28 فروری کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ،
امیر اہلسنت نے مدنی پھول ارشاد فرمائے
عاشقانِ
رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے
کے لئے 28 فروری 2026ء بمطابق 10 رمضانُ المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس
کے بعد نعت خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کی بارگاہ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت
و نعت کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے
علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” زیادہ جینا
ہے تو کم کھائیں“، اس بارے میں آپ کیا فرماتے
ہیں ؟
جواب:یہ بات طبّی
طورپر دُرست ہے ،زیادہ کھانے سے جان بنتی نہیں بلکہ بگڑتی ہے ، زیادہ کھانے والے کوطرح طرح
کی بیماریاں لگ جاتی ہیں ،حدیث پاک کے مطابق پیٹ کے 3 حصے کرنے چاہئیں ، ایک حصہ
کھانے،ایک حصہ پانی اورایک حصہ سانس کے لیے مختص کیاجائے ۔فرمانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ
والہ وسلم):آدمی اپنے پیٹ
سے زیادہ بُرابرتن نہیں بھرتا،انسان کے لیے چندلقمے کافی ہیں ،جو اس کی پیٹھ
کوسیدھا رکھیں ،اگرایسانہ کرسکے تو تِہائی (3/1)کھانے کے
لیے ،تہائی پانی کے لیے اورایک تِہائی سانس کے لیے ہو۔(ابن ماجہ ،4/48،رقم، 3349 ) جوباوجودِخواہش اللہ پاک کی رضاکے لیے ایک نوالہ کم کردے تو اس
کا ایک درجہ بلند ہوجاتاہے ۔
سوال:تکبُّراورخود
پسندی میں کیا فرق ہے؟
جواب:اپنے سے دُوسرے کوگھٹیا جانناتکبرہے، خود پسندی یہ ہے کہ کسی کو کوئی نعمت
حاصل ہو تو اسے اپناکمال جانے اوراس کے زوال سے توجہ ہٹ جائے ۔دونوں بڑی آفتیں ہیں ،جس کے دل
میں ذرّہ برابرتکبُّرہوگا اسے جہنم میں
داخل کردیا جائے گا ۔یہ بہت بڑی بلاہے ، بندہ اس سے اللہ پاک کی پناہ مانگے۔ تکبرکے
بارے میں معلومات ہونا فرض علم سے ہے ،اس کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’تکبُّر‘‘کا مطالعہ کریں ۔
سوال:دوسرے کے بارےمیں رائے
قائم کرلینا کہ فلاں متکبِرہے،اس کے بارے آپ کیافرماتےہیں ؟
جواب: بغیر قرینے اوردلیل کےکسی کے متکبِرہونے کی رائے قائم کرلینا بدگمانی
ہے، اس سے بچناضروری ہے ،تکبردل کی کیفیت ہے،یہ باطنی
بیماری ہے،اسے معلوم کرنےکے لیے کوئی مشین نہیں ہے ۔اس طرح رائے قائم کرنے والا
تہمت وغیبت میں مبتلا ہوجاتاہے۔گھروں میں
بھی تہمتوں کا سلسلہ ہے ۔اسکی معافی تلافی مشکل کام ہے۔ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے زبان سےلٹکے لوگ
دیکھے ،بتایاگیا یہ گناہ کاالزام لگانے والوں کی سزاہے۔بظاہر نیک نظرآنے
والابھی اس میں مبتلاہوجاتاہے ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ لوگ فرض علوم سے ناواقف ہیں ۔
سوال:جھوٹ اورغیبت کی تعریف کیا ہے؟
جواب: سچ کا اُلٹ جھوٹ ہے اوربطورِبُرائی
کسی کا عیب اُس کی غیر موجودگی میں بیان کرنا غیبت ہے۔
سوال
: دُعاکے
وقت کیسااندازہوناچاہئے؟
جواب: دُعاکے
وقت رونا آئے تو سعادت کی بات
ہے،ورنہ رونے کی سی صورت بنائی جائے کہ اچھوں کی نقل بھی ا چھی ہوتی ہے ،دعا کے
وقت آنکھوں میں آنسوآجانااسے قبولیت کے قریب کردیتاہے ۔یہ کہاگیا ہے کہ غموں سے بھرے دل کی دعا قبول
ہوتی ہے
سوال: بزرگ یعنی بڑی عمروالے دُوسروں کو
نمازکی دعوت کیسے دیں ؟
جواب:بزرگ بھی لوگوں کو
پہلےسلام کریں ،پھر
مختصرانداز میں نمازکی دعوت دیں ، بزرگوں
اورامام صاحبان کا اپنا اثرہوتاہے۔ہم سب
نمازکی دعوت دینے والے بن جائیں تو مساجدآبادہوجائیں ۔مساجدکی ویرانی کی ایک
وجہ نمازیوں کانمازکی دعوت نہ دینا بھی ہے۔ ہرمسلمان مبلغ ہے جس کو جتنا آتاہے ،دُوسروں
کو نیکی کی دعوت دے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یااللہ پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھ یا سُن لے، اُسے ماہِ رمضان کی محبت سے مشرف فرماکر خوب نیکیاں کرنے کی
توفیق عطا فرما اور اس کو والدین سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر سب سے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کا پڑوس نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ
خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami