نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
سعید احمد،سیالکوٹ
علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پانچوں نمازوں میں
سب سے افضل نمازِ عصر ہے،پھر نمازِ فجر ،پھر عشا،پھر مغرب،پھر ظہر۔(فیض القدیر،2/53)نمازِ عصر
کے بارے میں پانچ فرامینِ مصطفٰے درج ذیل ہیں:(1)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،مدینے
کے تاجدار صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں
اور فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں،پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات
گزاری اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں۔اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے:تم
نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں:ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا
اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری،1/203،حدیث:555)(2)حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں
نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع و غروب یعنی نکلنے اور
ڈوبنے سے پہلے نماز ادا کی یعنی جس نے فجر اور عصر کی نماز پڑھی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص250،حدیث:1436) (3)حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم
حضورِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے،آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:عنقریب یعنی قیامت کے دن
تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تو اگر تم لوگوں سے
ہو سکے تو نمازِ فجر اور عصر کبھی نہ چھوڑنا۔پھر حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیتِ
مبارکہ تلاوت کی و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل غروبھا:ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے
رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(مسلم،ص239،حدیث:1434)(4)حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
نور والے آقا صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش
کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے اسے دوگنا یعنی
ڈبل اجر ملے گا ۔(مسلم،ص322،حدیث:1927) مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ
علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:یعنی پچھلی امتوں پر بھی نمازِ
عصر فرض تھی۔ مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے۔ تم ان سے عبرت پکڑنا۔(مراٰۃ المناجیح،2/166) (5)تابعی بزرگ حضرت ابو الملیح رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک
ایسے دن کہ بادل چھائے ہوئے تھے ہم صحابِی رسول حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں
شریک تھے،آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو۔ کیونکہ سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے نمازِ عصر چھوڑ دی اس کا عمل ضبط ہوگیا۔(بخاری،1/203،حدیث:553) اللہ پاک ہم سب کو نمازِ عصر کی برکتیں لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور
پنجگانہ نمازیں پابندیِ وقت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نمازوں
سے محبت عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
عبدالرشید،بہادرآباد
قرآن ِمجید ،فرقانِ حمید اور احادیثِ مبارکہ میں نماز کی
اہمیت و فضیلت کو اس قدر واضح کیا گیا ہے کہ جتنا اور کسی عبادت کو نہیں کیا گیا۔قرآن
اور حدیث میں ایک بار نہیں دس بار نہیں بلکہ تقریباًساڑھے سات سو بار نماز کا حکم دیا گیا ہے
اب جب اتنی بارحکم دیا گیا تو اس کا ترک کرنا کتنا جرم ہوگا!ربِّ کریم فرماتا ہے:ترجمہ:حفظواعلی الصلوات والصلوۃ الوسطی
وقوموا للہ قانتین0(البقرۃ:238)ترجمۂ
کنزالایمان:تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصاً بیچ کی نماز کی اور
اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔تمام نمازوں کی
پابندی کرنے کا حکم دیا گیا بالخصوص درمیانی نماز کی تاکید کی گئی۔درمیانی نماز سے
مراد عصر کی نماز ہے ۔جیسا کہ بخاری میں ہے:نمازِ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔(فیضانِ نماز) بروایت
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جب
مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم تو وہ آنکھیں ملتا
ہوا بیٹھتا اور کہتا ہے:مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں۔حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار
خان رحمۃُ
اللہِ علیہ حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:یہ
احساس منکر نکیر کے جگانے پر ہوتا ہے خواہ دفن کسی وقت ہو چونکہ نمازِ عصر کی زیادہ
تاکید ہے اور آفتاب کا ڈوبنا اس کا وقت جاتے رہنے کی دلیل ہے۔ اس لیے یہ وقت دکھایا
جاتا ہے۔حدیثِ پاک کے اس حصے ”مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں“ کے تحت لکھتے ہیں:یعنی
اے فرشتو!سوالات بعد میں کرنا عصر کاوقت
جا رہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔ یہ وہی کہے گا جو دنیا میں نمازِ عصر کا پابند
تھا۔ اللہ پاک نصیب کرے۔ آمین۔(فیضانِ نماز،) بروایت حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ،نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یہ نماز( یعنی نمازِ عصر )تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا
لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔ (فیضانِ نماز)بروایت حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ ،میں نے مصطفٰے جانِ
رحمت صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے
نماز ادا کی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(فیضانِ نماز) بروایت حضرت جبیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ،ہم حضورِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے،آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھویں رات
کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:عنقریب(یعنی قیامت کے دن)تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو
گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نمازِ فجر اور
عصر کبھی نہ چھوڑو۔پھر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:
ترجمۂ کنز
الایمان:اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے
پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(فیضانِ نماز)بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ،سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور فجر اور
عصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں پھر دو فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے
اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں۔اللہ پاک خبر ہونے کے باوجود پوچھتا ہے: تم نے میرے بندے
کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان
کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (فیضانِ نماز)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
عبدالعزیز،حمزہ غوث
دینِ اسلام میں داخل ہونے کے بعد نماز مسلمان کے لیے فرضِ عین
ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔جس طرح ستون کے بغیر عمارت قائم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز
کے بغیر بھی ایمان کی عمارت نامکمل ہے۔سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر معراج کی رات 50نمازیں فرض کی گئیں،پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ5 رہ گئیں ۔اے
محبوب! ہماری بات نہیں بدلتی اور آپ کے لیے ان پانچ کے بدلے میں50 کا ثواب ہے۔سبحان
اللہ! یوں تو ہر نماز کے ہی اپنے فضائل ہیں۔آئیے!نمازِ عصر کے کچھ فضائل جانتی ہیں۔حدیثِ
مبارکہ: (1) حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
نور والے آقا صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش
کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا
اجر ملے گا۔ شرح: حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یہ پچھلی امتوں پر بھی نمازِ
عصر فرض تھی مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھ اور عذاب کے مستحق ہوئے،تم ان سے عبرت پکڑنا ۔(بحوالہ فیضانِ نماز،ص104)حدیثِ مبارکہ:(2) اللہ پاک کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کی نمازِ عصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑ دے) گویا اس کے اہل و عیال اور مال وتر ہو گئے (یعنی چھین لیے گئے۔) شرح: حضرت علامہ
ابو سلیمان خطابی شافعی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں:وتر کا معنی ہے :نقصان ہونا یا چھن جانا ۔جس کے
بال بچے اور مال چھن گئے یا اس کا نقصان ہو گیا گویا وہ اکیلا رہ گیا۔ لہٰذا نماز
کے فوت ہونے سے انسان کو اس طرح ڈرنا چاہیے جس طرح وہ اپنے گھر کے افراد اور مال و ولت کےبرباد ہونے سے ڈرتا ہے۔(فیضانِ نماز،ص106،107)حدیث:(3)حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ
اللہُ عنہ سے روایت ہے،رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ معظم ہے:جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا
معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا اور کہتا ہے :مجھے چھوڑ دو میں نماز
تو پڑھ لوں۔(فیضانِ
نماز،ص107)حدیث:(4) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
کہ میں نے سرورِ کائنات صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہوا
سورج کا انتظار کرتا ہے حتی کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے بیچ آ جائے( یعنی غروب ہونے کے قریب ہو جائے) تو کھڑا ہو کر چار چونچے مارے کہ ان میں اللہ پاک کا تھوڑا ہی ذکر کرے۔شرح:
اس حدیثِ پاک کی شرح میں مفتی احمدیار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:معلوم
ہوا !دنیاوی کاروبار میں پھنس کر نمازِ عصر میں دیر کرنا منافقوں کی علامت ہے،حضور
صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے جلد باز نمازی کے سجدے کو مرغ کے چونچ مارنے سے تشبیہ دی
ہے جو وہ چگتے وقت زمین پر جلدی جلدی مارتا ہے۔حدیث:(4،5) حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔حضور
صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اللہ پاک اس کے
بدن کو آگ پر حرام فرما دے گا۔(فیضانِ نماز،ص108،109) اللہ پاک ہمیں
ساری نمازیں پابندی وقت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ نیاز احمد قریشی،جوہرٹاؤن
نماز کا لغوی
معنیٰ:نماز فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی”عاجزی،انکساری،پرستش،بندگی کے ہیں۔(فیروزالّغات،فیروز سنز، ص1377)عصر کا لغوی معنیٰ:عصر عربی زبان کا لفظ ہے،جس کا معنی:دن کا آخری حصہ،آفتاب
کے سرخ ہونے تک ہے۔ (المنجد، ص595)نمازِ عصر کا نام عصر
کیوں؟عصر اس وقت کا نام ہے جس میں نماز ادا کی جاتی ہے یعنی یہ وہ نماز ہے جو دن
کے آخری حصے میں ادا کی جاتی ہے۔(تفسیر سورۃ
العصر،کنزالعرفان)اسی لیے اسے نمازِ عصر کہا جاتا ہے۔سب سے
پہلے کون سی نماز کس نے ادا کی؟بعض روایات میں ہے کہ ایک انصاری نے حضور علیہ السلام سے فجر کی نماز
کے بارے میں پوچھا:سب سے پہلے یہ نماز کس نے پڑھی؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:سب سے
پہلےفجرحضرت آدم علیہ
السلام نے،ظہر حضرت یعقوب علیہ السلام نے،مغرب حضرت
داؤد علیہ السلام نے،عشا حضرت یونس علیہ السلام نے پڑھی۔(غنیۃ الطالبین،عبدالقادر جیلانی ،ص481،سن اشاعت2013)امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت بایں الفاظ نقل کی ہے:حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَر،قَالَ:سَمِعْتُ بَحْرَ بْنَ الْحَكَمِ
الْكَيْسَانِیّ يَقُولُ:سَمِعْتُ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عُبَيْدَ اللہ بْنَ
مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ يَقُولُ:اِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ،لَمَّا تِيبَ
عَلَيْهِ عِنْدَ الْفَجْرِ،صَلَٰى رَكْعَتَيْنِ فَصَارَتِ الصُّبْحُ،وَفُدِیَ اِسْحَاقُ
عِنْدَ الظُّهْرِ فَصَلّٰى اِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اَرْبَعًا،فَصَارَتِ
الظُّهْرُ،وَ بُعِثَ عُزَيْرٌ،فَقِيلَ لَهُ:كَمْ لَبِثْتَ؟فَقَالَ:يَوْمًا،فَرَأَى
الشَّمْسَ فَقَالَ:اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ،فَصَلَٰى اَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَصَارَتِ
الْعَصْرُ۔وَ قَدْ قِيلَ:غُفِرَ لِعُزَيْرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ،وَ غُفِرَ
لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْمَغْرِبِ،فَقَامَ فَصَلّٰى اَرْبَعَ
رَكَعَاتٍ،فَجَهَدَ فَجَلَسَ فِی الثَّالِثَةِ،فَصَارَتِ الْمَغْرِبُ ثَلَاثًا۔وَ
اَوَّلُ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ نَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللہ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ترجمہ:بحر بن حکم الکیسانی
کہتے ہیں:میں نے ابو عبد الرحمن عبید اللہ بن محمد بن عائشہ رحمۃ
اللہ علیہم کو یہ کہتے ہوئے سنا :جب صبح کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول
ہوئی تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پس وہ نماز ِفجر ہوگئی۔ اور اسحاق علیہ السلام کا فدیہ ظہر کے
وقت ادا کیا گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے چار رکعات ادا کیں، پس وہ نماز ظہر ہوگئی۔ اور جب عزیر علیہ السلام کو اٹھایا گیا
تو ان سے پوچھا گیا: آپ اس حالت میں کتنا عرصہ رہے؟ انہوں نے کہا: ایک دن، پھر انہوں
نے سورج کو دیکھا تو کہا: یا دن کا بھی کچھ حصہ۔ پھر انہوں نے چار رکعات ادا کیں
تو وہ نمازِ عصر ہوگئی۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ عزیر اور داؤد علیہما السلام کی مغرب کے وقت مغفرت ہوئی تو
انہوں نے چار رکعات نماز شروع کی لیکن تھک کر تیسری رکعت میں بیٹھ گئے۔ پس وہ نماز
مغرب ہوگئی۔جس ہستی نے سب سے پہلے آخری نماز (یعنی نمازِ عشا) ادا کی وہ ہمارے نبی محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں۔(شرح معانی الآثار ط عالم الکتاب: 1/175، حدیث نمبر: 1046)نمازِ عصر
کی حفاظت کا حکم:اللہ پاک کا فرمان ہے :حَافِظُوا
عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ(البقرۃ:238)ترجمہ: نمازوں کی
حفاظت کرو ،بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ پاک کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو۔یہاں بیچ کی
نماز سے مراد عصر ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، مفتی
قاسم عطاری،جلد اول)نمازِ عصر کے بارے میں 5 فرامین مصطفٰےٰ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:حضرت فضالہ لیثی رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے:علَّمَنی رسولُ اللہ
صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَكَانَ فِيْمَا عَلَّمَنی:وَ حَافِظْ عَلَى الصَّلٰوَاتِ
الْخَمْسِ۔قَالَ:قُلْتُ:اِنَّ هٰذِهٖ سَاعَاتٌ لِی فِيْهَا اَشْغَالٌ،فَمُرْنِی بِاَمْرٍ
جَامِعٍ اِذَا اَنَا فَعَلْتُهُ اَجْزَأَ عَنِّی۔فَقَال:حافِظْ عَلَى
العَصْرَيْنِ،وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا۔ فَقُلْتُ وَمَا الْعَصْرانِ؟فقال:صلاةٌ
قبلَ طُلُوع ِالشَّمْسِ،وَ صلاةٌ قَبْلَ غُرُوْبِها۔(ابو داود:428)ترجمہ: رسول اللہ
صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں
نماز پر محافظت کرو، میں نے کہا:یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے
ہیں،آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے
کافی ہو جائے۔ آپ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: عصرین پر محافظت کرو ! عصرین کا لفظ ہماری زبان
میں مروج نہ تھا، اس لیے میں نے پوچھا: عصرین کیا ہے؟ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: دو نماز: ایک سورج نکلنے سے پہلے اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے( فجر اور عصر ) ۔2:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
رسول اللہ صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:يَتَعاقَبونَ
فيكُم:ملائِكَةٌ بالليلِ وملائِكةٌ بالنهارِ،ويجتمعونَ فی صلاةِ الفجرِ و صلاةِ
العصرِ،ثم يَعْرُجُ الذينَ باتوا فيكُم،فيَسألُهُم و هو أعلَمُ بِهِم:كيفَ
تَرَكتُم عِبادی؟فيقولون:تَرَكْناهُم وهُم يُصلونَ،و أتَيناهُم وهُم يُصلونَ۔(بخاری:555)ترجمہ:رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں
۔فجر اور عصر کی نمازوں میں(دونوں قسم کے
فرشتوں کا)اجتماع ہوتا ہے۔پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر
چڑھتے ہیں تو اللہ پاک پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق
جانتا ہے کہ ”میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟“وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ(فجرکی)نماز پڑھ رہے تھے
اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ(عصر کی)نماز پڑھ رہے تھے۔ 3:حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: لن يلجَ النارَ أحدٌ صلى
قبل طلوعِ الشمسِ و قبل غروبها يعنی الفجرَ و العصرَ(مسلم:634)ترجمہ: وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے
اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے یعنی فجر اور عصر کی نمازیں ۔4:حضرت ابوموسی
اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:من صلى البرديْنِ دخل الجنةَ(مسلم:635)ترجمہ: جوشخص دو
ٹھنڈی نمازیں (فجروعصر) پڑھتا رہا وہ
جنت میں داخل ہوگا۔5:حضرت جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اذا دخلَ الميِّتُ القبرَ،مُثِّلَتِ الشَّمسُ عندَ غُروبِها،فيجلسُ يمسحُ
عَينَيهِ،و يقولُ:دَعونی اصلِّی۔( ابن ماجہ:4272)ترجمہ: جب میت قبر میں پہنچتی ہے تو اسے سورج ڈوبتا نظر آ
تا ہے ۔وہ آ نکھیں ملتا ہو ا اٹھا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے:مجھے چھوڑو نماز پڑ ھ
لینے دو ۔فرض تو فرض سنتوں کے بھی کیا کہنے!نمازِ عصر کی فضیلت تو
مدینہ مدینہ ہے!فرض تو فرض،اس کی سنتوں کے بھی کیا کہنے! آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان دلنشیں ہے:جو عصر سے پہلے 4 رکعتیں پڑھے اسے آگ نہ چھوئے گی۔(بہار شریعت،جلد اول،حصہ الف،ص۔661)اللہ کریم ہمیں بھی پابندیِ نماز کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
کلمۂ اسلام کے
بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن نماز ہے ۔یہ ہر مکلف یعنی عاقل بالغ پر فرضِ عین ہے۔اس
کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور جو قصداً چھوڑ دے اگرچہ ایک ہی وقت کی نماز ہے وہ
فاسق ہے۔ نماز کے مختلف فضائل ہیں مثلا اللہ پاک کی خوشنودی کا سبب ہے۔ مکی مدنی
آقا صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔پانچوں
نمازیں ہی اہمیت فضیلت کی حامل ہیں اور ان پر متعدد احادیثِ مبارکہ مذکور ہیں لہٰذا
ان میں سے نمازِ عصر کی اہمیت اور فضیلت پر پانچ فرامینِ مصطفٰے ملاحظہ فرمائیے: (1)
نمازِ عصر کی اہمیت کے متعلق فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :تم میں سے کسی کے اہل اور مال میں کمی کر دی جائے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے
کہ اس کی نمازِ عصر فوت ہو جائے۔(مجمع الزوائد،2/55،حدیث:1715)نمازِ عصر کی فضیلت
کے متعلق فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:(2) جب مردہ قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا
ہوا معلوم ہوتا ہے وہ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا اور کہتا ہے:دعونی اصلی ذرا ٹھہرو مجھے نماز پڑھنےدو ۔(ابن ماجہ،4/503،حدیث:4272)حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت اس حدیثِ پاک کے اس حصے”دعونی اصلی یعنی
ذرا ٹہرو مجھے نماز پڑھنے دو“ کے بارے میں فرماتے ہیں: یعنی اے فرشتو!سوالات بعد میں
کرنا عصر کا وقت جا رہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ وہ کہے گا جو دنیا میں نمازِ
عصر کا پابند تھا۔اللہ پاک نصیب فرمائے۔ مزید فرماتے ہیں: اس عرض پر سوال و جواب ہی
نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان، کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہو چکی۔(مراۃ المناجیح،1/142)(3) احمد اور ابو داود اور ترمذی بافادۂ تحسین عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی ،فرماتے
ہیں : حضور صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے
چار رکعتیں پڑھیں۔(ابوداود،2/30،حدیث:
1271)(4) طبرانی کبیر میں ام المومنین اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے راوی ،رسول
اللہ صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھ لے اللہ پاک اس
کے بدن کو آگ پر حرام فرما دے گا۔(معجم
کبیر،23/281)دوسری روایت طبرانی کی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ہے کہ حضور
اکرم صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے مجمع صحابہ میں جس میں امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے،
فرمایا: جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اسے آگ نہ چھوئے گی۔(معجم اوسط،2/77،حدیث:208) (5)نسائی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ،فرماتے ہیں، رسولِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے فجر کی ایک رکعت قبل طلوعِ آفتاب پا لی تو اس نے
نماز پا لی( اس پر فرض ہو گئی) اور جسے
ایک رکعت عصر کی قبل غروبِ آفتاب مل گئی اس نے نماز پا لی یعنی اس کی نماز ہو گئی۔
فجر میں تکبیر تحریمہ کہی اور فجر کا وقت ختم ہوگیا تو نماز نہ ہوگی۔عصر کی نیت
باندھ لی تکبیر تحریمہ کہہ لی اس وقت تک آفتاب نہ ڈوبا تھا پھر ڈوب گیا نماز ہو گئی
اور کافر مسلمان ہوا یا بچہ بالغ ہوا اس وقت کے آفتاب طلوع ہونے تک تکبیر تحریمہ
کہہ لینے کا وقت باقی تھا اس فجر کی نماز اس پر فرض ہو گئی قضا پڑھے اور طلوعِ
آفتاب کے بعد مسلمان یا بالغ ہوا تو وہ نماز اس پر فرض نہ ہوئی۔
اسلام میں سب
اعمال سے پہلے نماز فرض ہوئی یعنی نبوت کے گیارویں سال ہجرت سے دو سال کچھ ماہ
پہلے نیز ساری عبادتیں اللہ پاک نے فرش پر بھیجی مگر نماز اپنے محبوب کو عرش پر
بلا کردی اس لیے کلمۂ شہادت کے بعد سب سے بڑی عبادت نماز ہے۔ جو نماز سیدھی کر کے
پڑھے تو نماز اسے بھی سیدھا کر دیتی ہے اسی طرح کہ نماز ہمیشہ پڑھے،صحیح پڑھے،دل
لگا کر پڑھے،اخلاص کے ساتھ ادا کیا کرے،یہی معنی ہیں نماز قائم کرنے کے جس کا حکم قرآنِ
کریم میں ہے :و اقم الصلوۃ لذکری ترجمہ:اورمیری یاد کے لیے نماز قائم رکھو۔ قیامت میں قبر میں بھی داخل ہے کیونکہ موت بھی قیامت ہی ہے
مطلب یہ ہے کہ نماز قبر میں اور پل صراط پر روشنی ہو گی کہ سجدہ گاہ تیز بیڑی کی
طرح چمکے گی اور نماز اس کے مومن ہونے کی دلیل ہوگی نیز نماز کے ذریعے اسے ہر جگہ نجات
ملے گی کیونکہ قیامت میں پہلا سوال نماز کا ہوگا اگر اس میں بندہ کامیاب ہوگیا تو
ان شاءاللہ آگے بھی کامیاب ہوگا۔حفظواعلی الصلوات والصلوۃ الوسطی
وقوموا للہ قنتین0 ترجمہ:تمام نمازوں خصوصا بیچ
والی نماز(عصر)کی محافظت رکھو اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے رہو۔(پ2،البقرۃ: 238)(1) حدیثِ
مبارکہ: روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہو سورج کا انتظار کرتا رہے حتی کہ
جب پیلاپڑ جائے اور شیطان کے دو سینگوں کے بیچ آجائے تو کھڑا ہو کر چار چونچے مارے
کہ ان میں اللہ پاک کا تھوڑا ہی ذکر کرے۔(مسلم)وضاحت: یعنی اس حدیثِ
پاک سے تین مسئلے معلوم ہوئے :ایک یہ کہ دنیاوی کاروبار میں پھنس کر نمازِ عصر دیر
سے پڑھنا منافقوں کی علامت ہے۔دوسرے یہ کہ غروب سے 20 منٹ پہلے کراہت کا وقت ہے۔وقت
مستحب میں عصر پڑھنا چاہیے۔تیسرے یہ کہ رکوع اور سجدہ بہت اطمینان سے کرنا چاہیے۔حضور
صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے جلد باز سجدے
کو مرغ کے چونچ مارنے سے تشبیہ دی ہے جو وہ دانا چگتے وقت زمین پر جلدی جلدی مارتا
ہے۔(2) حدیثِ مبارک: روایت ہے حضرت ابنِ عمر رَضِیَ
اللہُ عنہما سے فرماتے ہیں:حضور
علیہ السلام نے فرمایا: جس کی نمازِ عصر جاتی رہی گویا اس کا گھر بار
اور مال لٹ گیا ۔(مسلم،بخاری)وضاحت:یعنی جیسے اس شخص کو وہ نقصان پہنچا جس کی تلافی نہیں
ہو سکتی ایسے ہی عصر چھوڑنے والے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے کہ جو عصر
چھوڑنے کا عادی ہو جائے اس کے لیے اندیشہ ہے کہ وہ کافر ہو کر مرے جس سے عمل ضبط
ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عصر چھوڑنا کفر اور ارتداد ہے۔ خیال رہے!نمازِ
عصر کو قرآنِ کریم نے بیچ کی نماز فرما کر کی بہت تاکید فرمائی نیز اس وقت رات اور
دن کے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے اور یہ وقت لوگوں کی سیر و تفریح اور تجارتوں کے
فروغ کا وقت ہے اس لیے کہ اکثر لوگ عصر میں سستی کر جاتے ہیں اور ان وجوہ سے قرآن
شریف نے بھی عصر کی بہت تاکید فرمائی اور حدیث شریف نے بھی۔ (مراۃ المناجیح،1/269تا270)حدیثِ مبارکہ: روایت ہے حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ سے، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: انہوں نے ہمیں بیچ کی نماز یعنی نمازِ عصر سے روک دیا،
خدا ان کے گھر اور قبریں آگ سے بھر دے۔(مسلم،بخاری) وضاحت :اس حدیثِ
مبارکہ سے معلوم ہوا !جب کفار نے مسلمانوں پر حملے کیے جس وجہ سے یعنی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے فرمایا: جس
وجہ سے ہمیں خندق کھودنا پڑی جس میں مشغولیت کی وجہ سے ہماری نمازیں خصوصا نمازِ
عصر قضا ہوگئی ۔اس سے معلوم ہوا ! بیچ کی نماز جس کی قرآن شریف میں بہت تاکید ہے۔خیال
رہے!غزوۂ احد میں حضور صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو جسمانی ایذا بہت پہنچی لیکن وہاں کفار کو یہ دعائے ضرر
نہ دی یہاں نمازیں قضا ہونے پر یہ دعائے ضرر دی معلوم ہوا!حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو نمازیں
جان سے پیاری تھی نیز اس دعائے ضرر سے غضب مقصود ہے حقیقت دعائے ضرر مقصود نہیں اس
وجہ سی کفار خندق میں سے بعض لوگ بعد میں ایمان لے آئے ۔اگر دعائے ضرر مقصود ہوتی
تو ان میں سے کسی کو ایمان نصیب نہ ہوتا۔(4)حدیثِ مبارکہ روایت ہے:حضرت ابنِ مسعود
اور سمرہ بن جندوب رَضِیَ اللہُ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بیچ کی نماز عصر ہے۔(ترمذی) وضاحت: کیونکہ یہ نماز دن اور رات کی نمازوں کے درمیان ہے نیز
اس وقت دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں نیز اس وقت دنیاوی کاروبارزیادہ زور پر
ہوتے ہیں اس لیے اس کی تاکید زیادہ فرمائی گئی۔(مراۃ المناجیح،1/284تا285)(5)حدیثِ مبارکہ: روایت ہے حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے ،فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو نمازِ عصر چھوڑے اس کے عمل ضبط ہو گئے۔(بخاری) وضاحت:غالبا عمل
سے مراد وہ دنیاوی کام ہے جس کی وجہ سے اس نے نمازِ عصر چھوڑ دی۔ضبطی سے مراد اس
کام کی برکت کا ختم ہونا، باقی اس کی وجہ
پیچھے حدیث نمبر2 میں بیان کر دی گئی ہے۔(مراۃ المناجیح
،1/270)
ہر عبادت سے برتر عبادت نماز
ساری دولت سے بڑھ کر ہے دولت نماز
قلبِ غمگین کا سامانِ فرحت نماز ہے
مریضوں کو پیغامِ صحت نماز
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ یا اللہ! ہمیں عشق ِنماز عطا فرما اور نمازِ عصر کو پابندی سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ محمد موسیٰ،ملیر
نماز ہى مسلمان
اور کافر مىں فرق کرتى ہے۔دن رات مىں پانچ نمازىں فرض ہىں۔پانچوں نمازوں کے ساتھ نمازِ
عصر کا ذکر خصوصاً قرآنِ پاک مىں آىا ہے۔قرآنِ پاک مىں صلوۃِ وُسطى(ىعنى درمىانى نماز)کے متعلق
ربِّ کریم نے ارشاد فرماىا:ترجمۂ
کنزالعرفان:تمام نمازوں کى پابندى کرو اور خصوصاً درمىانى نماز کى اور اللہ کے
حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔(البقرۃ: 238)نمازِ عصر کى اہمىت و فضىلت پر فرامىنِ مصطفٰے مندرجہ ذىل
ہىں۔1:حضرت ابوہرىرہ رضی اللہ
عنہ بىان کرتے ہىں:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس بارى بارى آتے ہىں اور صبح اور عصر
کى نماز مىں ان کا اجتماع ہوتا ہے، پھر ڈىوٹى کے اعتبار سے اوپر چلے جاتے ہىں،پھر ان کا ربِّ کریم ان سے درىافت کرتا ہے،
حالانکہ وہ ان سے زىادہ جاننے والا ہے کہ
تم مىرے بندوں کو کس حال مىں چھوڑ کر آئے ہو؟فرشتے عرض کرتے ہىں:ہم جب ان کے پاس
سے گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کےپاس پہنچے تووہ نماز پڑھ رہے تھے۔( مصنفہ امام المحدثىن ، ابوالحسىن مسلم بن الحاج القشىرى ،مسلم جلد 1، باب صبح اور عصر کى نماز کى فضىلت اور ان کى
حفاظت، حدىث نمبر 1430، ص 457) 2:حضرت عمارہ بن
رویبہ رضی اللہ عنہ بىان کرتے ہىں،رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے نماز پڑھى وہ دوزخ مىں نہىں جائے گا۔3: ابوبکرہ کے والد رَضِىَ اللہُ عنہ بىان
کرتے ہىں: رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے دو ٹھنڈى نمازىں(عصر اور فجر) پڑھىں وہ جنت مىں جائے گا۔ 4: فرمانِ مصطفٰےصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :جب مردہ قبر مىں داخل ہوتا ہے اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے، وہ آنکھىں
ملتا ہوا اٹھ بىٹھتا ہے اور کہتا ہے:( دعونى اصلى) ذرا ٹھہرو! مجھے نماز تو پڑھ لىنے دو۔حکىم الامت مفتى احمد ىار خان نعىمى رحمۃ
اللہ علیہ اس حدىثِ پاک کے اس حصے” (دعونى اصلى) ىعنى ذرا ٹھہرو! مجھے نماز تو پڑھنے دو“ کے بارے مىں فرماتے
ہىں:ىعنى اے فرشتو! سوالات بعد مىں کرنا،عصر کا وقت جارہا ہے ،مجھے نماز
پڑھ لىنے دو، ىہ وہ کہے گا جو دنىا مىں نمازِ
عصر کا پابند تھا، اللہ پاک نصىب کرے۔مزىد فرماتے ہىں:ممکن ہے کہ اس عرض پر سوال و
جواب ہى نہ ہوں اور ہوں تو نہاىت آسان، کىونکہ اس کى ىہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکى۔ 5:حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے نمازِ عصر چھوڑى اس کے عمل باطل ہوگئے۔ (اىضا ، حدىث نمبر 1435، ص 458، 559 3: اىضا ، حدىث نمبر
1436: ص 459 4: سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب ذکر القبرو البلى ،حدىث 4272:، ج
4، ص 503))( مراة المناجىع، ج 5، ص 142،
بہار شرىعت ج 1، ص 110، مطبوعہ مکتب المدىنہ باب المدىنہ کراچى پاکستان ْ6: بخارى، الصحىح ، کتاب مواقىت الصلوة، باب اثم من ترک العصر ، 1، ص 203،
رقم 528)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ منیر احمد،رکھانے
نماز اىک اعلىٰ
عبادت ہے کہ اس کے بارے مىں سوال جواب ہونا ہے۔نمازِ فجر و عصر دىگر نمازوں کے
مقابلے مىں اعظم(ىعنى زىادہ عظمت والى) ہىں کىونکہ فجر کى نماز کے بعد رزق تقسىم ہوتا ہے، جبکہ دن کے آخرى حصے(ىعنى عصر کے وقت ) مىں اعمال
اٹھائے جاتے ہىں ۔تو جو شخص ان دونوں وقتوں مىں مصروفِ عبادت ہوتا ہے اس کے رزق و عمل مىں برکت دى جاتى ہے۔نمازِ عصر کے
متعلق احادىثِ مبارکہ مىں فضىلت بىان کى گئى ہے۔ آئىے!نمازِ عصر کے متعلق پانچ
فرامىنِ مصطفٰے ملاحظہ فرمائىے۔1:حضر تِ عمارہ بن روىبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مىں
نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے ( ىعنى نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کى (ىعنى جس نے فجر و عصر کى نماز پڑھى)وہ ہر گز
جہنم مىں داخل نہ ہوگا۔( مسلم،ص 250،حدىث 1436)2:حصرت جرىر بن
عبداللہ رَضِىَ اللہُ عنہ بىان
کرتے ہىں:ہم حضورعلیہ
السلام کى بارگاہ مىں حاضر تھے،آپ نے چودھوىں رات کے چاند کى طرف دىکھ کر ارشاد فرماىا:عنقرىب تم
اپنے رب کو اس طرح دىکھو گے جس طرح اس چاند کو دىکھ رہے ہو۔ تو تم
لوگو سے ہوسکے تو نمازِ فجر و عصر کبھى نہ
چھوڑو۔3:آقا علىہ الصلوة والسلام نے
فرمایا:ىہ مىرى نماز ىعنى نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پىش کى گئى تو انہوں نے اسے ضائع کردىا، لہٰذا
جو اسے پابندى سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔( مسلم، ص، 322، حدىث: 1927)4: سرکارِ دوعالم
صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جس نے نمازِ عصر چھوڑ دى اس کا عمل ضبط
ہوگىا۔5:اللہ پاک کے پىارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ارشاد فرماىا:جس
کى نمازِ عصر نکل گئی ( ىعنى جو جان بوجھ کر نمازِ
عصر چھوڑے) گوىا اس کے اہل و عىال و مال وتر ہو(ىعنى چھىن لىے) گئے۔(بخارى،1/ 202 ،حدىث: 552)اللہ پاک ہمىں نمازِ
عصر کے ساتھ ساتھ تمام نمازوں کى پابندى کرنے کى توفىق عطا فرمائے امىن۔
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ محمد نواز،سیالکوٹ
ہر مسلمان مرد و
عورت پر روزانہ پانچ نمازىں فرض ہىں ۔ربِّ کریم قرآن کرىم مىں فرماتا ہے:ان
الصلوة کانت على المؤمنین کتابا موقوتا0(پ5، النسآء :103)ترجمہ:بىشک
نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے ۔نماز کى فرضىت کا انکار کفر ہے۔جان بوجھ کر جو اىک نماز ترک
کرے وہ فاسق،سخت گناہ گار و عذابِ نار کا
حق دار ہے۔جنت اے بے نمازىوں! کس طرح پاؤ گے؟ ناراض رب ہوا تو دوزخ مىں جاؤ گے۔نمازِ عصر کى اہمىت و فضىلت پر متعدد
آىات و احادىث اور بزرگانِ دىن کے اقوال ملتے ہىں۔نمازِ عصر کى اہمىت و فضىلت: نمازِ
عصر کے متعلق رب کریم فرماتا ہے:حفظو ا على الصلوات والصلوة الوسطی نمازِ عصر کو صلوة و سطی بھى کىا جاتا ہے۔ حضرت ابوہرىرہ رضی اللہ عنہ سے رواىت ہے،مدىنے
کے تاجدار صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرماىا:تم مىں دن اور رات کے فرشتے بارى بارى آتے
ہىں اور فجر و عصر کى نمازوں مىں جمع ہوجاتے ہىں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم مىں
رات گزارى ہے اوپر کى طرف چلے جاتے ہىں۔اللہ
پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے:تم نے مىرے بندوں کو کس حال مىں
چھوڑا؟وہ عرض کرتے ہىں:ہم نے انہىں نماز
پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھى وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخارى جلد 1، ص 203، حدىث)صحابى ابنِ صحابى و حضرت عبداللہ بن
عمر رَضِىَ اللہُ عنہما سے رواىت ہے، اللہ پاک کے پىارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کى نمازِ عصر نکل گئى(ىعنى جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گوىا کہ اس کے اہل و عىال وتر ہوگئے (ىعنى چھىن لىے گئے۔)(فتاوىٰ ج 1، ص 202، حدىث 552)حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں: مىں
نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے ( نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کى (ىعنى جس نے فجر و عصر کى نماز پڑھى) وہ ہر گز جہنم مىں داخل نہ ہوگا۔(مسلم ص 250،حدىث
1433)حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ بىان
کرتے ہىں: ہم حضورعلیہ
السلام کى خدمت مىں حاضر تھے ، آپعلیہ السلام چودھوىں رات کے
چاند کے چاند کى طرف دىکھ کر فرمایا:عنقرىب تم اپنے رب کو اسى طرح دىکھو گے جس طرح
اس چاند کو دىکھ رہے ہو،اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نمازِ فجر و عصر کبھى نہ چھوڑو،
پھر حضرت جرىر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ىہ آىت مبارکہ پڑھى:ترجمۂ کنزالاىمان، اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کى پاکى بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(مسلم ، ص 239، حدىث 1434)تابعى بزرگ حضرت ابوالملىح بىان کرتے
ہىں:اىک اىسے روز کہ بادل چھائے ہوئے تھے،ہم صحابىِ رسول حضرت برىدہ رضی اللہ
عنہ کے ساتھ جہاد مىں تھے،آپ نے فرمایا:نمازِ عصر مىں جلدى
کرو،کىونکہ سرکارِ دو عالم علیہ السلام نے فرمایا:جس نے نمازِ عصر چھوڑ دى اس کا عمل ضبط ہوگىا۔(بخارى ج1، ص 203، حدىث 552) فجر و عصر کى
نماز مىں دن رات کے محافظ فرشتے جمع ہوئے
ہوئے ہىں۔
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ رفیع عطاریہ،اوکاڑہ
اے عاشقان رسول!جب
نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم معراج کو تشریف لے گئے تو اللہ پاک نے اپنے حبیب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نماز کا تحفہ عطا فرمایا:یادرہے!نماز اہلِ ایمان پر ایک اہم ترین فریضہ ہے۔نماز
کا حکم اللہ پاک نے قرآنِ حکیم میں کئی جگہ فرمایا:جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے:
ترجمہ:بے شک مومنین پر مقررہ اوقات میں نماز فرض ہے۔(النساء:103 آیت نمبر)نمازِ عصر کے بارے
میں قرآنِ حکیم میں رب کریم نے فرمایا:ترجمہ:تمام نمازوں کی حفاظت کرو خصوصیت کے
ساتھ صلوۃ الوسطی کی۔(البقرۃ: 238)اس آیت میں صلوۃِ وُسطیٰ سے مراد نمازِ عصر ہے۔نمازِ عصر کی
فضیلت و اہمیت پر احادیث:1:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے، نبیِ کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:تمہارے پاس رات کے
فرشتے اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور وہ فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز
میں جمع ہوتے ہیں۔پھر جو تم میں رات گزاریں وہ چڑھ جاتے ہیں ان سے انکا رب پوچھتا
ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ ”تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟“وہ
کہتے ہیں:ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچےتھے تب بھی وہ
نماز پڑھ رہے تھے۔(مراۃ آلمناجیح جلد اول صفحہ351) 2:۔امام بخاری روایت کرتے ہیں،حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جس دن
موسم ابر آلود تھااول وقت میں عصر کی نماز پڑھوکیونکہ نبیِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے
فرمایا:جس نے عصر کی نماز کو ترک کردیا اس
کا عمل ضائع ہوگیا۔(نعمۃ الباری جلد دوم صفحہ
نمبر۔۔390)3:حضرت عمارہ ابنِ روبیہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے ،میں نے نبیِ کریم صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:وہ
شخص آگ میں ہرگز نہیں داخل نہیں ہو گا جوسورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے
پہلے کی نمازیں پڑھتا رہے یعنی فجر اور
عصر (مراۃ المناجیح جلد
اول صفحہ 350)4:ابنِ بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے
فرمایا:جس شخص کی نمازِ عصر فوت ہوجائے تو گویا اس کے اہل وعیال اور اس کا مال و
متاع لوٹ گیا۔ (مسند امام اعظم صفحہ 243)اس حدیث کے تحت علامہ ابنِ عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:اس حدیث سے معلوم
ہوتا ہے کہ نمازِ عصر کی اس قدر اہمیت ہے کہ اس نماز کو نہ پڑھنا گھر بار مال و
دولت کی ہلاکت کے مترادف ہے۔اللہ کریم ہمیں تمام نمازیں مستحب اوقات میں ادا کرنے
کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔5:حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں
نے فرمایا:ہم نبیِ کریم صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس تھے،آپ نے ایک رات چاند کی طرف دیکھا یعنی ماہِ
تمام کی شب میں،پھر آپ علیہ
الصلاۃ والسلام نے فرمایا:بے شک تم اپنے رب کو اس طرح دیکھوں گے جس طرح اس
چاند کو دیکھ رہے ہو،تمہیں اس کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی۔ اگر تم یہ کر
سکتے ہو کہ طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے نماز پڑھنے سے مغلوب نہ
ہو تو یہ ضرور کرو۔پھر آقا کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ آیتِ
مبارکہ تلاوت فرمائی:ترجمہ:آپ طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے نماز
میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھئے۔(قٓ:39)(نعمۃ
الباری شرح صحیح البخاری جلد دوم صفحہ نمبر 391) اے عاشقان نماز! مذکورہ حدیث سے نمازِ عصر کی فضیلت کا معلوم ہوا اور یہ بھی
معلوم ہوا کہ فجر اور عصر کی نماز کو زیادہ فضیلت حاصل ہے کیونکہ یہ نفس پر زیادہ
دشوار ہوتی ہیں۔کیونکہ فجر کے وقت نیند سے
جاگنا مشکل ہوتا ہے اور عصر کے وقت میں کاروبار کا زور و شور ہوتا ہےنیز ان دونوں
کاموں کو چھوڑ کر نماز کے لیے جانا نفس پر دشوار ہوتا ہے ۔تو جو عمل جتنا نفس پر
دشوار ہوتا ہے اس کا اجر بھی عظیم ہوتا ہے۔ اللہ کریم ہمیں تمام نمازوں کی حفاظت
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ اشرف عطاریہ،گوجرہ
اللہ پاک کے آخری
نبی صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: میں نے تمہاری امت پر
پانچ نمازیں فرض کیں اور میں نے یہ عہد کیا ہے کہ جو ان نمازو ں کی وقت کے ساتھ
پابندی کرے گا میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو پابندی نہیں کرے گا اس کے لئے
میرے پاس کوئی عہد نہیں۔( ابو داود جلد 1 صفحہ 188)نماز مسلمان کے لیے ایک وقت باندھا ہوا فرض ہے ،جس کا ذکر
قرآنِ مجید میں متعدد مرتبہ آیا ہے۔نماز پڑھنے کی بہت زیادہ فضائل و برکات احادیثِ
مبارکہ اور قرآنِ کریم سے ملتے ہیں وہیں نماز نہ پڑھنے کی بھی بے شمار وعیدیں بھی
احادیث سے ملتی ہیں۔نماز کی فرضیت کا انکار کفر ہے۔اللہ پاک نے مسلمانوں پر نماز
فرض فرما کر خود ہی مسلمانوں پراحسانِ عظیم فرما یا۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز اللہ
پاک کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ نمازی کو بروزِ قیامت نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی۔نمازی کو بروزِ قیامت اللہ پاک کادیدار ہوگا۔ویسے تو
پانچوں نمازیں بہت زیادہ فضیلت رکھتی ہیں اور ہر نماز پڑھنے کا بہت زیادہ
ثواب ہے یہاں تک کہ نفل نمازوں کی بھی بہت
زیادہ فضائل احادیث سے ملتے ہیں مگر یہاں نمازِ عصر کے متعلق چند مدنی پھول پیش
کیے جاتے ہیں۔احادیثِ مبارکہ اور آیاتِ قرآنی میں نمازِ عصر کی بہت زیادہ ترغیب
دلائی گئی ہے۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:حفظوا علی الصلوت والصلوۃ
الوسطی۔نگہبانی کرو نمازوں کی اور درمیانی نماز کی۔مفسرین کی رائے
یہ ہے کہ عصرکی نماز ہی درمیانی نماز ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی دو نمازیں اور اس
کے بعد بھی دو نمازیں ہوتی ہیں ،نیز اس
نماز کی قرآنِ کریم میں بھی خاص تاکید کی گئی ہے۔️1️ :حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:مرنے والا جب قبر میں داخل ہوتا ہے تو اس کو سورج ڈوبتا ہوا معلوم
ہوتا ہے، وہ کہتا ہے:مجھے چھوڑو تاکہ میں نماز پڑھ لوں۔ ابن ماجہ جلد 4 صفحہ 503 مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ پاک کے اس حصے کہ ”سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے“ کہ تحت فرماتے ہیں:یہ اسےمنکر نکیر کے
جگانے پر ہوتا ہے خواہ دفن کسی وقت بھی ہو۔چونکہ نمازِ عصر کی زیادہ تاکید ہے
اور سورج کا ڈوبنا اس کے جاتے رہنے کی
دلیل ہے اور اس کا یہ کہنا کہ ”مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں یعنی اے فرشتو! مجھ سے سوالات بعد میں کرنا پہلے مجھے نماز
پڑھنے دو“یہ وہی کہے گا جو دنیا میں نمازِ عصر کا پابند تھا۔️2️:حضرت ابوبصرہ
غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نمازِ عصر تم سے پہلے لوگوں پر پیش کی گئی لیکن انہوں نے اسے
ضائع کر دیا،تم اسے ادا کرو تمہارے لیے اس میں دگنا اجر ہے۔مسلم صفحہ 322 حدیث 1927مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:پہلی امتوں پر بھی نماز
فرض تھی مگر انہوں نے اسے ادا نہ کیا اور عذاب کے مستحق ہوئے۔مراۃ المناجیح جلد 2 صفحہ 166️3️تابعی بزرگ حضرت ابو الملیح رحمۃ اللہ
علیہ بیان کرتے ہیں :ایک روز ایسے بادل چھائے ہوئے تھے ہم صحابی
رسول حضرت بریدہ رضی اللہ
عنہ کے ہمراہ جہاد میں تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نمازِ
عصر جلدی ادا کرو کیوں کہ نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کا عمل ضبط ہو گیا۔ فیضانِ نماز بخاری
جلد 1 صفحہ 303-مراۃ المناجیح جلد 1 صفحہ 381 پر ہے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:غالبا عمل سے مراد وہ
دنیاوی کام ہے جس کی وجہ سے اس نے نمازیں چھوڑ دیں تو اس کام سے برکت زائل ہو جائے
گی یا یہ مطلب کی جو عصر چھوڑ دے اس کے لیے اندیشہ ہے کہ وہ کفر پہ مرے اور اس کے
اعمال برباد ہو جائیں۔البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عصر چھوڑنا کفر و ارتداد ہے۔️4️:حضرت عمارہ بن
رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز ادا کی( یعنی نمازِ فجر و
عصر ادا کی) وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔مسلم صفحہ 250۔️5️:صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے، نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس کی عصر کی نماز نکل گئی ( یعنی
جان بوجھ کر عصر کی نماز چھوڑی) گویا اس کے اہل
وعیال ومال وتر ہوگئے یعنی چھین لیے گئے ۔بخاری جلد 1 صفحہ 202حضرت ابوسلیمان الخطابی ا لشافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وتر
سے مراد ہے چھن جانا یعنی جس کے بال بچے مال وغیرہ چھن جائیں وہ اکیلا رہ جاتا ہے
گویا جس طرح بندہ اپنے مال اور اولاد کی چھن جانے سے ڈرتا ہے اسی طرح نمازچھوڑنے سے بھی ڈرے۔فیضانِ نماز،صفحہ 106ان احادیثِ مبارکہ سے نمازِ عصر کی فضیلت معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی پتا چلتا
ہے کہ جان بوجھ کے نماز قضا کر دینا کتنا گناہ ہے اور نمازِ عصر چھوڑنا بہت بڑا
گناہ ہے۔ آئیے! نیت کرتی ہیں کہ اگر آج تک ہم نے نماز قضا کی ہو تو ان کو ادا کریں
گی اور آئندہ پانچوں نمازیں پابندی وقت کے ساتھ پڑھنے کی نیت کرتی ہیں۔اللہ پاک ہمیں
پنجگانہ نماز خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین بجاہ النبی
الامین صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ محمد شفیع،راولپنڈی
حضرت عمر رضی
اللہ عنہ سے
روایت ہے،حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
فرمایا:نمازدین کا ستون ہے۔(شعب الایمان)ستون پر ہی کوئی
عمارت استوار ہوتی ہے اور دین کی عمارت کا مرکزی ستون نماز ہے۔نماز ادا کرنے کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا
جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید میں تقریباً سات سو مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے۔درج
ذیل احادیثِ مبارکہ میں نماز کی فضیلت بیان کی گئی ہے :1:وَاَقِيْمُوا
الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِيْنَ0(پ2،البقرة:43)اور نماز قائم
رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کرو۔2:يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا
اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ اِنَّ اللہ مَعَ الصَّابِرِينَ0(پ2،البقرة : 153)اے ایمان
والو!صبر اور نماز کے ذریعے(مجھ سے) مدد چاہا کرو،یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ(ہوتا) ہے۔3:اِنَّ
الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكوٰةَ
لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ
يَحْزَنُونَ0(پ2،البقرة: 277)بے شک جو
لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے
ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے، اور ان پر(آخرت میں) نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔حضور نبیِ اکرم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مختلف اوقات میں فرداً فرداً پانچوں نمازوں کی
فضیلت بیان فرمائی ہے۔نمازِ عصر کی اہمیت و فضیلت
کے بارے میں حضور نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:مَن تَرَکَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ۔)بخاری، کتاب مواقيت الصلوة، باب اثم من ترک العصر، 1 / 203،
رقم : 528(جس نے نمازِ عصر چھوڑی اس کے عمل باطل ہو گئے۔قرآنِ حکیم میں اس نماز کی
محافظت کی خصوصی تلقین کی گئی ہے:حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ
وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی۔(پ2، البقرة : 238)سب نمازوں کی محافظت کیا کرو
اور بالخصوص درمیانی نماز کی۔حضر ت زہیر عمار بن رویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جو شخص طلوعِ آفتاب سے پہلے
اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نمازپڑھتا ہے تو وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ یعنی نمازِ
فجر اور نمازِ عصر پڑھتا ہے۔ (مسلم (634))حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تمہارے پاس رات اور دن کے وقت فرشتے
باری باری آتے ہیں اور وہ نماز صبح اور نمازِ عصر کےوقت اکٹھے ہوتے ہیں پھر جو
فرشتے تمہارے پاس رات کو ٹھہرے تھے وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں۔پس اللہ پاک ان فرشتوں سے
پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے:تم نے میرے بندوں کوکس حالت میں
چھوڑا ؟فرشتے جواب دیتے ہیں: ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب
ہم ان کے پاس گئے تھے تو تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
(متفق
علیہ، بخاری (/332: فتح)و مسلم (632)۔حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے
ہیں:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
فرمایا:جس شخص نے نمازِ عصر چھوڑ ی دی پس اس کے عمل تو برباد ہو گئے۔(بخاری
(/312 و66: فتح))حضور نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فجر اور عصر کی نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرنے والوں کو نارِ دوزخ سے
رہائی کی بشارت عطا فرمائی :لَنْ يَلِجَ النَّارَ اَحَدٌ
صَلّٰی قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا يَعْنِی الْفَجْرَ
وَالْعَصْرَ۔( مسلم،کتاب المساجد و مواضع
الصلوة، باب فضل صلاتی الصبح والعصر والمحافظۃ عليہا،1 / 440،رقم : 634) جس نے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور اس کے غروب ہونے سے
قبل یعنی فجر اور عصر کی نماز ادا کی وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔عن اَبِی بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ،عَنْ أَبِيهِ،قَالَ:سَمِعْتُ
رَسُولَ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،يَقُولُ:لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ
صَلّٰى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِهَا،يَعْنِی الْفَجْرَ وَ الْعَصْرَ،فَقَالَ
لَهُ رَجُلٌ مِنْ اَهْلِ الْبَصْرَةِ:آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللہ
صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟قَالَ:نَعَمْ،قَالَ الرَّجُلُ:وَ اَنَا اَشْهَدُ اَنِّی
سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،سَمِعَتْهُ اُذُنَایَ
وَ وَعَاهُ قَلْبِی۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنا، فرماتے تھے:نہ داخل ہوگا کبھی وہ شخص دوزخ میں جس نے نماز ادا
کی قبلِ طلوعِ آفتاب کے اور قبل ِغروبِ آفتاب کے یعنی فجر اور عصر کی نماز۔سو بصرہ
والوں میں سے ایک شخص نے کہا: تم نے سنا ہے اس کو رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں
نے بھی سنا ہے اس کو رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے،سنا ہے
میرے کانوں نے اور یاد رکھا ہے مرے دل نے۔)راوی :ابوھریرۃ المحدث:مسلم ا لمصدر:
مسلم،الصفحۃ او الرقم:1436 ۔خلاصۃ حكم المحدث: صحیح(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ،اللہ
پاک کے رسول صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ترجمہ: جس کی عصر کی نماز فوت ہو گئی گویا اس کے اہل و عیال اور مال و دولت( سب کچھ) تباہ و برباد ہو
گئے ۔( صحیح مسلم: 626)اس حدیثِ مبارکہ میں نمازِ عصر کو چھوڑنے کی وعید سنائی گئی
ہے ،لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنا محاسبہ کریں کہ ہماری غربت، بے چینی، بے برکتی،
نافرمان اولاد یا مال و دولت کی تباہی و بربادی کہیں نمازِ عصر چھوڑنے کا سبب تو نہیں؟ اگر ہم نماز سے غافل ہیں توہمیں چاہئے کہ اللہ پاک کی طرف رجوع کریں
اور پنج وقتہ نمازوں پر محافظت کریں ،نیزبطور خاص نمازِ عصر کا اہتمام کریں ۔نماز
کی محافظت کرنے والوں کے لیے اللہ پاک کے ہاں عظیم اجروثواب ہے ۔اے اللہ پاک! تو
ہمیں پنج وقتہ نمازی بنا اور اپنی توفیق سے نمازِ عصر تر ک کرنے سے بچا۔آمین
Dawateislami