اینٹی کرپشن اسلم بھٹی اور ڈپٹی کمشنر محمد کاشف رضا کا فیضان مدینہ میں دورہ
پچھلے دنوں مدنی مرکز فیضان مدینہ فیصل
آباد میں اسپیشل سیشن جج اینٹی کرپشن اسلم
بھٹی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر محمد کاشف رضا اعوان نے دورہ کیا جہاں ذمہ داران نے انکا
استقبال کیا ۔
اس دوران فیضان مدینہ میں رکن شوری و نگران پاکستان حاجی محمد شاہد عطاری سے
ملاقات کی اور دعوت اسلامی کے دینی کام
کرنےکا ذہن دیتے ہوئے مختلف امور پر گفتگو
ہوئی ۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے
شخصیات ، کانٹینٹ: محمد مصطفی انیس )
گھر گھر نیکی کی دعوت عام کرنے والی تحریک دعوت
اسلامی کے شعبہ مدنی چینل کے 14 سال مکمل ہونے پرگزشتہ دنوں حیدرآباد میٹروپولیٹن میں
ذمہ داران نے شخصیا ت کا تاثرأت لیا جن میں :
منسٹر ابپاشی جام خان شورو ، ڈپٹی کمشنر فواد
غفار سومرو ، سابق ممبر سندھ اسمبلی
عبدالرحمان راجپوت ، ممبر بورڈ آف لیسکو راشد احمد خان نے بانی ٔ دعوت اسلامی امیر اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ
اور تمام ذمہ داران کو مبارک باد دی اور
خوشی کا اظہار کیا ۔(رپورٹ: شعبہ
رابطہ برائے شخصیات ، کانٹینٹ: محمد مصطفی انیس )
ایم پی اے غلام جیلانی کی والدہ کے انتقال پر
رکن شوری حاجی محمد اطہر عطاری کی تعزیت
گزشتہ روز ایم پی اے غلام جیلانی کی والدہ کے
انتقال پر شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ دار حاجی یعقوب عطاری و دیگر ذمہ داران
نے انکے گھر پر تعزیت کی اور سوئم پر مبلغ دعوت اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کرتے
ہوئے مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی و دعائے مغفرت کی ۔
اس موقع پر رکن شوری حاجی محمد اطہر عطاری نے
ایم پی اے غلام جیلانی سے ملاقات کی اور انہیں صبر کی تلقین کی ۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات ، کانٹینٹ:
محمد مصطفی انیس )
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اسلامی بھائیوں کی میٹنگ ہوئی جس میں جامعۃ المدینہ (بوائز و گرلز)، مدرسۃ
المدینہ (بوائز و گرلز)، ڈونیشن سیل ڈیپارٹمنٹ اور مدنی عطیات بکس کے ڈویژن ذمہ
داران کی بھی شرکت رہی۔
اس میٹنگ میں رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ و نگرانِ
سرکاری ڈویژن حاجی یعفور رضا عطاری نے ذمہ داران سے گفتگو کرتےہوئے چند اہم نکات
پر مشاورت کی نیز رمضانُ المبارک میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات کے لئے زیادہ سے
زیادہ عطیات جمع کرنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار
کیا۔(رپورٹ:غلام یاسین عطاری دفتر
ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
تھانہ لاری اڈہ لاہور میں پولیس کی خیر
خواہی کے لئے افطاراجتماع کااہتمام
پچھلے دنوں راوی ٹاؤن تھانہ لاری اڈہ لاہور میں شعبہ رابطہ برائے شخصیات
کے تحت پولیس کی خیر خواہی کے لئے افطاراجتماع
کا اہتمام کیا جس میں پولیس کے جوانوں ودیگر لوگوں نے شرکت کی ۔
مبلغ دعوت اسلامی نے اجتماع میں سنتوں بھرابیان کیا اور حاضرین کے ساتھ ملکر مناجات افطار کیاجس
میں اپنے گناہوں سے توبہ و مغفرت اور وطن
عزیز کی سلامتی کے لئے دعا کی گئی ۔(رپورٹ:
شعبہ رابطہ برائے شخصیات ، کانٹینٹ: محمد مصطفی انیس )
گزشتہ دنوں پنجاب پاکستان کے شہر فیصل آباد میں
قائم دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں فیصل آباد ڈویژن کے ایگری کلچر اینڈ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ، شعبہ
عشر، شعبہ اصلاحِ اعمال اور ٹوبہ ڈسٹرکٹ (ٹوبہ شہر، گوجرہ،
کمالہ اور ٹوبہ اطراف) کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی حاضری ہوئی۔
اس دوران ذمہ داران نے عصر تا مغرب ہونے والے
مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔بعدازاں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن ونگرانِ پاکستان مشاورت
حاجی محمد شاہد عطاری نے اسلامی بھائیوں کی تربیت کرتے ہوئے انہیں رمضانُ المبارک
میں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے، نیکی کے کاموں میں حصہ لینے، قراٰنِ پاک کی تلاوت
کرنے اور قراٰنِ پاک کو ترجمے کے ساتھ سمجھنے کی ترغیب دلائی نیز دعوتِ اسلامی کی
ڈیجیٹل ایپ استعمال کرنے کا ذہن دیا۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز
فالواپ ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
محمد وقار عطّاری(درجہ رابعہ،جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
رمضان کی تعریف: مفسر شہیر حکیم
الامّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ
اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: پارہ نمبر 2 سورہ بقرہ آیت نمبر 185 میں شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ کے تحت فرماتے ہیں :”رَمَضَان“یا
تو”رحمٰن“ کی طرح اللہ پاک کا نام ہے، چُونکہ اِس مہینے
میں دن رات اللہ پاک کی عبادت ہوتی ہے لہٰذا اِسے شَہْرِ رَمَضان یعنی اللہ پاک کا
مہینا کہا جاتا ہےجیسے مسجِد و کعبے کو اللہ پاک کا گھر کہتے ہیں کہ وہاں اللہ پاک
کے ہی کام ہوتے ہیں ۔ایسے ہی رَمضَان اللہ پاک کا مہینا ہے کہ اِس مہینے میں اللہ پاک
کے ہی کام ہوتے ہیں۔ روزہ تراویح وغیرہ تو ہیں ہی اللہ پاک کے مگربحالتِ روزہ جو
جائز نوکری اور جائز تجارت وغیرہ کی جاتی ہے وہ بھی اللہ پاک کے کام قرار پاتے ہیں۔اِس
لئے اِس ماہ کا نام رَمَضَان یعنی اللہ پاک کا مہینا ہےیا یہ”رَمْضَاء ٌ“سے نکالا
گیا ہے۔”رَمْضَاءٌ“موسمِ خَزاں کی بارِش کو کہتے ہیں، جس سے زمین دُھل جاتی ہے
اور”رَبِیْع“ کی فَصْل خُوب ہوتی ہے۔ چونکہ یہ مہینا بھی دِل کے گَرد وغُبار دھودیتا
ہے اور اس سے اَعمال کی کَھیتی ہَری بَھری رہتی ہے اِس لئے اِسے رَمَضَان کہتے ہیں۔
حضرت سَیِّدُناجا بربن
عبداللہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ
رحمت عالمیان، سلطانِ دوجہان ، شہنشاہِ
کون ومکان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ ذِی شان ہے: میری اُمت کو ماہِ رَمضان میں پانچ چیز یں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے
کسی نبی کو نہ ملیں : (1) جب رَمَضانُ الْمبارَک کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ پاک ان کی
طرف رَحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ پاک نظر رَحمت فرمائے اُسے کبھی بھی
عذاب نہ دے گا (2)شام کے وَقت ان کے منہ کی بو (جوبھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے
بھی بہتر ہے (3) فرشتے ہر رات اور دن ا ن
کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں (4) اللہ پاک جنت کو حکم فرماتاہے: ’’ میرے
(نیک ) بندوں کیلئے مُزَیَّن(یعنی
آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مَشَقَّت سے میرے گھر اور
کرم میں راحت پائیں گے ‘‘ (5) جبماہِ رَمضان کی آخری رات
آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔ قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم! کیا وہ لیلۃ
القدر ہے؟ ارشاد فرمایا:نہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے
فارِغ ہوجا تے ہیں تواُنہیں اُجرت دی جا تی ہے۔(شُعَبُ الایمان ،3/303،حدیث:3603)
رمضان کی تعریف: روزہ عرف شرع میں
مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع
سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔(بہار شریعت،1/966)
دیگر عبادات پرروزے کی
افضلیت کی وجہ:اس کی دو وجوہات ہیں :(1) روزہ عمل کو چھوڑنے اور اس سے رکنے کا نام ہے اور یہ ذاتی
طور پر پوشیدہ ہے اس میں دکھائی دینے والا کوئی عمل نہیں جبکہ دیگر تمام اعمال
لوگوں کو نظر آتے ہیں ۔ روزے کو اللہ پاک ہی ملاحظہ فرماتا ہے اور وہ محض صبر کے ذریعے باطنی
عمل ہے۔(2)یہ دشمن خدا(شیطان
مردود) پر غلبہ پانے کا ذریعہ ہے کیونکہ شیطان لعین کا وسیلہ خواہشات ہیں ( جن کے
ذریعے وہ بنی آدم کو دھوکا دیتاہے) اور شہوات کو تقویت کھانے پینے سے حاصل ہوتی
ہے اسی لئے حضور نبی ٔ پاک ، صاحب لولاک صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک شیطان انسان میں خون کی
طرح دوڑتا ہے پس بھوک کے ذریعے اس کے راستوں کو تنگ کرو۔‘‘ اسی وجہ سے حضور نبی ٔ
اکرم، رسول محتشم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے ارشاد فرمایا: ’’ہمیشہ
جنت کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہو۔‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’کس چیز سے؟‘‘ ارشاد فرمایا:
’’بھوک سے ۔(احیاء العلوم،1/703)
روزے کے تین درجے ہیں: ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے
جماع سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ انکے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور
تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی اﷲ (یعنی اﷲ پاک
کے سوا کائنات کی ہر چیز) سے اپنے کو بالکلیہ جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ
رہنا۔ (بہار شریعت،1/966)
بے شک روزہ چوتھائی ایمان ہے۔ کیونکہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا
کہ روزہ آدھاصبر ہے۔ پھر روزے کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ دوسرے تمام
ارکان کی بنسبت اسے اللہ پاک سے خاص نسبت حاصل ہے ۔چنانچہ حدیث ِ قدسی ہے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ہر نیکی کا ثواب 10گنا سے لے
کر 700گنا تک ہے سوائے روزہ کے۔ بے شک یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں
گا۔(احیاء العلوم،1/700)
اللہ پاک کا ارشاد ہے : اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ
حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا
جائے گا بے گنتی۔(پ 23،زمر:10)
روزہ صبر کا نصف ہے اس کا ثواب اندازہ وحساب سے بڑھ کر ہے
اور اس کی فضیلت جاننے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ سرورِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو
اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: یہ شخص اپنی
خواہش اور کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے پس روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی
جزا دوں گا۔
مبشر رضا عطّاری (درجہ ثانیہ، جامعۃُ المدینہ فیضان
فاروق اعظم ،لاہور، پاکستان)
خُدائے رَحمٰن کے
کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہِ رَمضان کے فیضان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے، رَمضانُ المبارَک میں ہر نیکی کا ثواب70 گنا یا اس سے بھی زیادہ
ہے۔ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70گنا کردیا جا تا ہے ۔اللہ
پاک نے اس میں بہت خصوصیات رکھیں جیسا کہ
(1) نُزولِ قرآن: اس ماہِ مُبارَک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے اِس میں قراٰنِ پاک نازِل فرمایاہے۔
چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے : شَهْرُ رَمَضَانَ
الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ ترجمہ کنز الایمان:رَمضان کا مہینا ، جس میں قراٰن اُترا ۔(پ
2،بقرہ:185)
(2)لیلۃ القدر: اس ماہِ مُبارَک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ایک رات ہے جسے لیلۃ القدر کہتے ہیں۔ جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اللہ کریم نے قرآن میں فرمایا:لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳)ترجمۂ کنزالایمان : شب
قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔(پ 30،قدر :3)
(3)آسمان کے دروازے
کھول اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہُ
عنہم کو خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کا مہینہ آگیا
ہے جو کہ بہت ہی بابرکت ہے۔ اللہ پاک نے اس کے روزے تم پر فرض فرمائے ۔ اس میں
آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔
(4)شیاطین زنجیروں میں
جکڑ دیئے جاتے ہیں: حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
اس ماہِ مبارک میں جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر
دیئے جاتے ہیں شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم ،ص
543،حدیث:1079)
(5)تراویح و اعتکاف: الحمدللہ رمضان المبارک میں جہاں ہمیں بے شمار نعمتیں میسر
آتی ہے انہی میں سے تراویح اور اعتکاف کی سنّتیں بھی شامل ہیں جیسا کہ حضرت سیدتنا
عائشہ رضی اللہُ عنہا روایت کرتی ہیں
کہ میرے سرتاج صاحب معراج صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم رمضان المبارک کے آخری عشرہ (یعنی آخری دس دن) کا اعتکاف فرمایا کرتے یہاں تک کہ اللہ پاک نے
آپ کو وفات (ظاہری) عطا فرمائی پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ازواج
مطہرات رضی اللہُ عَنہُنَّ اعتکاف
کرتی رہیں۔(صحیح بخاری،1/664،حدیث:2026) اور یہ بھی ماہ رمضان کی خصوصیت اور سنت
بھی اور سنت کی عظمت کے بھی کیا کہنے کہ اللہ کے آخری اور پیارے رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرایا: جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ
ہوگا۔(جامع ترمذی،4/310،حدیث:2687)
بلاشبہ رمضان المبارک نیکیاں حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ
ہے۔ یاد رہے جس طرح رمضان المبارک میں نیکیوں کی جزا بنا بڑھا دی جاتی ، جنت کے
دروازے کھول دیئے جاتے ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس میں
گناہوں کی سزا بھی بڑھا دی جاتی ہے اور جس طرح اس میں روزے رکھنے کی بے شمار برکتیں
ہیں یونہی روزے نہ رکھنے کی بے شمار وعیدیں آئی ہیں چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ جس
نے اس میں سے ( یعنی فرض نماز، رمضان کے روزے) کسی کو چھوڑا وہ اللہ کا منکر ہے اور اس کا کوئی فرض یا نفل عبادت
مقبول نہیں ہے اور اس کا خون اور مال حلال ہے۔(الترغیب والترہیب،1/59،حدیث:821)
افسوس ہمارے معاشرے میں رمضان جیسی بابرکت مہینے کو بھی
گناہوں میں گزار دیتے ہیں۔اللہ پاک ہمیں رمضان المبارک کے روزے رکھ کر اس کی
برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اسلامی تاریخ میں روزے کا حکم 2 ہجری میں ہوا۔ جب حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہجرت فرماکر
مدینہ طیبہ لائے تو ابتدا میں آپ پر تین روزے ایام بیض ( یعنی چاند کی 15،14،13) کو روزہ رکھا کرتے تھے، انہی کو صومِ داؤدی بھی کہتے ہیں، اور یومِ عاشورہ کا بھی
روزہ رکھا کرتے تھے اور بعد میں ان کو رمضان کے روزے فرض ہونے کے ساتھ منسوخ کر
دیا گیا۔
الصیام مفرد صوم اس کا معنی الامساک (روکنا) ہے۔ تو مطلب یہ
ہو کہ انسان اپنے آپ کو ہر اس چیز سے روکے رکھے جس کی طرف نفس کشش محسوس کرے اور
شریعت میں معنی انسان عبادت کی نیت سے صبح صادق سے لے کر غروبِ شمس تک کھانے پینے
اور عملِ زوجیت سے رکا رہے۔(صحیح مسلم مترجم،2/21)
(1) حضرت ابی سہیل اپنے والد کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے
جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر لیا جاتا ہے۔ ( صحیح مسلم مترجم،2/23)
(2) حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہُ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے۔ روزہ دار نہ بری بات کرے اور نہ جہالت پر مبنی کوئی کام
کرے اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالی گلوچ کرےتو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں۔ بار
بار یہی کہے۔ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! روزہ دار کے منہ کے بو اللہ کی بارگاہ میں کستوری
سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزہ دار اپنا کھانا پینا اور شہوت میری خاطر چھوڑتا ہے۔ روزہ
میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور ایک نیکی کا بدل دس نیکیاں ہیں۔(صحیح بخاری مترجم،1/824،حدیث:1761)
(3) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا مہینہ سوائے رمضان کے روزے نہیں رکھے۔ آپ
روزہ رکھتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ کہنے والا کہتا واللہ آپ افطار نہیں کریں گے اور
آپ افطار کرتے جاتے یہاں تک کہ کہنے والا کہتا واللہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔
(4)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔(
صحیح بخاری مترجم،1/826،حدیث:1765)
(5) حضرت سہیل رضی
اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے
جسے "ریّان" کہا جاتا ہے اس سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے۔ ان کے علاوہ اس دروازے سے اور کوئی داخل نہ ہوگا جب وہ داخل
ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اور داخل نہ ہوگا۔( صحیح
بخاری مترجم،1/825،حدیث:1763)
رَمضان، یہ ’’ رَمَضٌ ‘‘ سے بنا جس کے معنٰی ہیں ’’ گرمی سے جلنا ۔
‘‘ کیونکہ جب مہینوں کے نام قدیم عربوں کی زبان سے نقل کئے گئے تو اس
وَقت جس قسم کا موسم تھا اس کے مطابق مہینوں
کے نام رکھ دے گئے اِتفاق سے اس وَقت
رمضان سخت گرمیوں میں آیا تھا اسی لئے یہ
نام رکھ دیا گیا۔(النھایہ لابن الاثیر،2/240)
حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :بعض
مفسرین رحمہم اللہ المبین نے فرمایا کہ جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینا تھا اُسی سے اُس کا نام ہوا ۔جو مہینا
گرمی میں تھااُسے رَمضان کہہ دیا گیا اور
جو موسم بہار میں تھا اُسے ربیعُ الْاَوّل
اور جو سردی میں تھا جب پانی جم رہا تھا
اُسے جُمادَی الْاُولٰی کہا گیا۔ (تفسیر نعیمی ،2/205)
ماہِ مُبارَک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہاللہ پاک نے اِس میں
قراٰنِ پاک نازِل فرمایاہے۔ چنانچہ پارہ 2 سورۃ البقرۃآیت185 میں مقد س قراٰن میں
خدائے رَحمٰن کا فرمانِ عالی شان ہے : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ
اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ
الْفُرْقَانِۚ- فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ-وَ مَنْ كَانَ
مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ
بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ
وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۱۸۵)ترجمہ کنز الایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور
رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے
رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی
چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی
بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔(پ 2،البقرہ:185)
حضرت سَیِّدُناجا بربن
عبداللہ رضی اللہُ
عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالمیان، سلطانِ دوجہان ، شہنشاہِ کون ومکان صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ ذِی شان ہے: میری
اُمت کو ماہِ رَمضان میں پانچ چیز یں ایسی
عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں : (1) جب رَمَضانُ الْمبارَک کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ پاک ان کی
طرف رَحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ پاک نظر رَحمت فرمائے اُسے کبھی بھی
عذاب نہ دے گا (2)شام کے وَقت ان کے منہ کی بو (جوبھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے
بھی بہتر ہے (3) فرشتے ہر رات اور دن ا ن
کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں (4) اللہ پاک جنت کو حکم فرماتاہے: ’’ میرے
(نیک ) بندوں کیلئے مُزَیَّن(یعنی
آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مَشَقَّت سے میرے گھر اور
کرم میں راحت پائیں گے ‘‘ (5) جبماہِ رَمضان کی آخری رات
آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔ قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم! کیا وہ لیلۃ
القدر ہے؟ ارشاد فرمایا:نہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے
فارِغ ہوجا تے ہیں تواُنہیں اُجرت دی جا تی ہے۔(شُعَبُ الایمان ،3/303،حدیث:3603)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خُدائے رَحمٰن کے کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہِ رَمضان کے فیضان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر
گھڑی رَحمت بھری ہے، رَمضانُ المبارَک میں ہر نیکی کا ثواب70 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔(مراٰۃ ،3/137) نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70گنا کردیا جا تا ہے ، عرش اُٹھانے والے فرشتے روزہ
داروں کی دُعا پرآمین کہتے ہیں اور فرمانِ مصطَفٰی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم َکے مطابق ’’ رَمضان کے روزہ دار کیلئے مچھلیاں
اِفطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں ۔ (اَلتَّرغیب والتَّرہیب ،2/55،حدیث:6)
خُدائے رَحمٰن کے
کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہِ رَمضان کے فیضان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے، رَمضانُ المبارَک میں ہر نیکی کا ثواب70 گنا یا اس سے بھی زیادہ
ہے۔ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70گنا کردیا جا تا ہے ۔
اس لیے اس ماہ مبارک کی ایک سب سے بڑی خصوصیت نزولِ قرآن
ہے۔کہ اللہ پاک نے اس میں قرآن پاک نازل فرمایاہے۔ چنانچہ مقدس قرآن میں اللہ پاک نزولِ قرآن اور ماہِ
رمضان کے بارے میں فرماتاہے: شَهْرُ رَمَضَانَ
الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ
الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ- ترجَمۂ کنزُالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا
لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں۔(پ 2،البقرہ:185)
وَعَن
جَابر بن عبد الله رَضِي الله عَنْهُمَا أَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ
أَعْطَيْت أمتِي فِي شهر رَمَضَان خمْسا لم يُعْطهنَّ نَبِي قبلي ، أما وَاحِدَة
فَإِنَّهُ إِذا كَانَ أول لَيْلَة من شهر رَمَضَان نظر الله عز وَجل إِلَيْهِم
وَمن نظر الله إِلَيْهِ لم يعذبه أبدا ، وَأما الثَّانِيَة فَإِن خلوف أَفْوَاههم
حِين يمسون أطيب عِنْد الله من ريح الْمسك ، وَأما الثَّالِثَة فَإِن
الْمَلَائِكَة تستغفر لَهُم فِي كل يَوْم وَلَيْلَة ، وَأما الرَّابِعَة فَإِن
الله عز وَجل يَأْمر جنته فَيَقُول لَهَا استعدي وتزيني لعبادي أوشك أَن يستريحوا
من تَعب الدُّنْيَا إِلَى دَاري وكرامتي ، وَأما الْخَامِسَة فَإِنَّهُ إِذا كَانَ
آخر لَيْلَة غفر الله لَهُم جَمِيعًا ،فَقَالَ رجل من الْقَوْم أَهِي لَيْلَة
الْقدر فَقَالَ لَا ألم تَرَ إِلَى الْعمَّال يعْملُونَ فَإِذا فرغوا من
أَعْمَالهم وفوا أُجُورهم
حضرت سَیِّدُناجا
بربن عبداللہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالمیان، سلطانِ دوجہان ، شہنشاہِ کون ومکان صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ ذِی شان ہے: میری اُمت کو ماہِ رَمضان میں پانچ
چیز یں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں : (1) جب
رَمَضانُ الْمبارَک کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ پاک ان کی طرف رَحمت کی نظر فرماتا
ہے اور جس کی طرف اللہ پاک نظر رَحمت فرمائے اُسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا (2)شام کے وَقت ان کے منہ کی بو (جوبھوک کی
وجہ سے ہوتی ہے) اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے (3) فرشتے ہر رات اور دن ا ن کے لئے
مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں (4) اللہ
پاک جنت کو حکم فرماتاہے: ’’ میرے (نیک
) بندوں کیلئے مُزَیَّن(یعنی
آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مَشَقَّت سے میرے گھر اور
کرم میں راحت پائیں گے ‘‘ (5) جبماہِ رَمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔
قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم! کیا وہ لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا:نہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے
فارِغ ہوجا تے ہیں تواُنہیں اُجرت دی جا تی ہے۔(الترغیب والترہیب،2/56،حدیث:7)
رمضان المبارک کی باسعادت گھڑیاں قریب ہیں اس کی برکتیں اور
رحمتیں بے شمار ہیں۔ یہ مہینہ آخرت کمانے، باطن سنوارنے اور زندگی بنانے کا ہے۔ اس
لئے اس کی پہلی سے تیاری کی ضرورت ہے۔
سیف اللہ عطاری (درجہ ثانیہ،جامعۃ المدینہ فیضان اہل
بیت دینہ پنجاب،پاکستان)
ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں
ماہِ رَمضاں رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے
ہماری خوش قسمتی کہ اللہ
پاک نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہم کو اپنی رحمتوں، برکتوں اور نعمتوں سے
مالا مال جھومتا، مسکراتا اپنا پیارا پیارا اور مقدس مہینہ رمضان عطا فرمایا۔ ماہِ
رمضان کی تو کیا ہی شان ہے، اس مقدس مہینے کی ہر ہر لمحے میں اللہ پاک کی رحمتوں
کی خوب برسات ہوتی ہے۔
یوں تو سارے مہینے ہی مقدس اور خوب برکتوں والے
ہیں مگر جو خوبیاں اور خصوصیات رمضان کے ساتھ خاص ہے وہ کسی اور مہینے کے ساتھ
نہیں۔خاص سے مراد وہ بات یا کام ہے جو صرف ایک ہی شے یا چیز میں پایا جائے۔ معزز
قارئین آئیے ہم بھی ماہِ رمضان کی چند منفرد خصوصیات ملاحظہ کرتے ہیں:۔
(1) رمضان
میں قرآن پاک کا نازل ہونا: اللہ پاک نے ماہِ رمضان میں قرآنِ پاک نازل فرما کر اس کی
عظمتوں اور برکتوں کو مزید چار چاند لگا د یئے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
ترجمۂ کنزالایمان :رمضان کا مہینا، جس میں قرآن اتارا۔( پ 2،بقرہ :185)
معلوم ہوا کہ قرآن پاک کا ماہِ رمضان میں نازل
ہونا صرف رمضان کے ساتھ ہی خاص ہے کسی اور مہینے کو یہ سعادت نہ ملی ۔
(2) لیلۃُ
القدر کا رمضان میں ہونا: رمضان المبارک میں شب قدر بھی اپنی بھرپور برکتوں کے جلوے
لٹا رہی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا۔(
پ 30، قدر :1)
سبحان اللہ ! اللہ پاک نے شب قدر کو اس مہینے
میں رکھ کر دوسرے مہینوں کے مقابلے میں اس کی شان میں مزید اضافہ فرما دیا ۔جمہور
علمائے کرام و مفسرین عظام کے نزدیک شب قدر جیسی بابرکت رات ماہِ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔
(3)کاش سارا
سال رمضان ہی ہوتا: اس طرح رمضان ایسا مبارک مہینہ ہے جس کی تشریف آوری پر مسلمان کے چہرے خوشی سے
کِھل اٹھتے ہیں اور جب یہ مہینا رخصت ہوتا
ہے تو عشّاق اس کی جدائی کے غم میں خوب اشک
بہاتے ہیں۔ اسی لئے تو حضور نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ
رَمضان کیا ہے تو میری اُمت تمنا کرتی کہ کاش!پورا سال رَمضان ہی ہو۔ (صحیح ابنِ
خُزَیمہ، 3/190،حدیث:1886)
اللہ اللہ ! مؤمنین کسی
اور مہینے کے متعلق ایسے جذبات نہیں رکھتے ۔
(4) 4خصوصی
عبادات: ماہِ رمضان کی ایک اور
منفرد خصوصیت جو کسی اور مہینے میں نہیں وہ یہ کہ چار ایسی عبادات ہیں جن کی سعادت
صرف رمضان المبارک میں ہی ملتی ہے وہ یہ ہیں:(1) فرض روزے،(2) تراویح،(3) سنت
اعتکاف، (4) شب قدر میں عبادات
(5) شیطان
کا قید ہونا: ماہِ رمضان کی ایک خصوصیت
جو اسے دوسرے مہینوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ رمضان کے مبارک مہینے میں شیطان
مردود کو قید کر دیا جاتا ہے، جبکہ رمضان کا مبارک مہینہ رخصت ہوتے ہی دوبارہ آزاد
کر دیا جاتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں
میں رمضان المبارک کی قدر کرنے اور اس میں خوب خوب عبادات کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami