8/250،حدیث:7980)علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:پانچوں نمازوں میں سب سے افضل نماز عصر ہے،پھر نمازِ فجر،پھر نمازِ عشا،پھر نمازِ مغرب،پھر نمازِ ظہر ۔آئیے! ہم نمازِ عصر کے بارے میں قرآن اور حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اس کی اہمیت اور فضیلت جاننے کی سعادت حاصل کریں گی۔قرآنِ پاک کی روشنی میں:اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمۂ کنز الایمان:نگہبانی(یعنی حفاظت) کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی۔حدیثِ پاک کی روشنی میں عصر کی نماز کی اہمیت اور فضیلت:حضرت جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عنہ بیان فرماتے ہیں:ہم حضورِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے،آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:عنقریب یعنی قیامت کے دن تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گےجس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو،تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نماز فجر و عصر کبھی نہ چھوڑو۔( مسلم،ص239، حدیث:1437ملخصاً)ایک اور حدیثِ پاک میں ارشادِ نبوی ہے:تابعی بزرگ حضرت ابو الملیح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: ایک ایسے روز کہ بادل چھائے ہوئے تھے ہم صحابیِ رسول حضرت ابو بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے،آپ نے فرمایا: عصر کی نماز میں جلدی کرو کیوں کہ سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کا عمل ضبط ہو گیا۔(بخاری،1/253،حدیث: 553)صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،اللہ پاک کے پیارے نبی،آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کی نمازِ عصر نکل گئی یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے گویا اس کے اہل و عیال اور مال وتر ہو گئے یعنی چھین لیے گئے۔(بخاری،1/252،حدیث:552)رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔(مسندابی یعلی،1/288،حدیث:4897)(بہار شریعت،3/435)حضرت محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اس حدیثِ مبارکہ میں نمازِ عصر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ نماز یعنی عصر کی نماز تم سے پچھلے لوگوں پر پیش گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا،لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا یعنی double اجر ملے گا۔ میری پیاری پیاری اورمیٹھی میٹھی اسلامی بہنو!کتنی پیاری فضیلت حدیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے! اس حدیثِ مبارکہ اور قرآنی آیتِ مبارکہ سے یہ معلوم ہوا کہ نمازِ عصر کی اہمیت اور فضیلت بہت زیادہ ہے ۔یہ وقت دن کا درمیانہ حصہ ہوتا ہے جو کہ مصروفیت کا وقت بھی کہلاتا ہے، بازاروں وغیرہ کہیں جانا یا پھر کوئی آئے غرض کہ اس وقت میں مصروفیات بڑھ جاتی ہیں اور ہم اتنی کاہل ہیں کہ اپنی دنیاوی مصروفیات کے باعث نمازِ عصر قضا کر کے اس کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتی ہیں، یہ بھی نہیں بلکہ ڈھیروں اجر و ثواب کو ضائع کرنے کا بھی سبب بنتی ہیں اور اس کا ہمیں یہ نقصان ہوتا ہے کہ نماز کا اجر بھی گیا اور بلکہ مزید گناہوں کے کام میں پڑ جاتی ہیں۔آئیے!ہم نیت کرتی ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ہم کوئی بھی نماز قضا نہیں کریں گی اور خاص طور پر عصر کی نماز کی بھی پابندی کریں گی۔ ان شاءاللہ 


اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:حفظوا على الصلوات والصلوة الواسطى ترجمۂ کنزالاىمان: نگہبانى کرو سب نمازوں کى اور بىچ کى نماز کى۔ اس آىتِ مبارکہ سے ظاہر ہے کہ تمام نمازوں مىں بالخصوص نمازِ عصر کتنى اہمىت کى حامل ہے۔اس کى اہمىت اور بے شمار فضائل حضور پرنور،جانِ جاناں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بھى بىان فرمائے ہىں چنانچہ جہنم مىں داخل نہ ہوگا:حضرت عمارہ بن رویبہ رَضِىَ اللہُ عنہ سے رواىت ہے، فرماتے ہیں: مىں نے رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے سے پہلے نماز ادا کى ( ىعنى فجر اور عصر پڑھى) وہ ہر گز جہنم مىں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص 250، حدىث: 1436)2:عاشقِ نمازِ عصر کا قبر مىں حال:حضرت جابر بن عبداللہ رَضِىَ اللہُ عنہ سے رواىت ہے ،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جب مرنے والا قبر مىں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھىں ملتا ہوا بىٹھتا اور کہتا ہے: دعونى اصلى مجھے چھوڑ دو ، مىں نماز پڑھ لوں۔ ( ابن ماجہ ج 4، ص 513)مفتى احمد ىار خان نعىمى رحمۃ اللہ علیہ اس کے تحت فرماتے ہىں:ىعنى اے فرشتو! سوالات بعد مىں کرنا، عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لىنے دو۔ ىہ وہى کہے گا جو دنىا مىں نمازِ عصر کا پابند تھا۔ ارشاد فرمایا:نمازِ عصر اہل و مال سے افضل:تم مىں سے کسى کے اہل و مال مىں کمى کردى جائے تو ىہ اس کے لىے بہتر ہے کہ اس کى نماز ِ عصر فوت ہوجائے۔(مجمع الزوائد، ج 2، ص 50، الحدىث 1715)پىارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کى نمازِ عصر سے محبت :حضرت ِ على رَضِىَ اللہُ عنہ سے رواىت ہے، خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:انہوں نے ہمىں بىچ کى نماز ىعنى نمازِ عصر سے روک دىا، خدا ان کے گھر اور قبرىں آگ سے بھردے۔(متفق علىہ)غزوۂ احد مىں حضور انور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جسمانى اذىت بہت پہنچى لىکن وہاں کفار کو دعائے ضرر نہ دى،ىہاں نماز قضا ہونے پر دعائے ضرر دى ، معلوم ہوا!حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نمازىں جان سے پىارى تھىں۔(مراة المناجىح ج 1، ص 383)5: دو گنا اجر:حضرت ابو بصرہ غفارى رَضِىَ اللہُ عنہ سے رواىت ہے، حضور انور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ىہ نماز ىعنى نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پىش کى گئى تو انہوں نے اسے ضائع کردىا لہٰذا جو اسے پابندى سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔(مسلم ص 322، حدىث 1927)اللہ پاک ہمىں اپنے محبوب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کى آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کو خشوع و خضوع سے ادا کرنے کى توفىق عطا فرمائے۔ امىن بجاہ النبى الامىن صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


اللہ پاک پارہ 2 سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 238 میں فرماتا ہے:حفظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی ق وقوموا لِلّٰہ قنتین0ترجمہ: تمام نمازوں خصوصاً بیچ والی نماز (عصر )کی محافظت رکھو اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے رہو۔(بہارشریعت،ص433،حصہ سوم) کسی نبی نے نمازِ عصر ادا فرمائی:حضرت عزیر علیہ السلام سو برس کے بعد زندہ فرمائے گئے،اس کے بعد آپ نے چار رکعتیں ادا کیں تو یہ نمازِ عصر ہوگئی۔ (فیضانِ نماز،ص29) عصر کا نام رکھنے کی وجہ:عصر کا معنی دن کا آخری حصہ۔چونکہ یہ نماز اسی وقت میں ادا کی جاتی ہے اسی لیے اس نماز کو عصر کی نماز کہا جاتا ہے۔(فیضانِ نماز،ص114) پانچ نمازوں میں فضیلت کی ترتیب:علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نمازوں میں سب سے افضل نماز عصر ہے،پھر نمازِ فجر،پھر عشا،پھر مغرب،پھر ظہر اور پانچوں نمازوں کی جماعتوں میں افضل جماعت نمازِ جمعہ کی جماعت ہے ،پھر فجر کی،پھر عشا کی۔نمازِ عصر کی اہمیت و فضیلت:حدیث نمبر1:فرشتوں کی تبدیلیوں کے اوقات: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:رات اور دن کے فرشتے تم میں باری باری آتے ہیں اور نمازِ فجر اور عصر کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں،پھر جو تمہارے پاس آئے تھے وہ اوپر کو چڑھ جاتے ہیں۔ تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں خوب جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال چھوڑا؟عرض کرتے ہیں:ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس گئے جب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بہارشریعت،حصہ سوم،ص440،حدیث:34)وضاحت:نماز ایک اعلیٰ عبادت ہے کہ اس کے بارے میں سوال جواب ہوتا ہے۔نمازِ فجر اور عصر دیگر نمازوں کے مقابلے میں عظمت والی ہیں کیونکہ فجر کے وقت رزق تقسیم ہوتا ہے جبکہ دن کے آخری حصے میں یعنی عصر کے وقت اعمال اٹھائے جاتے ہیں تو ان دونوں وقتوں میں رزق و عمل میں برکت دی جاتی ہے۔حدیث نمبر2: فجر اور عصر پڑھنے والا جہنم میں نہیں جائے گا:حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے نماز ادا کی یعنی فجر اور عصر وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(فیضانِ نماز،ص99)وضاحت:حضرت مفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:اس کے دو مطلب ہیں:(1) فجر اور عصر کی پابندی کرنے والا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہ جائے گا،اگر گیا تو عارضی طور پر(2)فجر اور عصر کی پابندی کرنے والوں کو ان شاءاللہ باقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی۔حدیث نمبر3:نمازعصر قضا ہو جانے کا گناہ:حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے،حضرت ابو الملیح رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: ہم ایک غزوے میں حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ عنہ کے ساتھ تھے ایسے روز کے بادل چھائے ہوئے تھے تو انہوں نے فرمایا: نماز جلدی پڑھ لو کیونکہ نبیِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے نمازِ عصر ترک کر دی اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔(بخاری،1/299،حدیث:523)وضاحت:حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:مطلب یہ ہے کہ جو عصر چھوڑنے کا عادی ہوجائے اس کے لیے خطرہ ہے کہ وہ کافر ہو کر مرے جس سے اعمال برباد ہو جائیں،اس کا یہ مطلب نہیں کہ عصر چھوڑنا کفر اور ارتداد ہے۔حدیث نمبر 4:نمازِ عصر کا double اجر: حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نماز یعنی عصر تم سے پہلے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی انہوں نے اسے ضائع کر دیا ،لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا یعنی double اجر ملے گا۔(فیضانِ نماز،ص104)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،لہٰذا تم ان سے عبرت پکڑنا۔حدیث نمبر 5:سنتِ عصر کے فضائل:طبرانی کبیر میں اُمُّ المومنین اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے راوی،رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں: جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرما دے۔(بہار شریعت،حصہ4،ص661،حدیث:18)

نمازوں کے اندر خشوع اے خدا دے پئے غوث اچھی نمازی بنا دے

اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت!اے عاشقانِ نماز!نماز اللہ پاک کی بہت پیاری عبادت ہے کہ شروع کرتے ہی جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔اس سے بے شمار فضائل اور برکات حاصل ہوتے ہیں۔ نماز روح کو غذا فراہم کرتی ہے۔چہرہ چمکاتی ہے۔برکت لاتی ہے۔رزق لاتی ہے اور سب سے بڑی نعمت یہ ہےکہ نمازی کو قیامت کے دن اللہ پاک کا دیدار ہو گا۔ان شاءاللہ ہم بھی اللہ پاک کا دیدار پانے کے لیے خوب خوب نمازوں کا اہتمام کرکے اپنے رب کریم کو راضی رکھنے کی کوشش کریں گی۔

دور ہوں بیماریاں بےکاریاں ناکامیاں دل میں داخل ہو مسرت تم پڑھو دل سے نماز