رمضان المبارک کی خصوصیات:حضرت جابر بن عبدالله  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پرنور،شافعِ یوم النشور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:میری امت کو رمضان کے مہینے میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو میرے سے پہلے کسی نبی کو نہ دی گئیں ۔ (1) جب رمضان کی پہلی شب ہوتی ہے تو اللہ ان کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے اور جس کی جانب اللہ پاک رحمت کی نظر فرماتا ہے اس پر کبھی عذاب نہیں ہوتا۔(2) شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بوجہ بھوک آتی ہے) اللہ پاک کے نزدیک مشک کی مہک سے بھی افضل ہے۔(3) فرشتے ہر دن اور رات ان کے لیے دعائے بخشش کرتے ہیں۔ (4) الله پاک بہشت (جنت) کو حکم دیتا ہے: میرے نیک بندوں کیلئے آراستہ ہو جا بہت جلد وہ دنیا کی سخت محنت سے میرے گھر اور کرم میں سکون پائیں گے۔(5) جب رمضان کے مہینے کی آخری شب ہوتی ہے تو اللہ پاک تمام لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔ قوم میں سے ایک آدمی کھڑے ہو کر پوچھتا ہے:يا رسول الله صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ! کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ فرمایا:نہیں! کیا تمھیں معلوم نہیں کہ مزدور جب اپنا کام مکمل کرتا ہے تو اسے اس کی اجرت دی جاتی ہے۔(فیضان سنت،جلد 1 ،صفحہ 21 تا 22) رمضان کے 5 حروف کی نسبت سے 5 مدنی پھول:(1) رمضان المبارک میں نفل کا اجر فرض جتنا اور فرض کا ستر گنا ملتا ہے ۔(2) بعض علما سے روایت ہے:جس شخص کا انتقال رمضان میں ہو اس سے قبر کے سوالات نہیں ہوتے۔(3)اس ماہ میں شبِ قدر ہے۔قرآن رمضان کے مہینے میں نازل ہوا۔انا انزلنه في ليلة القدر ترجمۂ کنزالایمان: بےشک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا ۔(4) رمضان میں جہنم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیطان قید ہو جاتا ہے۔جنت مزین (آراستہ) ہو جاتی ہے اور جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اسی وجہ سے ان دنوں میں نیکیوں کی زیادتی اور گناہوں میں کمی ہوتی ہے۔ان دنوں میں جو لوگ گناہ بھی کرتے ہیں وہ بھی اپنے ساتھی ابلیس کے بہکاوے میں کرتے ہیں۔(5)رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے وقت مانگی جانے والی دعا مقبول ہوتی ہے یعنی سحری کر کے اور افطار کے وقت ۔یہ درجہ اور کسی مہینے کو حاصل نہیں۔ (فیضانِ سنت ، جلد 1 ، صفحہ 30،28،29)

جب کہا عصیاں سے سخت لاچاروں میں ہوں جن کے پلے کچھ نہیں ان خریداروں میں ہوں

تیری رحمت کیلیے شامل گنہگاروں میں ہوں بول اٹھی رحمت نہ گھبرا میں مدگاروں میں ہوں

صلوا علی الحبیب صلی اللہ علی محمد


خدائے رحمن  کے کروڑ ہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا: ماہِ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے، رمضان المبارک میں ہر نیکی کا ثواب دس گنا یا اس سے بھی ز یادہ ہے ۔نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے، نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گناکردیا جاتا ہے۔عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔فرمانِ مصطفٰے کے مطابق رمضان کے روزہ دار کے لیے مچھلیاں افطار تک دعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں۔(فیضانِ ر مضان صفحہ نمبر21)1:نزولِ قرآن:اس ماہِ رمضان مبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے اس میں قرآنِ پاک نازل فرمایا ہے، جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے:شہر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس وبینت من الھدیٰ والفرقانترجمہ: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں۔2 ۔ صغیرہ گناہوں کا کفارہ :حضرت ابوہریرہ ر ضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور پرنور،شافعِ یوم النشور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان پر اثر ہے: پانچویں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعے تک اور ماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔3۔رمضان المبارک کے چار نام: حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ تفسیر ِنعیمی میں فرماتے ہیں:اس ماہِ مبارک کے کل چار نام ہیں:1:ماہِ رمضان۔2:ماہِ صبر۔3: ماہِ مواسات ۔اور4:ماہِ وسعتِ رزق۔مزید فرماتے ہیں:روزہ صبر ہے جس کی جزا رب ہے اور وہ اسی مہینے میں رکھا جاتا ہے، اس لیے اسے ماہِ صبر کہتے ہیں۔مواسات کے معنیٰ ہیں: بھلائی کرنا، چونکہ اس مہینے میں سارے مسلمانوں سے خاص کر اہلِ قرابت یعنی رشتے داروں سے بھلائی کر نا زیادہ ثواب ہے۔اس لیے اسے ماہِ مواسات کہتے ہیں۔اس میں رزق کی فراخی( یعنی زیادتی)بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی نعمتیں کھالیتے ہیں،اسی لیے اسے ماہِ وسعتِ رزق بھی کہتے ہیں۔(تفسیر نعیمی ج2 ، ص 208)4۔ لیلۃ القدر:اس مہینے میں شبِ قدر ہے، گزشتہ آیت (یعنی پارہ 20 سورة البقرہ آیت نمبر185) سے معلوم ہوا! قرآن رمضان میں آیا اور دوسری جگہ فرمایا:انا انزلنا فی لیلۃ القدرترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا۔دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا! شبِ قدر رمضان میں ہی ہے اور وہ غالباً ستائیسویں شب ہے کیونکہ لیلۃ القدر میں نو حروف ہیں اور یہ لفظ سورة القدر میں تین بار آیا ہے جس سے ستائیس حاصل ہوئے۔ معلوم ہوا! وہ ستائیسویں شب ہے۔(ص 29)5۔ پانچ خصوصی کرم :حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،سرکار ِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ِ ذی شان ہے: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں۔1:جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ پاک ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف نظر ِرحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔2: شام کے وقت ان کے منہ کی بو(جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔3۔فرشتے ہر رات اور دن ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔4۔اللہ پاک جنت کو حکم فرماتا ہے: میرے نیک بندوں کے لیے مزین ہو، یعنی آراستہ ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔5: جب ماہِ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کیا وہ لیلۃ القدر ہے؟ارشاد فرمایا: نہیں،کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں اجرت دے جاتی ہے؟(فیضانِ رمضان ص نمبر26)ہر مہینے میں خاص تاریخیں اور تاریخوں میں خاص وقت میں عبادت ہوتی ہے ۔ مگر ماہِ رمضان میں ہر دن اور ہر وقت عبادت ہوتی ہے، اللہ پاک ہمیں ماہِ رمضان میں خوب خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین۔مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ان شاءاللہ


الحمدللہ  خدائے رحمن کا کروڑ ہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ ر مضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ر ب کریم نے اس ماہِ مبارک کو بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے جن میں سے چند خصوصیات درجِ ذیل ہیں:نزولِ قرآن: اس ماہِ مبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے اس میں قر آن ِپاک کا نزول فرمایا،چنانچہ مقدس قرآن میں خدائے رحمن کا نزولِ قرآن اور ماہِ ر مضان کے بارے میں فرمانِ عالیشان ہے:شہررمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس وبینت من الھدیٰ والفرقان(پ 2، البقرہ: 185)شبِ قدر: نبیِ رحمت،شفیعِ امت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تمہارے پاس ایک مہینا آیا ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو شخص اس ر ات سے محروم رہ گیا، گویا وہ تمام کی تمام خیر سے محروم رہ گیا اور اس کی خیر سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقتاً محروم ہے۔(ابن ماجہ 2،/298، حدیث: 1644)الحمدللہ اس مہینے کی ایک خصوصیت یہ بھی معلوم ہوئی کہ ہمیں اس میں شبِ قدر جیسی عظیم نعمت عطا ہوئی۔قرآنِ کریم میں رمضان المبار ک کا نام :اس ماہِ مبارک کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ قرآنِ کریم میں صر ف رمضان المبارک ہی کا نام لیا گیا ہے اور اسی کے فضائل بیان ہوئے کسی دوسرے مہینے کا نہ صراحتاً نام ہے نہ ایسے فضائل ، اسی سے اس مبارک ماہ کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ماہِ رمضان میں مر نے کی فضیلت :جو خوش نصیب مسلمان ماہِ رمضان میں انتقال کرتا ہے اس کو سوالات ِ قبر سے امان دی جاتی ہے، وہ عذابِ قبر سے بچ جانا اور جنت کا حق دار قرار پاتا ہے۔ حضرات محدثینِ کرام رحمۃُ اللہِ علیہم کا قول ہے: جو مومن اس مہینے میں مرتا ہے وہ سیدھا جنت میں جاتا ہے،گویا اس کے لیے دوزخ کا دروازہ بند ہے۔(انیس الواعظین،ص25)ہروقت عبادات :اس مبارک ماہ کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر مہینے میں خاص تاریخوں اور تاریخوں میں بھی خاص وقت میں عبادات ہوتی ہے جیسا کہ محرم کی دسویں تاریخ اور ذوالحج میں بقرہ عید افضل ہے، مگر ماہِ رمضان میں ہر دن اور ہر وقت عبادت ہوتی ہے، روزہ عبادت، افطار عبادت، تراویح عبادت،سحری کا انتظار عبادت،پھر سحری کھانا بھی عبادت، الغرض ہر آن میں خدا کی شان نظر آتی ہے۔اللہ پاک ہم سب کو بھی رمضان المبارک برکتوں سے مالا مال فرمائے۔امین


اللہ  پاک نےقر آنِ کریم میں اشاد فرمایا:شہر رمضان الذی انزل فیہ القران(ماہ ِ ر مضان جس میں قرآن اتارا گیا)اس مہینہ یعنی رمضان المبارک کو امام الانبیا ،شہنشاہ ِ دو جہاں،حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اللہ پاک کا مہینہ فرمایا ہے،چنانچہ تاریخ ابنِ عساکر میں ہے: اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسولِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:شھررمضان شھراللّٰہ ( ماہِ رمضان اللہ پاک کا مہینہ ہے) حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی گجراتی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیرِ نعیمی میں ماہِ ر مضان کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:رمضان رمضسے بنا ہے، جس کے معنی ہیں: گرمی یا جلنا،چونکہ اس میں مسلمان بھوک پیاس کی تپش برداشت کرتے ہیں یا یہ گناہوں کو جلا ڈالتا ہے، اس لیے اسی رمضان کہا جاتا ہے۔جامع الشمل جلد 2 کے صفحہ نمبر 250 پر علامہ محمد بن یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:انما یسمی رمضان لانہ یرمض الذنوب (بے شک اسے رمضان کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔)بعض مفسرین نے فرمایا ہے:جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینہ تھا اس سے اس کا نام ہوا، جو مہینہ گرمی میں تھا اسے رمضان کہہ دیا گیا۔یا یہ رمضاء سے مشتق ہے ، رمضاء موسم خریف کی بارش کو کہتے ہیں جس سے زمین دھل جاتی ہے اورر بیع کی فصل خوب ہوتی ہے، چونکہ یہ مہینہ بھی دل کے گردو غبار دھو دیتا ہے اور اس سے اعمال کی کھیتی ہری بھری رہتی ہے اس لیے اسے رمضان کہتے ہیں۔رمضان کی خصوصیات :اس ماہِ مبارک کی بہت سی خصوصیات ہیں :1۔اس ماہِ مبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے اس میں قرآنِ پاک نازل فرمایا ہے، چنانچہ پارہ 2 سورة البقرہ کی آیت نمبر 185 میں خدائے رحمن کا فرمانِ عالی شان ہے:شہر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدًی للناس وبینت من الھدیٰ والفرقان رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں۔2۔ کعبہ معظمہ مسلمانوں کو بلا کر دیتا ہے اور یہ آکر رحمتیں بانٹتا ہے،گویا وہ ( یعنی کعبہ) کنواں ہے اور یہ ( یعنی رمضان شریف) دریایا وہ (کعبہ) دریا ہے اور یہ (رمضان) بارش۔3۔ہر مہینے میں خاص تاریخوں میں بھی خاص وقت میں عبادت ہوتی ہے، مثلاً بقرعید کی چند (مخصوص) تاریخوں میں حج محترم کی دسویں تاریخ افضل مگر ماہِ رمضان میں ہر دن اور ہر قت عبادت ہوتی ہے۔روزہ عبادت،افطار عبادت، افطار کے بعد تراویح کا انتظام عبادت، تراویح پڑھ کر سحری کے انتظار میں سونا،پھر سحری کھانا بھی عبادت ہے۔الغرض ہر آن میں خدا کی شان نظر آتی ہے۔4۔ اس مہینے میں شبِ قدر ہے، کیونکہ پارہ 2 سورة البقرہ کی آیت نمبر 185 میں ہے:شہر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس وبینت من الھدیٰ والفرقان(رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترا ، لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں)اور دوسری جگہ پارہ 30 سورة القدر آیت نمبر1میں ار شاد فرمایا:اناانزلنہ فی لیلۃ القدر(بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا) دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا! شبِ قدر رمضان میں ہی ہے، شبِ قدر کے متعلق نبیِ رحمت،شفیعِ امت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تمہارے پاس ایک مہینہ آیا ہے، جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ تمام کی تمام خیر سے محروم رہ گیا، اور اس کی خیر سے محروم نہیں رہتا، مگر وہ شخص جو حقیقتاً محروم ہے۔5۔ رمضان میں دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور جنت آراستہ کی جاتی ہے اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں،اس لیے ان دنوں میں نیکیوں کی زیادتی اور گناہوں کی کمی ہوتی ہے۔جو لوگ گناہ کرتے بھی ہیں وہ نفس امارہ یا اپنے ساتھی شیطان (ہمزاد) کے بہکانے سے کرتے ہیں۔

تجھ پہ صدقے جاؤں ر مضان تو عظیم الشان ہے تجھ میں نازل حق تعالیٰ نے کیا قر آن ہے

ابرِ رحمت چھا گیا ہے اور سماں ہے نور نور فضل ِرب سے مغفرت کا ہوگیا سامان ہے

ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں ماہِ رمضان رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے

بھائیو بہنو گناہوں سے سبھی توبہ کرو خلد کے در کھل گئے ہیں داخلہ آسان ہے

یا الہٰی تو مدینے میں کبھی رمضان دکھا مدتوں سے دل میں یہ عطار کے ارمان ہے(وسائل بخشش)


خدائے  رمضان کے کروڑ ہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ ر مضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سر فراز فرمایا: ماہِ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے۔رمضان المبارک میں ہر نیکی کا ثواب 70 گناہ یا اس سے بھی زیادہ ہے۔(مراة ج، 3، ص138)نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گنا کردیا جاتا ہے۔عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ دار کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔فرمانِ مصطفٰے کے مطابق رمضان کے روزہ دار کے لیے مچھلیاں افطار تک دعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں۔(الترغیب والترھیب ج 2، ص 55، حدیث مبارکہ 56)1۔ نزولِ قرآن :اس ماہِ مبارک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اللہ پاک نے اس میں قرآنِ پاک نازل فرمایا:چنانچہ پارہ 2، سورة البقرہ آیت نمبر 185 میں اس مقدس قرآن میں خدائے رحمن کا فرمانِ عالیشان ہے:آیتِ مبارکہ :شہر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر یرید اللہ بکم الیسرولا یرید بکم العسر ولتکمل العدۃ ولتکبر وااللہ علی ما ھدکم ولعلکم تشکرون 0ترجمۂ کنزالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا ، لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں ہیں، تم میں جوکوئی یہ مہیناپائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں ، اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کرو، اور اللہ کی بڑھائی بولو، اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔(فیضان رمضان ص 22)2۔ شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں:رمضان المبارک کی بے شمار خصوصیات ہیں۔اللہ پاک نے اس ماہِ مبارک کو بہت سی خصوصیات سے نواز ا ہے کہ رمضان المبارک میں شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں،چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ فرماتے ہیں:سلطانِ دو جہاں، رحتِ عالمیان صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں۔(بخاری ، ج1، ص 399، حدیث 3277)شبِ قدر: رمضان المبارک میں شبِ قدر ہے: گزشتہ آیت سے معلوم ہوا ! قرآن رمضان المبارک میں آیا اور دوسری جگہ فرمایا:ترجمۂ کنزالایمان:انا انزلنہ فی لیلۃ القدر0بے شک ہم نے اسے (قر آنِ مجید) کو شبِ قدر میں اتارا۔(پ 30، القدر 1)دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا ! شبِ قدر رمضان میں ہی ہے اور وہ غالباً ستائیسویں شب ہے کیونکہ لیلۃ القدر میں نو حروف ہیں اور یہ لفظ سورة قدر میں تین بار آیا، جس سے ستائیس حاصل ہوئے معلوم ہوا ! وہ ستائیویں شب ہے۔4۔ رمضان المبار ک کی پانچ عبادات خصوصی:رمضان میں پانچ حروف ہیں:ر۔م۔ ض۔ ا۔ن ۔ رسے مراد رحمتِ الہٰی، میم سے مراد محبتِ الہٰی ض سے مراد ضمانِ الہٰی الف سے مرا د امانِ الہٰی ن سے مراد نورِ الہٰی۔ رمضان میں پانچ عبادات مخصوص ہوتی ہیں: روزہ، تراویح،تلاوتِ قرآن،اعتکاف،شبِ قدر میں عبادات۔تو جو کوئی صدقِ دل سے پانچ عبادات کرے وہ ان پانچ انعاموں کا مستحق ہے۔(تفسیر نعیمی ج 2، ص 208)5۔ اعتکاف: رمضان المبارک کی برکتوں کے کیا کہنے! یوں تو ہر ہر گھڑی رحمت بھری اور ہر ہر ساعت اپنے چلو میں بے پایاں برکتیں لیے ہوئے ہے، مگر اس ماہِ محترم میں شبِ قدر سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ،اسے پانے کے لیے ہمارے پیارے آقا،مدینے والے مصطفے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ماہِ مبارک رمضان کا پورا مہینا بھی اعتکاف فرمایا ہے اور آخری دن کا بہت زیادہ اہتمام تھا۔پچھلی امتوں میں بھی اعتکاف کی عبادت موجود تھی چنانچہ پارہ اول سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 125 میں اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے:وعھدنا الی ابرہیم واسمعیل ان طہر ا بیتی للطائفین والعکفین والرکع السجود ترجمۂ کنزالایمان :ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے ۔(فیضانِ رمضان 228)اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اس ماہِ مبارک کی تمام برکتیں لوٹنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہمیں اس ماہِ محترم میں نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


رمضان المبارک نہایت ہی عظمت و شان والا مہینہ ہے۔ یہ ماہِ مبارک دیگر تمام مہینوں سے افضل ہے اور اس میں ایسی بےشمار منفرد خصوصیات ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں۔ ان میں سے 5 درج ذیل ہیں۔1:نزولِ قرآن:قرآنِ کریم اسی مہینے میں نازل کیا گیا۔ ارشاد باری ہے:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ (پارہ 2 البقرة 185)ترجمۂ کنز العرفان: رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔لہٰذا رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ تلاوتِ قرآن کی کثرت کرنی چاہئے اور اب تک درست قواعد کے ساتھ قرآنِ پاک نہ پڑھا ہو تو اس رمضان میں یہ سعادت بھی حاصل کر ہی لینی چاہئے کہ اتنی تجوید جس سے تصحیحِ حروف ہو(قواعدِ تجوید کے مطابق حروف کو درست مخارج سے ادا کرسکے) اور غلط خوانی (یعنی غلط پڑھنے)سے بچے،فرضِ عین ہے۔(فتاوی رضویہ،6/ 343) یاد رہے!تلاوتِ قرآن کا ثواب اسی صورت میں ملے گا جبکہ درست تلفظ کے ساتھ پڑھا جائے ورنہ بسا اوقات ثواب کے بجائے بندہ عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ (سنتوں بھرے بیانات ج 1 ص 151)قواعد کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ یا پھر فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز میں داخلہ لیا جاسکتا ہے۔2:رحمت ہی رحمت:سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری ج 1 ص 626 حدیث 1899)ایک روایت میں ہے :جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، شیاطین زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔ (ایضا ص 399 حدیث 3277) اور ایک روایت میں ہے :رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ (مسلم ص 543 حدیث 1079)(فیضان رمضان ص 56) 3:نیکیوں کا اجر بڑھ جانا:حدیث ِمبارکہ میں ہے:جو اس (ماہِ مبارک) میں نیکی کا کوئی کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستّر فرض ادا کیے۔(شعب الایمان،حدیث: 3608، ج 3، ص 305)حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ماہِ رمضان میں ایک دن کا روزہ رکھنا ایک ہزار دن کے روزوں سے افضل ہے اور ماہِ رمضان میں ایک مرتبہ تسبیح کرنا (سبحٰن اللہ کہنا) اس ماہ کے علاوہ ایک ہزار مرتبہ تسبیح کرنے (سبحٰن اللہ کہنے) سے افضل ہے اور ماہِ رمضان میں ایک رکعت پڑھنا غیر رمضان کی ایک ہزار رکعتوں سے افضل ہیں۔ (تفسیر در منثور ج 1 ص 454)البتہ یہ امر پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ اس ماہِ مبارک میں دوسرے مہینوں کے مقابلے میں جس طرح نیکیاں بڑھادی جاتی ہیں،اسی طرح گناہوں کی ہلاکت خیزیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔(فیضان رمضان ص 63) گناہوں سے بچنا تو ویسے بھی مسلمان پر لازم ہے لہٰذا اس مہینے میں بالخصوص گناہوں سے بچنے کی مشق کرتے ہوئے سارا ہی سال اللہ پاک کی نافرمانیوں سے بچنا چاہئے۔4:رمضان میں مرنا باعثِ فضیلت:حدیثِ پاک میں ہے: جس کو رمضان کے وقت موت آئی وہ جنت میں داخل ہوگا۔(حلیة الاولیاء ج 5 ص 26 حدیث 6187)بعض علما فرماتے ہیں: جو رمضان میں مرجائے اس سے سوالاتِ قبر بھی نہیں ہوتے۔(فیضان رمضان ص 29)5:قرآنِ مجید سے نسبت:قرآنِ کریم میں صرف رمضان المبارک ہی کا نام لیا گیا اور اسی کے فضائل بیان ہوئے کسی دوسرے مہینے کا نہ صراحتاً نام ہے نہ ایسے فضائل۔(فیضان رمضان ص 30)


رمضان ماہِ غفران کے فیضان کے کیا کہنے!اس کی ہر گھڑی رحمت بھری ہے،اسلامی سال کا عظیم الشان مہینا ہے،رمضان مبارک اسلامی سال کا نواں مہینا ہے۔رمضان رمضسے بنا ہے جس کا معنی ہے: گرمی سے جلنا، اس میں مسلمان بھوک پیاس کی تپش برداشت کرتے ہیں یا یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے اس لیے بھی اسے رمضان کہا جاتا ہے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا ہے کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔(کنزالعمال کتاب الصوم، باب فی م جز8۔4، /217، حدیث ، 23683)

عاصیوں کی مغفرت کا لیکر آیا ہے پیام جھوم جھاؤ مجرمو! رمضان ماہِ غفران ہے۔(وسائل بخشش)

رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس کو تمام مہینوں کا سردار کہا گیا ہے چنانچہ تمام مہینوں کا سردار :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:سید الشھور رمضان،وسیدالایام یوم الجمعہ یعنی تمام مہینوں کا سردار رمضان ہے اور تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔(معجم کبیر، خطبۃ ابن مسعود من کلامہ 19/205 ، حدیث 9000)رمضان کریم وہ مقدس مہینہ جس کا ذکر قرآنِ کریم میں آیا ہے۔اس ماہِ مبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ کریم نے اس میں قرآنِ کریم نازل فرمایا: چنانچہ ارشاد باری ہے:شہر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس وبینت من الھدیٰ والفرقانترجمۂ کنزالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں۔(پ2،البقرہ ، 185)حضرت شعیب حریفیش رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:مہینے کو مشہور ہونے کی وجہ سے شہر کہا جاتا ہے اور ماہِ رمضان کو رمضان اس لیے بھی کہتے ہیں کہ یہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان :انزل فیہ القران سے مراد یہ ہے کہ اس کے فرض روزوں میں قرآن اتارا گیا۔حضرت ابنِ عباس وابنِ شہاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مکمل قرآنِ کریم لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر ایک ہی دفعہ ماہِ رمضان، شبِ قدر میں نازل کیا گیا، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام وقتا فوقتاً واقعات و حوادثات کے مطابق اسے حضور اقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم و صحابہ کرام کے پاس لاتے ر ہے۔(حکایتیں اور نصیحتیں، ص 80) ماہِ رمضان کے فضائل کے کیا کہنے!یہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔عظمت اور برکت والا مہینہ :منقول ہے :اللہ کریم نے ماہِ رمضان کو بہت سی خصوصیات کے ساتھ خاص فرمایا:ان میں سے ایک یہ کہ اس کو عظمت و برکت والا مہینہ بنایا، اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہترہے۔اللہ کریم نے اس مہینے کے روزے فرض فرمائے اور راتوں کے قیام کو نفل بنایا، اس میں فرض ادا کرنا (ستر70) فرض کے برابر ۔یہ ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت،درمیانہ مغفرت اور آخر ی جہنم سے آزادی ہے۔(حکایتیں اور نصیحتیں ص 86، ملخصاً)صغیرہ گناہ کا کفار ہ :جنتی صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم و صحابہ وسلم نے فرمایا: پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، جب کہ بندہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کرے۔(مسلم کتاب الطہارة ، باب الصلوات الخمس الخ رقم 233۔ ص 144)وہ مقدس ماہ جس میں شیاطین جکڑے جاتے ہیں۔شاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کر ام علیہم الرضوا ن کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:تمہارے پاس برکت والا مہینہ آچکا ہے، اللہ کریم نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے ہیں اور تمہارے لیے اس مہینے کا قیام سنت ہے، جب ماہِ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، شاطین جکڑدیئے جاتے ہیں اور اس میں ا یک رات ایسی ہے جو ہزاروں مہینوں سے افضل ہے۔(جامع الترمذی ابواب الصوم، باب ماجا فی فضل شہر رمضان، الحدیث 612،ص 1714)ہر آن خدا کی شان نظر آتی ہے :مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہر مہینے میں خاص تاریخیں اور تاریخوں میں بھی خاص وقت میں عبادت ہوتی ہے، مگر ماہِ رمضان میں ہردن اور ہررات عبادت ہوتی ہے،روزہ افطار،تراویح،سحری میں عبادت، الغرض ہر آن میں خدا کی شان نظر آتی ہے۔ماہِ ر مضان گنہگاروں کو پاک کرتا اور نیک لوگوں کے درجے بڑھاتا ہے، رمضان کے کھانے پینے(یعنی سحر و افطارکے کھانے پینے ) کا حساب نہیں، رمضان شریف میں افطار اور سحری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے یعنی افطار کرتے وقت اور سحری کھاکر یہ مرتبہ کسی اور مہینے کو خاص نہیں۔بعض علما فرماتے ہیں: جو رمضان میں مرجائے اس سے سوالات قبر بھی نہیں ہوتے۔(تفسیر نعیمی جلد 2، ص 205) ملخصاً) اللہ کریم ہمیں اس ماہِ مبارک کی قدر نصیب کرے اور اس کی بے ادبی سے بچائے۔ امین


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماہِ رمضان المبارک نہایت ہی رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔اس کی فضیلت کا اندازہ سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے؟ تو میری امت تمنا کرتی کہ کاش! پورا سال رمضان ہی ہو۔(ابن خزیمہ ج 3 ص 190 حدیث 1886) اس مقدس مہینے کی بےشمار منفرد خصوصیات میں سے 5 درج ذیل ہیں۔ 1:ماہِ صیام:روزوں کے لئے اس مہینے کا انتخاب ہوا۔ قرآنِ پاک میں ہے:فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ ؕ(پارہ 2 البقرة 185)ترجمۂ کنز العرفان: تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے۔اس مبارک مہینے میں روزے رکھنے کے بہت سے فضائل ہیں،جبکہ بلا اجازتِ شرعی روزہ چھوڑ دینا سخت گناہ و حرام ہے۔حدیثِ پاک میں ہے:جس نے رمضان کے ایک دن کا روزہ بغیر رخصت و بغیر مرض افطار کیا (یعنی نہ رکھا) تو زمانے بھر کا روزہ بھی اس کی قضا نہیں ہوسکتا اگرچہ بعد میں رکھ بھی لے۔(ترمذی ج 2 ص 175 حدیث 723) یعنی وہ فضیلت جو رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کی تھی اب کسی طرح نہیں پاسکتا۔(بہار شریعت ج 1 ص 985 ملخصا)(فیضان رمضان ص 88) 2:دعاؤں کی قبولیت:رمضان المبارک میں افطار اور سحری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے یعنی افطار کرتے وقت اور سحری کھاکر۔یہ مرتبہ کسی اور مہینے کو حاصل نہیں۔(فیضان رمضان ص 30)3:وسعتِ رزق:حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس مہینے (رمضان المبارک) میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے، جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اُس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کردی جائے گی۔(شعب الایمان، باب فی الصیام، فضائل شہر رمضان، الحدیث: 3608، ج 3، ص 305)نیز فرمایا:ماہِ رمضان میں (گھر والوں کے) خرچ میں کشادگی کرو کیونکہ ماہِ رمضان میں خرچ کرنا اللہ کریم کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے۔(فضائل شہر رمضان مع موسوعة ابن ابی الدنیا ج 1 ص 368 حدیث 24)4:ماہِ اعتکاف:رمضان المبارک کے آخری عشرے یعنی آخر کے دس دن میں اعتکاف کیا جاتا ہے جو کہ سنتِ مؤکدہ اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کرلیا تو ایساہے جیسے دو حج اور دو عمرے کیے۔(شعب الایمان، باب فی الاعتکاف، الحدیث 3966، ج 3، ص 425)5:لیلۃ القدر:حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ عنہ  سے روایت ہے : رمضان کا مہینہ آیا توحضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک تمہارے پاس یہ مہینہ آیا ہے اور اس میں  ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جوشخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ تمام نیکیوں  سے محروم رہا۔(ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی فضل شہر رمضان، 2/298، الحدیث: 1644)لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ یہ رات عبادت میں  گزارے اور اس رات میں کثرت سے اِستغفار کرے۔کثیر روایات سے ثابت ہے کہ شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے اور اکثر اس کی بھی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے۔بعض علما کے نزدیک رمضان المبارک کی ستائیسویں رات شبِ قدر ہوتی ہےاور یہی حضرتِ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے۔(مدارک، القدر، تحت الآیۃ: 1، ص 1364)(تفسیر صراط الجنان، القدر، تحت الآیۃ: 1)


رمضان کے معنی:رمضان عربی زبان کا لفظ رمض سے بنا ہے۔رمض کے معنی جلنے اور جلانے کے آتے ہیں۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے گناہوں کو جلانے اور معاف کرانے کا ذریعہ ہے۔رمضان  کو مبارک و معظم کہنے کی وجہ :مبارک کے معنی ہیں: برکت والی چیز ۔اس لیے اس مہینے کو رمضان المبارککہا جاتا ہے۔1۔ ماہ ِ رمضان کے فضائل :رمضان المبارک کی فضیلت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ قرآنِ مجید رمضان المبارک کے مہینے میں نازل کیا گیا، قر آنِ مجید میں ارشاد ہے:ترجمہ : رمضان کا مہینہ وہ ہےجس میں قر آن کو نازل کیا گیاجو لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔(سورۃ البقرۃ: 185)1۔ نبیِ کریمصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سوال کیا گیا :رمضان کے بعد کون سا روزہ افضل ہے؟آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:شعبان کا روزہ رمضان کی تعظیم کی وجہ سے ۔ پھر سوال کیا گیا:کون سا صدقہ افضل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: رمضان میں صدقہ کرنا۔(ماہِ رمضان کے فضائل و احکام، ترمذی ، حدیث ، صفحہ نمبر19)3۔جو ماہِ ر مضان میں انتقال کرتا ہے اس کے سوالات اور قبر میں امان حاصل ہوتا ہے، سوالات میں آسانی ہوتی ہے اور اس کو جنت کا حق دار بنادیا جاتا ہے۔ علما فرماتے ہیں: جو مومن اس مہینے میں مرتا ہے وہ سیدھا جنت میں جاتا ہے، گویا اس کے لیے دوزخ کا دروازہ بند ہے۔(فیضانِ سنت، انیس الواعظین ص 25، صفحہ نمبر 904)4۔ حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:حضور پرنور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ پُرسرور ہے: پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔ (فیضانِ ر مضان، صفحہ نمبر 855، مسلم ص 144 ، حدیث 233)5۔رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:ترجمہ : رمضان میں ذکر اللہ کرنے والے کو بخش دیا جا تا ہے اور اس مہینے میں اللہ پاک سے مانگنے والا محروم نہیں رہتا۔( فیضانِ سنت، شعب الایمان ج 3، ص 311 ،حدیث نمبر3627۔ صفحہ 879)


رمضان یہ  رَمض سے بنا ہے جس کے معنی ہیں: گرمی سے جلنا۔رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔رمضان المبارک کے روزے دس شعبان 2 ہجری میں فرض ہوئے۔مکی مدنی سلطان صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: تمام مہینوں کا سردار رمضان ہے۔اے عاشقانِ رسول ! ر مضان المبارک میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گنا ملتا ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت تمنا کر تی کہ کاش !پورے سال ہی رمضان ہوتا۔

آگیا رمضان عبادت پر کمراب باندھ لو فیض لے لو جلد یہ تیس دن کا مہمان ہے

رمضان المبارک کی پانچ منفرد خصوصیات :اس ماہِ مبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے اس میں قر آنِ پاک نازل فرمایا ہے ، چنانچہ پار ہ 2 سورۃ البقرہ آیت نمبر 285 میں خدائے رحمن کا فرمانِ عالی شان ہے:ترجمۂ کنزالایمان: رمضان کا مہینا جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینا پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے،اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے، اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اس لیے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑھائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔نمبر2۔حضرت نخعی عبید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ماہِ رمضان میں ایک دن کا روزہ رکھنا ایک ہزار دن کے روزوں سے افضل ہے اور ماہِ رمضان میں ایک مرتبہ تسبیح کرنا( سبحان اللہ ) کہنا اس ماہ کے علاوہ ایک ہزار مرتبہ تسبیح کرنے( سبحان اللہ کہنے) سے افضل ہے اور ماہِ رمضان میں ایک رکعت پڑھنا بغیر رمضان کی ایک ہزار رکعتیں سے افضل ہے۔تفسیر منثور جلد 1، صفحہ495)نمبر3۔امیر المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ انور ،مدینے کے تاجور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ روح پرور ہے:رمضان میں ذکر اللہ کرنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے اور اس مہینے میں اللہ پاک سے مانگنے والا محروم نہیں رہتا۔(شعب الایمان جلد 3، ص313)4۔ حضرت عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیوں کے سلطان،رحمتِ عالمیان صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ جنت نشان ہے:جس کو رمضان کے وقت موت آئی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس کی موت یومِ عرفہ(9 ذی الحجہ الحرام) کے وقت آئی وہ بھی جنت میں داخل ہوگا اور جس کی موت صدقہ دینے کی حالت میں آئی وہ بھی داخل جنت ہوگا۔(حلیۃ الاولیا ، جلد 5، ص26) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:انبیا علیہم السلام کے سرتاج،صاحبِ معراج صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ار شادِ مبارک بنیاد ہے :روزے کی حالت میں جس کا انتقال ہوا اللہ پاک اس کو قیامت تک کے روزوں کا ثواب عطا فرماتا ہے۔(الفردوس بما ثور ابوخطاب جلد 3، ص504) 5۔حضرت عبداللہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،تاجدار ِ مدینہ،سرورِ قلب و سینہ، فیضِ گنجینہ،صاحبِ معطر پسینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ باقرینہ ہے:بے شک جنت سال کے شروع سے اگلے سال تک رمضان المبارک کے لیے سجائی جاتی ہے اور فرمایا: رمضان شر یف کے پہلے دن جنت کے درختوں کے پتوں سے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں پر ہوا چلتی ہے اور وہ عرض کرتی ہیں:اے پروردگار! اپنے بندوں میں ایسے بندو ں کو ہمارا شوہر بنا جن کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور جب وہ ہم ہمیں دیکھیں تو ان کی آنکھیں بھی ٹھنڈی ہوں۔(شعب الایمان جلد 3، ص 312) حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ پاک کے اس حصے”بے شک جنت سال کے شروع سے اگلے سال تک رمضان کے لیے سجائی جاتی ہے“ کے تحت مراة المناجیع،جلد 3،صفحہ 142 تا 143 پرفرماتے ہیں: یعنی عیدالفطر کا چاند نظر آتے ہی اگلے رمضان کے لیے جنت کی آراستگی (سجاوٹ) شروع ہوجاتی ہے اور سال بھر تک فرشتے اسے سجاتے رہتے ہیں، جنت خود سجی سجائی ہے اور بھی زیادہ سجائی جاتی ہے۔پھر سجانے والے فرشتے ہوں تو کیسی سجائی جاتی ہوگی! اس کی سجاوٹ ہمارے وہم و گمان سے ورا ہے ۔ بعض مسلمان رمضان میں مسجدیں سجاتے ہیں، وہاں قلعی چونا کرتے ہیں، جھنڈیاں لگاتے اورروشنی کرتے ہیں۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان، سلطانِ دو جہاں، شہنشاہِ کون و مکاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ ذیشان ہے: میری امت کو ماہِ ر مضان میں پانچ چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں۔1۔جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ پاک ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے، اور جس کی طرف اللہ پاک نظر ِ رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذا ب نہ دے گا۔2 ۔شام کے وقت ان کے منہ کی بو اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔3۔ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔4۔ اللہ پاک جنت کو حکم فرماتا ہے :میرے بندوں کے لیے مزین ہوجا ، عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے کرم میں راحت پائیں گے۔ جب ماہِ رمضان کی رات آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مغفرت فرمادیتاہے۔


مصطفٰے  جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ربِ کریم کا کروڑ ہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمىں ماہِ رمضان جىسى عظىم الشان نعمت عطا فرمائى ۔ اس کى ہر گھڑى رحمت بھرى ہے۔رمضان المبارک کى چند خصوصىات کا تذکرہ پڑھئے:نزولِ قرآن :رمضان کا مہىنہ جس مىں قرآن اترا۔ (البقرہ 185)مکمل قرآن ِکرىم رمضان المبارک کى شبِ قدر مىں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنىا کى طرف اتار ا گىا۔ رمضان وہ واحد مہىنہ ہے جس کا نام قرآنِ پاک مىں آىا۔(صراط الجنان جلد 1، ص 399)روزے :ماہِ رمضان وہ واحد مہىنہ ہے جس کے روزے فرض کىے گئے ، ارشاد ربارى ہے:تو تم مىں جو کوئى ىہ مہىنہ پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے۔(البقرہ 185)رمضان کى شفاعت :نبىِ رحمت، شفىعِ امت صلى اللہ علىہ وآلہ وسلم کا فرمانِ شفاعت نشان ہے:روزہ اور قرآن قىامت کے دن شفاعت کرىں گے۔ روزہ عرض کرے گا: اے ربِ کرىم! مىں نے کھانے اور خواہش کے دن مىں اسے روک دىا۔ مىرى شفاعت اس کے حق مىں قبول فرما۔( فىضانِ رمضان ص 36)فرض کے برابر ثواب:رمضان المبارک مىں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گنا ملتا ہے۔ (فىضانِ رمضان، ص 29) لیلۃ القدر :بے شک ہم نے اسے شبِ قدر مىں اتارا۔(القدر 1)سال بھر مىں شبِ قدر اىک مرتبہ آتى ہے اور رواىات سے ثابت ہے کہ وہ رمضان المبارک کے آخرى عشرے مىں ہوتى ہے۔(تفسىر صراط الجنان،10/القدر:1) اللہ کریم برکتوں، سعادتوں،نعمتوں والے مہىنے رمضان المبارک ، ماہِ صبر، ماہِ وسعت ِ رزق سے خوب خوب برکتىں لوٹنے کى سعادت نصىب فرمائے اور ہم سے ہمىشہ کے لىے راضى ہوجائے ۔ امىن بجاہِ خاتم النبىن صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


الحمدللہ   امتِ مسلمہ پر ربِّ کریم نے کئی خصوصی نوازشات فرمائیں ہیں۔ اپنے محبوب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے منسوب ہونے کی وجہ سے اس امت کو خصوصی انعام و اکرام سے نوازا ،انہی میں سے ایک نعمت ِربِ رحمن ”ماہِ رمضان “بھی ہے۔

یا خدا ہم عاصیوں پر یہ بڑا احسان ہے زندگی میں پھر عطا ہم کو کیا رمضان ہے

ماہِ رمضان کیا آتا ہے رحمتوں کی برسات ، مغرب کے پروانے،اجرو ثواب کمانے کے مواقع عرض یہ کہ عبادت گزاروں کی عید ہوجاتی ہے۔ ماہِ غفران کی برکتیں سمیٹنے کے لیے آئیے! رمضان المبارک کی چند منفرد خصوصیات جانتی ہیں:ماہِ نزولِ قرآن:اللہ کریم فرماتا ہے:رمضان کا مہینہ جس میں قر آن اترا۔ (پ 2، البقرہ آیت 185)نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے رمضان شریف کی پہلی رات نازل ہوئے،رمضان المبارک ہی میں توریت،انجیل اور زبور نازل ہوئیں۔معلوم ہوا! رمضان المبارک آسمانی کتابوں کے نزول کا مہینا ہے۔شبِ قدر رمضان میں:لیلۃ القدر وہ عظیم رات ہے جس میں عبادت پر ایک ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ثواب عطا کیا جاتا ہے، سلامتی صبحِ صادق تک برقر ررہتی ہےاور فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔اگرچہ اس رات کے تعین میں بزرگانِ دین و مفسرین و محدثین رحمۃ اللہ علیہم کا اختلاف ہے۔تاہم بھاری اکثریت کی رائے یہی ہے کہ ہر سال ماہِ رمضان کی 27 ویں شب ہی شبِ قدر ہے۔عبادت ہی عبادت :مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہر مہینے میں خاص تاریخوں اور تاریخوں میں بھی خاص وقت میں عبادت ہوتی ہے، مثلاً بقرعید کی چند تاریخوں میں۔مگر ماہِ رمضان میں ہر دن ہر وقت عبادت ہوتی ہے۔ روزہ عبادت، افطار عبادت ،افطار کے بعد تراویح کا انتظار عبادت،تراویح پڑھ کر سحری کے انتظار میں سونا عبادت،پھر سحری کھانا عبادت، الغرض ہرآن میں ربِ کریم کی شان نظر آتی ہے۔خرچ کر نا بھی ثواب :اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ماہِ رمضان میں گھر والوں کے خرچ میں کشادگی کرو کیونکہ ماہِ رمضان میں خرچ کرنا اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے۔سبحان اللہ! خرچ کرنے پر بھی عطاؤں کی برسات!ہر شب ساٹھ ہزار کی بخشش :رمضان المبارک کی راتوں کے کیا کہنے! اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:اللہ پاک رمضان المبارک کی ہر رات میں افطار کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گاروں کو دوزخ سے آزاد فرماتا ہےجبکہ ایک روایت میں دس لاکھ کا ذکر بھی ہے۔اسلامی بہنو! جو مہمان جس قدر عزت والا ہوتا ہے اسی قدر اس کا احترام کیا جاتا ہے، اس کی قدر کی جاتی ہے ۔ماہِ رمضان کی عظمتوں اوربرکتوں کے کیا کہنے!اس میں عظیم مہمان کی قدر کیجئے ،خوب عبادت کرکے اس کو راضی کرنے کی کوشش کیجئے۔ حدیثِ پاک میں ہے:اس شخص کی ناک مٹی میں مل جائے جس پر رمضان المبارک کا مہینہ داخل ہوا پھر اس کی مغفرت ہونے سے قبل گزر گیا۔ اس وعید سے ڈریےاورخود کو گناہوں سے بچائیے۔ اللہ پاک ہمیں رمضان کی قدر دان بنائے۔آمین۔ مزید معلومات کے لیے امیرِ اہلِ سنت دامَتْ بَرَکاتُہمُ العالِیَہ کی کتاب فیضانِ رمضان کا مطالعہ کیجئے۔حوالہ جات:1۔فیضانِ رمضان ص 20وسائل بخشش 705۔2۔صراط الجنان جلد 1، ص 294۔3۔ مسند امام احمد مسند شامین، 44/6،حدیث: 16981۔4۔ اسلامی مہینوں کے فضائل 206۔5۔فیضانِ رمضان 182۔6۔فیضانِ رمضان،ص 199۔7۔ تفسیر نعیمی پ 2، البقرۃ،تحت الآیۃ 185، 2 /208۔8۔ فضائل شہر رمضان مع موسوعۃ ابن ابی الدنیا، ج 1، ص 368۔9۔ شعب الایمان ج 3، ص 304، حدیث 360۔10۔ شعب الایمان ج 3، ص 304، حدیث: 360۔10۔الفردوس بماثور الخطاب ج3، ص 320، حدیث: 3040۔11۔ مسند احمد ج 3، ص 41۔ حدیث: 7455