نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ عبدالرشید،مہنڈر
ایمان لانے
کے بعد تمام عبادتوں میں سب سے اہم عبادت نماز ہے۔نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات
سے لگائیے کہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اور رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے احادیثِ مبارکہ
میں مختلف مقامات پر اس کی فضیلت و اہمیت اور فرضیت کا تذکرہ فرمایا ہے۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نماز کو دینِ اسلام کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے
ارشاد فرمایا:الصلوۃ عماد الدین من اقامھا فقد اقام الدین ومن ترکھا فقد
ھدم الدینیعنی نماز دین کا
ستون ہے جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے نماز کو چھوڑ دیا
اس نے دین کو ڈھا دیا۔تمام نمازوں میں سب سے زیادہ فضیلت و اہمیت اور تاکید نمازِ
وسطیٰ یعنی نمازِ عصر کی بیان ہوئی ہے۔اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:حافظوا
علی الصلوات والصلوۃ الوسطی وقوموا للہ قٰنتین0 ترجمہ:یعنی نمازوں کی محافظت کرو خصوصاً نمازِ وسطیٰ یعنی
نمازِ عصر کی اور اللہ پاک کی بارگاہ میں ادب سے کھڑے رہو۔ (البقرۃ:228)صلوۃِ وسطیٰ
میں اگر چہ فقہائے کرام کا اختلاف ہے مگر راجح قول یہی ہے اور بہت ساری احادیثِ
مبارکہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ صلوۃِ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے ۔ امام
ابنِ ابی شیبہ،امام ترمذی اور امام ابنِ حبان نے حضرت ابنِ مسعود رَضِیَ
اللہُ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: صلوۃِ وسطیٰ نمازِ عصر ہے۔ (تبیان القرآن،1/904)نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت احادیث مبارکہ کی روشنی میں:(1):حدثنا عبد اللّٰہ بن یوسفَ قال اخبرَنا مالك عن نافع عن عبد اللّٰہ بنُ عمر انَّ
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ وسلم قال الذي تفوتُه صلوۃُ العصرِ فکأنما وُتِرَ أھلُه و مالُه۔حضرت عبد اللہ عمر
رضی اللہ
عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس شخص سے نمازِ عصر فوت ہو جائے گویا اس کا گھر
بار اور مال ہلاک ہوگئے۔(بخاری،1 /78،مطبوعہ/فاروقیہ
بک ڈپو)مذکورہ حدیثِ پاک کو امام مسلم نے اپنی مسلم شریف جلد اول
صفحہ نمبر226 باب التغلیظِ فی تفویتِ صلوۃِ العصرِ کے تحت اور امام ترمذی نے اپنی ترمذی جلد اول صفحہ نمبر 24
باب ما جاء فی
السھوِ عن وقتِ صلوٰۃ العصرِکے تحت بھی
ذکر کیا ہے۔ (2):حدثنا ابو بکرِ بنُ أبي شیبةَ قال نا أبو أسامةَ عن ھشامٍ عن محمدٍ عن عبیدةَ
عن علی قال لمَّا کانَ یومُ الاحزابِ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ وسلم مَلَأَ اللّٰہ قبورَھم و بیوتَھم ناراً کما حبَسُونا و شغَلُونا عنِ الصلوۃِ
الوسطیٰ حتّٰی غابَتِ الشمسُ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت
کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے غزوۂ احزاب کے دن فرمایا: اللہ پاک ان مشرکین کی قبروں
اور گھروں کو آگ سے بھر دے انہوں نے ہمیں (جنگ میں)مشغول کرکے نمازِ عصر سے روک دیا۔(مسلم،1 /226، مطبوعہ/مجلس برکات الجامعۃ الاشرفیہ) (3):حدثنا عونُ بنُ سلامٍ الکوفی قال أنا محمدُ بنُ طلحةَ الیَاميِّ عن زبیدٍ عن
مرَّةَ عن عبدِاللّٰہ قال حبَسَ المشرکونَ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ وسلم عن صلوۃِ العصرِ حتّٰی احمرَّتِ الشمسُ أو اصْفرَت فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ وسلم شَغَلونا عنِ الصلوۃِ الوسطیٰ صلوۃِ العصرِ مَلَأَ اللّٰہ اجوافَھم و قبورَھم
ناراً أو حشی اللّٰہ اجوافَھم و قبورَھم ناراً۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بیان کرتے
ہیں:مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد
ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: (مشرکوں
نے) ہمیں صلوۃِ وسطیٰ یعنی نمازِ عصر سے روکے رکھا،اللہ پاک ان
کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔(مسلم،1/227،
/مجلس برکات الجامعۃ الاشرفیہ)(4):حدثنا ابو بکرِ بنُ ابي شیبةَ
وأبو کریبٍ واسحقُ بنُ ابراھیمَ جمیعاً عن وکیعٍ قال ابو کریبٍ نا وکیعٌ عن ابنِ
ابي خالدٍ ومسعرٍ والبختري بنِ المختارِ سَمِعُوہ من ابي بکرِ بنِ عُمارۃَ بنِ رُویبةَ
عن ابیه قال سمعتُ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ وسلم یقول لن یَلِجَ النارَ
احدٌ صلّی قبلَ طلوعِ الشمسِ و قبلَ غروبِھا یعني الفجرَ والعصرَ فقال له رجلٌ من
اھلِ البصرۃِ انتَ سمعتَ ھذا من رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم قال نعم الرّجلُ وانا أشھد أني سمتُه من رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سمعتْه اُذناي وَوَعاہ قلبي۔حضرت
عمارہ بن رویبہرضی اللہ
عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنا:آپ فرما رہے تھے کہ جس شخص نے طلوعِ آفتاب اور غروبِ
آفتاب سے پہلے یعنی نمازِ فجر اور عصر پڑھی وہ ہرگز دوزخ میں نہ جائے گا۔بصرہ کے ایک
شخص نے ان سے پوچھا :کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے خود سنی ہے؟ حضرت عمارہ نے کہا: ہاں! اس شخص نے کہا:میں
گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے یہ حدیث سنی،میرے کانوں نے اس کو سنا اور دل نے یاد
رکھا۔( مسلم،1/228،مجلسِ برکات الجامعۃ الاشرفیہ(5):حدثنا ھذابُ بنُ خالدٍ الازديِّ قال نا ھمّامُ بنُ یحيٰ قال حدثني أبو جَمرۃَ
الضَّبَّيُّ عن ابي بکرٍ عن أبیه أنَّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہُ علیہ واٰلہٖ وسلم قال من صلّی البَردَیْنِ دخلَ الجنّة۔ابو بکرہ کے والدرضی اللہ عنہ بیان کرتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (عصر اور فجر) پڑھیں وہ
جنت میں جائے گا۔(مسلم،1 /228،مجلسِ برکات الجامعۃ الاشرفیہ)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ عبدالرزاق،کوٹ لکھپت
فرمانِ باری ہے:اور
اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج کے چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے۔(ترجمۂ کنزالایمان) فرمانِ
مصطفے:حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،
ہم حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے، آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: عنقریب یعنی قیامت کے
دن تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو تو اگر تم لوگوں
سے ہو سکے تو نمازِ فجر اور عصر کبھی نہ چھوڑو پھر حضرت جریر بن عبداللہ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی جو اوپر بیان کی گئی۔(مسلم،حدیث:1443) فرمانِ
مصطفٰے صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم حضرت ابو بصرہ
غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع
کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔(مسلم،حدیث:1927) فرمانِ
مصطفٰے صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم :رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو
شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل رہے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔(بہارِ شریعت،جلد4)فرمانِ
مصطفٰے صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مدینے
کے تاجدار صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے
ہیں اور فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں پھر وہ فرشتے جنہوں تم میں رات
گزاری ہے اوپر کی طرف جاتے ہیں اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے: تم
نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے انہیں نماز پڑھتے
چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری،جلد1) فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں
نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے
نماز ادا کی یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑھی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،حدیث:1436)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت
پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ عبدالرؤوف،امریکہ
اللہ پاک
نے معراج کی رات سردار دو جہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے توسط سے امتِ محمدیہ پراپنا فضل وکرم فرماتے ہوئے پنجگانہ
نمازوں کا تحفہ عطا فرمایا۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:ان الصلوة
كانت على المؤمنين كتاباموقوتا0ترجمۂ
کنزالعرفان:بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت میں فرض کی گئی ہے۔(پ 5،النساء : 103)جہاں
پانچوں نمازوں کے ان گنت فضائل ہیں وہیں ہر نماز کے الگ الگ بھی کئی فضائل بیان
کئے گئے ہیں۔ نمازِ عصر کے چند فضائل ملاحظہ فرمائیے:1:نمازِ عصر سے متعلق ارشار
باری ہے :حفظو اعلى
الصلوات والصلوة الوسطىترجمۂ
کنزالعرفان:تمام نمازوں کی حفاظت کرواور درمیانی نماز کی۔( پ2،البقرۃ:238)اکثر علما
کے نزدیک اس آیت میں نمازِ عصر کو صلوةالوسطى سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔2: حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے
ہیں:ہم حضورِ پاک صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا:عنقریب (قیامت کے دن) تم اپنے رب
کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو،تو اگر تم سے ہو سکے تو
نماز فجر اور عصر کبھی نہ چھوڑو۔پھر حضرت
جریر رَضِیَ اللہُ عنہ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی :وسبح بحمد
ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھاترجمۂ
کنزالایمان: اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور
اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(فیضانِ
نماز، ص100-مسلم، ص239 ،حدیث:1434)3-
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے، نوروالے آقا صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی
تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے
گا۔(فیضانِ نماز ،ص104-مسلم، ص322،حدیث:1927)4:حضرت عمارہ بن
روَیبہ رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں:میں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے سے
پہلے نماز ادا کی(یعنی فجر وعصر پڑھی)وہ ہر گز جہنم میں داخل نہ ہو گا۔(فیضانِ نماز، ص99-مسلم، ص250،حدیث:1436)5:صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے، اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کی نمازِ عصر نکل گئی(یعنی جان بوجھ کر عصر چھوڑ ے) گویا اس کے اہل وعیال و مال وتَر(یعنی چھین لیے )گئے۔(فیضانِ نماز،ص106-بخاری، 1/202،حدیث:552)اللہ پاک ہمیں پانچوں نمازوں کی بروقت اور خشوع و خضوع کے
ساتھ ادائیگی نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
قال اللہ:حفظوا علی الصلوات والصلوۃ
الوسطی اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی۔ (پ2،البقرۃ:238) جمہور
علمائے کرام کے نزدیک یہاں نمازِ عصر مراد ہے ۔اسی مناسبت سے شوقِ نماز بڑھانے اور
فیضانِ حدیثِ نبوی حاصل کرنے کے لیے نمازِ عصر کے متعلق پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیارے فرامین ملاحظہ فرمائیے۔نمازِ عصر کے فضائل: (1) حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں
نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے یعنی
نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز ادا کی یعنی جس نے فجر اور عصر کی نماز پڑھی وہ ہر
گز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص250،حدیث:1436)(2)حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نماز( عصر) تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے
پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔ (مسلم،ص322،حدیث:1927) (3)رسولِ پاک صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اللہ پاک اس کے
بدن کو آگ پر حرام فرما دے۔(معجم کبیر،23/281،حدیث:611) سبحان اللہ!لیکن
جہاں نمازِ عصر پڑھنے کے اتنے فضائل ہیں وہیں نمازِ عصر چھوڑنے کی وعیدیں بھی آئی ہیں
چنانچہ نمازِ عصر چھوڑنے کی وعیدیں:صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبیِ
کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس کی نمازِ عصر نکل گئی (یعنی جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے)گویا اس
کے اہل و عیال اور مال واتر ہو گئے( یعنی چھین لیے
گئے۔)(بخاری،1/202،حدیث:552)رسولِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نمازِ عصر میں
تاخیر کرنا منافق کی علامت قرار دیا ہے
چنانچہ(5) خادمِ نبی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں
نے سرورِ کائنات صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا :یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا
انتظار کرتا رہے حتٰی کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے بیچ آ جائے( یعنی غروب ہونے کے قریب ہو جائے) تو کھڑا ہو کر چار چونچے مارے کہ ان میں اللہ پاک کا تھوڑا ہی ذکر کرے۔اللہ
پاک ہمیں نمازِ پنجگانہ بالخصوص نمازِ وسطی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نمازِ عصر کی فضیلت و
اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ اعجاز حسین عطاری،جاؤرہ
نماز مسلمانوں کے لئے اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہےجو اس نے
اپنے فضل وکرم سے ہم پر لازم کی ہے ۔نماز پڑھنے والا دنیا کے تمام تر مشاغل یہاں تک کہ حلال چیزوں کو بھی ترک کر کے اپنے
آپ کو اللہ پاک کی بارگاہ میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔یوں تو پانچوں نماز کے اپنے
فضائل ہیں لیکن ہم یہاں خصوصاً نمازِ عصر کے متعلق ارشادِ نبی پڑھیں
گی لیکن اس سے پہلے قرآنِ کریم کی یہ آیت ِمبارکہ ضرور پڑھیے:حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْاللہ
قٰنِتِیْنَ0(البقرۃ:238) ترجمۂ کنز
العرفان:تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصاً درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور
ادب سے کھڑے ہوا کرو۔تفسیر صراط
الجنان میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:نمازِ
عصر کی تاکید کی ظاہری وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ ایک تو اس وقت دن اور رات کے فرشتے
جمع ہوتے ہیں۔(بخاری،4/549، حدیث:7429-شرح السنہ،5 / 370، تحت الحدیث: 2510)دوسرا یہ کہ اس وقت کاروبار کی مصروفیت کا وقت ہوتا ہے تو
اس غفلت کے وقت میں نماز کی پابندی کرنا زیادہ اہم ہے۔ اب یہاں 3 فرامینِ مصطفٰے نمازِ
عصر کی فضیلت ملاحظہ کیجئے:(1)حضرت عمارہ
بن رویبہ رضی اللہ
عنہ فرماتے
ہیں: میں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے سے پہلے ( یعنی فجر اور عصر کی)نماز ادا کی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، 250 ،حدیث: 1436)(2)حضرت جریر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم حضور پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے، آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: (عنقریب قیامت کے دن )تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس کو دیکھ رہے ہو ،تو
اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نمازِ فجر اور نمازِ عصر کبھی نہ چھوڑو ۔ (مسلم، 239 ،حدیث: 1434)(3)حضرت ابوبصرہ
غفاری رضی اللہ
عنہ سے روایت
ہے، نور والے آقا صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے
فرمایا:یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئیں تو انہوں نے اسے
ضائع کردیا،لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دوگنا( یعنی ڈبل) اجر ملے گا۔نمازِ عصر کے چھوڑنے پر وعیدیں بھی حدیثِ پاک میں
خصوصا وارد ہوئی ہیں جو درج ذیل ہیں:اہل و عیال اور مال برباد ہوگئے :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس کی نمازِ عصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اس کے اہل و عیال و مال وتر ہو گئے۔( یعنی چھین لیے گئے)( بخاری، 202 ،حدیث: 553)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
شہزاد احمد،چونا بھٹی
اللہ پاک کا کروڑ
ہا کروڑ احسان ہے کہ اس نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا اور اس امت کے سردار،
رحمت دو جہاںصلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو پیدا فرمایا جو تمام جہان کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔
اللہ پاک نے حضور صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو بے شمار معجزے عطا فرمائے جن میں ایک معجزہ معراج شریف
کا ہے جس میں آقا علیہ سلام نے اپنی سر کی
آنکھوں سے اللہ پاک کا دیدار کیا اور اس سفر پر آقا علیہ السلام کو آپ کی امت کے
لیے پچاس نمازوں کا تحفہ ملا جو تخفیف ہو کر پانچ رہ گئی مگر ثواب اب بھی پچاس
نمازوں کا ہی ہے۔ ان پانچ نمازوں فجر،ظہر،عصر،مغرب اور عشا کی نماز کی بڑی اہمیت
اور فضیلت ہے۔نمازِ عصر کی بھی بہت اہمیت اور فضیلت ہے۔آئیے ! عصر کی نماز کی اہمیت
اور فضیلت سنتی ہیں۔نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ
نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا
لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ
اللہِ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: یعنی پچھلی امتوں پر بھی نمازِ
عصر فرض تھی مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔(فیضانِ نماز،ص105) (2)تین
فرامینِ مصطفٰے:(1)اللہ پاک اس شخص
پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔(2) جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اللہ اس کے بدن کو آگ پر
حرام فرمائے گا۔(3)جوعصر سے پہلے
چار رکعتیں پڑھے اسے آگ نہ چھوئے گی۔(فیضانِ نماز،ص109)(3) حضرت عمارہ بن رویبہ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے فرمایا: میں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے سے پہلے نماز ادا کی یعنی
جس نے فجر اور عصر کی نماز پڑھی وہ ہر گز جہنم میں نہیں جائے گا۔(فیضانِ نماز،ص99)(4)رسول
اللہ صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں
اور فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہو جاتے ہیں،پھر وہ فرشتے جنہوں نے تمہارے ساتھ
رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ۔اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے
پوچھتا ہے:تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے انہیں
نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(فیضانِ نماز،ص98)(5) آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح
دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نمازِ فجر
اور عصر کبھی نہ چھوڑو۔ (فیضانِ
نماز،ص100)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
ذوالقرنین،گلشن اقبال
امام احمد رحمۃُ اللہِ علیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ
حضور صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:رات اور دن کے فرشتے نمازِ فجر و عصر میں جمع
ہوتے ہیں،جب وہ جاتے ہیں تو اللہ پاک ان سے فرماتا ہے: کہاں سے آئے ہو؟ حالانکہ وہ
جانتا ہے۔عرض کرتے ہیں:تیرے بندوں کے پاس سے، جب ہم ان کے پاس گئے تو نماز پڑھ رہے
تھے اور انہیں نماز پڑھتا چھوڑ کر تیرے پاس حاضر ہوئے۔(بہار شریعت،1/154)(2) حضرت
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا :میں نے حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص ہر گز آگ میں داخل نہیں ہوگا جو نکلنے اور اس
کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے یعنی فجر اور عصر کی نمازیں۔( مسلم:634)(3)حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں فجر اور عصر پڑھتا رہا وہ جنت میں
داخل ہوگا۔(مسلم:635) (4)حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور اسے اسی طرح دیکھو
گے جیسےاس چاند کو دیکھ رہے ہو،اسے دیکھنے میں کوئی مزاحمت نہیں ہوگی۔ پس اگر تم ایسا
کر سکتے ہو تو سورج طلوع ہونے پہلے والی نماز یعنی فجر اور سورج غروب ہونے سے پہلی
والی نماز یعنی عصر سے تمہیں کوئی چیز روک نہ سکے تو ایسا ضرور کرو۔پھر آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ:پس اپنے مالک
کی حمد و تسبیح کر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے۔(ترمذی:2551)(5)حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب مردہ قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج غروب ڈوبتا ہوا
معلوم ہوتا ہے،وہ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا اور کہتا ہے :ذرا ٹھہرو مجھے نماز تو
پڑھنے دو۔(باب ذکر
القبر،4/503،حدیث:4272)
دعوتِ
اسلامی کے زیر اہتمام پاکستان بھر میں مارچ 2022ء میں ہونے والے اسلامی
بہنوں کے آٹھ دینی کاموں کی کارکردگی کا اجمالی جائزہ ایک
نظر میں ملاحظہ ہو:
انفرادی
کوشش کے ذریعے دینی ماحول سے منسلک ہونے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 6 ہزار 107
روزانہ
گھر درس دینے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 78 ہزار 608
امیراہل
سنت دامت برکاتہم العالیہ کا بیان/ مدنی مذاکرہ سننے والی اسلامی بہنوں کی: 98 ہزار 242
مدرسۃ
المدینہ بالغات کی تعداد : 4 ہزار761
ان
میں پڑھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد : 55 ہزار 298
ہفتہ
وار سنتوں بھرے اجتماعات کی تعداد: 9 ہزار 655
ان
میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کی
تعداد: 3 لاکھ ،4 ہزار،725
ہفتہ
وار علاقائی دوروں میں شرکت کرنے
والی اسلامی بہنوں کی تعداد : 22 ہزار507
ہفتہ
وار رسالہ پڑھنے / سننے والی اسلامی بہنوں
کی تعداد : 11 لاکھ،13 ہزار،363
وصول
ہونے والے نیک اعمال کے رسائل کی تعداد :63
ہزار 941
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ حکمدداد،سلطان آباد
نمازِ عصر کی اہمیت اور فضیلت بہت ہے۔بخاری شریف میں آتا ہے:جس
نے جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑ دی اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے ،اس کی اولاد مر
گئی اور سارا گھر چوری ہو گیا۔ یہ نماز چونکہ سورج کے غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے
ادا ہوتی ہے۔ یہ وقت مصروفیت کا ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کی نماز رہ جاتی ہے۔”ایک عورت
مدینے کے بازار میں رو رہی تھی اور حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تلاش میں تھی کہ اتنے میں حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے اور فرمایا:اے عورت! تجھے
کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرا خاوند گھر پر نہیں ہے اور مجھ سے زنا ہو گیا ، پھر میرا
بچہ پیدا ہوا تو میں نے اس بچے کو ڈرم میں پھینک دیا۔جس ڈرم میں بچے کو پھینکا تھا
وہ ڈرم سرکے والا تھا ۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پوچھا:وہ
سرکہ کہاں گیا؟تو عورت بولی:وہ تو میں نے بیچ دیا۔ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو سرکہ تو نے بیچ دیا وہ حرام تھا۔ تو نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔
تو نے جو زنا کیا اس کے لیے تجھے رجم کیا جائے گا، جو بچہ قتل کیا اس کے بدلے قتل
کیا جائے گا اور جو سرکہ تو نے بیچا وہ حرام تھا اس کی بھی سزا ملے گی کیونکہ وہ
حرام تھا۔پھر فرمایا: اے عورت! میں نے سمجھا کہ تمہاری عصر کی نماز قضا ہو گئی ہے۔“کتنی
فضیلت ہے نمازِ عصر کی!ایک اور مقام پر حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بندہ یا بندی مر جاتا یا مر جاتی ہے چاہے وہ دن ہو رات ہو
یا شام لیکن قبر میں اس کو یہ محسوس ہوگا کہ سورج غروب ہونے والا ہے اس وقت وہی
نماز ادا کرے گا جو نمازِ عصر کا پابند ہوگا۔میرے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جب اس بندے کی آنکھیں قبر میں بند ہو گئیں اور پھر فوری طور پر
کھل جائے گئیں اور فرشتے سے کہے گا:میں ذرا نماز عصر ادا کر لوں۔ آج کل لوگوں کا
رواج ہے کہ سورج کے غروب کے وقت گھر سے باہر نکل جاتے ہیں گھر کا سامان لانے کے لیے
تو اس وقت انسان کے اندر غفلت آ جاتی ہے اور وہ نماز چھوڑ دیتا ہے۔بخاری شریف میں
آتا ہے:حضور صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس کی نمازِ عصر چھوٹ گئی اس کا مال ضائع ہو
جائے گا اور اس کا گھر تباہ و بربادہوجائےگا۔ویسے تو ہر بالغ بالغہ مسلمان پر نماز
فرض کی گئی ہے چاہے وہ سفر میں ہو کسی سخت بیماری میں ہو یا کسی پریشانی مصیبت میں
ہو معاف نہیں یہاں تک کہ حالتِ جنگ میں بھی نماز معاف نہیں۔ اگر جنگ میں ایک آگے
بھاگ رہا ہے اور دوسرا شخص یعنی اس کا دشمن اس کے پیچھے رہا ہے آگے سمندر ہے اس
پہلے والے شخص نے سمندر میں چھلانگ ماری ،دشمن اس کے پیچھے ہے اس کا قبلہ سے رخ
ساقط ہو گیا،لیکن نماز معاف نہیں لہٰذا وہ نماز کے کلمات ادا کرے گا۔اللہ پاک کے
نزدیک سب سے زیادہ جوڑنے والی نماز ہے اس کو قائم رکھے۔پہلی امت پر دو نمازیں فرض
تھیں اور ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں۔ پہلی امت پر اذان فرض نہیں تھی اور ہم پر
اذان فرض ہے۔اذان اتنا بڑا عمل ہے کہ اذان دینے والا قیامت کے دن سب سے بلند مقام
پر ہوگا۔جیسا کہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: کاش !اللہ پاک
کے نبی صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم سے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے مسجدِ نبی
کی اذان مانگ لیتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اگر
میں خلیفہ نہ ہوتا تو میں مسجدِ نبوی کا موذن ہوتا پر اللہ پاک نے پہلا مؤذن حضرت
بلال رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ہمیں نماز ملی پہلی امت کو نماز نہ ملی۔ اللہ پاک
نے ہمیں پانچ وقت کی نمازیں عطا کیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سی نمازیں فرض کیں،جیسے
اشراق کی نماز،چاشت کی نماز، تہجد کی نماز وغیرہ نیز ہمارے لیے جنت کے دروازے کھول
دیے ۔ہمارے پیارے آقا صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے آخری نصیحت فرمائی:نماز نہ چھوڑنا۔نماز سے متعلق تین احادیث:بخاری
شریف میں بیان ہوئیں ہیں جن میں نمازِ عصر کی فضیلت اور اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔چودھویں
کا چاند تھا اور آپ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھویں کے چاند کو دیکھا اور فرمایا:تم عنقریب اللہ
پاک کو ایسے دیکھو گے،پھر فرمایا:طلوعِ عشا سے پہلے نمازِ فجر پڑھا کرو اور غروبِ
عشا سے پہلے نمازِ عصر پڑھا کرو ان دونوں نمازوں کو چھوڑنا نہیں۔بخاری شریف کی 553
نمبرحدیث شریف ہے:اللہ پاک کے فرشتے زمین پر اترے ہیں کچھ فرشتے عصر کو آتے ہیں
اور کچھ فرشتے فجر کو آتے ہیں ۔جو فرشتے فجر کو آتے ہیں وہ عصر کو واپس لوٹ جاتے ہیں
اور جو فرشتے عصر کو آتے ہیں وہ فجر کے وقت واپس چلے جاتے ہیں۔فرشتے اللہ پاک کی
بارگاہ میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں:تیرے بندے بہت کامل ہیں۔ فجر میں جاؤ تب بھی
نماز اور عصر میں جاؤ تب بھی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ابنِ ماجہ کی حدیث ہے:جب بندے
کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے وہاں ٹائم عصر
کا ہوتا ہے، سورج غروب ہوتا ہے اور فرمایا: جس نے عصر کی نماز پڑھی ہے اور فجر کی
نماز پڑھی ہے دونوں نمازوں کو ساتھ رکھا اور پھر ظہر اور عشا اور نماز مغرب بھی
پڑھی ۔جب وہ حساب کے وقت سب سے آگے بیٹھے ہوں گے اور فرشتے ان کے پاس حساب لیے آئیں
گے ان سے سوال کریں گے تو بندہ کہے گا:نماز پڑھنے دو سورج غروب ہونے والا ہے ۔فرشتے
کہتے ہیں:اس سے کیا سوال کرنے! یہ تو نمازی بندہ ہے اور فرشتے کہتے ہیں: ہم کو پتا
تھا کہ تو ضرور کامیاب ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک اس پر رحمتیں نازل فرماتا ہے جس نے عصر کے بعد چار
رکعت پڑھیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک سب کو پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی توفیق
عطا فرمائے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔پانچ وقت کی نماز کو شعارِ
زندگی بنا لیجئے،مشکلیں آسان ہو جائیں گی۔ان شاء اللہ
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ غلام محمد،عباس ٹاؤن
ہم سب جانتی ہیں
کہ نماز پڑھنا بہت ضروری ہے۔قرآن ِکریم میں کئی مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے۔یومیہ
پانچ وقت کی نماز پڑھنا ہر عاقل و بالغ مرد وعورت مسلمان پر فرض ہے۔ان پانچوں
نمازوں میں نمازِ عصر کی بڑی اہمیت شدید تاکید اور بڑی فضیلت ہے ، اسی لیے اللہ پاک
نے ہمیں نمازِ عصر کی خصوصیت اور خصوصی حفاظت کا مکلف بنایا ہے جیسا کہ اللہ پاک
نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ترجمۂ کنزلایمان:نگہبانی
کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی۔پانچ فرامینِ مصطفے:صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :(1)نمازِ عصر کی حفاظت کرنا دیدارِ الہٰی جیسی عظیم الشان نعمت پانے کا ذریعہ
ہے جیسا کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے،آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا،پھر فرمایا:تم
لوگ عنقریب اپنے پروردگار کی اسی طرح زیارت کرو گے جیسے تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو،تمہیں
اس میں کوئی الجھن پیش نہیں آئے گی،لہٰذا اگر تم سے ہو سکے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے اور
اس کے غروب ہونے سے پہلے والی نماز(یعنی عصر) نہ چھوڑنا ،پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی:ترجمۂ کنزالعرفان:سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے
سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی
بیان کرتے رہو۔(ابوداود،باب فی الرؤیۃ)(2)حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،میں نے رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:وہ شخص کبھی دوزخ میں نہ ہوگا جس نے طلوعِ آفتاب سے قبل
اور غروبِ آفتاب سے قبل نماز ادا کی یعنی فجر اور عصر ۔(مسلم،باب فضل صلاۃ الصبح والعصر)(3) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے
روایت کرتے ہیں،نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے
دو ٹھنڈی نمازیں(یعنی ظہر اور عصر)پڑھیں وہ
جنت میں جائے گا۔(مسلم،باب فضل صلاۃ الصبح والعصر)(4)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تمہارے پاس رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے رہتے ہیں
اور نمازِ فجر اور عصر میں جمع ہوتے ہیں،پھر چڑھ جاتے ہیں،وہ فرشتے جو رات کو
تمہارے پاس تھے اور پروردگار ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے:تم نے میرے
بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟وہ عرض کرتے ہیں: جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ نماز یعنی
فجر ادا کر رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز یعنی عصر ادا کر رہے
تھے۔(مسلم،باب فضل صلاۃ الصبح والعصر)(5)عصر کی سنتِ قبلیہ کی فضیلت:حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،
رسول اللہ صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے
پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔(ابوداود،باب الصلاۃ قبل العصر)دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نمازِ عصر کی اہمیت اور فضیلت
سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور پنج وقتہ نماز کو مکمل پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی
سعادت نصیب فرمائے۔ آمین
راولپنڈی اور صوبہ
پنجاب کی سرکاری ڈویژنز نگران اسلامی بہنوں کے مدنی مشورے
دعوتِ
اسلامی کے تحت 9اپریل 2022ءبروز ہفتہ راولپنڈی میں ماہانہ مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں راولپنڈی
سرکاری ڈویژن نگران ، میٹروپولیٹن نگران ، تمام ضلع نگران اور سرکاری
ڈویژن سطح کی شعبہ ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
نگران پاکستان مشاورت اسلامی بہن نے ماہانہ آٹھ
دینی کام کارکردگی کا تقابل کیا اور ذمہ
داراسلامی بہنوں کی دینی کاموں کے حوالےسے
تربیت کی نیز ڈونیشن مدنی پھول دیئے اور سالانہ ڈونیشن ہدف کو پورا
کرنے کے حوالے سے ترغیب دلائی۔اس کے علاوہ تمام سافٹ ویئر انٹری رپورٹ کا جائزہ لیا اور
اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی کی ۔
٭
دوسری جانب 10اپریل 2022ءبروز اتوار اسلام آباد میں نگران پاکستان مجلس مشاورت ذمہ دار اسلامی بہن نے صوبہ پنجاب کی تمام سرکاری ڈویژن نگران اسلامی بہنوں کا بذریعہ انٹرنیٹ مدنی مشورہ لیا۔
فرمانِ الٰہی ہے:ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین
کتابا موقوتا0 ترجمۂ کنز الایمان:بے شک
نماز مسلمانوں پر باندھا ہوا وقت ہے۔اللہ پاک نے
بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں۔ان کے نام درج ذیل ہیں: فجر،ظہر،عصر،مغرب،عشا۔ان
نمازوں میں سے نمازِ عصر بھی ایک بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں
ہے: جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرما دے گا۔(معجم کبیر،23/35)سبحان
اللہ!یہاں پر نمازِ عصر کی فضیلت بیان ہوئی کہ اس کے بدن آگ پر حرام فرما دے گا تو
ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ پانچوں وقتوں کی نماز ادا کرے اور سنتیں بھی ادا کرے
سنتیں اداکر کے اس مذکورہ فضیلت کو بھی پا لے۔اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ فرمانِ
مصطفٰے ہے:اللہ پاک اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔سبحان
اللہ !نمازِ عصر کی اہمیت اسی سے معلوم ہوتی ہے ۔ان احادیث کا مطالعہ کرنے والوں
کو چاہیے کہ وہ تمام نمازیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سنتیں اور نوافل بھی ادا کریں
اور ڈھیروں ڈھیر نیکیاں کمائیں ۔بعض احادیث میں یوں بھی ملتا ہے کہ نمازِ عصر کے
بعد نہ سویا جائے اور نہ ہی نمازِ عصر بلکہ کسی بھی نماز کو قضا کیا جائے۔نمازِ
عصر کے بعد نہ سوئے اس کے متعلق فرمانِ مصطفٰے ہے:جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی
عقل جاتی رہے تو وہ اپنے ہی کو ملامت کرے۔ (بہار
شریعت،3/435)مزید نمازِ عصر کے بارے میں معلومات حاصل کرتی ہیں:(4)
حضرت جریر بن عبداللہ رَضِیَ
اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم
حضور اکرم صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے،آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف
دیکھ کر ارشاد فرمایا: عنقریب یعنی قیامت کے دن تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس
طرح چاند کو دیکھ رہے ہو۔ تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نمازِ فجر اور عصر کبھی نہ
چھوڑو اور پھر جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی: ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کو صراتے ہوئےاس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے
پہلےاور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(پ16،طہ:130)(مسلم،ص239،حدیث:1434ملخصاً)اللہُ اکبر! پیاری اسلامی بہنو!نمازِ عصر کی فضیلت بیان ہوئی اور نمازِ عصر کے
باعث دیدارِ الہٰی نصیب ہوگا ۔تو ہر مسلمان کو چاہیے کہ تمام نمازوں کی پابندی کرے،دنیاوی
غرضوں کو چھوڑکر اخروی مقاصد کی طرف بڑھے اور اپنے رب کریم کی رضا حاصل کر کے اس کی
نعمتوں کا شکر بجا لائے۔آئیے!نمازِ عصر کے متعلق ایک اور فرمانِ مصطفٰے ملاحظہ
کرتی ہیں:(5)حضرت عمارہ بن رویبہ رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: میں
نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا : جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے یعنی
نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز ادا کی یعنی جس نے فجر اور عصر پڑھی وہ ہرگز جہنم میں
داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص250،حدیث:1436)سبحان اللہ!ان نمازوں کا درجہ زیادہ ہے اور یہ دونوں نمازیں دن کے کنارے پر بھی
پائی جاتی ہیں اور یہی نمازیں نفس پر زیادہ
بھاری ہوتی ہیں تو چاہیے کہ ان نمازوں کی پابندی کیجیے باقی تمام نمازوں کی پابندی
کی توفیق بھی مل جائے گی۔اے اللہ پاک! ہم تجھ سے نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا
کرنے اور پابندی سے نماز پڑھنے کی توفیق طلب کرتی ہیں۔ اے رب کریم! بے شک تو
مہربان، کریم، رؤف و رحیم ہے۔اے اللہ پاک!
ہمیں پانچ وقت کی نمازی بنا۔آمین
Dawateislami